... loading ...
وزیراعظم عمران خان وہاں داخل ہوگئے۔ انگریزی محاورہ جس کی موزوں وضاحت کرتا ہے۔ fools rush in where angels fear to tread (بے وقوف وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے بھی گریزاں رہتے ہیں) وزیراعظم عمران خان اسلام کو نوازلیگ یا پیپلزپارٹی کے بدعنوان ٹولے جیسا معاملہ سمجھتے ہیں۔ سیاست میں ''طاقت ور حلقوں'' کی ''مدد'' سے وہ حریفو...
وقت کے تمام آفاق سمٹ گئے۔ ادراک کے سب روزن مقفّل ہوئے۔ آہ! آہ اظہار کے سب اسالیب عاجز کیوں ہیں؟ملا عمر ! آج آپ یاد بہت آئے!! آج 11 ستمبر ہے۔ افغان سرزمین آزاد ہے، آپ کے بیٹے حلف اُٹھاتے ہیں۔زمین پر طاقت کے پیروکاروں کا ہجوم در ہجوم ہے مگر یہ نجوم در نجوم اللہ پر ایمان رکھنے وال...
جسم تو فانی ہوتے ہیں، مگر فضائلِ انسانی کو موت نہیں چھوتی۔ سید علی گیلانی کوبھی کہاں چھوئے گی؟بھارت یوں قائم نہ رہے گا، مگر مردِ حریت، عزیمت کا استعارہ بن کر جیتے رہیں گے۔ دنیا اُن کی کہاں ہوتی ہے جو دھارے میں بہتے ہیں، مردانِ حریت تو دھارے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ افغانستان کا یہی...
استعماری گماشتوں کے لیے افغانستان میں ایک سبق ہے۔'' گماشتوں'' کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ اشرف غنی بھاگ گیا، مگر وہ بھاگتا رہے گا، اُسے قرار نہ مل سکے گا، حساب دیتا رہے گا، گماشتوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ عالمی امور کے ماہر لکھاری فینین کَنینگھم نے ان گماشتوں کو ''Uncle Sam’s Running D...
یہ طالبان اُسلوب ہے! بے نیازانہ ، جارحانہ اور عاجزانہ۔ دشمن کی طاقت سے بے نیاز، خود پر بھروسے کے تیور میں انتہائی جارح اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے احساس سے نہایت مجبور وعاجز!!!بے نیازی ایسی کہ اربوں ڈالر کی پیش کشوں کی جانب نظر تک نہ اُٹھائی، جارحیت ایسی کہ بی ۔52 طیارے ، مہ...
تاریخ اُنہیں کیسے یاد رکھے گی؟ افغانستان پر امریکی سرپرستی میں کٹھ پتلی حکومت کا قبضہ دراصل بھگوڑوں کی ایک کہانی کے طور پر سامنے آیا۔ اشرف غنی اب کسی سابقے لاحقے کے بغیر ہے۔ وہ تاجکستان فرار ہوا، ایسے کہ خود تاجکستان تسلیم نہیں کررہا کہ وہ اُن کے ملک میں وارد ہوا۔ تازہ انکشاف اش...
طالبان تاریخ کی عدالت میں سُرخرو ہوئے۔ طالبان کا بیس سالہ جہاد کامیابی کے ساتھ کابل کا چہرہ دیکھ رہا ہے۔ بھارتی مفادات کا محافظ ،امریکی گماشتہ اشرف غنی کابل سے فرار ہوگیا۔ اتوار کا سورج بھارت کی سرزمین پر روشنی لے کر نہیں اُترا۔ 15 اگست کی مناسبت سے بھارت اس روز اپنے استعماری ...
رجب طیب اردوان قرآن کی تلاوت فرماتے ہیں تو دل موہ لیتے ہیں۔ خوب صورت آواز ، پراثر لحن!گاہے لگتا ہے ساز ، سوز سے بغلگیر ہوتا ہے۔کاش وہ دائم رہنے والی کتاب کی یہ آیت بھی اسی سوز سے پڑھیں، جس میں عالم کا پروردگار گرہ کشا ہے۔ ''اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے''۔(سورة الا...
کابل میں دوام مسجد میں گونجنے والی اذان کو ہے۔حضرتِ بلال حبشی کا تکلم اپنے ہونٹوں پہ کھِلانے والے طالبان دارالحکومت پر دستک دے رہے ہیں۔ اللہ اکبر! اللہ اکبر!!ابھی بگرام ہوائی میدان سے خود کو سمیٹنے والے امریکا کی پہلو دار شکست زیرِ بحث نہیں۔ یہ ایک طویل اور ہمہ جہت موضوع ہے، چشم ...
اللہ اللہ ! طالبان تو ڈر ہی گئے ہوں گے! پینٹاگون نے دفعتاً جھرجھری لی ہے، امریکی فوجی مرکز کے ترجمان جان کربی نے اچانک کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ امریکی ترجمان کو افغان سرز...
اگر کچھ عرصے کے لیے ہم اپنا منہ بند رکھ سکیں، شاہ محمود قریشی صاحب آپ سُن رہے ہیں! یہ افغانستان ہے، اور اس کی کچھ سفاک حقیقتیں! احمد شاہ ابدالی کا افغانستان جدید لفنگوں کے لیے نہیں۔تہذیب کے نام پر دھوکا دینے والے درندوں کا نہیں۔ بُشوں، اُباموں ، ٹرمپوں اور بائیڈنوں کا نہیں۔یہ ح...
ایک مشہور مقولہ تو یہ ہے کہ عوام کو وہی حکومت ملتی ہے، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ مگر کیا ایسی بھی حکومت!!1947 ء میں ہم اچھے بھلے چلے تھے، ہمارے قائد کردار میں ہمالہ کی بلندیوں کو چھوتے تھے۔ اُن کی گفتگو میں عہدِ آئندہ کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ مگر پھر کیا ہوا؟ ہمارا واسطہ کن لوگوں سے...
ساکھ لیڈر کے لیے کرنسی کی طرح ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک دیوالیہ پن کے شکار دکھائی دیتے ہیں۔۔ مگر ذہنی اور روحانی دیوالیے کے شکار معاشروں میں رہنما ساکھ کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ وہ عزت یا ساکھ کے بارے میں'' اُس بازار کی مخلوق'' کی طرح سوچتے ہیں جو سمجھتی ہے کہ عزت اللہ نے بہت دی ہے ، ...
زرتشت قدیم فارس کے مفکر اور مذہبی پیشوا تھے۔ ایک افغان شہر سے ایران کا رخ کیا اور وہیں کے ہورہے۔ کوروش اعظم اور دارا نے اُن کے مذہب کو ریاستی حکم سے نافذ کیا ۔ بہت قلیل تعداد میں اُن کے ماننے والے آج بھی موجود ہیں ، جنہیں پارسی کہا جاتا ہے۔ زرتشت کی زندگی کے مطالعے میں ایک جگہ آد...
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار کی مدت اور نوعیت پر اُٹھائے گئے سوال سے واضح ہے کہ وہ بھی طویل مدتی اقتدار کی خواہش میں مبتلا ہوچکے۔ عام طور پر یہ آرزو نظام سے زیادہ فرد کی ناگزیریت کی نفسیات سے آلودہ ہوتی ہے۔اسی نفسیات کی تہ داریوں سے انگریزی محاورے نے مختلف شکلیں اختیار کر...
سیموئل بیکٹ کا واسطہ عمران خان ایسے لوگوں سے رہا ہوگا، کہا:دنیا میں اشکوں کی تعداد ایک سی رہتی ہے“۔ ڈراما نگار کو یہ فقرہ حکومتوں کی جانب سے انسانوں کی تقدیر اور دکھوں میں کمی نہ لانے کے حوالے سے سوجھا تھا۔ عمران خان کی چال میں بھی اشک وہی بہتے ہیں جو عہد زرداری اور دورِ نوازشریف...
لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما فوجی قیادت پرسیاست میں مداخلت کاا لزام لگاتے پھرتے تھے۔ اُن پر ”سلیکٹرز“ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ وہ عمران خان حکومت کی نالائقیوں پر موردِ الزام ٹہرائے جاتے تھے۔ایک وقت تھا کہ مقتدر قوتوں کا ذ...
یوم یکجہتی کشمیر ہی نہیں اب خود کشمیر بھی ایک رسمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ابتر نظم مملکت نے پاکستان کے حیات وممات سے جڑے معاملات کو بھی نظروں سے اوجھل کردیا۔جب سیاست ہی اوڑھنا بچھونا بن جائے اور سیاست دانوں سے لے کر قومی اداروں کے ذمہ داروں تک سب کی ترجیح اول روزمرہ کی سیاست پر قاب...
وزیراعظم عمران خان کی ناکامی مکمل اور مدلل ہوچکی۔عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ناکام اور نفرت آمیز طرزِ حکومت سے خود اپنے”حریفوں“ کے خلاف ایک ہمدردی پید اکردی ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے شدید نفرت کرنے والے بھی اب عمران خان کی مسلسل ناکامیوں کے...
افتخار عارف اپنی شاعری کی پرتوں میں تجربے کے جزوی اظہار پر قانع نہیں رہتے، گاہے پورا تجربہ نچوڑتے ہیں، اپنی ایک نظم میں تب ہی مصرعے سے سوال اُٹھایا:۔ بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا مقتدر راہداریوں میں سرگوشیوں پر دھیان رکھنے والے ”خبر“ دے رہے ہیں کہ بلاول بھٹو نے تحریک ...
کسانوں نے پڑوسی ملک میں محروم طبقات کے لیے امید کی ایک جوت جگادی ہے۔ مودی کے تکبر کو پاؤں تلے روند دیا ہے۔ بھارتی کسانوں کی زبردست مزاحمت کا ولولہ انگیز پراؤ 26/ جنوری کو دہلی تھا۔ بھارتی آئین سال 1950ء میں اسی تاریخ کو منظور ہوا تھا،جس کے بعد یہ ایک قومی دن کے طورپر منایا جانے ل...
تیس سال قبل سال 1991ء اور ماہ جنوری کی 17 تاریخ کو ہم کیسے فراموش کرسکتے ہیں؟ دو دریاؤں کی زمین پہ یہ ایک بھونچال کا دن تھا۔ دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع عراق کی سرزمین نئے امریکی ایجنڈے کا تختہئ مشق بنی تھی۔ آُپریشن صحرائے طوفان (Desert Storm) دراصل ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا دی...
وفا شعار رؤف طاہر رخصت ہوگئے! اے مرے خدا تو حافظے سے وہ سب محو کردے، جو میرے اور اس کے درمیان کہا سنا گیا۔ جس میں ہم نے اپنے قیمتی اور لذیذ ماہ وسال بِتائے۔ میرا رؤف طاہر وہ نہیں جو مستعار الفاظ میں دھڑے بندی کی تعزیت کا طالب ہو۔ وہ اس سے بے نیاز اپنے رب کے حضورسرخرو پہنچا!جہاں ا...
سیاسی تحریکیں محض خدع و فریب پر زندگی نہیں کرسکتیں!پی ڈی ایم کا جاتی امراء اجلاس ناکام ہوا۔ حکومت اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ مگرایسی ناکام حکومت کے لیے بھی پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پی ڈی ایم کے دس جماعتی اتحاد میں محوری جماعتیں ...