... loading ...
اردو میں نعتیہ شاعری کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان ۔اردو شاعری کے ہر دور میں شعرانے روایت کی پاسداری میں یا تبرک کے طورپر نعت ضرور کہی ہے لیکن بعض ایسے شاعر بھی گذرے ہیں جنہوں نے نعت ہی کو موضوعِ سخن بنا یا،ان میں کفایت اللہ کافی مراد آبادی، لطف بدایونی،محسن کاکوروی ؒاور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،موخرالذکر دونوں شعرانے تو نعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا،اردو میں آج تک جتنی بھی نعت لکھی گئی وہ ان شعراکے اثر سے خالی نہیں رہی۔محسن کاکورویؒ کے قلم سے صفحہ ِقرطاس پر آنے والا ہر لفظ کیف ومستی اور سوز وگداز سے لبریز ہے،ان کی شعری کائنات پاکیزہ فکری،بلندی ِنگاہ،ندرت ِ بیان اور نادر تشبیہات و استعارات کا مجموعہ ہے،انہوں نے زیادہ تر قصیدہ کی ہیئت میں نعت کہی ہے لیکن رباعی اور مسدس و مخمس کی ہیئت میں بھی طبع آزمائی کی ،انہوں نے گلدستۂ رحمت، ابیاتِ نعت،مدیح خیر المرسلینؐ،چراغِ کعبہ،صبحِ تجلی سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں،ان کے قصیدہ ِ لامیہ نے انہیں بامِ عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز انہوں نے ایک اچھوتے اورمنفردشعر سے کیا:
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل
شہرت و مقبولیت اور فنی محاسن کے حوالے سے نعتیہ قصائد کی تاریخ میںقصیدہ ِلامیہ اپنی مثال آپ ہے، خالص نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی العربیؐ
زیبِ دامانِ ابد، طرہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گہر، چشمہِ کثرت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں، زیبدہِ عرشِ بریں
حامیِ دینِ متیں، ناسخِ ادیان و ملل
اردو نعت گوئی میں محسن کاکوروی ؒکے ساتھ امام احمد رضا خان ؒ کی خدمات بھی بے بدل رہیں،انہوں نے جس وارفتگی،محبت و عقیدت اور قلبی وابستگی سے نعت کہی وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قرآن ِ پاک اور احادیث مبار کہ کے حوالوں کو تخلیقی سطح پر نعت کا حصہ بنایا،ان کی کئی نعتیں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں،ان کے سلام ’’ مصطفٰے ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو تو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہو ئی۔ چند اشعار دیکھیے:
مصطفٰےؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہِ علم و حکمت پہ لا کھوں سلام
امام احمد رضا خان نے نعت گوئی میںجو رنگ ِ سخن متعارف کرایا عہدِ موجودکی نعت میںبھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے،انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات،اصطلاحات اور تلمیحات کا بھی ایک نیا نظام متعارف کرایااور عربی،فارسی اور ہندی زبان کی پیوندکاری کو بھی خوبصورتی سے نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا، زبان وبیان کے حوالے سے اردو کی نعتیہ شاعری کوایک منفرد اسلوب سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے قرآن ِ پاک اورکتبِ حدیث کی تفاسیرکے علاوہ نعت،تاریخ،سیرت و مناقب ، ادب ، نحو،فقہ و تجویداور تصوف سمیت مختلف علوم پر سیکڑوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:
انؐ کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں، کوچے بسا دیے ہیں
٭
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا
٭
لحد میں عشقِ رخِ شہؐ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
٭
حاجیو! آئو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
محسن کاکوروی اور امام احمد رضا خان کے علاوہ اس دور میں امیر مینائی اورکرامت علی شہیدی نے بھی نعت گوئی کی تاریخ بنانے میں اہم کردار اد اکیا،جنگ ِآزادی اور اس کے بعد اردو نعت مختلف قومی اور ملی تحریکوں کے اثرات سمیٹ کر حالی سے ہوتی ہوئی اقبال تک پہنچتی ہے تو اس میں موضوعات اور اسالیب میں وسعت پیدا ہو چکی ہو تی ہے،دربارِ رسولؐ میں عرض ِ حال اور استمداد واستعغاثہ کا اندازاسی عہد کی عطا ہے،حالی اور ان کے بعد مولانا شبلی، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی،اکبر وارثی ،مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،علامہ اقبال، اقبال سہیل ،حفیظ جالندھری، مولانا حسن رضا خان، مفتی غلام سرورلاہوری،مفتی دیدار علی شاہ اور بیدم وارثی سمیت کئی شعرا نے نعت گوئی کی روایت کو پروان چڑھایا۔ اگرچہ مومن خان مومن اور انشا ء اللہ خان انشاء کے نعتیہ کلام کا تذکرہ کم کم ہی ملتا ہے لیکن انہوں بھی کمال کی نعت کہی ہے۔انشا کے ایک مخمس اور مومن کے قصیدے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں کس قدر مشکل قافیہ کو نبھایا:
چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبحِ شبِ ہجر ، نالہ ہائے فروس
ہوا ہے کون سی ایسی مگر ’’مدینے کی‘‘
دمِ مسیحؑ کو ہے جس کی حسرتِ پابوس
٭
خمیدہ کس لیے نُہ آسماں بنے تھے بھلا
نہ تھا ازل سے جو مدِ نظر ترا پابوس
بہا میں دیتی ہے ماہی دفینہ ہائے زمیں
یہ بڑھ گئی ترے سکے سے قدر تا بہ فلوس
(مومن)
عرش کی کچھ نہیں فقط قائمہ ء جلیل پر
لوحِ جبین ِ مہر پر چشمہ ء سلسبیل پر
ثبت یہی نقوش ہیں عدن کی ہر فصیل پر
صلِ علی نبینا صل علی محمدؐ
(انشاء)
مولانا ظفر علی خان نے سرکار کی ثنا خوانی میں آپ ﷺ کے جو اوصاف بیان کیے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرکے دکھایا،وہ جذبے ،جوش اور ولولے کے ساتھ نعت کہہ کر لوگوںکے دلوںکو گرماتے رہے:
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیؐ تو ہو
پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیؐ تو ہو
علامہ اقبال نے اگرچہ کوئی باقاعدہ نعت نہیں لکھی لیکن اردو نعت گو ئی کا تذکرہ ان کے ذکر کے بغیرنامکمل ہے، ان کی متفرق منظومات میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں وہ فنی و فکری اعتبار سے اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ ندرت اور تازگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، یہ جداگانہ اسلوب جو اقبال کو نصیب ہوا وہ کم یاب بلکہ نایاب ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِآبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
٭٭
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰےؐ سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
٭
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ ، مولائے کلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
قیام پاکستان کے وقت متعددایسے شاعر موجود تھے جو صرف نعت گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، ضیا ء القادر ی،ماہر القادری ،کامل جونا گڑھی ،ذہین شاہ تاجی ،ادیب رائے پوری ،بہزاد لکھنوی،اکبر وارثی ،احسان دانش،شورش کا شمیری،صبا اکبر آبادی، محشر رسول نگری،وحیدہ نسیم،منور بدایونی،شمس مینائی، محمد ذکی کیفی،اثر صہبائی اور اسد ملتانی جیسے کئی شعرانے نعت کے فروغ اور ارتقا میںبھر پور کردار ادا کیا اور اس روایت کو آگے بڑھایا:
ہیں آسمانِ نبوت پہ آپؐ بدرِ منیر
حضورؐ آپؐ کے حلقے میں مہر و ماہ اسیر
ك(ضیاء القادری)
سلام اسؐ پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اسؐ پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اسؐ پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیا سوں کو قبائیں دیں
سلا م اسؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
(ماہر القادری)
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے، قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی، خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)
جو خیال آیا تو خواب میں وہؐ جمال اپنا دکھا گئے
یہ مہک لہک تھی جنابؐ کی کہ مکان سارا بسا گئے
(اکبر وارثی)
یوں اس گلی میں چشمِ تمنا سجائی جائے
پلکوں پہ آنسوئوں کی کناری لگائی جائے
(احسان دانش)
اک اک ادا حضورؐ کی مشہود ہے یہاں
میرا رسولؐ آج بھی موجود ہے یہاں
(محشر رسول نگری)
صبا نعتِ رسولِ پاکؐ اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ دوارؐ میں
(صبا اکبرآبادی)
عرش تک تو خیالوں نے سمجھا انہیںؐ
ختم آگے تخیل کی حد ہو گئی
(منور بدایونی)
انؐ کی اک نظر سے قبل، انؐ کی اک نظر کے بعد
ہر طرف اندھیرا تھا، ہر طرف اجالا ہے
(محمد ذکی کیفی)
نبیؐ کا عشق خدا کی اطاعتِ کامل
یہ دیں کی اصل ہے باقی تمام افسانے
(اسد ملتانی)
غارِ حرا سے کرب و بلا کے مقام تک
دیدہ وروں پہ فاش ہیں اسرارِ مصطفٰےؐ
(شورش کاشمیری)
آیا ہے تراؐ اسمِ مبارک میرے لب پر
گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے
(صوفی تبسم)
خراب فردِ عمل ہو نہ جائے اے سیماب
اسے جنابِ رسالت مآبؐ دیکھیں گے
(سیماب اکبر آبادی)
قیام پاکستان کے بعد اردونعت گوئی کے رجحان نے بہت ترقی کی اور جو شاعر صرف غزل کہہ رہے تھے وہ بھی نعت لکھنے لگے اور عہد موجود میں صورتحال یہ ہے کہ تقریباًہر شاعر نعت کہہ رہا ہے۔اردو میں جدید نعت گوئی کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے ،عصرِحاضر میں لکھی جانے والی نعت اسی جدید عہد کی توسیع اور تسلسل ہے ۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ’’ مولانا حالی،علامہ اقبال،ظفر علی خان،حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اردو میں نعت کو فکری و فنی طور پر جن نئے امکانات سے روشناس کرایا اور اس میں واقعیت وحقیقت نگاری کی روایت اور قومی، ملی مسائل و موضوعات کے جن عناصر کو فروغ دیا،عصر ِحاضر کے نعت گو شاعروں نے انہی روایات و عناصر ِ نعت کی ترجمانی کی‘‘۔
(اردو میں نعت گو ئی۔ص489)
مذکورہ بالا شعراکی طرح بعد میں آنے والے شاعروں نے بھی جدید روایت نعت کی پاسداری کی۔ ان شعرا میں عبد العزیز خالد،حافظ مظہر الدین،عاصی کرنالی،حافظ لدھیانوی،حفیظ تائب،راسخ عرفانی، تابش دہلوی،محشر بدایونی ، حنیف اسعدی،عبدالکریم ثمر،ہلال جعفری،مظفر وارثی،قمر ہاشمی،اعجاز رحمانی، راجا رشید محمود، مسرور کیفی اور دیگر نے جدید نعت گوئی کی روایت کو فروغ دیا اور اس کے موضوع وفن، ہیئت و اسلوب میں تنوع پیدا کیا:
میں اور میرے فکر و بیاں کی بساط کیا
اسؐ کا کرم ہے اسؐ نے اجازت ثنا کی دی
(عبدالعزیز خالد)
جو حسن میرے پیشِ نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طوافِ نظر کریں
( حافظ مظہر الدین)
تپتے ہوئے صحرا میں کوئی جو نظر آئے
میں نعت لکھوں تو مجھے خوشبو نظر آئے
(مسرور کیفی)
خوشبو ہر ایک سانس میں شہرِ نبیؐ کی ہے
یہ کیفیت حضورؐ سے وابستگی کی ہے
( حافظ لدھیانوی)
دراڑوں کو بھی تیری رحمتوں نے باندھ رکھا ہے
فضا کتنی شکستہ ہے مگر منظر سلامت ہیں
( مظفر وارثی)
بے نیازی آپؐ سے وابستگی نے کی عطا
میں غنی کوئے پیمبرؐ کی گدائی سے ہوا
( حفیظ تائب)
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
(حنیف اسعدی)
منزلِ حبِ الہیٰ تک پہنچنے کے لیے
سرورِ کونینؐ کی الفت کا زینہ چاہیے
(سید ریاض الدین سہروردی)
شفق کا رنگ، ستاروں کی ضو، قمر کی ضیا
حبیبِ پاکؐ کے نور و ظہور کی رونق
(محمد علی ظہوری)
اعظم گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ
سایہ ہے انؐ کا سر پہ مرے آسماں نہیں
( اعظم چشتی)
دلِ کلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خوشا تجلیِ طورِ محمدؐ عربی
(رئیس امروہوی)
اللہ اللہ رخِ مصطفےؐ کی ضیا
جس نے دیکھا خدا پر یقیں آگیا
(صفیہ شمیم ملیح آبادی)
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے
(منیر نیازی)
پتھروں میں بھی لہو دوڑ گیا
اس قدر عام تھی رحمت انؐ کی
( احمد ندیم قاسمی)
درِ حضورؐ پہ پہنچوں تو ان ؐ کی نذر کروں
چمک رہے ہیں جو پلکوں پہ آبگینے سے
(راسخ عرفانی)
٭ ٭ ٭ ٭
حکومت کا خاصا ہے کہ تمام فیصلے اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں، اتحادی حکومت میں باہمی مثالی اعتماد سازی کی فضا خوش آئند ہے ۔ اتحادی حکومت مکمل یکسوئی سے کام کر رہی ہے وزیراعظم کی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی جانب سے حکومت کے نہروں سے متعلق فیصلے پر بیان...
پاکستان کا بلوچ لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردوں گروپوں کے جدید اور مہلک غیرقانونی ہتھیاروں کے حصول اور استعمال پرتشویش کا اظہار امریکی ہتھیار پاکستان کیخلاف استعمال ہورہے ہیں، ہتھیاروں تک رسائی کو روکا جائے ،دہشت گرد تنظیموں کو مخالف ملک کی ب...
سائبر ونگ کے افسران موجودہ عہدوں کے ساتھ کام کریں گے سائبر ونگ کے تمام مقدمات بھی این سی یس آئی اے کو منتقل کر دیے گئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کے سائبر ونگ کو ختم کرنے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی فعال کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سائبر ونگ کا تمام اسٹا...
پابندی کا اطلاق عمرہ، بزنس اور فیملی ویزوں پر ہوگا، پابندیاں جون میں ختم ہونے کا امکان پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا، عراق ،نائیجیریا، ایتھوپیافہرست میں شامل سعودی عرب نے حج سیزن کے تحت پاکستان سمیت 14 ممالک پر عارضی ویزا پابندی لگادی، پابندی کا اطلاق عم...
میڈیا سیل کے علاوہ تمام ٹھیکوں کا اعلان کردیا گیا، ایڈمنسٹریٹرشہاب علی خان مقرر عید الاضحی سے 2 ماہ قبل تیسر ٹاؤن ناردرن بائی پاس کے سنگم پر عید الضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کے لیے قائم کی جانے والی عارضی مویشی منڈی 2025کے قیام کے لیے میڈیا کے علاوہ 18کیٹیگریز پر مشتمل تمام ٹھ...
مویشی منڈی انتظامیہ نے 2کنٹینرز پر مشتمل عارضی موبائل دفتر بھی قائم کردیا میڈیا سیل کے علاوہ تمام ٹھیکوں کا اعلان کردیا گیا، ایڈمنسٹریٹرشہاب علی خان مقرر عید الاضحی سے 2 ماہ قبل تیسر ٹاؤن ناردرن بائی پاس کے سنگم پر عید الضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کے لیے قائم کی جانے والی عار...
پشاور میں ایک لاکھ سے زائد کی نشاندہی، کارروائی کے احکامات ابھی نہیں ملے، ضلعی انتظامیہ پولیس نے پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی میپنگ شروع کردی، 90 ٹیمیں تشکیل افغان شہریوں کے خلاف آپریشن میں تیزی میں آ گئی ہے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی م...
اسرائیلی بمباری سے فلسطینی عوام کو بھوک ، نقل مکانی کی اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہم اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت کے خاتمے کا حصہ نہیں بنیں گے ، سلامتی کونسل سے خطاب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ریلیف نہ دے پانا سلامت...
مشن کا مقصد 6بنیادی ریاستی افعال میں گورننس، بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی جائزہ لینا ہے وفد پاکستان میں 30محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی مذاکرات کرے گا پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کل(پیر)سے شروع ہوں گے ۔ آئی ای...
اونچ نیچ آفتاب احمد خانزادہ سوال زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ،ایک سوال جس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی جارہی ہے کہ آخر پاکستان کے عوام ملک کے سیاسی ، سماجی ، معاشرتی کے ساتھ ساتھ اپنے تمام معاملات سے اتنے لا تعلق کیوں ہوتے جارہے ہیں ؟ماتمی جلوسوں کے علاوہ ان کی آوازیں کیوں سنا...
گھریلو صارفین کو 34روپے 37پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی ، صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید 7روپے 59پیسے کمی ،جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60پیسے ہوگئی 77 سال سے ملک کو غربت کی جانب دھکیلنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنیوا...
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کی بانی سے ملاقات سے متعلق غلط خبریں چل رہی ہیں۔شی...