وجود

... loading ...

وجود

حکومت مخالف تحریک آج سے شروع‘طاہرالقادر ی کاہرحدتک جانے کااعلان

جمعرات 18 جنوری 2018 حکومت مخالف تحریک آج سے شروع‘طاہرالقادر ی کاہرحدتک جانے کااعلان

سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے ورثاء کوانصاف کی فراہمی کے لیے جاری پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کی احتجاجی تحریک کے فائنل رائونڈکاآج سے آغازہوگا۔ اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ آل پارٹیزکانفرنس میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں کودعوت نامے جاری کردیئے گئے ہیں ۔یادرہے کہ اس حوالے سے لاہور میں اے پی سی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ ’آل پارٹیز کانفرنس میں اتفاق رائے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ کو استعفوں کے لیے 7 روز کی مہلت دی گئی تھی، لیکن استعفے نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ ’اب ہم استعفے مانگیں گے نہیں بلکہ زبردستی لیں گے اور اب بات صرف استعفوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی جہاں، جہاں حکومت ہے اس کا خاتمہ ہوگا۔ڈاکٹر طاہرالقادری کا حکومت کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اب (ن) لیگ کے برسر اقتدار رہنے کا جواز ختم ہوگیا ہے، 17 جنوری سے حکومت کے خاتمے کے لیے احتجاجی تحریک شروع کریں گے، ہمارے آگے سارے آپشنز کھلے ہیں اور ہمیں ان کی ظلم اور کرپشن کی سلطنت کا خاتمہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاجی تحریک حکومت کے خاتمے تک نہیں رْکے گی، یہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے خون کا حساب بھی دیں گے، یہ لوٹ مار کا حساب بھی دیں گے۔

طاہرالقادری کی جانب سے احتجاجی تحریک کے اعلان کے بعد سے ملک بھرمیں پہلے سے جاری سیاسی افراتفری میں آج سے مزید شدت آنے کاامکان ہے کیوں طاہرالقادری کی جانب واضح اعلانات کے بعدحکومت نے بھی اپنی تیاریا ں مکمل کررکھی ہیں ۔ اوراس کی ہرممکن کوشش ہوگی کہ طاہرالقادری اورا ن کی ہم خیال جماعتوں کااحتجاج زیادہ طول نہ پکڑنے پائے ۔دوسری جانب طاہرالقادری کی تحریک میں جہاں اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں کی شرکت یقینی ہے وہیں مسلم لیگ (ن) کی دو اہم سیاسی مخالفین جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے منعقدہ جلسے میں ایک اسٹیج پر آنے کے امکانات معدوم نظر آرہے ہیں۔دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے کیے گئے انٹرویوز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف، عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے جلسے کو دھرنے میں تبدیل کیے جانے پر حمایت کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔دونوں مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر اور میڈیا میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مظاہرہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے تک جاری رہے گا تاہم پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ 17 جنوری کو لاہور کے جلسے میں ان کی شرکت کا مقصد 2014 میں ماڈل ٹاؤن سانحے میں پولیس کی جانب سے فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

پی پی پی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت، پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس کی حکومت کے اختتامی وقت میں سیاسی شہید نہیں بنانا چاہتی۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ آل پارٹی کانفرنس کے بعد بنائی گئی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ 17 جنوری سے ملک بھر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اسے جماعت کے عہدہ دینے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔یہ اعلان وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون کو 7 جنوری تک استعفیٰ دینے کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔کمیٹی کے گھنٹوں طویل چلنے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لائن گزر چکی ہے اور ان کے مطالبات بھی بدل چکے ہیں اب تمام مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو جانا ہوگا، چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ 7 رکنی ایکشن کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو ان مظاہروں کے انتظامات کرے گی۔اس کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کائرہ، تحریک انصاف کے علیم خان، مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈا پور، مجلس وحدت المسلمین کے ناصر شیرازی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ کے علاوہ شیخ رشید بھی شامل ہیں۔تمام جماعتوں کے سربراہان کو مظاہرے کے پہلے دن شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک اسٹیج پر موجود ہوں گے۔

لاہور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پنجاب کے سربراہ قمر الزماں کائرہ کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز ہوگا جس میں 17 جنوری کو ہونے والے عوامی جلسے سے متعلق بات کی جائے گی جس کے علاوہ آئندہ کا لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بار بار اس بات کو باور کرایا تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں، دونوں جماعتیں اتحاد کے قریب بھی نہیں آسکتیں۔تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پارٹی صدر کے احکامات کے پیش نظر ان کی جماعت 17 جنوری کو لاہور میں ہونے والے جلسے میں بھرپور شرکت کرے گی۔طاہر القادری کی جانب سے جلسے کو غیر معینہ مدت تک کے لیے دھرنے میں تبدیل کیے جانے پر پارٹی پالیسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ ایک روزہ تقریب ہے اور اب تک غیر معینہ مدت تک کے لیے دھرنے میں بیٹھنے کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کیے جانے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم اس پر حتمی فیصلہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اس جلسے کا حصہ بنیں گے یا نہیں تاہم وہ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ عمران خان اس جلسے میں عوام سے ضرور خطاب کریں گے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ 17 جنوری کو ہونے والے جلسے میں بھرپور شرکت کی جائے گی تاہم یہ ناپسندیدہ ہے کہ ان کی جماعت مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کیے جانے کی حمایت کرے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اس مظاہرے کی حمایت صرف ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین سے یکجہتی میں کر رہے ہیں اور ہمارا مقصد حکومت کو اس تحریک کے ذریعے گرانا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا اصل مطالبہ ماڈل ٹاؤن سانحے میں متاثرین کو انصاف دلانا ہے اور جس کے لیے ان کی جماعت کی پاکستان عوامی تحریک سے تعاون جاری رہے گا۔نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت کے کچھ ہی مہینے رہتے ہیں اور ہم کسی کو سیاسی شہید نہیں بنانا چاہتے بلکہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے عوامی تحریک کے جلسے میں شرکت کا منصوبہ بنا رکھا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ وہاں تقریر کریں گے یا نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے چند دن میں آصف علی زرداری کی لاہور آمد کے بعد جلسے کے حوالے سے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ صورت حال جوبھی ہو یہ بات توطے ہے کہ علامہ طاہرالقادری کی تحریک یا احتجاجی جلسہ ہرصورت پہلے سے مشکلا ت میں گھرن لیگ کی حکومت کے لیے مشکلات کاسبب ضروری بنے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار حکومت پنجاب ایسے اقدامات سے گریز کرے جن کاوہ ماضی میں مظاہرہ کرتی رہی ہے ۔


متعلقہ خبریں


سندھ میں مقررہ ہدف سے 49فیصد کم ٹیکس وصولی کا انکشاف وجود - جمعه 18 اپریل 2025

  8ماہ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 6کھرب 14ارب 55کروڑ روپے تھا جبکہ صرف 3کھرب 11ارب 4کروڑ ہی وصول کیے جاسکے ، بورڈ آف ریونیو نے 71فیصد، ایکسائز نے 39فیصد ،سندھ ریونیو نے 51فیصد کم ٹیکس وصول کیا بورڈ آف ریونیو کا ہدف 60ارب 70 کروڑ روپے تھا مگر17ارب 43کروڑ روپے وصول کیے ، ای...

سندھ میں مقررہ ہدف سے 49فیصد کم ٹیکس وصولی کا انکشاف

عمران خان کی زیر حراست تینوں بہنوں سمیت دیگر گرفتار رہنما رہا وجود - جمعه 18 اپریل 2025

  عمران خان کی تینوں بہنیں، علیمہ خانم، عظمی خان، نورین خان سمیت اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر،صاحبزادہ حامد رضا اورقاسم نیازی کو حراست میں لیا گیا تھا پولیس ریاست کے اہلکار کیسے اپوزیشن لیڈر کو روک سکتے ہیں، عدلیہ کو اپنی رٹ قائ...

عمران خان کی زیر حراست تینوں بہنوں سمیت دیگر گرفتار رہنما رہا

روس نے طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا وجود - جمعه 18 اپریل 2025

روس نے 2003میں افغان طالبان کو دہشت گردقرار دے کر متعدد پابندیاں عائد کی تھیں 2021میں طالبان کے اقتدار کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی روس کی سپریم کورٹ نے طالبان پر عائد پابندی معطل کرکے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نام نکال دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے ...

روس نے طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

حکومت کا ملکی معیشت کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ وجود - جمعه 18 اپریل 2025

وزیراعظم نے معیشت کی ڈیجیٹل نظام پر منتقلی کے لیے وزارتوں ، اداروں کو ٹاسک سونپ دیئے ملکی معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کیلئے فی الفور ایک متحرک ورکنگ گروپ قائم کرنے کی بھی ہدایت حکومت نے ملکی معیشت کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس حوالے سے وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں ا...

حکومت کا ملکی معیشت کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

وفاق صوبے کے وسائل پر قبضے کی کوشش کررہا ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

  فاٹا انضمام کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی اور اس کے پیچھے بیرونی قوتیں،مائنز اینڈ منرلز کا حساس ترین معاملہ ہے ، معدنیات کے لیے وفاقی حکومت نے اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، 18ویں ترمیم پر قدغن قبول نہیں لفظ اسٹریٹیجک آنے سے سوچ لیں مالک کون ہوگا، نہریں نکالنے اور مائنز ا...

وفاق صوبے کے وسائل پر قبضے کی کوشش کررہا ہے، مولانا فضل الرحمان

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کی تیاریاں وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

  قابل ٹیکس آمدن کی حد 6لاکھ روپے سالانہ سے بڑھانے کاامکان ہے، ٹیکس سلیبز بھی تبدیل کیے جانے کی توقع ہے ،تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز کی منظوری آئی ایم ایف سے مشروط ہوگی انکم ٹیکس ریٹرن فارم سادہ و آسان بنایا جائے گا ، ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی جائے گی، ب...

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کی تیاریاں

جیل عملہ غیر متعلقہ افراد کو بھیج کر عدالتی حکم پورا کرتا ہے ،سلمان اکرم راجہ وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

  بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو فیملی اور وکلا سے نہیں ملنے دیا جا رہا، جیل عملہ غیر متعلقہ افراد کو بانی سے ملاقات کیلئے بھیج کر عدالتی حکم پورا کرتا ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن...

جیل عملہ غیر متعلقہ افراد کو بھیج کر عدالتی حکم پورا کرتا ہے ،سلمان اکرم راجہ

ٹی پی لنک کینال کو بند کیا جائے ،وزیر آبپاشی کا وفاق کو احتجاجی مراسلہ وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

  پنجاب، جہلم چناب زون کو اپنا پانی دینے کے بجائے دریا سندھ کا پانی دے رہا ہے ٹی پی لنک کینال کو بند کیا جائے ، سندھ میں پانی کی شدید کمی ہے ، وزیر آبپاشی جام خان شورو سندھ حکومت کے اعتراضات کے باوجود ٹی پی لنک کینال سے پانی اٹھانے کا سلسلہ بڑھا دیا گیا، اس سلسلے میں ...

ٹی پی لنک کینال کو بند کیا جائے ،وزیر آبپاشی کا وفاق کو احتجاجی مراسلہ

مہاجرین واپس اپنے وطن آجائیں اور اپنا ملک آباد کریں،افغان قونصل جنرل وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

ہمیں یقین ہے افغان مہاجرینِ کی دولت اور جائیدادیں پاکستان میں ضائع نہیں ہونگیں ہمارا ملک آزاد ہے ، امن قائم ہوچکا، افغانیوں کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے ، پریس کانفرنس پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر نے کہا ہے کہ افغانستان آزاد ہے اور وہاں امن قائم ہ...

مہاجرین واپس اپنے وطن آجائیں اور اپنا ملک آباد کریں،افغان قونصل جنرل

سپریم کورٹ ،عمران خان سے ملاقات کیلئے تحریری حکم کی استدعا مسترد وجود - جمعرات 17 اپریل 2025

عدالت نے سلمان صفدر کو بانی پی ٹی سے ملاقات کرکے ہدایات لینے کیلئے وقت فراہم کردیا چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کی عمران خان کے ریمانڈ سے متعلق اپیل پر سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کے لیے تحریری حکم نامہ جاری کرنے کی ان کے وکی...

سپریم کورٹ ،عمران خان سے ملاقات کیلئے تحریری حکم کی استدعا مسترد

دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، آرمی چیف وجود - بدھ 16 اپریل 2025

  جب تک اس ملک کے غیور عوام فوج کے ساتھ کھڑے ہیں فوج ہر مشکل سے نبردآزما ہوسکتی ہے ، جو بھی پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہوگا ہم مل کر اس رکاوٹ کو ہٹادیں گے جو لوگ برین ڈرین کا بیانیہ بناتے ہیں وہ سن لیں یہ برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین ہے ،بیرون ملک مقیم پاکستانی ا...

دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، آرمی چیف

مذاکرات کا اختیارکسی کو نہیں دیا،کوئی بھی رہنما ڈیل کے لیے مذاکرات نہ کرے، عمران خان وجود - بدھ 16 اپریل 2025

اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں ، ممکنہ اتحادیوں سے بات چیت کو تیز کیا جائے ، احتجاج سمیت تمام آپشن ہمارے سامنے کھلے ہیں,ہم چاہتے ہیں کہ ایک مختصر ایجنڈے پر سب اکٹھے ہوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین سے ملاقات تک مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر کوئی بات نہیں ہوگی، ہر...

مذاکرات کا اختیارکسی کو نہیں دیا،کوئی بھی رہنما ڈیل کے لیے مذاکرات نہ کرے، عمران خان

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری وجود جمعه 18 اپریل 2025
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری

عالمی معاشی جنگ کا آغاز! وجود جمعه 18 اپریل 2025
عالمی معاشی جنگ کا آغاز!

منی پور فسادات بے قابو وجود جمعرات 17 اپریل 2025
منی پور فسادات بے قابو

جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں! وجود بدھ 16 اپریل 2025
جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں!

پاک بیلا روس معاہدے وجود بدھ 16 اپریل 2025
پاک بیلا روس معاہدے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر