... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
مرکز کے اندر فی الحال ہندوتوانواز مودی حکومت اور اترپردیش میں وزارت عظمیٰ کے طاقتور دعویدار راجپوت یوگی ادیتیہ ناتھ کی سربراہی میں ڈبل انجن سرکار ہے ۔ اس کے باوجود یوپی کا ایک دلت سماجوادی رکن پارلیمان رام جی لال سُمن ایوان پارلیمان میں ہندووں کو ببانگ دہل رانا سا نگا کی اولاد ہونے کے سبب غدار کہہ دے اس سے بڑ ی توہین اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اس بیان سے وزیر اعلیٰ سمیت پورے راجپوت سماج نے اپنے آپ کو کس قدر بے عزت محسوس کیا ہوگا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔ اپنی اہانت کا انتقام لینے کی خاطر راجپوت وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا آشیرواد لے کر کرنی سینا میدان میں اتری تو ایسا محسوس ہوا کہ اب تو قیامت آجائے گی مگر وہ معاملہ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ کرنی سینا کے رنگروٹ اپنے پیرِ مغان یوگی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بلڈوزر پر سوار ہوکر آئے لیکن ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں کی مانند ان کی ایک نہ چلی ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے رانا سانگا کی روایت جاری رکھتے ہوئے اپنی پولیس کے ذریعہ حملہ آور لشکر کو روک دیا اور راجپوت فوج رام جی لال کے سامنے بھی ناکام ہوگئی ۔
کرشن کی برج بھومی پر کل یُگ میں جب پھر سے مہابھارت کی تاریخ دوہرائی گئی تو ایک طرف کرنی سینا اور دوسری جانب یوگی کی پولیس تھی۔ اس نے حملہ آوروں کو مارپیٹ کر بھگا دیا ۔ اس حملے سے قبل وزیر اعلیٰ نے کرنی سینا کے موقف کی حمایت میں سوال کیا تھا کہ کیا صرف وہی لوگ تاریخ جانتے ہیں جو جناح کی تعریف کرتے ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو بابر، اورنگ زیب اور جناح کی تعریف کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک، ہندوستان کی وراثت اور ہندوستان کے عظیم لوگوں کے تئیں ان کے جذبات کیا ہوں گے ؟ یوگی نے پوچھا تھایہ لوگ مہارانا پرتاپ، رانا سانگا، چھترپتی شیواجی مہاراج اور گرو گووند سنگھ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ سچائی تو یہ ہے کہ یاتو ادیتیہ ناتھ تاریخ ہند کے بارے میں کچھ نہیں جانتے یا اپنی برادری کی منہ بھرائی کے لیے اول فول بک رہے ہیں ۔ یوگی اور ان کے پیروکاروں کو اس طرح کے احمقانہ بیان دیتے وقت شرم آنی چاہیے لیکن اگر وہ ہو تو آئے ۔ ان لوگوں پر تو عروسہ جیلانی کا یہ شعر من و عن صادق آتا ہے
خود شیشے کے گھر میں بیٹھے پتھر پھینکیں اوروں پر
زخمی لوگ پکاریں بھی تو تہمت آئے لوگوں پر
رام جی لال سمن نے مذموم حملے کے بعد صدرِ ایوان بالا کو لکھ کر تحفظ کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ”میں نے جو کہا تھا وہ تلخ حقیقت تاریخ کا حصہ ہے ۔ وہ اپنے بیان پر اب بھی قائم ہیں، کیونکہ بابر کو رانا سانگا ہی ہندوستان لے کر آیا تھا”۔رانا سانگا کا معاملہ اب ہندو مسلمان سے آگے بڑھ کر ذات پات کی لڑائی میں بدل دیا گیا ہے ۔ سماجوادی پارٹی رکن پارلیمان ڈمپل یادو نے رام جی لال سمن کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے یاد دلایاکہ وہ ایک دلت ہیں، اور یہ حملہ ایک دلت پر کیا گیا حملہ ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حملہ آوروں نے ذات پات کے نام گالی گلوچ اور مارپیٹ کی تھی اس لیے ان کے خلاف ایس سیایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوسکتا ہے جس میں خاصی سختی ہے ۔کرنی سینا کو غالباً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب اس کا ایک عہدیدار اپنی ٹوٹی ٹانگ کا ویڈیو ذرائع ابلاغ میں ڈال کر اپنی مظلومیت کا ڈھونگ رچا رہاہے جبکہ کل تک وہ لوگ منہ کالا کرنے اور زبان کاٹنے پر انعامات کا اعلان کررہے تھے لیکن اس سے بات نہیں بنے گی ۔ان کا پہلا حملہ ناکام ہوگیا اور پھر سے آئیں گے تو وہی ناکامی ہاتھ لگے گی۔ کرنی سینا اور ان کے سامنے چٹان کی مانند کھڑے ہوئے رام جی لال سُمن پر جاوید ندیم کے یہ اشعار صادق آتے ہیں
منانے آئے تھے کچھ لوگ جشن غرقابی
میں ڈوبتے ہوئے کرتا کوئی اشارہ کیا
یہی خیال ہمیں لے کے پار اترا ہے
کہ ڈوبنا ہے تو وسط کیا، کنارہ کیا
رام جی لال سُمن نے یوگی ادیتیہ ناتھ کے لیے ایک بہت بڑا دھرم سنکٹ کھڑا کردیا ہے ۔ وہ اگر اپنا راج دھرم نبھاتے ہیں توبرادری میں ناک کٹتی ہے اور اگر راجپوتوں کو کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں جو صوبے میں پھیلنے والی بد امنی کے بہانے امیت شاہ ان سے کرسی چھین کر اپنے پرانے دوست اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو سونپ دیں گے ۔ اس طرح نہ صرف یوگی جی کا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا بلکہ وزیر اعظم بننے کا خواب بھی ٹوٹ کر بکھر جائے گا ۔ سماجوادی پارٹی نے اس معاملے کو راجپوت بنام دلت بنانے کا ارادہ کرلیا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر اکھلیش یادو نے خود میدان میں اترنے کے بجائے سراتھو سے سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی اوراپنا دل کمیرا وادی کی رہنما پلوی پٹیل کو میدان میں اتارا ہے ۔ وہ رام جی لال سمن کی رہائش گاہ پرکرنی سینا کے ذریعہ کئے گئے توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں ذات پات کے زاویہ کو خوب ہوا دینے کی کوشش کررہی ہیں ۔پلوی پٹیل اور ان کی پارٹی کے کارکنان نے لکھنو میں پریورتن چوک سے حضرت گنج چوراہے تک احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس کے ذریعہ بیریکیڈنگ لگاکر سبھی مظاہرین کو بسوں میں بھرکے ایکوگارڈن پولیس تھانے بھیج دیا گیا۔
یوگی پولیس کی نے پلوی پٹیل کو ہمدردی کارڈ کھیلنے کا موقع دے دیا۔ انہوں نے گرفتاری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دلت رکن پارلیمنٹ کے گھر پر حملہ اورتشدد کے خلاف دارالحکومت لکھنؤ کی سڑکوں پراحتجاج۔(انہیں) سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا مگر جدوجہد جاری رہے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رام جی لال سمن چونکہ ایک دلت خاندان سے آتے ہیں، اس لیے ان پر ظلم کیا گیا۔ وہ بولیں کہ یہ ایک دن کا عمل نہیں بلکہ کافی عرصے سے رچی جانے والی سازش کا حصہ ہے ۔ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی کیونکہ دلت رکن پارلیمان چندر شیکھر راون نے رام جی لال سُمن کی حمایت کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اترپردیش میں جنگل راج پر تنقید کی اور وزیر اعلیٰ سے حملہ آوروں پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ پلوی پٹیل کے احتجاج اور ایس پی کے سینئر رہنما رام گوپال ورما کے رام جی لال سُمن کے گھر جاکر ملاقات نے چندر شیکھر راون کی وہ شکایت بھی دور کردی کہ سماجوادی اس معاملے کو خاطر اہمیت نہیں دے ر ہی ہے ۔
اتر پردیش کے سیاسی منظر نامہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں کے راجپوت ایس پی سے اسی طرح نالاں ہیں جیسے بی جے پی سے مسلمان اس لیے سماجوادی پارٹی کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے جبکہ راجپوتوں کی حمایت سے بی جے پی کا کوئی اضافی فائد ہ نہیں ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی ان کے ساتھ ہیں ۔ الٹا راجپوت سماج کے کچھ رہنما پولیس ایکشن پر تنقید کرتے ہوئے یوگی کی کارکردگی پر تنقید کرر ہے ہیں مگر الیکشن کے وقت پھر سے ذات برادری غالب آجائے گی اور راجناتھ سنگھ نے جن راجپوتوں کو پارٹی کے ساتھ کیا ہے وہ حمایت کریں گے ۔ اس تنازع نے اگر اترپردیش کے دلتوں کو مایا وتی کے بجائے سماجوادی پارٹی کی جانب راغب کیا تو اس میں بی جے پی کا بلاواسطہ نقصان ہو جائے گا۔ ذات پات کی سیاست کو سوشیل انجنیرنگ کا خوبصورت نام دے کر بی جے پی اس کا خوب فائدہ اٹھاتی ہے اور وقت ضرورت اپنے حریفوں کو توڑ کر اپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہوجاتی ہے لیکن اس بار معاملہ الٹا پڑ رہا ہے ۔
گزشتہ سال پارلیمانی انتخاب سے قبل راجکوٹ سے انتخاب لڑنے والے ایوان بالا کے رکن اور مرکزی وزیر پرشوتم روپالہ نے اپنی مہم کے دوران سُمن بھی زیادہ اہانت آمیز انداز میں دلتوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا راجپوتوں نے انگریزوں اور حملہ آوروں (مسلمان بادشاہوں) کے ساتھ روٹی بیٹی کا تعلق رکھا۔ان سے اپنی بیٹیوں شادی کی مگر ہم (پاٹیداروں) اور دلتوں نے کبھی بھی اپنے مذہب کا سودہ نہیں کیا ۔ یہ بیان وائرل ہوا تو کرنی سینا بھڑک گئی۔ اس نے اسے اپنی خواتین کی توہین قرار دے کر جوہر(خود سوزی) اور ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی۔ ان کا کم ازکم مطالبہ تھا کہ روپالہ کو بی جے پی امیدواروں کی فہرست سے نکالے مگر وہ پاٹیدار رائے دہندگان کی ناراضی سے بچنے کے لیے مودی اور شاہ ایسی جرأت نہیں کرسکے ۔ اس اہانت کے بعد بھی راجپوت سماج بی جے پی کا کچھ خاص بگاڑ نہیں سکا الٹا پرشوتم روپالہ کی حمایت میں اضافہ ہوگیا۔ انہیں جملہ 8,57,984 یعنی تقریباً 68.5 فیصدووٹ ملے اور 3,73,724 ووٹ کے فرق سے کانگریسی امیدوار دھانانی ہارگیا۔ یوپی میں چونکہ راجپوت بی جے پی کے ریڑھ کی ہڈی ہیں اس لیے انہیں گجرات کی طرح نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی کے ایک طرف راجپوت اور دوسری جانب دلت رائے دہندگان ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اورنگ زیب اور رانا سانگا کا یہ تنازع کمل کے لیے کیسا دھرم سنکٹ کھڑا کرتا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔