وجود

... loading ...

وجود

آپ مسائل کا کب شکار ہوتے ہیں؟

هفته 22 مارچ 2025 آپ مسائل کا کب شکار ہوتے ہیں؟

آفتاب احمد خانزادہ

آپ مسائل کاکب شکار ہوتے ہیں جب آپ اپنے آ پ کو دوسروں سے افضل اورالگ سمجھنے کی غلطی کرنے کاآغاز کردیتے ہیں۔ جب آپ دوسروں کو کمتر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے ہی آپ کے اندر اس عمل کا آغاز ہوتاہے ویسے ہی آپ کے اندر چھپے مسائل کے جراثیم Activeہوناشروع جاتے ہیں اور کچھ ہی عرصے بعد مسائل آپ کو دبوچ لیتے ہیں، پھر ان سے نجات حاصل کرنا اسی ہی طرح ہے جس طرح کسی دیو سے نجات حاصل کرنا پھر آپ قابل رحم حالت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
قبل از مسیح میں بعض معاشروں میں حکمرانوں کو عاجزی سکھانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ سمیری بادشاہوں کے منہ پر بڑا کاہن سال میں ایک مرتبہ تھپڑ لگاتا تھا جب روسی فاتحین بازاروں سے گزرتے تو ان کے ساتھ ساتھ ایک غلام ہوتا تھا جو گاہے بہ گاہے ان کے کان میں سر گوشی کرتا رہتا تھا ”یادرکھو کہ تم ایک فانی انسان ہو”۔ہم سب دنیا میں خوش رہنے اور خو ش رکھنے کے لیے آئے ہیں آپ اگر اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں تو آپ کوان گنت ایسے لوگ باآسانی دکھائی دیں گے جو قابل رحم حالت کاشکار ہیں اور ان کے پاس اس حالت میں رہنے کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے۔ اگر آپ ان سے اس حالت میں رہنے کی وجہ دریافت کریں گے تو وہ ایسی ایسی وجوہات کی نشاندہی پیش کریں گے کہ جن کا مشاہد ہ کرنے کے بعد آ پ اس نتیجے پر پہنچ جائیںگے کہ ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے لیکن وہ چونکہ برسوں سے اس صورتحال سے دو چار ہیں کہ اب ان کی یہ ایک پختہ عادت بن چکی ہے۔ انہوں نے اپنی قابل رحم حالت رہنے میں اس قدر سرمایہ کاری کررکھی ہے کہ وہ اس حالت سے دستبردار ہونے پر تیار ہی نہیں ہونگے ۔ اگر یہ حالت بذات خود غائب ہوجاتی ہے تو وہ اس کی تخلیق نو کے نئے طریقے دریافت کرلیں گے کیونکہ وہ اس کے ساتھ اس قدر چمٹے ہوئے ہیں کہ اس کے بغیر زندہ رہنے کا تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔
چینی کہاوت ہے کہ” معجزہ یہ نہیں کہ ہوا میں اڑا جائے یاپانی پر چلا جائے بلکہ زمین پر چلنا ایک معجزہ ہے ”۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ انہوں نے خوشی کو کہاں تلاش کر ناہے ۔وہ ساری زندگی اپنے آپ سے باہر خوشی کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ کوئی روپے پیسے کی پیچھے بھاگا جارہاہے، اس کے خیال میں خوشی روپوں پیسوں میں چھپی بیٹھی ہے ۔کوئی اختیارات کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کررہاہے۔ کوئی رتبے کے لیے مراجارہاہے۔ کوئی نام، عزت اور شہرت کے پیچھے اپنی جان دے رہاہے ۔یہ سب خوشی کے سائے کے پیچھے بھاگے جارہے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے ایسی لاحاصل چیز کے پیچھے بھا گ رہے ہیں جو کبھی انہیں ملنی ہی نہیں ہے ۔ دلائی لامہ نے درست کہا تھا کہ خوشی کی جستجو کا اولین مرحلہ سیکھنا ہے۔ یہ کبھی باہر نہیں ملتی ۔یہ آپ کے اپنے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے بس آپ نے اسے تلاش کرناہوتاہے ۔ ایک مقام پر بزرگ رہتا تھا جو ہمیشہ خو ش رہتا تھا ہمیشہ اور ہمیشہ ۔ کسی نے کبھی اسے ناخوش نہ دیکھا یہ ایسے ہی تھا ۔جیسے وہ اس زبان کو جانتا ہی نہ تھا جیسے وہ صرف یہ جانتا تھا کہ خوش کیسے رہنا ہے جب وہ بے حد معمر ہوگیا تو ایک شخص نے اس سے دریافت کیا ” کیا آپ براہ مہربانی مجھے اپنا راز بتائیں گے کہ آپ کیسے اس قدر خوش رہتے ہیں آپ کیسے ہر لمحے شادمان رہتے ہیں ،یہ ناممکن ہے یہ ناقابل یقین ہے آ پ کاراز کیاہے ؟” بزرگ شخص نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ” عرصہ دراز قبل میں نے ایک سادہ سی چیز دریافت کی ہر صبح جب میں اپنی آنکھیں کھو لتا تھا میرے پاس اس دن کے لیے منتخب کرنے کیلئے دو نعم البدل ہوتے تھے خوش رہا جائے یا نا خوش رہا جائے۔ اورمیں ہمیشہ خوش رہنے کا انتخاب کرتا تھا میرا راز سادہ ساہے ہر دن مجھے دو نعم البدل عطا کرتا ہے اور میں ہمیشہ خو ش رہنے کا انتخاب کرتاہوں بس یہ ہی سب کچھ ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔یہ ہی راز ہے تمام عظیم سچائیاں سادا سچائیاں ہیں ۔ برٹر نڈرسل نے کہا ہے ” لوگ زندگی کی جدوجہد سے جو مراد لیتے ہیں وہ حقیقت میں کامیابی کے لیے جدوجہد ہے لوگ جدو جہد میں ملوث ہوتے ہوئے جس خدشے یا خوف کا شکار ہوتے ہیں وہ یہ ہر گز نہیں ہے کہ اگلی صبح وہ اپنے ناشتے کے حصول میں ناکام ہونگے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں سے جلوے میں بڑھنے میں ناکام ہونگے ”۔ امریکہ کی ہاور ڈیونیورسٹی خوشی میں نفسیات کو رس پیش کررہی ہے ۔یہ کورس بے حد مقبولیت حاصل کررہاہے، اس کو رس میں کسی بھی کورس سے بڑھ کر طلباء شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔کورس اس امر پر زور دیتا ہے کہ خوشی ہماری ذہنی حالت کے حوالے سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے اور زندگی کے نظرئیے کے حوالے سے بھی زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے، بہ نسبت بیرونی عوامل کے ۔ مثلاً دولت ، شہرت ،کیرئیر ، سماجی ،رتبہ اور مرتبہ اور کامیابی جیسا کہ مادی حوالے سے بیان کی جاتی ہے۔ساری زندگی آپ کے سامنے دو راستے باربار آتے ہیں، ایک خوش رہنے کاراستہ اور ایک ناخوش رہنے کاراستہ ۔ آپ اپنے لیے کون سے راستے کا انتخاب کرتے ہیں، یہ آپ کا اپنا انتخاب ہوتاہے ۔یاد رکھیں خوش رہنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ آپ کے ارد گرد کی ہر چیز کامل ہونی چاہیے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کے باوجود بھی خوش رہنے کاانتخاب کرناہے کہ ہمارا ارد گر د کبھی بھی کامل نہیں ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر