... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ حماس کی سرخروئی اور اسرائیل کی دھوکہ دھڑی پر اختتام پذیر ہوا ۔ اس مرحلے کے چھٹی قسط میں حماس نے تو عہد کی پابندی کرتے ہوئے ٦ یرغمال رہا کیے مگر اسرائیل 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے وعدے سے مکر گیا ۔ اسرائیل کی جانب سے وعدہ خلافی کا جواز نہایت مضحکہ خیز ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی اسیران کی حوالگی کے موقع پر ‘ذلت آمیز’تقریبات اور پروپگنڈے اور اگلی رہائی کی یقین دہانی تک فلسطینی قیدیوں کو نہیں رہا کیا جائے گا۔ اس سے اسرائیل کے نزدیک عزت و ذلت کے معیار پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ ایک خوش و خرم یر غمال کافی کا پیالہ ہاتھ میں لیے گاڑی میں بیٹھ کر آئے اور رہائی سے قبل حماس کے دو مجاہدین کے سر پر بوسہ لے تو یہ ذلت کیسے ہوگئی؟اسرائیل کو تو حماس کے حسن سلوک کی شہادت دینے والی ویڈیو پر اعتراض ہے کیونکہ وہ خود اس کی جیل سے رہا ہونے والوں کی ایسی ویڈیو جاری کرنے سے قاصر ہے ۔ بے قصور فلسطینیوں کے ساتھ بدترین بدسلوکی مانع ہے ۔
حماس کے حسنِ اخلاق کو جھوٹی تشہیر قرار دے کر مخالفت کرنا اسرائیل کی مجبوری ہے کیونکہ اس محاذ پر وہ چاروں خانے چت ہے ۔ یہ سچائی اسرائیل کے منہ پر کالک پوت کر مجاہدین کو سر بلند کرتی ہے ۔ وہ دنیا کے سامنے اپنا کریہہ چہرا چھپا رہا ہے اس کے برعکس حماس اپنے رہا ہونے والے قیدیوں کو سرٹیفکیٹ اور تحائف دے کر ساری دنیا کا دل جیت رہا ہے ۔ اسے بیانیہ سازی یا narrative building کہتے ہیں اور اس جنگ میں حماس نے مغرب سمیت اسرائیل کو شکست فاش سے دوچار کردیا ہے ۔ اسرائیل کے مطابق حماس کی ان تقاریب سے یرغمالیوں کا وقار مجروح ہوتا ہے ۔ پروپیگنڈے کے لیے یرغمالیوں کا استعمال معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ خود اسرائیل اس طرح کی کم ازکم ایک ویڈیو بناکر اس کا توڑ کیوں نہیں کردیتا؟ سچ تو یہ ہے کہ رہا ئی پانے والے قیدیوں کی عزت و توقیر نے اسرائیلی حکومت کے لیے ذلت و رسوائی کا سامان کردیا۔
حماس نے بجاطور پرصیہونی حکومت کے اس فیصلے کو ‘جبر’ اور ‘دہشت گردی’ سے تعبیر کرکے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے جنگ بندی معاہدے کو برباد کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ عصرِ حاضر میں جنگی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے علاوہ بیانیہ سازی (narrative building) کی بھی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس کھیل میں ناکام ہونے والے ہیرو کو ولن بنا دیا جاتا ہے اور کامیاب ہونے والا ولن بھی ہیرو کہلاتا ہے ۔اس میدان میں بھی ‘حماس’ کی کارکردگی غیر معمولی ہے ۔ بیانیہ سازی کو کچھ لوگ اچھے آئیڈیاز اور الفاظ اور تنوع پسند پیشکش کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کے پیچھے اگر اخلاص وعمل کی گواہی نہ ہو تو بات نہیں بنتی مثلاً اگر حماس نے اپنی دینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے یرغمالوں کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا ہوتا تو یہ سب نہیں کرپاتا۔
جنگ میں قیدی اور ان کی رہائی عام سی بات ہے ۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے تین سال کی تکمیل پر تمام جنگی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پیش کی ہے ۔ اکتوبر 2024 میں، روس اور یوکرین نے 58 ویں بار متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے 103 جنگی قیدیوں کو رہا کیا تھالیکن کیا کسی نے اس کی ویڈیو دیکھی؟ کیونکہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی آڑے آگئی تھی۔ پچھلے سال اقوام متحدہ نے روسی فورسز پر 24 الگ الگ واقعات میں 79 یوکرینی فوجی قیدیوں کو پھانسی دینے کا انکشاف کیا تھا۔ روسی فیڈریشن میں عوامی شخصیات نے کھلے عام یوکرین کے فوجی اہلکاروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے اور انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کرکے سرکار کو غیر قانونی رویے کی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ یوکرین کے ایک فوجی اور سابق جنگی قیدی نے یو این کمیشن کو بتایا تھا کہ دوران قید اس نے زندہ رہنے کی خواہش اور امید گنوا دی تھی۔ روسی فوج کی حراست میں تشدد کے نتیجے میں اس کی ہڈیاں اور دانت تک ٹوٹ گئے اور ایک زخمی پاؤں پر گینگرین بن گیا۔
ماسکو کے جنوبی قصبے دونسکوئے کی جیل میں ایک قیدی نے خودکشی کی کوشش کی تو اہلکاروں نے اس پر مزید تشدد کیا۔ جیل میں اسے قید تنہائی میں رکھ کر کولہوں پر ضربیں لگائی گئیں ۔ تشدد سے اس کے نازک اعضا سے خون جاری ہو گیا، دانت ٹوٹ گئے اور پاؤں لہولہان ہو گئے ۔ وہ جیل کے اہلکاروں سے کہتا تھا کہ اس اذیت سے بہتر ہے کہ وہ اسے ہلاک کر دیں۔ ایسی بدسلوکی کرنے والے کس کیمرے سے ویڈیو بنائیں گے ۔ ویڈیو تو وہ لوگ بناتے ہیں جن سے رہائی پانے والے فوجی کی حماس کے جنگجو کو سلام کرتاہے یا جاتے ہوئے الوداعی بوسہ دے کر رخصت ہوتے ہیں ۔ “القسام بریگیڈز نے قیدیوں کے ساتھ اسلام کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حسنِ سلوک کیا اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ گرفتاری سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ۔ گرفتاری کے بعد قیدیوں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ۔
قیدیوں کی رہائی معاملہ محض حسن سلوک تک محدود نہیں بلکہ اسے بیانیہ سازی کے لیے بڑی خوبی سے استعمال کیا گیا۔ ابھی حال میں تین اسرائیلی قیدیوں کو رہائی ہوئی ان میں سے دو امریکی اور ایک روسی شہری تھا جن کو بزور قوت چھڑانے میں روس و امریکہ سمیت اسرائیل ناکام ہوگئے تھے ۔ ان میں سے ساگی ڈیکل ہان، یائر ہوران کوغزہ کی القسام بریگیڈز نے حوالے کیا جبکہ مغربی کنارے کی القدس بریگیڈز نے ساشا الیگزینڈر تروبنوف کو رہا کیا۔ اس طرح حماس کی پورے فلسطین میں موجودگی اور باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ بھی ہوا۔ ان تین یرغمال کے عوض حماس نے 369 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کروائی ۔ان میں سے عمر قیدکی سزا کاٹنے والے 36 قیدی تھے لیکن خاص بات یہ ہے کہ 29 کا تعلق بیت المقدس اور اس کے مضافات سے یعنی مغربی کنارے سے تھااس طرح یہ پیغام دیا گیا کہ حماس صرف غزہ کی نہیں بلکہ پورے فلسطین اور قدس کی جنگ لڑ رہی ہے ۔
باقیماندہ 333 قیدیوں کو 7 اکتوبر کے بعد غزہ سے دورانِ جنگ قید کیا گیا تھا ۔ یہاں یہ پیغام دیا گیا اگر تم نے پچیس گنا زیادہ لوگوں کو شہید کیا تو ہم نے سو گنا زیادہ لوگوں کو چھڑایا ہے ۔ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ “قابض اسرائیل کے پاس جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کے علاوہ اپنے باقی قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے ”۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ :بن یامین نیتن یاہو کی معاہدے کے تقاضوں سے بچنے کی سعی یا تاخیر اس کے ذریعہ اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش ہے ‘۔ اس طرح بیانیہ سازی کے میدان میں مختلف جہتوں سے دشمن کی گھیرا بندی کی گئی۔ شہید یحییٰ السنوار کے گھر سے قریب خان یونس میں ان قیدیوں کی حوالگی کے لیے انتخاب اپنے شہیدوں کو خراجِ عقیدت کو عملی خراجِ عقیدت تھا۔اس طرح پیغام دیا گیا گوکہ جنت کے باغوں میں رہنے والے شہیدانِ اسلام اپنے مداحوں کے دل میں بستے ہیں۔ رہائی کے لیے تیار کردہ پلیٹ فار م پراس جنگ کے دوران شہید ہونے والے کمانڈرانچیف محمد الضیف اور رافع سلامہ کے علاوہ دیگر شہید رہ نماؤں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اسٹیج کے بائیں جانب “طوفان الاقصیٰ آپریشن کے سربراہ یحییٰ السنوار کی تصویر موجود تھی۔شہہ نشین کے وسط میں ایک بڑا بینر پرعربی ، انگریزی اور عبرانی میں لکھا تھا کہ “اے یروشلم ! گواہ رہنا ہم تمہارے سپاہی ہیں” ۔ عربی کے علاوہ انگریزی اور عبرانی زبان کا استعمال اسرائیلی اور امریکی و یوروپی عوام تک اپنا اصلی تعارف پہنچانے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ اس فقرے میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ موجودہ کشمکش محض ردعمل کی کوئی عام سی تحریک نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد فلسطین کو آزاد کرکے مسجدِ اقصیٰ کا وقار و تقدس بحال کرنا ہے ۔
شیری بیباس اور اس کے بچوں کی باقیات کو حوالے کرتے وقت اسٹیج کے بینر پر نیتن یاہو کو ڈراکیولا بنا کر دکھایا گیا ، اس کے ساتھ لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کی بمباری کا شکار ہوئے ہیں ۔ اسرائیل کو رہائی کے وقت اسٹیج پر لکھے جانے والے ان نعروں سے پریشانی ہے ۔ آخری بار یہ لکھا گیا کہ ‘ دوہری شہریت رکھنے والے غیر ملکیوں سے ممتاز اپنے لوگوں کی سرزمین’۔ سچ تو یہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی کو بیانیہ سازی کے لیے حماس نے جس طرح استعمال کیا اس سے اسرائیل اور مغرب کو بہت پیچھے چھوٹ گئے ۔ ایک طرف صدر ٹرمپ جبری ہجرت کی تجویز کے ذریعہ اپنی مٹی پلید کروا رہے ہیں۔ اسرائیل اس کی حمایت کرکے اپنی کمزوری تسلیم کررہا ہے اور دوسری جانب حماس اپنی ہمت و شجاعت اور ذہانت و ذکاوت کا لوہا منوا رہا ہے ۔ یہ عزت و توقیر قرآن مجید کی اس آیت کی تائید کرتی ہے :” کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے ، حکومت دے اور جسے چاہے ، چھین لے جسے چاہے ، عزت بخشے اور جس کو چاہے ، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ”۔