وجود

... loading ...

وجود

طوفان الاقصیٰ اور بیانیہ سازی کے اسرارو رموز

منگل 04 مارچ 2025 طوفان الاقصیٰ اور بیانیہ سازی کے اسرارو رموز

ڈاکٹر سلیم خان

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ حماس کی سرخروئی اور اسرائیل کی دھوکہ دھڑی پر اختتام پذیر ہوا ۔ اس مرحلے کے چھٹی قسط میں حماس نے تو عہد کی پابندی کرتے ہوئے ٦ یرغمال رہا کیے مگر اسرائیل 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے وعدے سے مکر گیا ۔ اسرائیل کی جانب سے وعدہ خلافی کا جواز نہایت مضحکہ خیز ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی اسیران کی حوالگی کے موقع پر ‘ذلت آمیز’تقریبات اور پروپگنڈے اور اگلی رہائی کی یقین دہانی تک فلسطینی قیدیوں کو نہیں رہا کیا جائے گا۔ اس سے اسرائیل کے نزدیک عزت و ذلت کے معیار پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ ایک خوش و خرم یر غمال کافی کا پیالہ ہاتھ میں لیے گاڑی میں بیٹھ کر آئے اور رہائی سے قبل حماس کے دو مجاہدین کے سر پر بوسہ لے تو یہ ذلت کیسے ہوگئی؟اسرائیل کو تو حماس کے حسن سلوک کی شہادت دینے والی ویڈیو پر اعتراض ہے کیونکہ وہ خود اس کی جیل سے رہا ہونے والوں کی ایسی ویڈیو جاری کرنے سے قاصر ہے ۔ بے قصور فلسطینیوں کے ساتھ بدترین بدسلوکی مانع ہے ۔
حماس کے حسنِ اخلاق کو جھوٹی تشہیر قرار دے کر مخالفت کرنا اسرائیل کی مجبوری ہے کیونکہ اس محاذ پر وہ چاروں خانے چت ہے ۔ یہ سچائی اسرائیل کے منہ پر کالک پوت کر مجاہدین کو سر بلند کرتی ہے ۔ وہ دنیا کے سامنے اپنا کریہہ چہرا چھپا رہا ہے اس کے برعکس حماس اپنے رہا ہونے والے قیدیوں کو سرٹیفکیٹ اور تحائف دے کر ساری دنیا کا دل جیت رہا ہے ۔ اسے بیانیہ سازی یا narrative building کہتے ہیں اور اس جنگ میں حماس نے مغرب سمیت اسرائیل کو شکست فاش سے دوچار کردیا ہے ۔ اسرائیل کے مطابق حماس کی ان تقاریب سے یرغمالیوں کا وقار مجروح ہوتا ہے ۔ پروپیگنڈے کے لیے یرغمالیوں کا استعمال معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ خود اسرائیل اس طرح کی کم ازکم ایک ویڈیو بناکر اس کا توڑ کیوں نہیں کردیتا؟ سچ تو یہ ہے کہ رہا ئی پانے والے قیدیوں کی عزت و توقیر نے اسرائیلی حکومت کے لیے ذلت و رسوائی کا سامان کردیا۔
حماس نے بجاطور پرصیہونی حکومت کے اس فیصلے کو ‘جبر’ اور ‘دہشت گردی’ سے تعبیر کرکے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے جنگ بندی معاہدے کو برباد کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ عصرِ حاضر میں جنگی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے علاوہ بیانیہ سازی (narrative building) کی بھی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس کھیل میں ناکام ہونے والے ہیرو کو ولن بنا دیا جاتا ہے اور کامیاب ہونے والا ولن بھی ہیرو کہلاتا ہے ۔اس میدان میں بھی ‘حماس’ کی کارکردگی غیر معمولی ہے ۔ بیانیہ سازی کو کچھ لوگ اچھے آئیڈیاز اور الفاظ اور تنوع پسند پیشکش کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کے پیچھے اگر اخلاص وعمل کی گواہی نہ ہو تو بات نہیں بنتی مثلاً اگر حماس نے اپنی دینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے یرغمالوں کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا ہوتا تو یہ سب نہیں کرپاتا۔
جنگ میں قیدی اور ان کی رہائی عام سی بات ہے ۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے تین سال کی تکمیل پر تمام جنگی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پیش کی ہے ۔ اکتوبر 2024 میں، روس اور یوکرین نے 58 ویں بار متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے 103 جنگی قیدیوں کو رہا کیا تھالیکن کیا کسی نے اس کی ویڈیو دیکھی؟ کیونکہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی آڑے آگئی تھی۔ پچھلے سال اقوام متحدہ نے روسی فورسز پر 24 الگ الگ واقعات میں 79 یوکرینی فوجی قیدیوں کو پھانسی دینے کا انکشاف کیا تھا۔ روسی فیڈریشن میں عوامی شخصیات نے کھلے عام یوکرین کے فوجی اہلکاروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے اور انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کرکے سرکار کو غیر قانونی رویے کی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ یوکرین کے ایک فوجی اور سابق جنگی قیدی نے یو این کمیشن کو بتایا تھا کہ دوران قید اس نے زندہ رہنے کی خواہش اور امید گنوا دی تھی۔ روسی فوج کی حراست میں تشدد کے نتیجے میں اس کی ہڈیاں اور دانت تک ٹوٹ گئے اور ایک زخمی پاؤں پر گینگرین بن گیا۔
ماسکو کے جنوبی قصبے دونسکوئے کی جیل میں ایک قیدی نے خودکشی کی کوشش کی تو اہلکاروں نے اس پر مزید تشدد کیا۔ جیل میں اسے قید تنہائی میں رکھ کر کولہوں پر ضربیں لگائی گئیں ۔ تشدد سے اس کے نازک اعضا سے خون جاری ہو گیا، دانت ٹوٹ گئے اور پاؤں لہولہان ہو گئے ۔ وہ جیل کے اہلکاروں سے کہتا تھا کہ اس اذیت سے بہتر ہے کہ وہ اسے ہلاک کر دیں۔ ایسی بدسلوکی کرنے والے کس کیمرے سے ویڈیو بنائیں گے ۔ ویڈیو تو وہ لوگ بناتے ہیں جن سے رہائی پانے والے فوجی کی حماس کے جنگجو کو سلام کرتاہے یا جاتے ہوئے الوداعی بوسہ دے کر رخصت ہوتے ہیں ۔ “القسام بریگیڈز نے قیدیوں کے ساتھ اسلام کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حسنِ سلوک کیا اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ گرفتاری سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ۔ گرفتاری کے بعد قیدیوں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ۔
قیدیوں کی رہائی معاملہ محض حسن سلوک تک محدود نہیں بلکہ اسے بیانیہ سازی کے لیے بڑی خوبی سے استعمال کیا گیا۔ ابھی حال میں تین اسرائیلی قیدیوں کو رہائی ہوئی ان میں سے دو امریکی اور ایک روسی شہری تھا جن کو بزور قوت چھڑانے میں روس و امریکہ سمیت اسرائیل ناکام ہوگئے تھے ۔ ان میں سے ساگی ڈیکل ہان، یائر ہوران کوغزہ کی القسام بریگیڈز نے حوالے کیا جبکہ مغربی کنارے کی القدس بریگیڈز نے ساشا الیگزینڈر تروبنوف کو رہا کیا۔ اس طرح حماس کی پورے فلسطین میں موجودگی اور باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ بھی ہوا۔ ان تین یرغمال کے عوض حماس نے 369 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کروائی ۔ان میں سے عمر قیدکی سزا کاٹنے والے 36 قیدی تھے لیکن خاص بات یہ ہے کہ 29 کا تعلق بیت المقدس اور اس کے مضافات سے یعنی مغربی کنارے سے تھااس طرح یہ پیغام دیا گیا کہ حماس صرف غزہ کی نہیں بلکہ پورے فلسطین اور قدس کی جنگ لڑ رہی ہے ۔
باقیماندہ 333 قیدیوں کو 7 اکتوبر کے بعد غزہ سے دورانِ جنگ قید کیا گیا تھا ۔ یہاں یہ پیغام دیا گیا اگر تم نے پچیس گنا زیادہ لوگوں کو شہید کیا تو ہم نے سو گنا زیادہ لوگوں کو چھڑایا ہے ۔ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ “قابض اسرائیل کے پاس جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کے علاوہ اپنے باقی قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے ”۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ :بن یامین نیتن یاہو کی معاہدے کے تقاضوں سے بچنے کی سعی یا تاخیر اس کے ذریعہ اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش ہے ‘۔ اس طرح بیانیہ سازی کے میدان میں مختلف جہتوں سے دشمن کی گھیرا بندی کی گئی۔ شہید یحییٰ السنوار کے گھر سے قریب خان یونس میں ان قیدیوں کی حوالگی کے لیے انتخاب اپنے شہیدوں کو خراجِ عقیدت کو عملی خراجِ عقیدت تھا۔اس طرح پیغام دیا گیا گوکہ جنت کے باغوں میں رہنے والے شہیدانِ اسلام اپنے مداحوں کے دل میں بستے ہیں۔ رہائی کے لیے تیار کردہ پلیٹ فار م پراس جنگ کے دوران شہید ہونے والے کمانڈرانچیف محمد الضیف اور رافع سلامہ کے علاوہ دیگر شہید رہ نماؤں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اسٹیج کے بائیں جانب “طوفان الاقصیٰ آپریشن کے سربراہ یحییٰ السنوار کی تصویر موجود تھی۔شہہ نشین کے وسط میں ایک بڑا بینر پرعربی ، انگریزی اور عبرانی میں لکھا تھا کہ “اے یروشلم ! گواہ رہنا ہم تمہارے سپاہی ہیں” ۔ عربی کے علاوہ انگریزی اور عبرانی زبان کا استعمال اسرائیلی اور امریکی و یوروپی عوام تک اپنا اصلی تعارف پہنچانے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ اس فقرے میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ موجودہ کشمکش محض ردعمل کی کوئی عام سی تحریک نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد فلسطین کو آزاد کرکے مسجدِ اقصیٰ کا وقار و تقدس بحال کرنا ہے ۔
شیری بیباس اور اس کے بچوں کی باقیات کو حوالے کرتے وقت اسٹیج کے بینر پر نیتن یاہو کو ڈراکیولا بنا کر دکھایا گیا ، اس کے ساتھ لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کی بمباری کا شکار ہوئے ہیں ۔ اسرائیل کو رہائی کے وقت اسٹیج پر لکھے جانے والے ان نعروں سے پریشانی ہے ۔ آخری بار یہ لکھا گیا کہ ‘ دوہری شہریت رکھنے والے غیر ملکیوں سے ممتاز اپنے لوگوں کی سرزمین’۔ سچ تو یہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی کو بیانیہ سازی کے لیے حماس نے جس طرح استعمال کیا اس سے اسرائیل اور مغرب کو بہت پیچھے چھوٹ گئے ۔ ایک طرف صدر ٹرمپ جبری ہجرت کی تجویز کے ذریعہ اپنی مٹی پلید کروا رہے ہیں۔ اسرائیل اس کی حمایت کرکے اپنی کمزوری تسلیم کررہا ہے اور دوسری جانب حماس اپنی ہمت و شجاعت اور ذہانت و ذکاوت کا لوہا منوا رہا ہے ۔ یہ عزت و توقیر قرآن مجید کی اس آیت کی تائید کرتی ہے :” کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے ، حکومت دے اور جسے چاہے ، چھین لے جسے چاہے ، عزت بخشے اور جس کو چاہے ، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ”۔


متعلقہ خبریں


مضامین
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر