وجود

... loading ...

وجود

ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم نہیں کیا، اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہو جاتا،عمران خان

جمعه 27 مئی 2022 ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم نہیں کیا، اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہو جاتا،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میں واضح کرتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم نہیں کیا، اگر اس شام اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوجاتا۔ ہم نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، کیوں کہ ہم لڑائی تو نہیں چاہتے، ہم جون میں الیکشن چاہتے ہیں، اگر جون میں الیکشن کے لیے تیار ہیں تو باقی چیزوں پر بات ہوسکتی ہے، آزادی مارچ ختم کرکے واپس جانے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، 126 دن کا دھرنا دے چکا ہوں، میرے لیے کیا مسئلہ تھا جب تک یہ حکومت گھٹنے نہ ٹیکتی میں بیٹھا رہتا، لیکن مجھے ملک اور قوم کی فکر تھی،6 دن میں اسمبلی تحلیل کرکے واضح طور پر الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو ہم بھرپور تیاری کے ساتھ نکلیں گے، پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس روز کنفیوژن تھی، میڈیا پر دباؤ تھا، انٹرنیٹ سلو کردیا تھا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ہوکیا رہا ہے، کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔ ہمیں رکاوٹوں کی وجہ سے پہنچنے میں دیر ہوئی جب میں اسلام آباد پہنچا تو علم ہوگیا تھا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں، شہباز شریف، رانا ثنا اور حمزہ یزید کو ماننے والے لوگ ہیں اور یہ یزید کو ماننے والے پولیس کو کہہ رہے تھے کہ ظلم کرو، جو تماشہ لگایا گیا ہمارے لوگ غصے میں تھے، پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں، سب لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے تھے، اس رات خون خرابہ ہونے لگا تھا، مگر یہ پولیس بھی ہماری ہے، آزادی مارچ ختم کرکے واپس جانے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے میں 126 دن کا دھرنا دے چکا ہوں میرے لیے کیا مسئلہ تھا جب تک یہ حکومت گھٹنے نہ ٹیکتی میں بیٹھا رہتا، لیکن مجھے ملک اور قوم کی فکر تھی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، میں نے فیصلہ کیا ہے اور میں اسے جہاد سمجھتا ہوں، اگر 6 دن میں اسمبلی تحلیل کرکے واضح طور پر الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو ہم بھرپور تیاری کے ساتھ نکلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 6 دن دیئے ہیں حقیقی آزادی کیلئے ساری قوم تیاری کرکے نکلے گی، تیاری کا مطلب یہ ہے کہ اس بار ہمارے لوگ گھروں سے نہیں پکڑے جائیں گے،6 دن ہیں ہمارے پاس بھی وقت ہے اور حکومت کے پاس بھی وقت ہے، اسٹیبلشمنٹ جو نیوٹرل کردار کررہی ہے اسکے پاس بھی وقت ہے، کوشش یہ ہے کہ چیزیں ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائیں، انہوں نے وہی حرکتیں کیں تو ملک جس طرف جائے گا پھر یہ ذمے دار ہونگے۔چیف جسٹس پاکستان کو بھی خط لکھا ہے کہ کیا جمہوریت میں پرامن احتجاج کا حق ہے یا نہیں صورتحال واضح کریں، مجھے سپریم کورٹ سے پوری امید ہے ان کا اہم کردار ہوگا، 6 دن میں الیکشن کا اعلان نہ کیا تو پھر 6 دن کے بعد لائحہ عمل دوں گا مگر واضح کرتا ہوں کسی صورت یہ سیٹ اپ قبول نہیں،اگر ہمیں پرامن احتجاج نہیں کرنے دیں گے تو کیا راستے رہ جائیں گے، 6دن میں پتہ چل جائیگا کہ سپریم کورٹ ہمارے پرامن احتجاج کا تحفظ کرتا ہے یا نہیں، قوم کو پتہ چلنا چاہیے کہ کون حق پر کھڑا ہے کون ظلم کررہا ہے اور کون ملک میں کرپٹ نظام بچانے کیلئے ہر سطح پر جانے کو تیار ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد ہمیں توقع تھی کہ اب رکاوٹیں ہٹ جائیں گی، ہمیں توقع تھی کہ اب راستے کھل جائیں گے ہم پولیس کی بربریت کیلیے تیار نہ تھے، آزادی مارچ میں ہمارا پرامن احتجاج تھا، ہمارے کارکن ملک کی حقیقی آزادی کے جذبے کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے، ہم سب سمجھ رہے تھے کہ پولیس ایکشن نہیں ہوگا کیونکہ پرامن احتجاج ہمار احق ہے، لیکن ملک پر مسلط ٹولے کیخلاف پر امن احتجاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ لاہور میں فیصل عباس کو راوی پل سے نیچے پھینکا گیا، خواتین، وکیل، بچوں، بچیوں سے جو سلوک کیا گیا ظلم ہے، ، لبرٹی چوک پر فیملیز پر تشدد کیا گیا، کراچی میں تشدد کیا گیا، اسلام آباد کی فیملیز بھی آگئیں ان پر بھی تشدد کیا، شیلنگ کی گئی، لوگ شیلنگ کے باوجود واپس آئے، وکلا برادری کو لاہور میں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وکیل بسوں میں تھے اس میں خواتین بھی تھیں انہیں مار رہے تھے کون سا انصاف کانظام اس چیزکی اجازت دیتاہے، کون سی پولیس اپنی قوم کی عورتوں کو اس طرح مارتی ہے،جس طرح پنجاب پولیس کواستعمال کیا گیا چن چن کر آفیسرزکو اوپر بٹھایا، کرپٹ افسران کو تعینات کیا گیا آج قوم غصے میں ہے کہ پرامن احتجاج کرنے نہیں دیا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، کیوں کہ ہم لڑائی تو نہیں چاہتے، لیکن سب سے بہتر طریقہ ہے مذاکرات سے اسمبلیاں تحلیل، نئے الیکشن تک پہنچ جائیں، ہم جون میں الیکشن چاہتے ہیں، اگر جون میں الیکشن کے لیے تیار ہیں تو باقی چیزوں پر بات ہوسکتی ہے اور اگر مذاکرات نہیں تو پھر دوسرا طریقہ عوامی احتجاج ہے جو ہم کرتے رہیں گے، اگر یہ نہیں مانتے تو ہم پرامن احتجاج کرتے رہیں گے، بیووکریسی اور اداروں نے جو عوام کیساتھ کیا، یزید کے ماننے والوں نے جو کل کیا ان سے عوام حساب اور جواب لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنا نہیں چاہتیں وہ یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان کمزور رہے، انھوں نے پیٹرول کی قیمت آئی ایم ایف کے دباو پر بڑھائی، اس سے ملک میں بدحالی آئیگی اس کااثرلوگوں پر پڑے گا، ہم پر بھی آئی ایم ایف کا پریشر تھا قیمتیں بڑھا ہم نہیں بڑھا رہے تھے، ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اب ہم مزید عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا میری باقی زندگی قوم کی حقیقی آزادی کیلئے گزرے گی، حکمران ملک کو خود بغاوت کی طرف لے جارہے ہیں، جس طرح مہنگائی ہورہی ہے یہ حکومت عوام کو بغاوت کی طرف لے جائیگی، اس سے ملک میں بدحالی آئے گی، آج سب کو نظر آرہا ہے کہ یہ ہے وہ غلامی کی قیمت جو ہم ادا کررہے ہیں، آئی ایم ایف کو تو امریکا ہی کنٹرول کرتا ہے، پاکستان پر دباو کون ڈال رہا ہے؟ کس نے پاکستان کو لائف سپورٹ مشین پر رکھا ہوا ہے؟انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمعیل کے بیانات سن لیں جب ہماری حکومت عالمی دباو میں آکر قیمتیں بڑھا رہے تھے اس کے باوجود عوام کو بچانے کے لیے پاکستان میں ڈیزل و پیٹرول کی قیمت برصغیر میں سب سے کم رکھی تھی۔ جب قیمتیں بڑھتی گئیں تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس کو ہدف سے زیادہ جمع کیا، ہم نے وہاں سے اور دیگر جگہوں نے پیسہ نکال کر فیصلہ کیا کہ جون تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا اسے چیلنج کرینگے، ووٹ دینا اوورسیز پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے، ای وی ایم اور اوورسیز کے ووٹ پر بار بار اپوزیشن کو دعوت دی، میری پوری کوشش تھی کہ الیکشن ایسے کرائیں کہ ہارنے والا مان جائے، ہم جو اصلاحات لیکر آئے سب مانتے کہ الیکشن فیئر ہوئے ہیں، ای وی ایم مشین دھاندلی ختم کرتی ہے جیسے ہی الیکشن ہوں بٹن دبا رزلٹ آجاتا ہے اور ساری دھاندلی ختم ہوجاتی ہے لیکن ای وی ایم سے ان کو تکلیف ہے کیونکہ یہ فارم 15، 14 میں ردوبدل ، ٹھپیلگاتے ہیں، یہ ای وی ایم اس لئے ختم کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ملک تب بچے گاجب ریاست مدینہ کی بنیاد پر کھڑا ہو، ملک میں الیکشن کے اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فتح کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کیخلاف بیرون ملک سے واضح سازش ہوئی، الیکشن میں قوم جسے چاہے ووٹ کرے ہم نہیں چاہتے کہ فیصلہ ہم پر ڈال دیا جائے ہم کوشش کررہے ہیں کہ سارے طبقے مل کر اکٹھے چلیں۔


متعلقہ خبریں


بجلی 7 روپے 41 پیسے سستی، وزیراعظم کا معیشت کی بہتری کیلئے سرجری کا اعلان وجود - جمعه 04 اپریل 2025

  گھریلو صارفین کو 34روپے 37پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی ، صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید 7روپے 59پیسے کمی ،جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60پیسے ہوگئی 77 سال سے ملک کو غربت کی جانب دھکیلنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنیوا...

بجلی 7 روپے 41 پیسے سستی، وزیراعظم کا معیشت کی بہتری کیلئے سرجری کا اعلان

عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کیلئے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا،شیخ وقاص وجود - جمعه 04 اپریل 2025

  پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کی بانی سے ملاقات سے متعلق غلط خبریں چل رہی ہیں۔شی...

عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کیلئے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا،شیخ وقاص

اسلامی ملک میں عمران خان کو نماز عید نہیں پڑھنے دی گئی، عمر ایوب وجود - جمعه 04 اپریل 2025

اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں، انتظامیہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہ ہونے کا اقرار کر رہی ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے...

اسلامی ملک میں عمران خان کو نماز عید نہیں پڑھنے دی گئی، عمر ایوب

ملک کو بھٹو وژن کے مطابق خودمختار اور ترقی یافتہ بنائیں گے ،صدر مملکت وجود - جمعه 04 اپریل 2025

پاکستان کی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے صدر مملکت کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر تعزیتی پیغام، شاندار الفاظ میں خراج تحسین صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے اور پاکستان کو اُن کے وژن کے م...

ملک کو بھٹو وژن کے مطابق خودمختار اور ترقی یافتہ بنائیں گے ،صدر مملکت

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری وجود - جمعه 04 اپریل 2025

  سردار اختر مینگل کی جانب سے احتجاج کے دوران 3 مطالبات رکھے گئے ہیں دھرنے میں بی این پی قیادت، سیاسی و قبائلی رہنما، لاپتا افراد کے لواحقین شریک بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل) کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی حالیہ گرفتاریوں کے...

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

سپرنٹنڈنٹ جیل تین ججز کے عدالتی فیصلے کو نہیں مان رہے ، شبلی فراز وجود - جمعه 04 اپریل 2025

  پارٹی رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا ٹاسک دینے کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار عدالتیں زیرو ہو گئیں، عدلیہ ، ججز اپنی عزت کی حفاظت خود کریں گے ، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شبلی فراز نے بانی پی ٹی آئی...

سپرنٹنڈنٹ جیل تین ججز کے عدالتی فیصلے کو نہیں مان رہے ، شبلی فراز

بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی ...

بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا

بلوچستان میںاحتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ ب...

بلوچستان میںاحتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ

خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیب...

خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف

ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئ...

ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے

وزیر اعظم سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

وزیر اعظم آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت اور قوم سے خطاب کریں گے شہباز شریف خطاب میں قوم کو سرپرائز ، بڑی خوشخبری سنائی جائے گی، وزارت اطلاعات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف ...

وزیر اعظم سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع

صدر زرداری کورونا میں مبتلا، ڈاکٹروں کا آئسولیشن کا مشورہ وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  صدر کا بخار اور انفیکشن کم ہوگیا، ڈاکٹرز ان کی طبیعت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں طبیعت بہتر ہوتے ہی صدرمملکت باقاعدہ اپنا دفتر سنبھالیں گے ، ذرائع پیپلز پارٹی صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تاہم وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں...

صدر زرداری کورونا میں مبتلا، ڈاکٹروں کا آئسولیشن کا مشورہ

مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر