... loading ...
پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے پہلے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27فروری کو مزار قائد سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کے لئے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی، ملک کے مسائل کے حل کے لئے صاف اور شفاف انتخابات نا گزیر ہیں، ملکی مسائل کا حل صرف پیپلزپارٹی کے پاس ہے، ہم نے ماضی میں بھی ملک کو بحران سے نکالا اور آئندہ بھی نکالیں گے،اگر کسی ادارے کا ایسا بیان آیا ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں تو اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں ادارے ہماری جدوجہد میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں،ہم کسی گرین سگنل کے انتظار میں نہیں نہ ہم کسی کی طرف دیکھ رہے ہیں،پنجاب کے عوام بھی اب پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان پیپلزپارٹی ایسے ہی چاروں صوبوں کی زنجیر بنے گی۔ بلاول ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امید ہے ہماری پرامن جدوجہد میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، ہم چاہتے ہیں کہ سارے ادارے غیرجانبدار رہیں،بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہم نے 27 دسمبر کو اعلان کیا تھا شہیدذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش پر 5 جنوری کو ہم لاہور میں سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ رکھیں گے،جس شہر سے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی ، اسی لاہور شہر سے ہم اس سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس وقت ملک جس صورتحال سے گزر رہا ہے ہم منی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ، اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی میں پھنسا ہوا ہے ، جس دن منی بجٹ کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا اس دن ہڑتال ہو گی ، ملک میں زراعت بحران کا شکار ہے، اس حکومت نے کسان کو جس مشکل میں ڈالا ہے ، اس کی ہم مذمت کرتے ہیں،جو گیس کا بحران پیدا ہوا ہے ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ اس حکومت نے تاریخی غربت اور بیروزگاری دی ہے ، امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دہشتگردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتی ہے اور کسی بھی خفیہ ڈیل کی مذمت کرتی ہے اور ایسی کسی بھی ڈیل کو منظور نہیں کرتی جو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کی جائے گی، ہم دہشتگردوں کے سامنے حکومت کے گھٹنے ٹیکنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی صورتحال پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کی صوبائی اور قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے جو ہمارے سابق قبائلی علاقے ہیں جن کی جدوجہد کی ذمہ داری شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے لی تھی انہوں نے سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے تھے کہ قبائلی علاقوںکو خیبر پختوانخواہ میں انضمام ہونا چاہیے ، ابھی تک وہ انضمام اپنے اصول کے مطابق نہیں ہوا ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ جو وعدے فاٹا کے عوام کے ساتھ کیے گئے وہ پورے نہیں ہورہے ہیں،ہمیں پتا چلا ہے کہ فاٹا کے انضمام کو واپس کیا جارہا ہے ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا کے قبائل کامکمل طور خیبر پختوانخواہ میں انضمام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی مزید تحقیقات کی جائیں ،تحریک انصاف نے 7 سال تک غیر ملکی فنڈنگ کو چھپایا اور اس پیسے کو جمہوری جماعتوں کے خلاف سازشوں میں استعمال کیا جو قابل مذمت ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان اس معاملے پر پی ٹی آئی کے خلاف سخت ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری معاشی خود مختاری کا سودا کیا جا رہا ہے، اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب پارلیمانی یا پاکستان کے کسی اور ادارے کی بجائے آئی ایم ایف کو جواب دے گا،حکومت عالمی اداروںکے سامنے جھک گئی ہے ، یہ ہماری خود مختاری کا سودا ہے او رہم اس کوچیلنج کریں گے اس کے لئے ہماری قانونی ٹیم کام کر رہی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت نے جو آرڈیننسز پاس کرائے گئے ہیں وہ زائد المیعاد تھے اور انہیںغیر قانونی طریقے سے سٹیمپ کرنے کی کوشش کی گئی اسے بھی ہم چیلنج کریں گے ، قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا جن آرڈیننسز کی مدت ختم ہوانہیںایوان سے منظور کرایا جائے ، سپیکراس غیر قانونی کام میں ملوث ہیں ہم اس کو بھی چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مہنگائی کے خلاف جدوجہد کرتے آئے ہیں اب ہمار ااحتجاج نئے فیز میں داخل ہونے جارہا ہے ، منی بجٹ عوام کے عوام کے معاشی حقوق پر ،یہ عوام کی جیب اور پیٹ پر ڈاکہ ہے ،حکومت اسے زبردستی پاس کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ، پیپلز پارٹی اس کی پارلیمنٹ کے اندر بھرپور مخالفت کرے ، ہمارے سارے اراکین اس دن پارلیمان میں ہوں گے، ہم اس روز پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کسی او رکی طرف نہیں بلکہ عوام کی طرف دیکھتی ہے اور ہم عوام کی طاقت سے میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر کھاد کا بحران پیدا کیا ، ہم کسانوں کے ساتھ مل کر ڈویژنل سطح پر ریلیاں نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم کراچی سے 27 فروری کو لانگ مارچ کا آغاز کریں گے اور ہمارا قافلہ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا اور وہاں پہنچ کر اپنے مطالبات سامنے رکھے گا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنے لانگ مارچ کے سلسلے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا، انہیں حق حاصل ہے کہ وہ اپنا احتجاج کریں ،ہم نے اپنا احتجاج آج سے ہی شروع کردیا ہے، اس حکومت کے خلاف جتنے لوگ نکلیں گے اتنا ہی اچھا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا ہم پر دبائو ہے وہ ایک دن تک انتظار نہیں کرنا چاہتے ، ان کا کہنا ہے ہم مہنگائی سے مر رہے ہیں، پیپلز پارٹی اگلے مرحلے کی مزاحمت اور احتجاج آج سے ہی شروع کر رہی ہے اور ہم پاکستان کے عوام کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ ہم نے صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہیں، آپ کو معاشی اور جمہوری حقوق دلوانے ہیں، ملک کو پھر آزاد کرانا ہے ، ہم نے پہلے بھی ملک کو مشکل سے نکالا ہے اور اب بھی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ استعفے دینا دیگر جماعتوں کی مرضی ہے ، پیپلز پارٹی کا جمہوری اور آئینی حق ہے ہم ہر وہ ہتھیار استعمال کریں جو اپوزیشن کا حق ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں،اگر ایسا بیان آیا ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں تو اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں ادارے ہماری جدوجہد میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں،پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف اب پنجاب کی عوام دیکھ رہے ہیں،پاکستان پیپلزپارٹی ایسے ہی چاروں صوبوں کی زنجیر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی کتنی بار کوشش کی کہ ہم ساتھ چلیںجو سینٹ الیکشن کا حصہ نہیں لینا چاہتے تھے وہاں ہم نے حصہ لیا،ہم کسی گرین سگنل کے انتظار میں نہیں ہیں ،ادارے قانون کے تابع ہوتے ہیں،ہم عوام کو عمران خان کے عذاب سے نجات دلوانا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات ہونی چاہیے ،ابراج گروپ کی کرپشن کا پیسہ تحریک انصاف کو چلا رہا ہے،عمران خان نے ملک کو کنگال کر دیا ، خود امیر ہو گیا ہے جبکہ پاکستان اور اس کے عوام غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں،تحریک انصاف کا پراپیگنڈا اتنا مضبوط ہے کہ وہ ہر چیز کو چھپاتا ہے ،عمران خان حساب دیں کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد امیر کیسے ہوئے۔قبل ازیں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے بلدیاتی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جو روزگار دیتی ہے ، ماضی میں یہ نعرہ لگتا رہا ہے کہ بینظیر آئے گی تو روزگار لائے گی، پیپلزپارٹی کے ہر دور میں اپنے ریکارڈ توڑ کر تاریخی روزگار دلوایا تھا ، اس حکومت نے وعدہ کیا تھاکہ ایک کرور نوکریاں دے گی الٹا جن کے پاس روزگار موجود تھا چھینا ہے ، اب پاکستان کے عوام زیادہ دیر انتظار نہیں بلکہ اس عذاب سے نجات چاہتے ہیں۔ آپ لوگ ہمارے تگڑے بازو ہوں گے کیونکہ آپ گراس روٹ کے نمائندے ہیں ،پیپلز پارٹی بھی گراس روٹ کی جماعت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اختیار دئیے ہیں ،جب آصف زرداری صدر تھے توملک کی تاریخ کے سب سے طاقتور سویلین صد ر تھے، جب ہماری حکومت ختم ہو گئی تو صدر زرداری نے اپنے سارے اختیارات پارلیمان کو دے کر ملک کی تاریخ میں کمزور ترین سویلین صدر ہو کر مدت پوری کی ۔پیپلز پارٹی کے دور میں صوبوں کو حقوق ملے ، ہم نے لوکل باڈی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے ۔ جس طرح پنجاب میں لوکل باڈیز کا نظام آرڈیننس پر چل رہا ہے اسی طرح اسلام آباد کا نظام ہے وہ بھی زبردستی آرڈیننس کے ذریعے مسلط کیا جارہاہے ۔ خبر پختوانخواہ میں قانون الگ ہے اورانتخاب الگ طریقے سے ہو رہا ہے۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نیا لوکل باڈیز کا نظام دیا ہے جس سے بلدیاتی نمائندوں کو نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ معاشی طو رپر مضبوط کیا گیا ہے ، ویسے ہی پنجاب میں لوکل باڈیز کا قانون لے کر آنا چاہیے ،سندھ میں انہیںاپنا ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ،پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے تاکہ وہ خو دمعاشی طو رپر وسائل اکٹھے کر رہے ہوں۔ مراد علی شاہ نے چیئرمین، میئر کو با اختیار کیا ، لوکل کونسل کو با اختیار کیا ، پولیس ، ہسپتال تحریری طو رپر لوکل کونسل کو رپورٹ دیں گے ، لوکل کونسل ان کا حل نکال سکتی ہے ۔ صوبائی حکومت سے بھی درخواست کر سکتی ہے ۔ پنجاب میں ویسٹ کا نظام صوبائی حکومت کے پاس ہے ۔جبکہ سندھ میں ہم نے اختیارات کومنتقل کیا ہے یا شیئر کیا ہے ۔ واٹر بورڈ کے چیئرمین ِکے ساتھ میئر کو شریک چیئرمین بنا دیا ہے ، ویسٹ مینجمنٹ کو لوکل باڈیز کے نیچے لائے ہیں۔ ہم یہ سفر ملک میں لے کر جائیں ہم جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔
گھریلو صارفین کو 34روپے 37پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی ، صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید 7روپے 59پیسے کمی ،جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60پیسے ہوگئی 77 سال سے ملک کو غربت کی جانب دھکیلنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنیوا...
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کی بانی سے ملاقات سے متعلق غلط خبریں چل رہی ہیں۔شی...
اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں، انتظامیہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہ ہونے کا اقرار کر رہی ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے...
پاکستان کی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے صدر مملکت کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر تعزیتی پیغام، شاندار الفاظ میں خراج تحسین صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے اور پاکستان کو اُن کے وژن کے م...
سردار اختر مینگل کی جانب سے احتجاج کے دوران 3 مطالبات رکھے گئے ہیں دھرنے میں بی این پی قیادت، سیاسی و قبائلی رہنما، لاپتا افراد کے لواحقین شریک بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل) کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی حالیہ گرفتاریوں کے...
پارٹی رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا ٹاسک دینے کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار عدالتیں زیرو ہو گئیں، عدلیہ ، ججز اپنی عزت کی حفاظت خود کریں گے ، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شبلی فراز نے بانی پی ٹی آئی...
ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی ...
رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ ب...
جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیب...
غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئ...
وزیر اعظم آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت اور قوم سے خطاب کریں گے شہباز شریف خطاب میں قوم کو سرپرائز ، بڑی خوشخبری سنائی جائے گی، وزارت اطلاعات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف ...
صدر کا بخار اور انفیکشن کم ہوگیا، ڈاکٹرز ان کی طبیعت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں طبیعت بہتر ہوتے ہی صدرمملکت باقاعدہ اپنا دفتر سنبھالیں گے ، ذرائع پیپلز پارٹی صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تاہم وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں...