وجود

... loading ...

وجود

2017 کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کے لیے مایوس کن سال رہا

بدھ 03 جنوری 2018 2017 کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کے لیے مایوس کن سال رہا

سال 2017 ء میں سوائے کرکٹ کے کسی بھی کھیل سے پاکستان کو اچھی خبر سننے کو نہیں ملی اور تمام ہی کھیل مزید زوال کا شکا نظر آئے۔ 2017ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کارکردگی ٹیسٹ میچز میں زیادہ بہتر نہ رہی تاہم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز میں ٹیم نے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔سرفراز احمد کی زیر قیادت پاکستان نے ون ڈے کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے چیمپیئنز ٹرافی میں سب کو حیران کردیا اور روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتی اور اس جیت کے ساتھ ہی مصباح الحق اور یونس خان کے بین الاقوامی کریئر اپنے اختتام کو پہنچے۔مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے کپتان ہیں جبکہ یونس خان کو ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے بنانے کا اعزاز حاصل ہے، ان دونوں کے علاوہ شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے بھی باضابطہ طور پر بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا۔پاکستان کو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز ہارا۔
تاہم ملکی کرکٹ کے لیے سب سے بڑی کامیابی انٹرنیشنل کرکٹ کی ملک میں دوبارہ واپسی تھی جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال پی ایس ایل فائنل کا انعقاد کر کے ممکن بنایا۔اس کے بعد انٹرنیشنل الیون کے میچوں کی میزبانی بھی کی اور نتیجے میں سری لنکا نے بھی ایک ٹی20 میچ کے لیے پاکستان کا دورہ کر کے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔تاہم اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کے جن نے اب تک پاکستان کا پیچھا نہ چھوڑا جہاں پاکستان سپر لیگ کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا جس میں ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹیم نے رواں سال مجموعی طور پر چھ ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں دو میں فتح حاصل کی اور چار میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ون ڈے میں کارکردگی گزشتہ سال کی نسبت کافی بہتر رہی اور 18ون ڈے میچوں میں گرین شرٹس نے 12 کامیابیاں سمیٹیں حاصل کی اور چھ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ٹی ٹونٹی میچز میں پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی۔ٹیم نے مجموعی طور پر مختلف ٹیموں کے خلاف 10میچز کھیلے جس میں 8میں فتح حاصل کی اور دو میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس عمدہ کارکردگی کی بدولت ٹیم عالمی نمبر ایک کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
جہاں ایک طرف مینز ٹیم نے ون ڈے اور ٹی20 میں کئی کامیابیاں حاصل کر کے سال کو یادگار بنایا وہیں ویمنز ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی ویمن چیمپئن شپ میں پاکستان ویمنز ٹیم ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ویمنز ورلڈ کپ میں بری پرفارمنس کی وجہ سے کپتان ثنا میر، ٹیم منیجر عائشہ اشعر، جی ایم ویمن ونگ شمسہ ہاشمی، کوچز اور سلیکشن کمیٹی کے عہدیدران کو ان کے عہدے سے ہٹا یا گیا۔ورلڈ کپ میں پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کا سفر انتہائی مایوس کن رہا اور پورے ایونٹ میں ایک بھی فتح اس کے ہاتھ نہیں آئی البتہ کچھ کھلاڑیوں کو انفرادی طور پر اچھا کھیل پیش کرنے کا صلہ رینکنگ میں مل گیا۔پاکستان ویمن ٹیم نے سال 2017 میں مختلف ٹیموں کے خلاف مجموعی طور پر 15ون ڈے میچز کھیلے جس میں تین جیتے اور بارہ میں شکست کھائی جبکہ اس سال ویمنز ٹیم کو اپنے چاروں ٹی20 میچوں میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ہاکی کے میدان میں 2017 میں بھی قومی ٹیم کی ناکامیوں کا سلسلہ نہ تھم سکا اور پاکستان کو آسٹریلیا اور روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں بدترین شکستوں کا منہ دیکھنا پڑا۔پاکستان نے سال 2017 میں 42 میچز کھیلے جن میں سے 24 میچز میں اسے شکست ہوئی، 12میں کامیابی ملی جبکہ 6 میچز ڈرا ہوئے۔قومی ٹیم نے رواں برس 5 ٹورنامنٹس اور چیمپئن شپس میں شرکت کی جن میں ایشینز چیمپیئنز ٹرافی میں دوسری، ایشیا کپ میں تیسری، اذلان شاہ میں پانچویں، ورلڈ لیگ میں ساتویں جبکہ آسٹریلیا میں چار ملکی ایونٹ میں سب سے آخری پوزیشن ہاتھ آئی۔دوطرفہ سیریز میں صورتحال اور بھی مایوس کن رہی اور پاکستان کو تینوں سیری میں شکستوں کا منہ دیکھنا پڑا۔آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے 6 میچز کھیلے جن میں آسٹریلیا نے 29 گول کیے جبکہ پاکستان ٹیم صرف 6 گول کرسکی، روایتی حریف بھارت کے خلاف بھی 6 میچز کھیلے جن میں بھارت نے 28گول کیے جبکہ پاکستان ٹیم صرف 6گول ہی کرسکی۔ان تمام تر شکستوں کے باجود پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اس کی بڑی وجہ ورلڈ کپ میں 12 سے 16 ٹیمیں شامل کرنا بنی اور پاکستان نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ دوسری ٹیموں کی جانب سے جگہ خالی کیے جانے کے نتیجے میں ایونٹ کے لیے کوالیفائی کیا۔بھارت اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ گرین شرٹس جاپان و آئرلینڈ جیسی کمزور ٹیموں کے خلاف بھی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔پاکستان نے ٹیم کی تقدیر بدلنے کے لیے حنیف خان اور خواجہ جنید کو ان کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے فرحت خان کو ہیڈ کوچ بنایا گیا لیکن دو غیر ملکی دوروں کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد انھوں نے بھی استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔رواں برس پاکستان ہاکی فیڈریشن کا سب سے اچھا اقدام کھلاڑیوں کو ان کے واجبات کی ادائیگی تھی، گزشتہ فیڈریشنز نے ڈیلی الاؤنس کی رقم کھلاڑیوں کو نہیں دی تھی لیکن موجودہ فیڈریشن نے وہ تمام واجبات ادا کر دیے البتہ سال کے آخر میں کچھ کھلاڑی ایشیا کپ اور دورہ آسٹریلیا کے ڈیلی الاؤنس نہ ملنے کا شکوہ کرتے نظر آئے۔2018 میں پاکستان ہاکی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز، ایشین گیمز اور ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس میں شرکت کرنی ہے اور تاہم ٹیم کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کسی معجزے کی توقع نہیں۔
ہاکی کی طرح اسکوائش میں بھی ناکامیوں کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔ ایک دور تھا کہ اسکوائش میں پاکستان کا طوطی بولتا تھا لیکن اب اس کھیل میں پاکستان کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ اس سال ورلڈ ٹیم سکواش چیمپئن شپ میں پاکستان نے 24 ٹیموں میں 19ویں پوزیشن حاصل کی۔ان تمام تر ناکامیوں کے باوجود سب سے بری خبر فٹبال کے میدان سے سامنے آئی اور فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل کر دی۔ان تینوں کھیلوں کے برعکس اسنوکر میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس سال ایک بار پھر متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور محمد آصف اور بابر محمد سجاد نے کرغزستان میں ایشیئن 6 ریڈ بال چیمپئن شپ جیتی جبکہ نسیم اختر 18 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی عالمی چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔اسنوکر کے ہی حمزہ اکبر نے ایشین ٹائٹل جیتنے کے بعد پروفیشنل سرکٹ میں قسمت آزمائی بڑی امیدوں کے ساتھ شروع کی تھی لیکن مالی مشکلات کے سبب وہ ابھی تک اپنی منزل سے دور دکھائی دیتے ہیں۔باکسنگ رنگ سے محمد وسیم کی جیت کی خبریں آتی رہیں لیکن وہ اپنوں کی جانب سے کیے گئے پرکشش وعدے پورے نہ کیے جانے پر خاصے برہم دکھائی دیے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ باکسنگ حکام کی بے رخی کے سبب ملک کا یہ نوجوان جلد ہی ہمت ہار کر کسی اور ملک کی شہریت لینے پر مجبور ہو جائے گا۔یہی حال پہلوان انعام بٹ کا بھی ہے جنہوں نے اس سال ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں ایرانی پہلوان کو زیر کرکے طلائی تمغہ جیتا اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں لیکن وہ بھی سرکاری سرپرستی اور ٹریننگ کی ضروری سہولیات میشر نہ ہونے کے شاکی ہیں۔اب ہم ایک اور نئے سال میں داخل ہونے کو ہیں جہاں کھیلوں کے کرتا دھرتاؤں سیاسی محاذ آرائی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ شاید گزشتہ کئی سالوں کی طرح شاید 2018 بھی سال کے اعداد کی تبدیلی کے سوا اور کوئی تبدیلی نہ لا سکے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان تین مطالبات پر قائم، مذکرات کا پہلا دور بے نتیجہ وجود - منگل 26 نومبر 2024

تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے مرکزی قافلے نے اسلام آباد کی دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ تمام سرکاری اندازوں کے برخلاف تحریک انصاف کے بڑے قافلے نے حکومتی انتظامات کو ناکافی ثابت کردیا ہے اور انتہائی بے رحمانہ شیلنگ اور پکڑ دھکڑ کے واقعات کے باوجود تحریک انصاف کے کارکنان ...

عمران خان تین مطالبات پر قائم، مذکرات کا پہلا دور بے نتیجہ

اسلام آباد لانگ مارچ،تحریک انصاف کا مرکزی قافلہ اسلام آباد میں داخل، شدید شیلنگ وجود - منگل 26 نومبر 2024

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر پاکستان تحریک انصاف کے قافلے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ دھرنے کے مقام کے حوالے سے حکومتی کمیٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان چونگی 26 پر چاروں طرف سے بڑی تعداد میں ن...

اسلام آباد لانگ مارچ،تحریک انصاف کا مرکزی قافلہ اسلام آباد میں داخل، شدید شیلنگ

پاکستان میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروس دوسرے دن بھی متاثر وجود - منگل 26 نومبر 2024

پاکستان بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروس دوسرے دن پیرکوبھی متاثر رہی، جس سے واٹس ایپ صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں موبائل ڈیٹا سروس متاثر ہے ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس معطل جبکہ پشاور دیگر شہروں میں موبائل انٹر...

پاکستان میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروس دوسرے دن بھی متاثر

اٹھارویں آئینی ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے ،وزیر خزانہ وجود - منگل 26 نومبر 2024

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم، سپریم کورٹ کے فیصلوں اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے پس منظر میں اے جی پی ایکٹ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے وزیر خزانہ نے اے جی پی کی آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے صوبائی سطح پر ڈی جی رسید آڈٹ کے دف...

اٹھارویں آئینی ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے ،وزیر خزانہ

حکومتی کوششیں ناکام، پی ٹی آئی کے قافلے پنجاب میں داخل، اٹک میں جھڑپیں وجود - پیر 25 نومبر 2024

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی قیادت میں قافلے پنجاب کی حدود میں داخل ہوگئے جس کے بعد تحریک انصاف نے حکمت عملی تبدیل کرلی ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج میںپنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے قافلے...

حکومتی کوششیں ناکام، پی ٹی آئی کے قافلے پنجاب میں داخل، اٹک میں جھڑپیں

پنجاب بھر سے تحریک انصاف کے کارکن اسلام آباد مارچ میں شریک وجود - پیر 25 نومبر 2024

تحریک انصاف ک فیصلہ کن کال کے اعلان پر خیبر پختون خواہ ،بلوچستان اورسندھ کی طرح پنجاب میں بھی کافی ہلچل دکھائی دی۔ بلوچستان اور سندھ سے احتجاج میں شامل ہونے والے قافلوںکی خبروں میں پولیس نے لاہور میں عمرہ کرکے واپس آنے والی خواتین پر دھاوا بول دیا۔ لاہور کی نمائندگی حماد اظہر ، ...

پنجاب بھر سے تحریک انصاف کے کارکن اسلام آباد مارچ میں شریک

جتنے راستے بند کر لیں ہم کھولیں گے، علی امین گنڈاپور وجود - پیر 25 نومبر 2024

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت جتنے بھی راستے بند کرے ہم کھولیں گے۔وزیراعلیٰ نے پشاور ٹول پلازہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کا آغاز ہو گیا ہے ، عوام کا سمندر دیکھ لیں۔علی امین نے کہا کہ ...

جتنے راستے بند کر لیں ہم کھولیں گے، علی امین گنڈاپور

پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومت کریک ڈاؤن کیلئے تیار، انٹرنیٹ اور موبائل بند وجود - پیر 25 نومبر 2024

پاکستان تحریک انصاف کے ہونے والے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس، رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب اور کے پی سے جڑواں شہروں کو آنے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور مختلف شہروں میں خندقیں کھود کر شہر سے باہر نکلنے کے راستے بند...

پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومت کریک ڈاؤن کیلئے تیار، انٹرنیٹ اور موبائل بند

ملک کو انارکی کی طرف دھکیلا گیا ، 26ویں آئینی ترمیم منظور نہیں، اسد قیصر وجود - پیر 25 نومبر 2024

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک کو انارکی کی طرف دھکیلا گیا ہے ۔ پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ہمیں 26ویں آئینی ترمیم منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ افغانستان ک...

ملک کو انارکی کی طرف دھکیلا گیا ، 26ویں آئینی ترمیم منظور نہیں، اسد قیصر

پاکستان کی سعودی عرب سے درآمدات میں کمی ،ایران پر انحصارمزید بڑھ گیا وجود - هفته 23 نومبر 2024

رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی سعودی عرب سے درآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی اور پاکستان کا ایران سے درآمدات پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق جولائی تا اکتوبر سعودی عرب سے سالانہ بنیاد پر درآمدات میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ایران سے درآمدات میں 30فیصد اضافہ ہ...

پاکستان کی سعودی عرب سے درآمدات میں کمی ،ایران پر انحصارمزید بڑھ گیا

وڈیو بیان، بشریٰ بی بی پر ٹیلیگراف ایکٹ دیگر دفعات کے تحت 7 مقدمات وجود - هفته 23 نومبر 2024

لاہور (بیورو رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے ویڈیو بیان پر ٹیلی گراف ایکٹ 1885 اور دیگر دفعات کے تحت7 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بشریٰ بی بی کے خلاف پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان کے تھانہ جمال خان میں غلام یاسین ن...

وڈیو بیان، بشریٰ بی بی پر ٹیلیگراف ایکٹ دیگر دفعات کے تحت 7 مقدمات

پی آئی اے کی نجکاری ، حکومت کے دوست ملکوں سے رابطے وجود - هفته 23 نومبر 2024

پی آئی اے نجکاری کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہے ، گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کیلئے 30نومبر تک دوست ممالک سے رابطے رکھے جائیں گے ۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کیلئے دوست ملکوں سے رابطے کئے جارہے ہیں، گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق30نومبر ...

پی آئی اے کی نجکاری ، حکومت کے دوست ملکوں سے رابطے

مضامین
خرم پرویز کی حراست کے تین سال وجود منگل 26 نومبر 2024
خرم پرویز کی حراست کے تین سال

نامعلوم چور وجود منگل 26 نومبر 2024
نامعلوم چور

احتجاج اور مذاکرات کا نتیجہ وجود پیر 25 نومبر 2024
احتجاج اور مذاکرات کا نتیجہ

اسلحہ کی نمائش کتنی کامیاب رہی؟ وجود پیر 25 نومبر 2024
اسلحہ کی نمائش کتنی کامیاب رہی؟

کشمیری غربت کا شکار وجود پیر 25 نومبر 2024
کشمیری غربت کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر