... loading ...
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے اتحاد اور سفارتی سطح پر جو حمایت میسر آئی ،اُ س سے ہندو کی ازلی بزدلی ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں آشکارا ہو گئی ۔ بھارتی وزیر اعظم جن کا انتہا پسندانہ روپ ٹھہراؤ میں آنے کا نام نہیں لے رہا تھا ،اچانک اپنا رویہ بدلتے نظر آئے ۔ دنیا نے انہیں اب یہ کہتے سنا ہے کہ ’’ بھارت نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ۔ بھارت کسی ملک کی زمین ہتھیانے کا بھوکا نہیں ہے ،بھارتی فوجیوں نے اپنے ملک اور دوسروں کے لیے قربانیاں دی ہیں لیکن ا س کے باوجود دنیا نے نئی دہلی کی اہمیت کو نہیں سمجھا ‘‘۔
نریندر مودی کے اس بیان نے بھارتی فوج کے کھوکھلے دعووں اور خود اپنی بڑھکوں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا ۔ نریندر مودی کے جارحانہ رویے میں عین اس وقت ڈرامائی تبدیلی آئی جب پاکستان کے ہمسایہ ملک عوامی جمہوریہ چین نے دریائے برہم پُتر ا کا پانی روک لیا ۔ دریائے برہم پُترا کے پانی کے حوالے سے چین اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے ،اس لیے عوامی جمہوریہ چین کو اپنے اس عمل میں آزادی حاصل ہے جبکہ پاکستان کا پانی روک لینے کی دھمکیاں دینے والا بھارت اس معاملے میں سوائے بے بسی کے اظہارکے کچھ نہیں کر سکتا ۔ چین نے بھارت کی سرحد کے قریبی علاقے میں جنگی مشقیں کرکے بھی پاکستان کو سپورٹ فراہم کی ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی فوج کی جانب سے موثر اور منہ توڑ جواب نے بھارت کی فوج اور حکومتی ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیا ہے۔ یہ تمام عوامل بھارت کے جارحانہ رویے کی حقیقت آشکارا کرنے کی وجہ بنے ہیں ۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے اور اس کانفرنس میں تمام جماعتوں کی شرکت نے بین الاقوامی سطح پر قوم کے مکمل اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا ہے جس کے عالمی سطح پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد کے سنجیدہ حلقے اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے اس اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جو تجاویز حکومت کو پیش کی گئی ہیں حکومت کو ان پر ہمدردانہ غور کرنا چا ہیے کیونکہ بھارت کے ساتھ موجودہ اعصاب شکن معرکے میں برسرِ اقتدار طبقے کی جانب سے اُس بھر پور سیاسی ردِ عمل کا مظاہرہ سامنے نہیں آیا جس کا مظاہرہ اپوزیشن جماعتوں اور قوم کے دیگر طبقات کی جانب سے کیا گیا ۔ جبکہ اس سب کچھ کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں خاص کر اپوزیشن کی طرف سے بھارت کے مقابلے کے لیے حکومت کے ساتھ بھر پور اور غیر مشروط تعاون کیا گیا ۔
اسلام آباد میں جاری پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں بھی بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف زوردار قراردادیں سامنے آئی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے پاکستانی حکومت عالمی امن کانفرنس کے انعقاد کی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھارت کی جانب سے سرحدوں پر کشیدہ صورتحال پیدا کرنے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر چُکے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ وزیرا عظم جلد از جلد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، امریکا ، عوامی جمہوریہ چین اور دیگر ممالک کے سربراہان سے رابطہ کریں گے ۔حکومت نے عالمی امن کانفرنس کے لیے عسکری حلقوں سے مشاورت کا عمل تقریباً مکمل کر لیا ہے ۔
عالمی امن اور کشمیر کی صورتحال میں بہتری کے لیے پاکستان کی جانب سے پرخلوص کاوشوں کے جواب میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آئے دن ظلم و بربریت کی نئی داستان سامنے آ رہی ہے ۔ کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل بانکی مون کے نام اپنے خط میں انکشاف کیا ہے کہ ’’بھارتی افواج نے حریت لیڈر شپ کو جان سے مارنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے ۔ مشعال ملک نے بھارتی ٹارچر سیل میں قید یاسین ملک سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لیے اپنا کردار اداکرنے کے لیے کہا ہے۔ مشعال ملک کا موقف ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کر رہا ہے ۔ نائن الیون کے بعد سے ہونے والی دہشت گردی کی جڑیں بھی ہندوستان سے ملتی ہیں ۔
پاکستان کی جانب سے ان دنوں بھارت کے خلاف جاری سفارتی جدوجہد کو عالمی برادری میں ماضی کے مقابلے میں بہتر پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔حکومت ، اپوزیشن اور عسکری قیادت کے درمیان اس سلسلے میں مکمل ہم آہنگی خطے میں امن کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو گی ۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقے عمران خان کی احتجاجی تحریک کے حصار سے باہر نہیں نکل پائے ۔ اگرچہ تیس مارچ کا رائے ونڈ مارچ پر امن طور پر اختتام پذیر ہوا تاہم محرم الحرام کے بعد عمران خان کی جانب سے اسلام آ باد بند کر دینے کی دھمکی نے سیاسی درجہ حرارت میں کسی ممکنہ کمی کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے ۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے اچانک وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے عمل نے بھی بہت سے حلقوں کو حیران کر دیا ۔ اس سلسلے میں زیادہ تر حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ اسپیکر کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ حکومت کو عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے زبردست سیاسی مزاحمت اور دباؤ کا سامنا ہے ۔ کچھ دن پہلے اسپیکر قومی اسمبلی نے انہی ریفرنسز کوناکافی ثبوت کا حوالہ دے کر مسترد کر دیا تھا جبکہ حکمران جماعت کی جانب سے عمران خان کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنسز الیکشن کمیشن کو بجھوا دیے گئے تھے ۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اس قسم کے ریفرنسز بھی اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں ۔ 1985 ء کی غیر جماعتی اسمبلی میں مسلم لیگ قائم کرنے اور اُس کی صدارت وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو سونپنے پر اُس وقت ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی مرحوم نے اسپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کے پاس وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم اور مسلم لیگ میں شامل ہونے والے تمام ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیے ریفرنس دائر کیا تھا ۔جس کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اور ارکان پارلیمنٹ کو نااہلی سے بچانے کے لیے اُس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے آر ڈیننس جاری کیا گیا تھا جس کے تحت سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت 23 مارچ 1985 ء کی تاریخ سے دی گئی تھی ۔ اسی قسم کے کچھ ریفرنس ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اسپیکر ملک معراج خالد کو بھی پیش کییتھے ۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر کوریفرنس کو درست یا غلط قرار دینے کی بجائے سماعت کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجوادینا چاہیے تھے ۔ اب عمران خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنسز الیکشن کمیشن کو پہنچ گئے ، ان ریفرنسوں کے فیصلے اور پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بڑی حد تک اثر انداز ہو گی خاص طور یہ دونوں معاملات قبل از انتخابات کے معاملے سے بہت زیادہ مربوط ثابت ہوں گے ۔
گھریلو صارفین کو 34روپے 37پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی ، صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید 7روپے 59پیسے کمی ،جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60پیسے ہوگئی 77 سال سے ملک کو غربت کی جانب دھکیلنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنیوا...
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کی بانی سے ملاقات سے متعلق غلط خبریں چل رہی ہیں۔شی...
اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں، انتظامیہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہ ہونے کا اقرار کر رہی ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے...
پاکستان کی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے صدر مملکت کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر تعزیتی پیغام، شاندار الفاظ میں خراج تحسین صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے اور پاکستان کو اُن کے وژن کے م...
سردار اختر مینگل کی جانب سے احتجاج کے دوران 3 مطالبات رکھے گئے ہیں دھرنے میں بی این پی قیادت، سیاسی و قبائلی رہنما، لاپتا افراد کے لواحقین شریک بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل) کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی حالیہ گرفتاریوں کے...
پارٹی رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا ٹاسک دینے کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار عدالتیں زیرو ہو گئیں، عدلیہ ، ججز اپنی عزت کی حفاظت خود کریں گے ، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شبلی فراز نے بانی پی ٹی آئی...
ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی ...
رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ ب...
جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیب...
غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئ...
وزیر اعظم آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت اور قوم سے خطاب کریں گے شہباز شریف خطاب میں قوم کو سرپرائز ، بڑی خوشخبری سنائی جائے گی، وزارت اطلاعات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف ...
صدر کا بخار اور انفیکشن کم ہوگیا، ڈاکٹرز ان کی طبیعت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں طبیعت بہتر ہوتے ہی صدرمملکت باقاعدہ اپنا دفتر سنبھالیں گے ، ذرائع پیپلز پارٹی صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تاہم وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں...