وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم پر اپنی ہی جماعت کے ارکان کا دباؤ، رکن اسمبلی نے پارلیمانی اجلاس میں شرمندہ کردیا!

جمعه 05 اگست 2016 وزیراعظم پر اپنی ہی جماعت کے ارکان کا دباؤ، رکن اسمبلی نے پارلیمانی اجلاس میں شرمندہ کردیا!

مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران میں کمالیہ سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن اسمبلی چودھری اسدالرحمان کی وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ نوک جھونک تمام ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن چکی ہے۔ اور اِسے مسلم لیگ نون کے اندر پائے جانے والے قیادت کے رویئے کے خلاف ردِ عمل کی ایک حقیقی مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ اور وزیراعظم نوازشریف نے نہ صرف مسلم لیگ نون کو اپنے عرصہ اقتدار میں مکمل نظرانداز کیے رکھا بلکہ منتخب ارکان اسمبلی کوبھی توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ جس نے مسلم لیگ نون کے اندر شدید ردعمل پیدا کردیا ہے۔ جس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ مسلم لیگ نون کی قیادت کو تازہ ترین ردِعمل کا سامنا تب کرنا پڑا جب وہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں موجود تھے۔ تقریباً ڈھائی برس بعد مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے طلب کردہ اجلاس میں اُس وقت عجب وغریب صورتِ حال پیدا ہوگئی جب رکن قومی اسمبلی چوہدری اسد الرحمان اپنی نشست پر کھڑے ہوکر بلند آواز میں بولنا شروع کردیا، ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے حلقے کے فنڈز جاری نہیں ہوئے ، وزراء اراکین پارلیمنٹ کو نہ تو انسان سمجھتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام کرتے ہیں جب کہ بیورو کریسی بھی انتہائی کرپٹ ہے ، ایسی صورت حال میں ہم حلقے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ اس صورت حال میں وزیراعظم نواز شریف نے چوہدری اسد الرحمان کو تشریف رکھنے کی ہدایت کی جس پر اسد الرحمان نے کہا کہ میں کوئی اسکول بوائے نہیں ہوں جو آپ مجھے بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں۔اس پر چودھری اسدا لرحمان کو مزید سخت الفاظ میں وزیراعظم نوازشریف نے تشریف رکھنے کو کہا تو اُنہیں ساتھ بیٹھے ہوئے ارکان نے زبردستی بٹھا دیا۔

وزیرا عظم نوازشریف نے دو ڈھائی سو منتخب ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو گفتگو کے لیے 25 منٹ کا وقت دیا۔ اور اُس میں بھی صرف اُنہیں ہی بات کرنے دی گئی جس کے نام نوازشریف نے خود لیے

مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اکثر ارکان کو تب شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب وزیراعظم نوازشریف نے اُنہیں ڈھائی برس کے بعد بلائے جانے والے اجلاس میں بھی سننا گوارا نہیں کیا۔ چودھری اسدالرحمان نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ وزیرا عظم نوازشریف نے دو ڈھائی سو منتخب ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو گفتگو کے لیے 25 منٹ کا وقت دیا۔ اور اُس میں بھی صرف اُنہیں ہی بات کرنے دی گئی جس کے نام نوازشریف نے خود لیے۔ اُنہوں نے پارلیمانی اجلاس کی روداد سناتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نے اجلاس میں گھنٹہ سواگھنٹہ خود بات کی یا اُن کی ٹیم کے اُن لوگوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے پریزنٹیشن دی جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔ وزیراعظم نے ابتدا میں اپنی بیماری کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے اس کے بعد انفیکشن ہو گیا تھا۔ جو اب اسی فیصد ٹھیک ہو چکا ہے اور باقی بیس فیصد آپ سے مل کر ٹھیک ہو گیا۔ چودھری اسد الرحمان نے اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو کہا کہ اگر آپ ہم سے ملتے رہیں تو انفیکشن ہی نہ ہو۔ وزیرا عظم کی جانب سے اُن کی ٹیم کے کسی فرد نے جب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے جب یہ کہا کہ اُنہوں نے تمام ایم این ایز کو ایک پرفورما دیا تھا تاکہ اُن کے حلقے کے مسائل جانے جاسکیں۔ ابھی اُنہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ چودھری اسدالرحمان نے کھڑے ہو کر اُن سے پوچھا کہ آپ نے کتنے اراکین کو پرفورما دیئے تھے۔ کیونکہ اُنہیں تو ابھی تک کوئی پرفورما نہیں ملا۔ جس پر اُنہیں وزیراعظم نوازشریف نے بیٹھنے کو کہا۔ چودھری اسد الرحمان نے اس پر کہا کہ وہ کوئی اسکول بوائے نہیں جنہیں بیٹھنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ چودھری اسد الرحمان کو وزیراعظم کے دوبارہ سخت لہجے میں بیٹھنے کے الفاظ پراُنہیں ساتھی ارکین نے زبردستی اُن کی نشست پر بٹھا تو دیا مگر اُس کے باوجود وہ بیٹھ کر بھی بڑبڑاتے رہے۔

وزیراعظم سے سخت لہجے میں بات کرنے والے چودھری اسدالرحمان سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمان رمدے کے بھائی ہیں۔ اس سے قبل مئی 2016 میں اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت کو اسپیکر ایاز صادق نے اُس وقت معطل کردیا تھا جب اُنہوں نے ایڈیشنل سیکریٹری قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کے ساتھ ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا تھا۔

چودھری اسد الرحمٰن

چودھری اسد الرحمٰن


متعلقہ خبریں


بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی ...

بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا

بلوچستان میںاحتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ ب...

بلوچستان میںاحتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ

خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیب...

خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف

ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئ...

ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے

وزیر اعظم سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

وزیر اعظم آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت اور قوم سے خطاب کریں گے شہباز شریف خطاب میں قوم کو سرپرائز ، بڑی خوشخبری سنائی جائے گی، وزارت اطلاعات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف ...

وزیر اعظم سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع

صدر زرداری کورونا میں مبتلا، ڈاکٹروں کا آئسولیشن کا مشورہ وجود - جمعرات 03 اپریل 2025

  صدر کا بخار اور انفیکشن کم ہوگیا، ڈاکٹرز ان کی طبیعت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں طبیعت بہتر ہوتے ہی صدرمملکت باقاعدہ اپنا دفتر سنبھالیں گے ، ذرائع پیپلز پارٹی صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تاہم وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں...

صدر زرداری کورونا میں مبتلا، ڈاکٹروں کا آئسولیشن کا مشورہ

ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  پروپیگنڈاکیا گیا کہ کینالز کے معاملے میں سندھ حکومت شامل ہے،صدر نے میٹنگ میں کسی کینال کی مظوری نہیں دی۔ صدر کی میٹنگ کو بہانا بناکر کینال کی منظوری دی گئی،اجلاس کے منٹس بھی غلط بنائے گئے کینال بنانے کے معاملے پرسندھ کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائیں گے ، سندھ کے مفاد کے ...

ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

بی این پی کے لانگ مارچ پر کریک ڈائون اورخودکش دھماکا،اختر مینگل و دیگر رہنمامحفوظ وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  لک پاس پر تعینات لیویز اہلکاروں نے مشکوک شخص کے بھاگنے کی کوشش پر تعاقب کیا، جس کے نتیجے میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسسٹنٹ کمشنر مستونگ حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے تاہم احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہے گا،ہمیں کسی گروپ سے ...

بی این پی کے لانگ مارچ پر کریک ڈائون اورخودکش دھماکا،اختر مینگل و دیگر رہنمامحفوظ

فضلے کی آلودگی سنگین بحران ،معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہے، وزیراعظم وجود - اتوار 30 مارچ 2025

پلاسٹک اور خطرناک فضلہ ہمارے دریاؤں، لینڈ فِلز اور ہوا کو بُری طرح متاثر کر رہے ہیں شہروں کی بڑھتی آبادی میں اور صنعتی ترقی کے ساتھ کچرے کے انتظام کیلئے پائیدار حل اپنانا ہوگا وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ فضلے کی آلودگی ایک سنگین بحران ہے جو ہمارے ماحول، صحت عامہ اور معی...

فضلے کی آلودگی سنگین بحران ،معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہے، وزیراعظم

ورلڈبینک سے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری وجود - اتوار 30 مارچ 2025

قرضہ فضائی آلودگی کے خاتمے میں پنجاب کلین ایئر پروگرام کے لیے فراہم کیا جائے گا لاہورکے ایک کروڑ 30 لاکھ شہریوں کو فضائی آلودگی سے جڑی بیماریوں میں کمی آئے گی عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری دے دی اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں ورلڈ بینک نے کہا کہ قرض...

ورلڈبینک سے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری

میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1644سے متجاوز وجود - اتوار 30 مارچ 2025

میانمار میں 7.7شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے دس ہزار تک ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر زلزلے کا مرکز دوسرے بڑے شہر منڈلے کے قریب تھا ،گہرائی زمین میں 10کلومیٹر تک تھی میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 644سے تجاوز کر گئی، جبکہ امدادی...

میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1644سے متجاوز

پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی قوم کے ساتھ مذاق ہے ، تاجروں کا ردعمل وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  ایک ماہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم بہت زیادہ کمی کا اعلان کرنے والے ہیں پیٹرول کی قیمت میں 17روپے فی لیٹر کمی تجویز کی گئی تھی لیکن ایک روپے کمی کی گئی، ردِ عمل آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی نے پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے کی کمی کو ...

پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی قوم کے ساتھ مذاق ہے ، تاجروں کا ردعمل

مضامین
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر