... loading ...
”ہم نسل پرست ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے“۔ یہ وہ الفاظ تھے جو حرا کی سماعت سے ٹکرائے جب وہ ٹرین میں سفر کررہی تھی۔ مردوں کا ایک گروہ پہلے ہی کہہ چکا تھا تھا کہ “اسکارف کے نیچے بم تو نہیں چھپایا ہوا؟”۔ ساتھ ہی سور کھانے اور شراب انڈيلنے کی باتیں بھی کر چکے تھے لیکن ان باتوں سے زیادہ افسوسناک یہ کہ کسی مسافر نے چوں تک نہیں کی۔ نہ ہی کسی کو زحمت ہوئی کہ حرا سے ان کی خیریت دریافت کرتا، جنہوں نے بتایا کہ “جب مردوں نے آوازے کسنے شروع کیے تو میں نے کہا بھی کہ بس کرو، لیکن وہ نہیں مانے۔ انہوں نے میرے کپڑوں پر شراب پھینکی بھی۔ لوگ انہیں دیکھتے اور نظر انداز کرتے رہے لیکن کسی کو میری مدد میں کوئی آواز بلند کرنے کی توفیق بھی نہيں ہوئی۔”
حرا کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ ہرگز غیر معمولی نہیں ہے بلکہ برطانیہ میں ایک تحقیق میں پایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بے ہودہ اور غیر مہذب گفتگو پر عوام کی جانب سے کوئی ردعمل ہی نہیں دکھایا جاتا۔
اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2010ء سے 2014ء کے دوران ایسے مسلمان مخالف واقعات کو رپورٹ کرنے والوں کی تعداد 50 سے 82 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
اس کے علاوہ میژر اینٹی-مسلم اٹیکس (ماما) نامی ادارے نے مسلمانوں کے خلاف زبانی و جسمانی تشدد کی دھمکیوں کے حامل واقعات پر رپورٹوں کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے جس سے برطانیہ میں مسلمانوں کے لیے سنگین حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ چند مسلمان مرد اور عورتوں نے یہ تک کہا کہ انہوں نے داڑھیاں صاف کردیں، اسکارف پہننے چھوڑ دیے تاکہ ہدف کا نشانہ نہ بنیں لیکن سب سے مایوس کن پہلو عوام کا ردعمل ہے۔ زیادہ تر معاملات میں واقعے کے عینی شاہد کسی بھی قسم کی مدد حتیٰ کہ مسلمانوں کی دلجوئی بھی نہیں کرتے۔ “نہ ہی کوئی پولیس طلب کرتا ہے، نہ ہی کوئی ہمدردی کے دو بول بولتا ہے، لوگ اس طرح قریب سے گزر جاتے ہیں جیسے یہ معمول کی بات ہے۔” اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان برادری بیگانگی اور تنہائی کا شکار ہو رہی ہے۔
ادارے کے پیش کردہ دیگر واقعات میں ایک اسماء نامی ایک خاتون کا ہے جنہوں نے مڈ وائف کی نوکری اس لیے چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ جن مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، وہی انہیں برا بھلا کہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک میٹرنٹی وارڈ میں رات کی شفٹ میں کام کررہی تھیں جب ایک مریضہ نے میرا حجاب دیکھا اور وہیں پر گالیاں بکنا شروع کردیں، وہ کہہ رہی تھی “میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ دنیا میں آئے اور تم جیسے دہشت گرد کا چہرہ دیکھے، نکل جائے میرے ملک سے، تم میرے وارڈ میں آئیں کیسے؟ دہشت گرد!”۔ اسماء نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے ملازمت چھوڑ دی کیونکہ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔
مسلمان مخالف رویے کے ایک اور شکار مغل کا کہنا تھا کہ “میں یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ کوئی ہیرو بن کر جھگڑے میں کود پڑے۔ بس اگر کوئی آدمی پولیس ہی کو بلا لے تو ہم جیسے لوگوں کو ڈھارس مل جائے گی اور اعتماد حاصل ہوگا۔”
ابھی چند روز قبل ہی ایک سیاہ فام عورت کی بدتمیزی کی وڈیو جاری ہوئی ہے جو اپنے ساتھ سوار مسلمان عورتوں کے خلاف مغلظات بکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے دو خواتین کو “داعش کی طوائفیں” بھی کہا۔
مغل نے مزید کہا کہ جب سے مہاجرین کا بحران آیا ہے، انتہائی دائیں بازو کے حلقوں نے ایسی باتیں شروع کردیں ہیں، “مسلمان یورپ پر قبضے کے لیے مہاجر بن کر آ رہے ہیں،” “مسلمان ریاست پر قبضے کے لیے جھوٹ در جھوٹ کا سہارا لیں گے،” “مسلمان یہاں آئیں گے اور نسل افزائی کریں گے،” اس طرح کی باتیں بہت خطرناک ہیں۔ “وہ اور ہم” کا یہی رویہ مسلمانوں کے حوالے سے گفتگو کو مزید بدتر بنا رہا ہے۔
معاملہ صرف غیر ملکی تارکین وطن کا نہیں ہے بلکہ خود سفید فام نومسلم افراد کو بھی ایسے ہی رویے کا سامنا ہے۔ ایک برطانوی نو مسلم سارا کہتی ہیں کہ جب سے وہ مسلمان ہوئی ہیں، قہر آلود نظریں، دھمکیاں اور گالم گلوچ سننا ان کا معمول بن چکا ہے، “جب میں گزرتی ہوں تو لوگ گھورتے ہیں، پھر کسی طرف سے آواز آتی ہے “تمہاری گردن کیوں نہ اڑا دی جائے؟”۔
مسلمانوں نے نفرت اب برطانیہ میں معمول بن چکی ہے۔ گزشتہ سال انگلینڈ اور ویلز میں نفرت کی بنیاد پر جرائم میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مغل کے خیال میں ان حالات کو بہتر بنانے کے لیے چند حل ضرور موجود ہیں۔ ایک بہتر تعلیم اور مسلمان برادری میں ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے کے حوالے سے اعتماد بڑھانا، دوسرا حقیقی مثبت تصور اور عوام کے وسیع تر حلقوں کے لیے مسلمان برادری کی اچھی رول ماڈلنگ۔ انہوں نے اس سلسلے میں حال ہی میں مکمل ہونے والے گریٹ برٹش بیک آف مقابلے کا حوالہ دیا۔ برطانیہ کے اس مقبول ترین شو میں نادیہ حسین نامی مسلمان نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مقدمات اور ان کی پیروی پر بھی زور دیا تاکہ مسلمان برادری کے اعتماد میں اضافہ ہو۔
ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی ...
رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ ب...
جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیب...
غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئ...
وزیر اعظم آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت اور قوم سے خطاب کریں گے شہباز شریف خطاب میں قوم کو سرپرائز ، بڑی خوشخبری سنائی جائے گی، وزارت اطلاعات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آج بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف ...
صدر کا بخار اور انفیکشن کم ہوگیا، ڈاکٹرز ان کی طبیعت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں طبیعت بہتر ہوتے ہی صدرمملکت باقاعدہ اپنا دفتر سنبھالیں گے ، ذرائع پیپلز پارٹی صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تاہم وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں...
پروپیگنڈاکیا گیا کہ کینالز کے معاملے میں سندھ حکومت شامل ہے،صدر نے میٹنگ میں کسی کینال کی مظوری نہیں دی۔ صدر کی میٹنگ کو بہانا بناکر کینال کی منظوری دی گئی،اجلاس کے منٹس بھی غلط بنائے گئے کینال بنانے کے معاملے پرسندھ کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائیں گے ، سندھ کے مفاد کے ...
لک پاس پر تعینات لیویز اہلکاروں نے مشکوک شخص کے بھاگنے کی کوشش پر تعاقب کیا، جس کے نتیجے میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسسٹنٹ کمشنر مستونگ حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے تاہم احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہے گا،ہمیں کسی گروپ سے ...
پلاسٹک اور خطرناک فضلہ ہمارے دریاؤں، لینڈ فِلز اور ہوا کو بُری طرح متاثر کر رہے ہیں شہروں کی بڑھتی آبادی میں اور صنعتی ترقی کے ساتھ کچرے کے انتظام کیلئے پائیدار حل اپنانا ہوگا وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ فضلے کی آلودگی ایک سنگین بحران ہے جو ہمارے ماحول، صحت عامہ اور معی...
قرضہ فضائی آلودگی کے خاتمے میں پنجاب کلین ایئر پروگرام کے لیے فراہم کیا جائے گا لاہورکے ایک کروڑ 30 لاکھ شہریوں کو فضائی آلودگی سے جڑی بیماریوں میں کمی آئے گی عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری دے دی اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں ورلڈ بینک نے کہا کہ قرض...
میانمار میں 7.7شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے دس ہزار تک ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر زلزلے کا مرکز دوسرے بڑے شہر منڈلے کے قریب تھا ،گہرائی زمین میں 10کلومیٹر تک تھی میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 644سے تجاوز کر گئی، جبکہ امدادی...
ایک ماہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم بہت زیادہ کمی کا اعلان کرنے والے ہیں پیٹرول کی قیمت میں 17روپے فی لیٹر کمی تجویز کی گئی تھی لیکن ایک روپے کمی کی گئی، ردِ عمل آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی نے پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے کی کمی کو ...