... loading ...
نیازی قبائل کی برصغیر میں آمد کا سلسلہ ہندستان پر سلطان محمود غزنوی کی ’’ دستک ‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔لیکن ان قبائل کی باقاعدہ منظم شکل میں اس علاقے میں آمد بہت بعد کی بات ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ نیازیوں کی اکثریت اوائل میں غزنی کے جنوبی علاقے میں آباد تھی ۔ اس علاقے پر انڈروں اور خلجیوں کے آئے دن کے حملوں سے تنگ آکر یہ لوگ ترک سکونت پر مجبور ہوئے اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ ٹانک سے ہوتے ہوئے میانوالی کے علاقہ میں آئے۔ میانوالی میں پٹھانوں کے نیازی قبائل میں بلو خیل قبیلہ کو ممتاز مقام حاصل ہے
اس قبیلے کے مورث اعلیٰ بلو خان (Baloo Khan ) کا شجرہ نسب سرہنگ نیازی سے جا ملتا ہے۔تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی کے دو امراء کو1748 ء میں گکھڑوں کے مضبوط قلعے پر یلغار کے وقت بلو خیل قبیلہ کی مدد حاصل تھی۔ ماضی میں اس جنگجو قبیلے کے دلیرانہ معرکوں کی شہادت مقامی لوک گیتوں میں آج بھی ملتی ہے۔تاریخ میں ایک معرکہ بلو خیل قبیلہ کے ایک سردار سہراب خان کے نام سے منسوب ہے۔ روایات کے مطابق ’’ سہراب خان کی زیر قیادت اس قبیلے کے افراد نے غالباً1845 ء میں موجودہ بلو خیل سے چھ کلو میٹر مغربی جانب ایک تاریخی لڑائی لڑی۔ اس لڑائی میں بلو خیل قبیلہ کا سردار سہراب خان تو شہید ہو گیا ۔ مگر جنگ کے نتیجے میں لا تعداد سکھ سپاہیوں کی کٹی ہوئی گردنیں(گلو) اور کھوپڑیاں گھوڑوں کے سموں تلے کچلتے کچلتے گارا ( کیچڑ) بن گئیں۔ یوں اس جائے حرب کا نام ’’ گلو گارہ ‘‘ پڑ گیا۔اب یہ علاقہ چشمہ بیراج کی تعمیر کی وجہ سے زیر آب آ چکا ہے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بڑا قبیلہ سرورخیل، سہراب خیل، بہرام خیل ِ شیرمانخیل،خنکی خیل،پنوں خیل، زادے خیل اور عالم خیل وغیرہ کی الگ الگ شاخوں میں تقسیم ہو گیا۔شیر مان خیل قبیلہ اپنی سیاسی وابستگیوں میں استقامت اور جرات کے حوالے سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔مسلم لیگ اور نظریہ پاکستان سے والہانہ اور لازوال وابستگی عمران خان کے دادا ڈاکٹر محمد عظیم خان شیر مان خیل مرحوم کے خانوادے کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد عظیم خان شیر مان خیل کے چار بیٹے ظفر اﷲ خان نیازی، امان اﷲ خان نیازی، کرنل فیض اﷲ خان نیازی اور اکرام اﷲ خان نیازی تھے۔ اکرام اﷲ خان نیازی نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدمحکمہ پی ڈبلیو ڈی(PWD ) میں ملازمت اختیار کر لی۔ گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں وہ پی ڈبلیو ڈی میں چیف انجینئر تعینات تھے تو میانوالی میں ان کا خاندان ایوبی آمریت کے خلاف ڈٹا ہوا تھا۔اس خاندا ن کی نفسیات جاننے والوں کے مطابق’’اس خاندان کا ہمیشہ سے یہ امتیاز رہا ہے کہ یہ لوگ مصیبت میں گھبرانے کی بجائے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔‘‘ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران عمران خان کا خاندان اپنے علاقے میں مسلم لیگ کا پشتیبان تھا۔اس خاندان کو یہ شرف اور افتخار بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مجاہد ملت مولا محمد عبد الستار خان نیازی ؒ کا ساتھ دیا ہے۔مولانا نیازی ؒحریت اور جسارت کا دبستان ، نظریہ پاکستان اور اسلام سے وابستگی کی ایک اجلی داستان کا نام ہے۔عمران خان کا خاندان اور مولانا نیازی ؒ ہمیشہ یک قالب و یک جان رہے۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں اس خاندان نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا ساتھ دیا۔انہوں نے سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کو عین اس وقت للکارا تھاجب ان کی سطوت کا سورج نصف النہار پر تھا۔میانوالی میں انجینئر اکرام اﷲ خان نیازی کے بھائیوں ظفر اﷲ خان اور امان اﷲ خان ایڈو کیٹ کی سیاسی سر گرمیوں کی وجہ سے اس وقت کے گورنرمغربی پاکستان ملک امیر محمد خان آف کالاباغ ان سے ناراض تھے۔یہی وجہ تھی کہ اکرام اﷲ خان نیازی کو ملازمت سے ریٹائر منٹ لینا پڑی۔ریٹائرمنٹ کے بعد اکرام اﷲ خان نیازی اور انکی اہلیہ محترمہ شوکت خانم مرحومہ نے اپنے بیٹے عمران خان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔عمران خان نے ایچی سن کالج سے اکتوبر 1972 ء میں میٹرک لیول کا امتحان پاس کیا ۔ جس کے بعد اسے آکسفورڈ یونیورسٹی سے الحاق شدہ کیبلے کالج(Keble College )لندن میں داخل کر وادیا گیا۔کیبلے کالج لندن سے عمران خان نے سیاسیات اور اکنامکس کے مضامین میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔
عمران خان نے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت دنیائے کرکٹ کے بادشاہ کہلائے۔اور پاکستان کو ورلڈ کپ کا فاتح بنایا۔عمران خان نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے والد کی بھرپور سرپرستی میں سماجی خدمت کے میدان میں قدم رکھا۔سماجی خدمت کے عظیم الشان اور بے مثال ادارے ’’ شوکت خانم ہسپتال ‘‘ کی تعمیر میں بھی عمران خان کے والد کا بہت نمایاں کردار رہا۔عمارت کی ڈیزائننگ میں بھی ان کی تجاویز اور مشاورت کا خاصا عمل دخل رہا۔ سماجی خدمت کے میدان میں اپنے اکلوتے بیٹے کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اکرام اﷲ خان نے عمران خان کو سیاسی میدان میں بھی تنہا نہیں چھوڑا۔ جب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے عمران خان کو اپنی کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اکرام اﷲ خان نے اپنے بیٹے کو منع کر دیا تھا کہ ابھی آپ کو مزید منزلیں طے کر نا ہیں۔نئی اڑانیں تمہاری منتظر ہیں۔بعد میں سابق وزیر اعظم اور آج کی دنیا میں عمران خان کے سب سے بڑے حریف میاں محمد نواز شریف ( جو کرکٹ کے کھیل سے دلچسپی کے باعث عمران خان سے خصوصی مراسم رکھتے تھے ) نے بھی عمران خان کو اپنی مسلم لیگ میں شامل ہونے کے عوض مسلم لیگ کی سینئر نائب صدارت اور ڈپٹی وزیر اعظم کے منصب کی پیش کش بھی کی تھی۔لیکن اکرام اﷲ خان نیازی کی روایتی خاندانی استقامت اور سیاسی بصیرت نے عمران خان کو اس پیشکش سے بھی دور رکھا۔اگر عمران خان یہ پیشکش قبول کر لیتے تو عالمی پہچان رکھنے والا یہ پاکستانی ہیرو پاکستان کی سیاست کے صلاحیتوں کے قبر ستان میں دفن ہوجاتا۔1997 ء کے عام انتخابات سے قبل عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی تو اس وقت بھی اکرام اﷲ خان نے اپنی علالت اور ضعیف العمری کے باوجود عمران خان کے سیاسی سفر کو تنہا نہیں ہونے دیا اور وقتاً فوقتاً اپنے بیٹے کو اپنے مشوروں سے نوازتے رہنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ استقامت اور جرات کی تلقین کرتے رہے۔ اکرام اﷲ خان نیازی نے 19 مارچ 2008 ء کو لاہور میں وفات پائی ۔ان کو انکی وصیت کے مطابق میانوالی میں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کیا گیا۔
اکرام اﷲ خان نیازی نے ہمیشہ عمران خان کو اقبالیات کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کو اقبال ؒ کی زبان میں کہا کرتے تھے کہ ’’ توُ رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول ۔‘‘گلیمر کی دنیا کے شہنشاہ عمران خان کی زندگی نے ’’پلے بوائے ‘‘ سے اقبال ؒ کے شاہین کا جو رُخ اختیار کیا ہے اس میں ان کے والد اکرام اﷲ خان نیازی اور مجاہدِ ملت مولانا عبد الستار خان نیازی کی تربیت کا بہت زیادہ اثر ہے۔ میانوالی میں مجاہدِ ملت مولانا محمد عبد الستار خان نیازی ؒ کے چالیسویں کے اجتماع میں مرقدِ مولانانیازی ؒ پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مولانا عبد الستار خان نیازی ؒ سے اپنے خاندانی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے بہت سی باتیں کی تھیں اور یہ بھی کہا تھا کہ ’’ مولانا عبد الستار خان نیازی مرحوم نے انکی بہنوں کا نکاح پڑھایا تھا اور اس موقع پر انہوں نے مجھے اپنی گرجدار آواز میں کہا تھا کہ اگر اصلاح اور فلاح چاہتے ہو تو اقبال ؒ کو پڑھو۔۔۔۔۔۔عمران خان ایک سے زائد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے مولانا محمد عبد الستار خان نیازی ؒ کی نصیحت پر علامہ اقبال ؒ کے کلام کا مطالعہ کیا تو روشنی کی بے کنار وسعتوں کا ادراک ہوا۔ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں عمران خان ایم ایم اے کے طرزِ عمل پر بہت دل گرفتہ تھے۔ اپنے کزن سعید اختر خان (سابق ممبر پاور واپڈا) کی رہائش گاہ ( میانوالی )پر ناشتے کی میز پر انہوں نے جماعت اسلامی کے ’’چھوٹی اور بڑی برائی ‘‘کے فلسفہ اورمولانا فضل الرحمن کے سرکار سے سنجوک پر اقبالیات کے پس منظر میں خوب بحث کی تھی۔اور اقبال ؒ کے اس شعر کو خوب یاد کیا تھا
عمران خان پر یہودی لابی کا ایجنٹ ہونے کا بے ہودہ الزام عائد کرنے والے اگر اپنے اسلاف کا موازنہ عمران خان کے اسلاف سے کر لیں تو واضح ہو جائے گا کہ کس کے خاندان کا خون قیام ِ پاکستان اور تزئینِ گلستان میں شامل ہے۔آج جولوگ عمران خان پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے یہودیوں سے فنڈز اکٹھا کیا، ماضی میں یہی محترمہ بے نظیر بھٹو کی قابلِ اعتراض تصاویر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے مختلف شہروں میں گراتے رہے اور مخالفین کی کردار کُشی کرتے رہے ۔کسی نے سچ کہا ہے کہ عادتیں سر کے ساتھ ہی جاتی ہیں ۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف، جنرل (ر) فیض حمید کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کریں کیوں کہ جنرل (ر) فیض اور میرا معاملہ فوج کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے مطالبہ ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کریں...
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ میری طرف سے آرمی چیف کو توسیع دینے کی آفر تک وہ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ رجیم چینج کو نہیں روکیں گے، یہ روک سکتے تھے انہوں نے نہیں روکا کیوں کہ پاؤر تو ان کے ...
پاکستان تحریک انصاف چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں تمام اداروں سے کہتا ہوں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تشدد کروا کر اپنی عزت کروائیں گے تو غلط فہمی میں نہ رہیں، عزت دینے والا اللہ ہے اور آج تک دنیا کی تاریخ میں مار کر کسی ظالم کو عزت نہیں ملی، اعظم سواتی کو ننگ...
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کا فیصلہ کر لیا، پارٹی سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ظالموں کو مزید مہلت نہیں دیں گے، جلد تاریخی لانگ مارچ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کروں گا۔ پارٹی کے مرکزی قائدین کے اہم ترین مشاورتی اجلاس ہفتہ کو چیئرمین تحریک انصاف عمران ...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی وزیر داخلہ کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرتبہ رانا ثنا اللہ کو اسلام آباد میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو ہماری تیاری نہیں تھی لیکن اس مرتبہ بھرپور تیاری کے ساتھ ...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کارکن تیاری کر لیں، کسی بھی وقت کال دے سکتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی، ذیلی تنظیموں اور مقامی عہدیداروں سے خطاب کے دوران عمران خان نے کارکنوں کو اسلام آباد مارچ کیلئے تیار رہنے...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف سلیکٹ کر سکتا ہے؟ اگر مخالفین الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر سپہ سالار کا انتخاب کر لیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، نئی حکومت کے منتخب ہونے تک جنرل قمر باجوہ کوعہدے پر توسیع دی جائے۔ ...
سابق صدرمملکت اورپاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم اداروں اور جرنیلوں کو عمران خان کی ہوس کی خاطر متنازع نہیں بننے دیں گے۔ بلاول ہاؤس میڈیا سیل سے جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گزشتہ روز کی افواجِ پاکستان سے متعلق تقریر کو تن...
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی عمران نیازی کی انتہائی قابل مذمت مہم ہر روز ایک نئی انتہا کو چھو رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حساس پیشہ وارانہ امور کے بارے میں اور مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف اب وہ براہ راست کیچڑ اچھالتے ...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہیرے بڑے سستے ہوتے ہیں، کوئی مہنگی چیز کی بات کرو۔ جمعرات کے روز عمران خان ، دہشت گردی کے مقدمہ میں اپنی ضمانت میں توسیع کے لیے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں پیشی کے بعد ایک صح...
پاکستانی سیاست جس کشمکش سے گزر رہی ہے، وہ فلسفیانہ مطالعے اور مشاہدے کے لیے ایک تسلی بخش مقدمہ(کیس) ہے ۔ اگرچہ اس کے سماجی اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ مگر سماج اپنے ارتقاء کے بعض مراحل میں زندگی و موت کی اسی نوع کی کشمکش سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست جتنی تقسیم آج ہے، پہلے کب...
پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو عاشور کے روز اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اُنہیں اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا۔ شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں بغاوت پر اُکسانے کا مقدمہ بھی درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے دوران ڈ...