... loading ...
حمیداللہ بھٹی
ضروری ہے کہ چند ایک ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستان ایسی تجارتی منڈیاں تلاش کرے جو نزدیک ، نفع بخش اور ملکی مفاد سے ہم آہنگ ہو ں ۔دوردراز ممالک تک سامان پہنچانے میں مشکلات کے ساتھ لاگت بھی زیادہ آتی ہے۔ اب جبکہ پاکستانی اشیا پر محصولات میں امریکہ نے 29 فیصداضافہ کردیا ہے نیز یورپی یونین کی طرف سے حاصل ترجیحی سلوک پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ اِن حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ تجارت کے فروغ اورعلاقائی مفاد کے تحفظ کے لیے نئے افق تلاش کیے جائیں۔ تجارتی حوالے سے حکومتی ترجیحات سے واضح ہے کہ حاصل منڈیوں کے ساتھ اُس کی توجہ کا محورخاص طورپر ایشیائی ممالک ہیں۔ بنگلہ دیش سے قریبی شراکت داری پاکستان کے مفادمیںہے۔ باعثِ اطمنان امریہ ہے کہ بنگلہ دیش کی اہمیت کاحکومت کوادراک ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ سے روابط کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نظر آنے لگی ہے۔ دوطرفہ تعاون بڑھانے پر متفق دونوں ممالک کی حکومتیں مشترکہ مقاصدکے حصول کے لیے عملی طورپر کوشاں ہیں۔
رواں ماہ کے تیسرے ہفتے 22اپریل کونائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار تین روزہ دورے پر بنگلہ دیش جارہے ہیں جسے اِس بنا پر نہایت اہمیت کاحامل اور تاریخ ساز قرار دیا جاسکتاہے کہ اِس دوران نہ صرف عبوری چیف ایگزیکٹو ڈاکٹرمحمد یونس سے ملاقات ہوگی بلکہ ہم منصب توحیدحسین کے علاوہ بنگلہ دیشی کابینہ کے دیگر ارکان سے بھی باضابطہ ملاقاتیں اور مذاکرات طے ہیں ۔ملاقاتوں میں متعدد معاہدوں اور ایم اویوز پر دستخط متوقع ہیں ۔یہ اِس بناپر ایک تاریخی پیش رفت ہے کہ 2012کے بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورہ ہے جس سے دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں کُھلنے کا امکان ہے۔ حناربانی کھر پاکستان کی آخری وزیرِ خارجہ تھیں جو ڈی 8سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے بنگلہ دیش گئیں مگر 1971میں پاکستان سے الگ ہوکرعلیحدہ ملک بننے والے بنگلہ دیش سے تعلقات بہترنہ ہوسکے ۔دراصل تعلقات بہتر بنانے کی پاکستانی کاوشوں کی عوامی لیگ کی حکومت نے کبھی حوصلہ افزائی نہ کی اور ہمیشہ بھارت کو ترجیح دی حالانکہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیاں بُھلا کر ساتھ چلتے تو عوام کا بھلاہوتا۔ المختصر گزشتہ برس کے پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں آمرانہ مزاج کی حامل ایک سفاک اور متعصب شیخ حسینہ واجد کی معزولی سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے شروع ہوئے ۔اعلیٰ سطح رابطے بحال ہونے پر بنگلہ دیش نے پاکستانی برآمدات پر پابندیاں ختم کیں جس کا دونوں ممالک کی تجارت پر مثبت اثرہوا۔براہ راست پروازوں پر اتفاق کے ساتھ طویل عرصے بعد سمندری راستے سے براہ راست تجارت کا آغاز ہوا۔ رواں برس جنوری میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا جس سے دوطرفہ دفاعی تعاون کی راہیں ہموار ہوئیں جسے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ایک بڑی پیش رفت کہہ سکتے ہیں۔ اب اسحاق ڈارکا دورہ بڑھتے روابط میں مزید تیزی لا سکتاہے ۔
پاک بنگلہ دیش روابط کی خواہش یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے ۔دونوں ممالک کی حکومتیںقومی مفاد میں فیصلے کررہی ہیں دونوں متفق ہیں کہ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے عوامی روابط ناگزیر ہیں بنگلہ دیش کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے چاول ،چینی سمیت دیگر اجناس برآمدکی جا سکتی ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کے تجربات سے پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں فروغ پذیر تجارتی اور دفاعی تعاون کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارتی سازشوں کاامکان موجودہے کیونکہ بھارتی قیادت اور ماہرین کوخدشہ ہے کہ پاک بنگلہ دیش روابط سے اُس کی مشرقی ریاستیں عدمِ استحکام سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ ایسے خدشات کو پاکستان اور بنگلہ دیش سختی سے مسترد کرتے ہیں مگر شیخ حسینہ کی طرف سے بھارت کو مشرقی ریاستوں تک حاصل راہداری ختم ہوتی ہے تو اِس میں شائبہ نہیں کہ بھارتی قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ شیخ حسینہ بظاہر بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم تھیں لیکن اقتدار کے دوران بھارتی دفاع کی مضبوطی کے لیے گراں قدرخدمات سرانجام دیں مشرقی ریاستوں تک راہداری دینے کے ساتھ دریائوں کو بھارتی تصرف میں دینے جیسے بنگلہ دیشی مفاد سے متصادم فیصلے کیے اُن کے دورمیں بنگلہ دیش کی حیثیت محض بھارت کی طفیلی ریاست رہی۔ اب جبکہ بنگلہ دیش میں ایک ایسی قیادت کے پاس عنانِ اقتدار ہے جس کے پیشِ نظر اپنے ملک کا مفاد و سلامتی ہے سے توقع ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تلخیوں کی خلیج کا خاتمہ ہو گا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کوبخوبی معلوم ہے کہ بنگلہ دیشی کا تعلیمی نصاب غلط اور متعصب ہاتھوں نے بنایاجو تصویر کا ایک رُخ اُجاگر کرتا ہے اسی بناپر نصاب میں تبدیلی کے ساتھ جنگ 1971کی یادگار دیوار کو بھی گرادیا گیا ہے جس پر1950کا زبان کی تاریخ کا پس منظر، سات مارچ کی تقریر،جنگِ آزادی ،مجیب نگر حکومت کی تشکیل ،آزاد سرزمین پر سورج کا طلوع ہونااور سات عظیم ہیروز سمیت دیگر لمحات کو تاریخی کہہ کر نمایا ں کیا گیا تھا ۔اِس سے قبل شیخ مجیب الرحمٰن کے مجسمے گرانے اور گھر نذرِآتش کرنے کاکام ہو چکا۔ اِن واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل جھوٹ کو بے نقاب کرنے کا تہیہ کر چکی ہے ۔ڈھاکہ میںنہ صرف قائد ِ اعظم کا دن منایا جا نے لگا ہے بلکہ پاکستان سے محبت سے سرشار لوگ برسرِ عام شیخ مجیب کو ایک غدار اور اغیار کاایجنٹ قراردیتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے یہ لمحات بہت اہم اور نادر ہیں۔ تبدیل شدہ حالات میں ماضی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی من گھڑت کہانیوں کوغلط ثابت کرناآسان ہوگیا ہے بلکہ اسلام آباد، ڈھاکہ قریبی اتحادی بننے کی راہ ہموارہوئی ہے۔
شیخ حسینہ بھارتی مفاد پربنگلہ دیشی مفاد قربان کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں جس سے مشرقی ریاستوں کی شورش پر قابو پانے میں دہلی کوتو بڑی مدد ملی مگر بنگلہ دیش کوکوئی فائدہ نہ ہواوہ توانائی کے لیے بھارت کا محتاج بن کررہ گیا لیکن موجود ہ حکومت غیرجانبدار ہے اور اُس کی توجہ ملک کو معاشی و دفاعی حوالے سے مضبوط بنانے پر ہے جس کا اثر یہ ہوا ہے کہ بھارت کی مشرقی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ناگا لینڈ ،منی پوراور آسام جیسی ریاستوں نے تو آزادی کے باقاعدہ اعلانات کردیے ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے متصل بھارت کا بنگالی زبان بولنے والا علاقہ بھی آزادی کے نعروں سے گونجنے لگا ہے۔ شیخ حسینہ کی عدم موجودگی میں دہلی حکومت کے لیے برپا شورش پر آسانی سے قابوپانا ممکن نہیں رہا ۔معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سمیت اُن کی جماعت عوامی لیگ کے بارسوخ عہدیدار وں کی ایک لاکھ کے قریب تعدادبھارت میں مقیم ہے جس کی تصدیق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر برائے اطلاعات محفوظ عالم نے بھی کی ہے۔ بقول اُن کے شیخ حسینہ نے اپنے والد ین کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ملک میں جبری گمشدگیوں اور قتل وغارت کو بطورہتھیار استعمال کیا۔اِس بارے قائم تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میںمتعدد افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ بھارت کے یہ خیر خواہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بگاڑنے کی سازشوں میں بطورآلہ کار استعمال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذادانشمندی کا تقاضاہے کہ دونوں حکومتیںکوئی ایسامشترکہ بندوبست کریں جس سے دونوں ممالک میں بدگمانیاں پیداکرنے والے نہ صرف بے نقاب ہوں بلکہ بدگمانیوں کو ناسور بننے سے قبل ہی ختم کرناممکن ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔