وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش سے تعلقات پرنظر

اتوار 06 اپریل 2025 بنگلہ دیش سے تعلقات پرنظر

حمیداللہ بھٹی

ضروری ہے کہ چند ایک ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستان ایسی تجارتی منڈیاں تلاش کرے جو نزدیک ، نفع بخش اور ملکی مفاد سے ہم آہنگ ہو ں ۔دوردراز ممالک تک سامان پہنچانے میں مشکلات کے ساتھ لاگت بھی زیادہ آتی ہے۔ اب جبکہ پاکستانی اشیا پر محصولات میں امریکہ نے 29 فیصداضافہ کردیا ہے نیز یورپی یونین کی طرف سے حاصل ترجیحی سلوک پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ اِن حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ تجارت کے فروغ اورعلاقائی مفاد کے تحفظ کے لیے نئے افق تلاش کیے جائیں۔ تجارتی حوالے سے حکومتی ترجیحات سے واضح ہے کہ حاصل منڈیوں کے ساتھ اُس کی توجہ کا محورخاص طورپر ایشیائی ممالک ہیں۔ بنگلہ دیش سے قریبی شراکت داری پاکستان کے مفادمیںہے۔ باعثِ اطمنان امریہ ہے کہ بنگلہ دیش کی اہمیت کاحکومت کوادراک ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ سے روابط کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نظر آنے لگی ہے۔ دوطرفہ تعاون بڑھانے پر متفق دونوں ممالک کی حکومتیں مشترکہ مقاصدکے حصول کے لیے عملی طورپر کوشاں ہیں۔
رواں ماہ کے تیسرے ہفتے 22اپریل کونائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار تین روزہ دورے پر بنگلہ دیش جارہے ہیں جسے اِس بنا پر نہایت اہمیت کاحامل اور تاریخ ساز قرار دیا جاسکتاہے کہ اِس دوران نہ صرف عبوری چیف ایگزیکٹو ڈاکٹرمحمد یونس سے ملاقات ہوگی بلکہ ہم منصب توحیدحسین کے علاوہ بنگلہ دیشی کابینہ کے دیگر ارکان سے بھی باضابطہ ملاقاتیں اور مذاکرات طے ہیں ۔ملاقاتوں میں متعدد معاہدوں اور ایم اویوز پر دستخط متوقع ہیں ۔یہ اِس بناپر ایک تاریخی پیش رفت ہے کہ 2012کے بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورہ ہے جس سے دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں کُھلنے کا امکان ہے۔ حناربانی کھر پاکستان کی آخری وزیرِ خارجہ تھیں جو ڈی 8سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے بنگلہ دیش گئیں مگر 1971میں پاکستان سے الگ ہوکرعلیحدہ ملک بننے والے بنگلہ دیش سے تعلقات بہترنہ ہوسکے ۔دراصل تعلقات بہتر بنانے کی پاکستانی کاوشوں کی عوامی لیگ کی حکومت نے کبھی حوصلہ افزائی نہ کی اور ہمیشہ بھارت کو ترجیح دی حالانکہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیاں بُھلا کر ساتھ چلتے تو عوام کا بھلاہوتا۔ المختصر گزشتہ برس کے پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں آمرانہ مزاج کی حامل ایک سفاک اور متعصب شیخ حسینہ واجد کی معزولی سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے شروع ہوئے ۔اعلیٰ سطح رابطے بحال ہونے پر بنگلہ دیش نے پاکستانی برآمدات پر پابندیاں ختم کیں جس کا دونوں ممالک کی تجارت پر مثبت اثرہوا۔براہ راست پروازوں پر اتفاق کے ساتھ طویل عرصے بعد سمندری راستے سے براہ راست تجارت کا آغاز ہوا۔ رواں برس جنوری میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا جس سے دوطرفہ دفاعی تعاون کی راہیں ہموار ہوئیں جسے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ایک بڑی پیش رفت کہہ سکتے ہیں۔ اب اسحاق ڈارکا دورہ بڑھتے روابط میں مزید تیزی لا سکتاہے ۔
پاک بنگلہ دیش روابط کی خواہش یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے ۔دونوں ممالک کی حکومتیںقومی مفاد میں فیصلے کررہی ہیں دونوں متفق ہیں کہ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے عوامی روابط ناگزیر ہیں بنگلہ دیش کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے چاول ،چینی سمیت دیگر اجناس برآمدکی جا سکتی ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کے تجربات سے پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں فروغ پذیر تجارتی اور دفاعی تعاون کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارتی سازشوں کاامکان موجودہے کیونکہ بھارتی قیادت اور ماہرین کوخدشہ ہے کہ پاک بنگلہ دیش روابط سے اُس کی مشرقی ریاستیں عدمِ استحکام سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ ایسے خدشات کو پاکستان اور بنگلہ دیش سختی سے مسترد کرتے ہیں مگر شیخ حسینہ کی طرف سے بھارت کو مشرقی ریاستوں تک حاصل راہداری ختم ہوتی ہے تو اِس میں شائبہ نہیں کہ بھارتی قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ شیخ حسینہ بظاہر بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم تھیں لیکن اقتدار کے دوران بھارتی دفاع کی مضبوطی کے لیے گراں قدرخدمات سرانجام دیں مشرقی ریاستوں تک راہداری دینے کے ساتھ دریائوں کو بھارتی تصرف میں دینے جیسے بنگلہ دیشی مفاد سے متصادم فیصلے کیے اُن کے دورمیں بنگلہ دیش کی حیثیت محض بھارت کی طفیلی ریاست رہی۔ اب جبکہ بنگلہ دیش میں ایک ایسی قیادت کے پاس عنانِ اقتدار ہے جس کے پیشِ نظر اپنے ملک کا مفاد و سلامتی ہے سے توقع ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تلخیوں کی خلیج کا خاتمہ ہو گا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کوبخوبی معلوم ہے کہ بنگلہ دیشی کا تعلیمی نصاب غلط اور متعصب ہاتھوں نے بنایاجو تصویر کا ایک رُخ اُجاگر کرتا ہے اسی بناپر نصاب میں تبدیلی کے ساتھ جنگ 1971کی یادگار دیوار کو بھی گرادیا گیا ہے جس پر1950کا زبان کی تاریخ کا پس منظر، سات مارچ کی تقریر،جنگِ آزادی ،مجیب نگر حکومت کی تشکیل ،آزاد سرزمین پر سورج کا طلوع ہونااور سات عظیم ہیروز سمیت دیگر لمحات کو تاریخی کہہ کر نمایا ں کیا گیا تھا ۔اِس سے قبل شیخ مجیب الرحمٰن کے مجسمے گرانے اور گھر نذرِآتش کرنے کاکام ہو چکا۔ اِن واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل جھوٹ کو بے نقاب کرنے کا تہیہ کر چکی ہے ۔ڈھاکہ میںنہ صرف قائد ِ اعظم کا دن منایا جا نے لگا ہے بلکہ پاکستان سے محبت سے سرشار لوگ برسرِ عام شیخ مجیب کو ایک غدار اور اغیار کاایجنٹ قراردیتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے یہ لمحات بہت اہم اور نادر ہیں۔ تبدیل شدہ حالات میں ماضی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی من گھڑت کہانیوں کوغلط ثابت کرناآسان ہوگیا ہے بلکہ اسلام آباد، ڈھاکہ قریبی اتحادی بننے کی راہ ہموارہوئی ہے۔
شیخ حسینہ بھارتی مفاد پربنگلہ دیشی مفاد قربان کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں جس سے مشرقی ریاستوں کی شورش پر قابو پانے میں دہلی کوتو بڑی مدد ملی مگر بنگلہ دیش کوکوئی فائدہ نہ ہواوہ توانائی کے لیے بھارت کا محتاج بن کررہ گیا لیکن موجود ہ حکومت غیرجانبدار ہے اور اُس کی توجہ ملک کو معاشی و دفاعی حوالے سے مضبوط بنانے پر ہے جس کا اثر یہ ہوا ہے کہ بھارت کی مشرقی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ناگا لینڈ ،منی پوراور آسام جیسی ریاستوں نے تو آزادی کے باقاعدہ اعلانات کردیے ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے متصل بھارت کا بنگالی زبان بولنے والا علاقہ بھی آزادی کے نعروں سے گونجنے لگا ہے۔ شیخ حسینہ کی عدم موجودگی میں دہلی حکومت کے لیے برپا شورش پر آسانی سے قابوپانا ممکن نہیں رہا ۔معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سمیت اُن کی جماعت عوامی لیگ کے بارسوخ عہدیدار وں کی ایک لاکھ کے قریب تعدادبھارت میں مقیم ہے جس کی تصدیق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر برائے اطلاعات محفوظ عالم نے بھی کی ہے۔ بقول اُن کے شیخ حسینہ نے اپنے والد ین کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ملک میں جبری گمشدگیوں اور قتل وغارت کو بطورہتھیار استعمال کیا۔اِس بارے قائم تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میںمتعدد افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ بھارت کے یہ خیر خواہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بگاڑنے کی سازشوں میں بطورآلہ کار استعمال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذادانشمندی کا تقاضاہے کہ دونوں حکومتیںکوئی ایسامشترکہ بندوبست کریں جس سے دونوں ممالک میں بدگمانیاں پیداکرنے والے نہ صرف بے نقاب ہوں بلکہ بدگمانیوں کو ناسور بننے سے قبل ہی ختم کرناممکن ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیش سے تعلقات پرنظر وجود اتوار 06 اپریل 2025
بنگلہ دیش سے تعلقات پرنظر

ناٹک ؟ وجود اتوار 06 اپریل 2025
ناٹک ؟

''را'' پر امریکی پابندیاں وجود هفته 05 اپریل 2025
''را'' پر امریکی پابندیاں

آئیں مل کر اپنی آوازیں تلاش کرتے ہیں! وجود هفته 05 اپریل 2025
آئیں مل کر اپنی آوازیں تلاش کرتے ہیں!

چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر