... loading ...
جاوید محمود
اکتوبر 2019 میں وکی لیکس کی طرف سے شائع ہونے والی امریکی سفارتی کیبل کے مطابق پاکستان کی مرکزی جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ نے کہا کہ اس نے ہندوستان میں اسرائیلی اہداف پرممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی حکام سے رابطہ کیا۔ بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پاکستان کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے ہیں ایسا عقیدہ جو بہت سارے سازشی نظریات کو متاثر کرتا ہے پاکستانی میڈیا معمول کے مطابق یہودیوں اور اسرائیلی سازشوں کے خلاف ریلنگ کرتا ہے حکام سے رابطہ کیا ہے ۔1999 کی بغاوت کے ذریعے آقتدار میں آنے والے جنرل مشرف نے کہا کہ امریکہ میں اسرائیل کا اثر ورسوخ اور پاکستان کے اہم حریف بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کو بیرون ملک اثر ورسوخ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔اسرائیل اور پاکستان کے درمیان پہلی عوامی بات چیت 2005 میں ہوئی تھی ۔انہیں اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ شلوان سلوم نے ایک بڑی پیشرفت کے طور پر پیش کیا تھا لیکن اس نے پاکستان میں غصے کو جنم دیا جو کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس جنوبی ایشیائی ملک ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ خوفزدہ عسکریت پسند گروہ کا گھر ہے ۔مشرف نے کہا میں نے محسوس کیا کہ جب اسرائیل کی بات آئی ہے تو مجھے پاکستان میں پانی کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم فلسطین کی وجہ سے پاکستان میں اسرائیل مخالف رہے ہیں لیکن میں حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے میں یقین رکھتا ہوں۔ 2008کے عام انتخابات میں ان کے اتحادیوں کی شکست کے بعد مشرف نے عہدہ چھوڑ دیا اور پاکستان کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین کو معطل کرنے پرنئی مخلوط حکومت کی جانب سے مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان اسے تسلیم کر لے۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی ایک انجمن نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ پاکستان سے کھانے کی مصنوعات کی پہلی کھیپ اسرائیل میں اتاری گئی۔ امریکن جیوش کانگریس نے اپنے نیویارک ہیڈ کوارٹر سے ایک بیان میں کہا کہ اس لین دین میں تین پاکستانی یہودی تاجر فیشل بین کلڈ اور تین اسرائیلی کاروباری افراد شامل تھے۔ امریکن جیوش کانگریس نے نوٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے منعقد ہونے والی تجارتی نمائشوں نے پاکستانی اور اسرائیلی تاجروں کو ایک معاہدہ کرنے میں مدد فراہم کی جس نے پاکستانی کھیپ اسرائیل کو بھیجی۔ ہم اس چھوٹے قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کے اسرائیلی اور پاکستانی معیشتوں اور بڑے پیمانے پرخطے کے لیے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی میوہ جات کھجوریں اور مصالحے اسرائیل کی مارکیٹ میں یہ دعویٰ فیشل بین خلد نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ساتھ کیا تو بہت سے صارفین کے لیے کافی حیران کن تھا۔ واضح رہے کہ فشل بین خلد کے مطابق وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے یہودی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حامی ہیں تا ہم پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ عبارت درج ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے ۔اس کے باوجود فیشل ماضی میں اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور وہ ایسا کرنے والے واحد پاکستانی نہیں۔ 2022 میں پاکستانی صحافی احمد قریشی نے پاکستان نژاد امریکی شہریوں کے ایک وفد کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وفد نے اسرائیلی پارلیمنٹ ہاؤس سمیت اہم مقامات کے دورے کیے اور اسرائیلی صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں ۔اس وقت میں بھی فشل بین خلد شامل تھے۔ اس دورے پر پاکستان میں کافی تنقید ہوئی تھی تاہم احمد قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر عام شہری کی حیثیت سے اسرائیل گئے اور ان کے اس دورے سے حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ فیشل بین خلد کے اکاؤنٹ کے مطابق ان کا تعلق پاکستان کی کوشر فوڈ انڈسٹری سے ہے کوشر فوڈ یہودی مذہب کے عقائد کے مطابق تیار کردہ خوراک کو کہا جاتا ہے، جیسے مسلمان حلال کھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی ویڈیو کے ساتھ فیشل نے لکھا کہ مجھے بطور پاکستانی مبارک ہو کے میں نے پاکستان کی خوراک مصنوعات کی پہلی کھیپ اسرائیل کی منڈی میں برآمد کی ۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسٹال پر مختلف میوہ جات مصالے اور کھجوریں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جن پر عبرانی میں عبارت اور قیمتیں درج ہیں۔ ایک موقع پر فیشل نے کہا کہ یہ بہت مشکل کام تھا ان کے مطابق انہوں نے دبئی اور جرمنی میں تین اسرائیلی تاجروں سے متعدد ملاقاتیں کیں جس کے بعد یہ ممکن ہوا ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار اچھا تھا اور قیمت بھی مناسب تھی۔ تاہم یہ پہلی تجرباتی کھیپ تھی فیشل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے پاکستانی بینک کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اور عام خریداروں کو پاکستان سے لین دین میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ٹائمزاسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیشل کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ یہودی تھیں۔ تاہم اسی رپورٹ کے مطابق فیشل کے بھائی ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین مسلمان تھے۔ اس رپورٹ میں فیشل کا انٹرویو بھی کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر صرف نو سال تھی اور ان کے پاس اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں کہ وہ یہودی تھیں۔ تاہم ان کو یاد ہے کہ وہ یہودی عقائد پر یقین رکھتی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ایسی رپورٹ منظر عام پر آئی ہیں جس میں پاکستان اور اسرائیل کے اہم عہدے داروں نے خفیہ ملاقاتیں کیں۔پاکستان میں اسرائیل کے خلاف پائی جانے والی رائے کے ہوتے ہوئے ہر حکومت کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور اگر حکمران اس حوالے سے کوئی نرمی برتیں تو انہیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں اسرائیل سے متعلق تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی تجاویز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئیں تو عوام نے سابق صدر پر بھی اسرائیل سے دوستی کرنے جیسے الزامات عائد کیے ۔سابق سفیر آصف درانی نے 16مئی کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا براہ راست کوئی تنازع نہیں اور نہ اسرائیل کبھی پاکستان کے خلاف براہ راست بیانات دیتا ہے۔ ان کے مطابق اچھے تعلقات کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ آصف درانی کے مطابق انڈیا نے 1992 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مربوط بنایا اور اگر اس وقت پاکستان بھی تعلقات بہتر کر لیتا تو اس کا اچھا اثر پڑتا ۔سابق سفیر کے مطابق 57اسلامی ممالک میں سے 36کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں ۔اسرائیل کے سفارت کاروں سے امریکہ کے شہر نیویارک میں اپنی ایک ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے آصف درانی نے کہا کہ اسرائیلی سفارت کاروں کے مطابق اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے تو باقی بچ جانے والے اسلامی ممالک بھی انہیں تسلیم کر لیں گے۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ پاکستانی صحافیوں کے مبینہ دورہ اسرائیل پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں اور حکومت پاکستان صحافیوں کے اسرائیل جانے کی اطلاعات پر معلومات اکٹھا کر رہی ہے ۔حکومت پاکستان نے پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے دورے سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ۔لہٰذا موجودہ قوانین کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں جبکہ اسرائیلی اخبار ہیوم کی رپورٹ کے مطابق 10 پاکستانی صحافی اور محققین جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں ،اسرائیل پہنچے تھے۔ ان کے پاسپورٹ پر لکھا تھا اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں۔ ہیوم نے لکھا کہ اس کے باوجود انہوں نے اسرائیل اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم شراکا کا کی دعوت کو جرأت مندی سے قبول کیا ۔ہیوم کے مطابق وفد کے ارکان کی حفاظت کے لیے ان کے پاسپورٹ پر مہر نہیں لگائی گئی اور ان کے دورے کی خبر کی اشاعت میں اس وقت تک تاخیر کی گئی جب تک کہ وہ باحفاظت گھر واپس نہیں پہنچ جائیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان ان صحافیوں کے اسرائیل جانے کے بارے میں تحقیقات کس حد تک کرتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی حکومت پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور اس حوالے سے درجنوںرپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔