وجود

... loading ...

وجود

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

جمعه 04 اپریل 2025 پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

جاوید محمود

اکتوبر 2019 میں وکی لیکس کی طرف سے شائع ہونے والی امریکی سفارتی کیبل کے مطابق پاکستان کی مرکزی جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ نے کہا کہ اس نے ہندوستان میں اسرائیلی اہداف پرممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی حکام سے رابطہ کیا۔ بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پاکستان کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے ہیں ایسا عقیدہ جو بہت سارے سازشی نظریات کو متاثر کرتا ہے پاکستانی میڈیا معمول کے مطابق یہودیوں اور اسرائیلی سازشوں کے خلاف ریلنگ کرتا ہے حکام سے رابطہ کیا ہے ۔1999 کی بغاوت کے ذریعے آقتدار میں آنے والے جنرل مشرف نے کہا کہ امریکہ میں اسرائیل کا اثر ورسوخ اور پاکستان کے اہم حریف بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کو بیرون ملک اثر ورسوخ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔اسرائیل اور پاکستان کے درمیان پہلی عوامی بات چیت 2005 میں ہوئی تھی ۔انہیں اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ شلوان سلوم نے ایک بڑی پیشرفت کے طور پر پیش کیا تھا لیکن اس نے پاکستان میں غصے کو جنم دیا جو کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس جنوبی ایشیائی ملک ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ خوفزدہ عسکریت پسند گروہ کا گھر ہے ۔مشرف نے کہا میں نے محسوس کیا کہ جب اسرائیل کی بات آئی ہے تو مجھے پاکستان میں پانی کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم فلسطین کی وجہ سے پاکستان میں اسرائیل مخالف رہے ہیں لیکن میں حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے میں یقین رکھتا ہوں۔ 2008کے عام انتخابات میں ان کے اتحادیوں کی شکست کے بعد مشرف نے عہدہ چھوڑ دیا اور پاکستان کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین کو معطل کرنے پرنئی مخلوط حکومت کی جانب سے مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان اسے تسلیم کر لے۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی ایک انجمن نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ پاکستان سے کھانے کی مصنوعات کی پہلی کھیپ اسرائیل میں اتاری گئی۔ امریکن جیوش کانگریس نے اپنے نیویارک ہیڈ کوارٹر سے ایک بیان میں کہا کہ اس لین دین میں تین پاکستانی یہودی تاجر فیشل بین کلڈ اور تین اسرائیلی کاروباری افراد شامل تھے۔ امریکن جیوش کانگریس نے نوٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے منعقد ہونے والی تجارتی نمائشوں نے پاکستانی اور اسرائیلی تاجروں کو ایک معاہدہ کرنے میں مدد فراہم کی جس نے پاکستانی کھیپ اسرائیل کو بھیجی۔ ہم اس چھوٹے قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کے اسرائیلی اور پاکستانی معیشتوں اور بڑے پیمانے پرخطے کے لیے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی میوہ جات کھجوریں اور مصالحے اسرائیل کی مارکیٹ میں یہ دعویٰ فیشل بین خلد نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ساتھ کیا تو بہت سے صارفین کے لیے کافی حیران کن تھا۔ واضح رہے کہ فشل بین خلد کے مطابق وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے یہودی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حامی ہیں تا ہم پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ عبارت درج ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے ۔اس کے باوجود فیشل ماضی میں اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور وہ ایسا کرنے والے واحد پاکستانی نہیں۔ 2022 میں پاکستانی صحافی احمد قریشی نے پاکستان نژاد امریکی شہریوں کے ایک وفد کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وفد نے اسرائیلی پارلیمنٹ ہاؤس سمیت اہم مقامات کے دورے کیے اور اسرائیلی صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں ۔اس وقت میں بھی فشل بین خلد شامل تھے۔ اس دورے پر پاکستان میں کافی تنقید ہوئی تھی تاہم احمد قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر عام شہری کی حیثیت سے اسرائیل گئے اور ان کے اس دورے سے حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ فیشل بین خلد کے اکاؤنٹ کے مطابق ان کا تعلق پاکستان کی کوشر فوڈ انڈسٹری سے ہے کوشر فوڈ یہودی مذہب کے عقائد کے مطابق تیار کردہ خوراک کو کہا جاتا ہے، جیسے مسلمان حلال کھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی ویڈیو کے ساتھ فیشل نے لکھا کہ مجھے بطور پاکستانی مبارک ہو کے میں نے پاکستان کی خوراک مصنوعات کی پہلی کھیپ اسرائیل کی منڈی میں برآمد کی ۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسٹال پر مختلف میوہ جات مصالے اور کھجوریں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جن پر عبرانی میں عبارت اور قیمتیں درج ہیں۔ ایک موقع پر فیشل نے کہا کہ یہ بہت مشکل کام تھا ان کے مطابق انہوں نے دبئی اور جرمنی میں تین اسرائیلی تاجروں سے متعدد ملاقاتیں کیں جس کے بعد یہ ممکن ہوا ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار اچھا تھا اور قیمت بھی مناسب تھی۔ تاہم یہ پہلی تجرباتی کھیپ تھی فیشل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے پاکستانی بینک کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اور عام خریداروں کو پاکستان سے لین دین میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ٹائمزاسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیشل کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ یہودی تھیں۔ تاہم اسی رپورٹ کے مطابق فیشل کے بھائی ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین مسلمان تھے۔ اس رپورٹ میں فیشل کا انٹرویو بھی کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر صرف نو سال تھی اور ان کے پاس اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں کہ وہ یہودی تھیں۔ تاہم ان کو یاد ہے کہ وہ یہودی عقائد پر یقین رکھتی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ایسی رپورٹ منظر عام پر آئی ہیں جس میں پاکستان اور اسرائیل کے اہم عہدے داروں نے خفیہ ملاقاتیں کیں۔پاکستان میں اسرائیل کے خلاف پائی جانے والی رائے کے ہوتے ہوئے ہر حکومت کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور اگر حکمران اس حوالے سے کوئی نرمی برتیں تو انہیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں اسرائیل سے متعلق تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی تجاویز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئیں تو عوام نے سابق صدر پر بھی اسرائیل سے دوستی کرنے جیسے الزامات عائد کیے ۔سابق سفیر آصف درانی نے 16مئی کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا براہ راست کوئی تنازع نہیں اور نہ اسرائیل کبھی پاکستان کے خلاف براہ راست بیانات دیتا ہے۔ ان کے مطابق اچھے تعلقات کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ آصف درانی کے مطابق انڈیا نے 1992 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مربوط بنایا اور اگر اس وقت پاکستان بھی تعلقات بہتر کر لیتا تو اس کا اچھا اثر پڑتا ۔سابق سفیر کے مطابق 57اسلامی ممالک میں سے 36کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں ۔اسرائیل کے سفارت کاروں سے امریکہ کے شہر نیویارک میں اپنی ایک ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے آصف درانی نے کہا کہ اسرائیلی سفارت کاروں کے مطابق اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے تو باقی بچ جانے والے اسلامی ممالک بھی انہیں تسلیم کر لیں گے۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ پاکستانی صحافیوں کے مبینہ دورہ اسرائیل پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں اور حکومت پاکستان صحافیوں کے اسرائیل جانے کی اطلاعات پر معلومات اکٹھا کر رہی ہے ۔حکومت پاکستان نے پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے دورے سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ۔لہٰذا موجودہ قوانین کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں جبکہ اسرائیلی اخبار ہیوم کی رپورٹ کے مطابق 10 پاکستانی صحافی اور محققین جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں ،اسرائیل پہنچے تھے۔ ان کے پاسپورٹ پر لکھا تھا اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں۔ ہیوم نے لکھا کہ اس کے باوجود انہوں نے اسرائیل اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم شراکا کا کی دعوت کو جرأت مندی سے قبول کیا ۔ہیوم کے مطابق وفد کے ارکان کی حفاظت کے لیے ان کے پاسپورٹ پر مہر نہیں لگائی گئی اور ان کے دورے کی خبر کی اشاعت میں اس وقت تک تاخیر کی گئی جب تک کہ وہ باحفاظت گھر واپس نہیں پہنچ جائیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان ان صحافیوں کے اسرائیل جانے کے بارے میں تحقیقات کس حد تک کرتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی حکومت پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور اس حوالے سے درجنوںرپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر