... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت اندرونی سیاسی اختلافات کو حریت کے خلاف علیحدگی پسندی کی فتح کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس لیے بھارتی سیاسی سازشوں کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ بھارتی جمہوریت کے اصل چہرے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ امیت شاہ نے اسے بھارت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا اور دیگر گروپوں کو علیحدگی پسند خواہشات ترک کرنے کی ترغیب دی۔بھارتی حکومت کے ریاستی طور پر کیے گئے جبر کے باوجود، اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں کشمیری قیادت کی آزادی کے حق میں تبدیلی آئی ہے، تو پھر بھارت ابھی تک مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ریفرنڈم سے کیوں گریز کر رہا ہے؟بھارت مسلسل دباؤ دھونس اور جبر کے اقدامات کر رہا ہے۔ یعنی جائیدادوں کی ضبطی، کاروباروں یا نوکریوں کی بندش، بچوں کو دھمکیاں اور حریت رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں کے اہلخانہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا تاکہ انہیں حریت سے علیحدہ کیا جا سکے۔بھارت تمام حربوں کے باوجود جانتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی حریت پسند رہنماؤں اور کشمیری عوام کے ساتھ محبت اور یکجہتی بھارتی مظالم اور جبر کے باوجود 1947 سے آج تک ثابت قدم ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی’ را کے سابق چیف ‘ اے ایس دلت(امر جیت سنگھ دلت) نے بھارت اور پاکستان میں اپنے انکشافات سے خاصی ہلچل مچائے رکھی۔بھارت کی 25 سکیورٹی ایجنسیوں میں ”را” سب سے زیادہ اہم’ بڑی اور پْراسرار ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایئے کہ بھارتی پارلیمنٹ اور عدلیہ’ دونوں را کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتیں۔ را کے افسر اور ایجنٹ نہایت راز دارانہ طریقے سے کام کرتے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہونٹوں پر خاموشی کا قفل لگائے رکھتے ہیں۔ اسی لیے کبھی را کا کوئی افسر انٹرویو دے یا کتاب لکھے تو اسے بہت پذیرائی ملتی ہے۔اے ایس دلت کی کتاب سچ و جھوٹ کا ملغوبہ ہے۔اس کی مسلسل سعی رہی کہ حریت پسند کشمیری لیڈروں پہ تہمتیں لگائی جائیں۔جبکہ بھارتی حکومت اور اس کے کٹھ پتلی مقامی حکمران ستی ساوتری دکھائی دیتے ہیں۔اس کتاب سے بہرحال یہ سچائی واضح ہو گئی کہ مقبوضہ کشمیر اپنے قبضے میں رکھنے کی خاطر بھارتی حکمران بہت جتن کرتے ہیں۔حریف خریدنے کی خاطر بے دریغ پیسا لٹاتے ، مخالفین کا اتحاد توڑنے کے لیے سازشیں اور تحریک آزادی کشمیر دبانے کی بھرپور کوششیں کرتے ہیں۔
بھارت حریت پسند جماعتوں کو زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی سیاست سے دور کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے۔ اب تک 3 حریت تنظیموں نے آزادی کی سیاست سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں میں جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ(JKPM) ، جموں و کشمیر ڈیمو کریٹک پولیٹیکل موومنٹ(JKDPM) ، جموں سے تعلق رکھنے والی جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ شامل ہیں۔بھارت زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت سے آزاد سیاسی نظام کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے اس نے دوغلی حکمت عملی اپنائی ہے۔اول یہ کہ حریت پسند جماعتوں کو تحلیل کر دیا جائے اور دوسرے مرحلے میں ان کی جگہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی مسلم پارٹیوں کو یا پھر حریت کے اندر سے ایک نیا فارورڈ بلاک تشکیل دیا جائے۔رواں سال میں اب تک کئی ایسے شواہد موجود ہیں۔ 25 جنوری کو غاصب پولیس نے سید علی گیلانی کے گھر پر چھاپہ مارا اور ایک حصہ ضبط کر لیا۔ 25 فروری کو پولیس نے کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مارے اور انہیں حریت پسند تنظیموں کا لٹریچر رکھنے اور بیچنے سے منع کردیا۔
25 مارچ کو میر واعظ کی عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین (JKIM) پر علیحدگی پسند نظریات کی حمایت کے الزام میں 5 سال کے لیے پابندی عائد کی گئی اور حریت کے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کی نئی لہر شروع کی اور سیاسی تنظیموں کے سربراہان پر حریت سے علیحدگی کا بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔چند دنوں میں اب تک 36 گھروں کی تلاشی لی گئی جبکہ 6 حریت رہنماؤں نے حریت سے علیحدگی کا بیان جاری کیا۔ کئی مہینوں سے بھارتی وزارت داخلہ کی ایک ٹیم، جس کی قیادت انٹیلی جنس بیورو (IB) کر رہا ہے، حریت کے کیمپ کو کمزور اور تحلیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے حق میں جذبات کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارتی ٹیم نے جیل میں بند کئی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، ان میں شبیر شاہ، یٰسین ملک، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ اور مشتاق الاسلام شامل ہیں جو تہاڑ جیل اور کوٹ بھلوال جیل، جموں میں قید ہیں۔ ان قیدیوں سے آزادی کے مطالبے کو ترک کرنے اور پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے کی درخواست کی گئی، لیکن انہوں نے واضح طور پر انکار کردیا۔ٹیم نے قریباً تمام حریت پارٹیوں کے سربراہوں سے الگ الگ ملاقات کی جو قید میں نہیں تھے، اور انہیں مرکزی دھارے یعنی بھارتی حمایت کی سیاست میں شامل ہونے اور حریت سے علیحدگی کا عوامی طور پر اعلان کرنے کی درخواست کی بصورت دیگر گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں۔
بھارت اس دباؤ کو اس لیے ڈالنے میں کامیاب ہو رہا ہے کیونکہ حریت اور مسلح مزاحمت گروپوں کی موجودہ صورتحال پر خاموشی اور عوام سے دوری کے علاوہ، پاکستان کے موجودہ سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی چیلنجز کا فائدہ بھارت اپنے حق میں اٹھا رہا ہے۔تاہم کشمیری عوام کے جذبات اور ارداے مضبوط ہیں۔ بھارتی حکومت اور اس کے اداروں کی تمام کوششوں کے باوجود کشمیریوں کا عزم ناقابل شکست رہا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کی حکومت کی کشمیر سے متعلق پالیسیاں کشمیری پنڈتوں اور جموں کے ڈوگروں کے مشوروں سے ترتیب دی گئی ہیں، جو ان کے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے مسلم عوام کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہیں۔مارچ 2025 میں بھارتی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار دیا اور اسے ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا۔ اس اقدام سے ریاستوں کو UAPA کے دفعات 7 اور 8 کے تحت اختیار حاصل ہوا، جس سے وہ ممنوعہ تنظیموں سے جڑی جائیدادوں کو ضبط کرسکتی اور ان کی سرگرمیوں پر پابندیاں لگا سکتی ہے۔