وجود

... loading ...

وجود

پی ٹی آئی کوراضی کر لیں،حکومت نے بلاول بھٹو کی ثالثی کی پیشکش مان لی

بدھ 26 مارچ 2025 پی ٹی آئی کوراضی کر لیں،حکومت نے بلاول بھٹو کی ثالثی کی پیشکش مان لی

 

محمود خان اچکزئی، اخترمینگل ، ڈاکٹر مالک سب اہم لوگ ہیں، اگربلوچستان کی مقامی لیڈرشپ کو بھی شامل کرلیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتری آسکتی ہے ،قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے میں حرج نہیں

بلاول بھٹو خود حکومت ہیں، حکومت کوئی ان سے علیحدہ تو نہیں ہے ، اور اگر ان کا رابطہ پی ٹی آئی سے ہوجاتا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہم سمجھیں گے کہ یہ ہماری کامیابی ہے ،رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو پی ٹی آئی کو راضی کرلیں تو قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہم اسے اپنی کامیابی سمجھیں گے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کے حوالے سے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری پی ٹی آئی کی رضامندی حاصل کرلیں تو قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ ایک ایسا بنیادی اور انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے کہ اس کے اوپر جتنے بھی زیادہ سے زیادہ اجلاس ہوں اور جتنی بھی بات چیت ہو تو وہ سود مند ہی ہوگی۔واضح رہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردوں کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کے لیے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں بلایا گیا تھا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف بھی شریک تھے ۔ابتدائی طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو شرکت کرنے والے اپنے ارکان کی فہرست بھجوا دی تھی، تاہم بعد میں اجلاس سے قبل پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا تھا کہ ہم نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے ، ہم اس وقت کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، 77 سالوں سے ان حالات کا شکار ہیں اور ان حالات کے حق میں نہیں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو پے رول پر رہا کیا جائے ، ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اور فسطائیت کا خاتمہ کرنا ہے ۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اگر دوبارہ کوشش کریں اور پھر اجلاس میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جو پہلے شامل نہیں تھے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس میں پی ٹی آئی کے علاوہ محمود خان اچکزئی ہیں، اخترمینگل ہیں، ڈاکٹر مالک ہیں، یہ سب اہم لوگ ہیں، اور اگربلوچستان کی مقامی لیڈرشپ کو بھی شامل کرلیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتری آسکتی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو خود حکومت ہیں، حکومت کوئی ان سے علیحدہ تو نہیں ہے ، اور اگر ان کا رابطہ پی ٹی آئی سے ہوجاتا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہم سمجھیں گے کہ یہ ہماری کامیابی ہے ۔ اور بلاول بھٹو کی اس کوشش کو وزیراعظم بھی ویلکم کریں گے ۔انھوں نے کہا کہ ہم خود تو اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے ، ہم نے تو مذاکراتی کمیٹی بھی بنائی تھی جس کے ساتھ دو اجلاس کیے گئے مگر تیسری میٹنگ کے لیے انہوں ( پی ٹی آئی) نے کہا کہ ہم تیسری میٹنگ نہیں کریں گے ۔عمران خان کی سزا کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ میں نے جو بات کی تھی وہ اس پیرائے میں کی تھی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ اگر 9 مئی کے معاملات پر بات کرنی ہے تو پہلے صدق دل سے معذرت کریں، تو اس سے صورتحال بہتری کی طرف جا سکتی ہے اور جانی چاہیے ۔رانا ثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہمارے ساتھ جو مخالفت ہے اسے بھی انہوں نے سیاسی مخالفت سے دشمنی میں تبدیل کیا ہے ، یہ ان کا سارا کیا دھرا ہے ، انہوں نے سیاسی اختلاف رائے کو ہمیشہ دشمنی کے معنوں میں سمجھا ہے ، اس وقت پی ٹی آئی کا جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رویہ ہے اور جو ان کا سوشل میڈیا کررہا ہے ، یہ چیزیں ان رویوں میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں جن رویوں کا کسی کو گلہ ہوتا ہے ۔پیکا آرڈیننس پر نظرثانی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ قابل بحث معاملہ ہے اس پر بات چیت ہونی چاہیے ، جو صحافتی تنظیمیں اور ان کے لیڈران ہیں انہیں ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیے ، اس کی ضرورت تو ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے اوپر جو کچھ ہورہا ہے اسے ایسے ہی نہیں چھوڑا جاسکتا، تاہم یہ شکایت بھی جائز ہے کہ یہ قانون کسی حد تک مس یوز ہوگا، اس پر احتجاج تو ہورہا ہے لیکن اس پر گفتگو نہیں ہوسکی۔بلوچستان کے مسئلے کے حل کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں اور جو قتل و غارت گری اور دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے ، ان کے خلاف سخت سے سخت آپریشن ہونا چاہیے ۔ ان لوگوں کے ساتھ بات ہونی چاہیے جو پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  پروپیگنڈاکیا گیا کہ کینالز کے معاملے میں سندھ حکومت شامل ہے،صدر نے میٹنگ میں کسی کینال کی مظوری نہیں دی۔ صدر کی میٹنگ کو بہانا بناکر کینال کی منظوری دی گئی،اجلاس کے منٹس بھی غلط بنائے گئے کینال بنانے کے معاملے پرسندھ کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائیں گے ، سندھ کے مفاد کے ...

ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

بی این پی کے لانگ مارچ پر کریک ڈائون اورخودکش دھماکا،اختر مینگل و دیگر رہنمامحفوظ وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  لک پاس پر تعینات لیویز اہلکاروں نے مشکوک شخص کے بھاگنے کی کوشش پر تعاقب کیا، جس کے نتیجے میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسسٹنٹ کمشنر مستونگ حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے تاہم احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہے گا،ہمیں کسی گروپ سے ...

بی این پی کے لانگ مارچ پر کریک ڈائون اورخودکش دھماکا،اختر مینگل و دیگر رہنمامحفوظ

فضلے کی آلودگی سنگین بحران ،معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہے، وزیراعظم وجود - اتوار 30 مارچ 2025

پلاسٹک اور خطرناک فضلہ ہمارے دریاؤں، لینڈ فِلز اور ہوا کو بُری طرح متاثر کر رہے ہیں شہروں کی بڑھتی آبادی میں اور صنعتی ترقی کے ساتھ کچرے کے انتظام کیلئے پائیدار حل اپنانا ہوگا وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ فضلے کی آلودگی ایک سنگین بحران ہے جو ہمارے ماحول، صحت عامہ اور معی...

فضلے کی آلودگی سنگین بحران ،معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہے، وزیراعظم

ورلڈبینک سے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری وجود - اتوار 30 مارچ 2025

قرضہ فضائی آلودگی کے خاتمے میں پنجاب کلین ایئر پروگرام کے لیے فراہم کیا جائے گا لاہورکے ایک کروڑ 30 لاکھ شہریوں کو فضائی آلودگی سے جڑی بیماریوں میں کمی آئے گی عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری دے دی اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں ورلڈ بینک نے کہا کہ قرض...

ورلڈبینک سے پاکستان کیلئے 300 ملین ڈالر قرض کی منظوری

میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1644سے متجاوز وجود - اتوار 30 مارچ 2025

میانمار میں 7.7شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے دس ہزار تک ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر زلزلے کا مرکز دوسرے بڑے شہر منڈلے کے قریب تھا ،گہرائی زمین میں 10کلومیٹر تک تھی میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 644سے تجاوز کر گئی، جبکہ امدادی...

میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1644سے متجاوز

پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی قوم کے ساتھ مذاق ہے ، تاجروں کا ردعمل وجود - اتوار 30 مارچ 2025

  ایک ماہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم بہت زیادہ کمی کا اعلان کرنے والے ہیں پیٹرول کی قیمت میں 17روپے فی لیٹر کمی تجویز کی گئی تھی لیکن ایک روپے کمی کی گئی، ردِ عمل آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی نے پٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے کی کمی کو ...

پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کمی قوم کے ساتھ مذاق ہے ، تاجروں کا ردعمل

وفاقی، عسکری و صوبائی قیادت کی بڑی بیٹھک ، دہشت گردی اور ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ وجود - هفته 29 مارچ 2025

  نیشنل ایکشن پلان کے تحت قومی بیانیے کو مضبوط کرنے پر اتفاق، قومی بیانیہ کمیٹی کو دہشت گردوں اور شرپسندوں کے سدباب کے لیے مؤثر اور سرگرم بیانیہ بنانے کی ہدایات جاری جعفر ایکسپریس کے حملہ آوروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے جبکہ روایتی اور ڈیجی...

وفاقی، عسکری و صوبائی قیادت کی بڑی بیٹھک ، دہشت گردی اور ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ، قائم مقام چیف جسٹس اور ججز کے درمیان اختیارات کی لڑائی شدید ہو گئی وجود - هفته 29 مارچ 2025

  چیف جسٹس کے پاس یہ طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں کہ ایک عدالت کو لازمی کیس سننا ہے یا نہیں، رولز کے مطابق کیس بینچ کے سامنے مقرر ہونے پر کیس سننے سے معذرت کا اختیار متعلقہ جج کے پاس ہوتا ہے جسٹس بابر ستار نے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے جوڈیشل آرڈر ...

اسلام آباد ہائیکورٹ، قائم مقام چیف جسٹس اور ججز کے درمیان اختیارات کی لڑائی شدید ہو گئی

حکومت کابراہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا فیصلہ وجود - هفته 29 مارچ 2025

وزارتوں ، محکموں سے تین سال کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا ڈیٹا طلب سرمایہ کاری بورڈ نے تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں کو مراسلہ ارسال کر دیا وفاقی حکومت نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی وزارتوں اور محکموں سے آئندہ تین سال کے لیے براہ راست غ...

حکومت کابراہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا فیصلہ

شرح سود اور بجلی کے نرخوں میں کمی جلد متوقع وجود - هفته 29 مارچ 2025

  بجلی نرخوں میں کمی سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ اور برآمدات میں اضافہ ہوگا وزیر اعظم کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان متوقع ہے،وزیر خزانہ وزیر خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی قیادت میں بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کے اقدامات کیے جا رہے ...

شرح سود اور بجلی کے نرخوں میں کمی جلد متوقع

بجٹ میں ٹیکس محصولات کا ہدف 15ہزار 270ارب روپے مقرر وجود - هفته 29 مارچ 2025

  وزارت خزانہ نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں بڑے اضافے کا تخمینہ لگایا ہے بجٹ کی حتمی شکل کے لیے آئی ایم ایف کا وفد 4؍اپریل کو پاکستان کا دورہ کریگا،ذرائع نئے مالی سال2025-26کیلئے بجٹ سازی کا عمل حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا جس میں بجٹ اہداف کا تعین جاری ہے ۔ذرائع کے م...

بجٹ میں ٹیکس محصولات کا ہدف 15ہزار 270ارب روپے مقرر

پاکستان نے چین کا ایک ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کردیا وجود - هفته 29 مارچ 2025

  زرمبادلہ کے ذخائر 54کروڑڈالر سے کم ہوکر کم ترین سطح 10.6 ارب ڈالر پرآگئے اسٹاف لیول معاہدے کے باوجود مئی جون تک آئی ایم ایف کی قسط ملنے کی امید نہیں،ذرائع پاکستان نے چین کا ایک ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کردیا جس سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر عارضی طور پر54 کروڑڈالر ک...

پاکستان نے چین کا ایک ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کردیا

مضامین
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

ہزاروں کشمیری بچے اغوا وجود اتوار 30 مارچ 2025
ہزاروں کشمیری بچے اغوا

خواتین پر جنسی مظالم میں اضافی اور عدلیہ کا کردار؟ وجود اتوار 30 مارچ 2025
خواتین پر جنسی مظالم میں اضافی اور عدلیہ کا کردار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر