وجود

... loading ...

وجود

نوے فیصد بھارتی بنیادی ضروریات سے محروم

اتوار 02 مارچ 2025 نوے فیصد بھارتی بنیادی ضروریات سے محروم

ریاض احمدچودھری

بھارت میں 1ارب 40کروڑسے زائد لوگ رہتے ہیں، لیکن ایک نئی رپورٹ کے اندازے کے مطابق تقریباً ایک ارب افراد کے پاس غیر ضروری اشیا یا خدمات پر خرچ کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ ہندوستان کی نوے فیصد آبادی یعنی سو کروڑ لوگوں کے پاس بنیادی ضروریات زندگی کے علاوہ غیر ضروری اشیا پر خرچ کرنے کی مالی صلاحیت نہیں، جبکہ صرف 13ـ14 کروڑ صارف طبقہ ہیں۔جو اسٹارٹ اپس اور صارف پر مبنی کاروباروں کے لیے بنیادی بازار ہیں۔
30کروڑ خواہشمند صارفین ڈیجیٹل ادائیگیوں سے خرچ کرتے ہیں لیکن محتاط ہیں۔ دولت کا ارتکاز بڑھ رہا ہے، سرفہرست 10 فیصد کے پاس 57.7فیصد آمدنی ہے، جو 1990کے مقابلے میں 34فیصد سے بڑھ گیا ہے۔ دوسری طرف، نچلے 50 فیصد کا حصہ 22.2 فیصد سے گھٹ کر 15فیصد رہ گیا ہے۔ مارکیٹ وسیع ہونے کے بجائے زیادہ امیر طبقے پر مرتکز ہو رہی ہے۔ مہنگی مصنوعات، لگژری گھروں اور اسمارٹ فونز کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سستی مصنوعات کی مانگ کمزور ہو رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں معاشی ترقی غیر مساویانہ اور غیرمتوازن رہی ہے۔ بھارت کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب ہونے کے باوجود اس کی مارکیٹ تقریباً میکسیکو کے برابر ہے۔ بھارت میں امیر اور معاشی طور پر خوش حال لوگوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلے سے موجود امیر لوگوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس غیر متوازن ترقی کی وجہ سے متوسط اور نچلے طبقے کو مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والی کاروباری کمپنیوں کو بھی مندی کا سامنا رہا ہے۔بھارت میں 12 سال سے برسر اقتدار مودی سرکاری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور دنیا بھر میں اپنی تیز رفتار ترقی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے شائننگ بھارت کا نعرہ لگاتی ہے، لیکن اس نعرے کی حقیقت ایک بھارتی کمپنی نے کھول دی ہے۔
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کی مثل تو آپ نے سنی ہوگی اور اس مثل پر ایک بھارتی سرمایہ کار کمپنی بلوم وینچرز پوری اتری ہے جس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت میں بڑے پیمانے پر غربت کا انکشاف کرتے ہوئے ایسے حیران کن اعداد وشمار پیش کیے ہیں جس نے مودی سرکار کے شائننگ بھارت کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔صرف کاغذات پر یا ویب دنیا میں تیزی سے معاشی ترقی کرتے ملک بھارت کی اصلیت ظاہر کرتے ہوئے بلوم وینچرز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے لگ بھگ ایک ارب 40 کروڑ آبادی والے ملک بھارت کی ایک ارب سے زائد آبادی انتہائی غریب ہے۔
بھارت میں صرف 13 یا 14 کروڑ بھارتی امیر ہیں۔ 26 سے 27 کروڑ بھارتیوں نے کبھی کوئی قیمتی شے خریدی اور نہ ہی پرتعیش سروسز حاصل کی ہیں۔پڑوسی ملک کی ایک ارب سے زائد افراد بمشکل اپنی ضروریات زندگی پوری کر رہے ہیں اور ان کے پاس روزہ مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیا خریدنے کے علاوہ کچھ بھی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔رپورٹ میں مودی سرکار کی پالیسیوں سے غریب خوشحال ہونے کے بجائے غریب تر جب کہ امیر مزید امیر ہو رہے ہیں۔ بھارتی کمپنیوں کی پیداوار و مصنوعات انہی چند کروڑ دولت مندوں کے گرد گھومتی ہیں۔متوسط طبقے کی بچت گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ لوگوں کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔
بھارت دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ وہ آئندہ چند برس میں پانچ ٹریلن ڈالر کی معیشت بننے جا رہا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں بھارت کی معیشت سب سے تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔اس کا آئندہ ہدف دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننا ہے۔ گذشتہ جولائی میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے 2006 سے 2021 تک 15 برس کی مدت میں 41 کروڑ افراد کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن ان اعداد و شمار کے درمیان تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ امیری اور غریبی کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے اور دولت کی تقسیم ایک مراعات یافتہ طبقے تک محدود ہو رہی ہے۔گزشتہ سال اپریل میں بین الاقوامی ادارے آکسفیم نے بھارت میں نابراری پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کے پانچ فیصد لوگوں کا پورے ملک کی 60 فیصد دولت پر قبضہ ہے۔ 2012 سے 2021 تک دس برس کی مدت میں جو دولت بنائی گئی اس کا 40 فیصد حصہ آبادی کے صرف ایک فیصد افراد کے حصے میں گیا۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2020 میں 102 ارب پتی تھے۔ یہ تعداد 2022 میں بڑھ کر 166 ہو گئی تھی۔ آکسفیم کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ غریب بھارت میں بستے ہیں جن کی تعداد تقریباً 23 کروڑ بتائی گئی تھی۔ سب سے زیادہ غربت دلت اورپسماندہ ذاتوں میں ہے۔
ملک کی اقتصادی ترقی اور مستقبل کے سنہری امکانات کے دعوؤں کے درمیان گذشتہ مہینے ملک کی شمالی ریاست بہار میں تمام مخالفتوں کے باوجود ذات پات کی بنیاد پر ایک ریاست گیر سروے منعقد کیا گیا۔ 1931 کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا سروے تھا۔اس میں ان پہلوؤں کے قطعی اعداد و شمار حاصل کیے گئے کہ آبادی میں کسی ذات کے لوگوں کی کتنی آبادی ہے۔ ان کی تعلیمی حیثیت کیا ہے، سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں ان کی ملازمت کا تناسب کیا ہے۔ لوگوں کی آمدن کتنی ہے اور غربت کی لکیر کیا ہے اور سب سے زیادہ غریب کون لوگ ہیں۔ریاستی اسمبلی میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ بہت چونکا دینے والے ہیں۔ اس میں پایا گیا کہ بہار کی 13 کروڑ کی ایک تہائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔غربت کی سطح کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لو گ چھ ہزار روپے ماہانہ سے کم میں زندگی گزار رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر