وجود

... loading ...

وجود

اِس بار مگر ایسا نہیں ہوا!

هفته 01 مارچ 2025 اِس بار مگر ایسا نہیں ہوا!

ب نقاب /ایم آر ملک

کیا صحافت یہی ہے کہ سچ کی آنکھیں دولت کی چمک پر چندھیا جائیں ؟کیا ایسا نہیں کہ اب نابینے کے ہاتھ میں لالٹین ہے ؟
اِ س بار دھاندلی کے حکمت سازوں نے منشا ء کے مطابق نتائج حاصل کرنا بھی چاہے تو نہ کر پائے ،عمران کے ساتھ عوام ہی نہیں عوامی رد عمل بھی کھڑا تھااور یہ ردِ عمل بدستور عمران کے دفاع میں موجود ہے۔
یہ 1977نہیں کہ اخبارات کے ذریعے رائے عامہ ہموار کی جائے، اختیارات کا زعم اب آخری سانسیں لے رہا ہے ،شہرِ اقتدار میں اپوزیشن کے الائنس پر دھاوا شاید زوال کی سیڑھی پر پہلا قدم ہے ،یہ پھسلا تو کچھ باقی نہیں رہے گا ،لوگ لیڈر شپ کے انتظار میں ہیں۔ شاہراہیں سراپا احتجاج ہو ںگی، انتخابات میں دھاندلی پرشفافیت کا پوچا مارنے والوں کے چہرے سے نقاب سرک چکا ،17سیٹوں پر اقتدار انجوائے کرنے والے قوم کو بتائیں کہ” رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم ”کس نے متعارف کرایا خصوصی سافٹ ویئر بنانے میں کس کس کا دماغ کار فرما تھا ؟
رائے ونڈ کے حکمرانوں کے پنجاب اور وفاق میں اقتدار نے سیاسی زندگی اور ریاست کو مہلک نقاہت سے دوچار کیا ،صنعت کار حکمرانوں نے زرعی شعبے کی کمر توڑ کے رکھ دی اپنے دور ِاقتدار میں زرعی پیکیج کے نام پر کسان کارڈ کا لولی پاپ دیکر کسانوں کو لائنوں میں لگا کر بھکاری بنا یاگیا اور پھر اس خیراتی رقم کی میڈیا پر بڑے بڑے اشتہارات چلا کر تشہیر کی گئی۔
ہم جب روس کے انقلاب کے ورق اُلٹتے ہیں تو زار روس کی بادشاہت کا بانجھ پن سامنے آتا ہے جو اپنے ملک کے لاکھوں انسانوں کو بھوک اور قحط کی شکل میں نگل رہا تھا، زار شاہی ہماری بر سر اقتدار اشرافیہ کی طرح اُن کی مدد اور بحالی کا کوئی مداوا نہیں کر رہی تھی، ایک وقت آیا کہ بحران نے سبھی طبقات کو اپنی گرفت میں لے لیا، دولت کی اسی غیر مساویانہ تقسیم نے انقلابی نوجوانوں کی ایک نسل پیدا کی جو مکمل طور پر ریڈیکلائز تھی، اسی نسل کے جارحانہ کردار نے روس کے پہلے 1905-6کے انقلاب کی بنیادیں استوار کیں ۔
آج اقبال کا پاکستان اُنہی حالات کی عکاسی کر رہا ہے میں عمران خان کے ساتھ اُس نسل کو دیکھ رہا ہوں جو متحرک اور تبدیلی کی جانب گامزن ہوئی !
غم و غصے ،کراہت و حقارت کا ایک ایسا احساس ان نوجوانوں میں دکھائی دیا جس کے اظہار کے اثرات گلیوں ،محلوں ،اور گھروں میں دکھائی دے رہے ہیں۔
عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھاری رقوم کے بل بوتے پر پلڈاٹ جیسی جعلی تنظیموں کے جعلی سروے ،تجزیئے ،اعداد و شمار منشاء کے مطابق مرتب کرائے جاتے رہے ۔
میڈیا پر کرپشن کے ا سکینڈلز نے یار لوگوں کی جیسے روحیں قبض کر لیں ،کرپشن اور کمیشن کے بڑے بڑے کھاتے کھلے ،بدعنوانی کی داستانوں نے وطن عزیز کی اقدار پر سوالیہ نشان لگا دیا اور گڈ گورننس پر اُٹھنے والے سوالوں سے جاتی امرا کے شہنشاہوں کی طمانیت دائو پرلگ گئی ۔
چند بکائو صحافی زر کی حکومتی منڈی میں سب سے بہتر قیمت کے حصول کیلئے صحافت کے پیشے کو بیچنے کیلئے تیار و بے تاب دکھائی دیئے، ضمیر کے سودے میں یہ گھٹیا صحافی اپنی تجوریا ں بھرنے اور مراعات میں اضافے کی خاطر اک عرصہ سے سچائی کو بیچتے آرہے ہیں ۔ایسی صحافت پر یہ سوال اب شدت سے عوامی حلقوں میں سر اُٹھا رہا ہے کہ کیا سچ کو جھوٹ کے لباس میں چھپا کر اس بے ہودہ کرپشن کا کوئی انت بھی ہوگا ۔
ہمیں ایک ایسے نظام کی خواہش کے ساتھ قدم بڑھانا ہیں جو جھلستے اور جھلساتے مسائل سے نمٹ سکے، موروثی اقتدار کا گھنائونا کھیل کھیلنے والوں پر کراس کا نشان لگا سکے ،جس میں عوام کو جمہوریت کے چہرے پر بدترین سول آمریت کا نقاب چڑھا کر لوٹا جارہاہے، اس جمہوریت میں عوام کی ذلتوں ،محرومیوں کا قد اونچا ہوتا چلا گیا ۔
مفاہمت کے نام پرقوم نے ایک ناہلی دیکھی ،بانجھ پن دیکھا جوصرف اور صرف تابع وفرماں برداری کو برقرار رکھنے کا میثاق تھا۔ ماضی میں تابع و فرمان برداری کا یہ جوش پاک فوج جیسے محب وطن ادارہ پر اپنی ناپاک خواہشات کے تیر برساتا رہا جس کا تسلسل در پردہ آج بھی جاری ہے، حادثاتی سیاست دانوں نے وفادار بن کر نظریاتی سرحدوں کے محافظ ادارے کو ہدف بنایا اور ننگ وطن افراد پاک فوج کے خلاف ایک بیانیہ لیکر آج بھی رواں دواں ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز ایک اثر انگیز استحکام کی طرف بڑھ رہا تھاجو لوٹ مار کی تاریخ رقم کرنے والوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا رہا ۔
احتساب کا خوف اب یقینالوٹ مار کی تاریخ رقم کرنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے۔
شہر اقتدار میں تحفظ آئین کانفرنس کے شرکا کو پریس کانفرنس تک نہ کرنے دی گئی ،فسطائیت کرنے والے جان لیں کہ فروری 2024 میں ہونے والے یہ الیکشن تاریخ کے بد ترین الیکشن تھے، ایک ایسا صوبہ جہاں لے پالک انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے الیکشن چرائے جاتے رہے ،منظم طریقے سے دھاندلی کی گئی ،عوام کا حق ِ خود ارادیت ،ووٹ کا تقدس 1985ء سے انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے خریدا اور بیچا جاتا رہااس کے خلاف ساری زبانیں گنگ ہو گئیں ۔اب عوام کے بر انگیختہ جذبات کو روکنا ممکن نہیں ،اُن کے جذبات کے آگے بند باندھنا ایک خواب ہوگا !
جس طرح عوامی مینڈیٹ چرایا گیا عوام اسے نہیں بھولے ،حالیہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی نے شریفوں کے مورال کو جو پہلے ہی خستہ تھا مزید خستہ کر دیا، ن لیگی امیدواران ایک ایک دروازے پر ووٹوں کی بھیک مانگ کر اُلٹے قدموں جیت کی ناکام خواہشیں لیکر لوٹتے رہے ،بجلی کے 300یونٹس تک معافی کے جھوٹے وعدے ،پولیس سسٹم کی بہتری کے وعدے ،ترقیاتی کاموں کا جھانسہ دیکر ایک بار پھر دھوکے سے عوام کی رائے کو یر غمال بنانے کی بھر پور ریہرسل کی گئی مگر 8فروری کو سرمائے کا شیر بھیگی بلی بن گیا۔ عوام جانتے ہیں کہ اُن کا حق خود ارادیت کس خفیہ ہاتھ نے چرایا اور ضلعی سطح پر کرپٹ بیورو کریسی پریذائیڈنگ اور ریٹرننگ آفیسرز کی شکل میں موجود رہی جو انتخابی نتائج کو پنجاب میں شریفوں کی منشا کے مطابق بدلتی رہی جو لندن پلان کا حصہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر