وجود

... loading ...

وجود

بھارتی حکومت کا کا لا قانون افسپا منسوخ کیا جائے!

منگل 25 فروری 2025 بھارتی حکومت کا کا لا قانون افسپا منسوخ کیا جائے!

ریاض احمدچودھری

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی کرنے اور منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی جاری سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی فوج نے پڈگام میں بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک راہگیر کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی افسر کو شاباش دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی اور وادی میں اس کے نفاذ کو منسوخ کرنے میں بھی ناکام رہی جبکہ یہ قانون بھارتی فوجیوں کو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا اس قانون کے تحت گزشتہ طویل عرصے سے بھارتی فوج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال وادی میں حکام نے 27 بار انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر کے لوگوں کو آزادی اظہار رائے سے محروم کیا جبکہ بڑے پیمانے پر پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔
بھارتی فوج غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنی جارحانہ عسکری پالیسی جاری رکھتے ہوئے ضلع جموں میں ویلج ڈیفنس گارڈز کو بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں کو روکنے کے نا م پر عسکری تربیت دے رہی ہے۔ بھارتی قابض حکام کی طرف سے جموں کے دور دراز علاقوں میں بھرتی کئے گئے ہندو جنونیوں پر مشتمل ولیج ڈیفنس گارڈ کو بھارتی فوج کی چناب بریگیڈ سات روزہ کی تربیت دے رہی ہے۔ متعدد سرحدی دیہات میں منعقد کیے جانے والے ان کورسوں میں فوجی حکمت عملی، چھاپوں، حملوں اور فائرنگ کی تربیت دی جارہی ہے۔عام شہریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوج کے حمایت یافتہ ولیج ڈیفنس گارڈ کی فوجی تربیت کے پیش نظر انسانی حقوق کے گروپوں اور مقامی لوگوں میں عام کشمیریوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کے نا م سے پہلے کام کرنے والا یہ مسلح گروپ مسلمان شہریوں کے خلاف تشدداوران کے قتل عام کے لیے بدنام تھا۔
آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان نے کہا ہے کہ آج ہر غیرت مند کشمیری ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔ نریندری مودی مقبوضہ کشمیر کا نام تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ تاثر دینا چاہتا ہے مقبوضہ کشمیر ہندوستان کیساتھ ہے۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر سے الیکشن کی سیاہی مٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ کشمیری آزادی سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔ رتی ہندو بندیا کی غنڈہ گردی کی ایک لمبی داستان ہے جو کشمیریوں کے خون سے رنگین ہے مگر کشمیری کسی صورت بھی آزادی کے بغیر کوئی آپشن قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کشمیری اپنی آزادی کی تحریک کیلئے اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔ کشمیر سارے کا سارا کشمیریوں کا ہے جس پر بھارت کا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ مودی کے دورے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ نہیں بنا سکتے۔
اقوام متحدہ اپنی قرارداوں کے مطابق کشمیر یوں کوحق خودارادیت دلائے۔ ہرغیرت مند کشمیری ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔ نریندرا مودی مقبوضہ جموں کشمیر کو فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کررہا ہے کشمیری عوام دورہ مسترد کرتے ہیں۔ آزادی، حقوق اور انصاف مانگنے والے کشمیری شہریوں کو کشمیریوں کو مودی حکومت جیلوں میں قید کر رہی ہے۔ مودی حکومت کشمیر میں اسلامی شناخت پر حملہ آور ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں کی تحریک آزادی میں برابر کے شریک ہیں مودی سرکار درندہ صفت بھارتی افواج کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کو دبانے کی کوشش ناکام کر رہا ہے مودی کا مقبوضہ کشمیر جانا کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارے کے مترادف ہے۔ آزادی کی منزل حاصل کرنے کیلئے کشمیری قوم نے خون کی قربانی دی ہے اور اپنی نسلیں قربان کی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم ایسے دوروں سے عالمی برادری کو علاقے کی صورت حال کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ عالمی برادری امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مسلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے۔
یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت بھارت سے آزادی چاہتی ہے موجودہ تحریک کو کم و بیش تمام کشمیری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارتی حکمرانوں کے ہاتھ سے نکلتے چلے جا رہے ہیں۔ فوجی طاقت کے ذریعے غلام بنائے رکھنے کی حکمت عملی کا الٹا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔ کشمیری مسلمانوں نے بھارتی تسلط سے نجات حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے۔کشمیری نوجوان کھل کر پہلی دفعہ بھارتی فوج اور پولیس کے سامنے آگئے ہیں جس سے بھارتی حکومت بوکھلا گئی ہے۔ جب تک کشمیر کی سر زمین پر بھارت کا ایک سپاہی بھی موجود ہے، کشمیری آزاد نہیں ہو سکتے۔ اس لیے بھارتی فوج کو ہیچ ثابت کرنا صرف ایک محاذ پر کامیابی ہے اور اس مقام پر کھڑے ہو کر ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ بھارت نے کشمیر میں بڑے مضبوط پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ ایک طاقتور ملک ہے اس کے پنجے اکھاڑنے، اس کی طاقت کا گھمنڈ توڑنے کیلئے کشمیریوں کو ابھی کئی صحراؤں سے گزرنا ہے۔
پاکستان اور شہیدوں کے وارث یعنی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اب ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے فعال سیاسی قوتوں کو اپنی صفوں میںاتفاق واتحاد پروان چڑھانا ہوگا۔ بہت بہتر ہوگا اگر فاروق عبداللہ کے بیان کو بھارت کو آئینہ دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر