وجود

... loading ...

وجود

زیادہ عرصے حکومت نہیں کی جا سکتی!

منگل 25 فروری 2025 زیادہ عرصے حکومت نہیں کی جا سکتی!

جاوید محمود

حکومت پاکستان مکڑی کے طرح اپنے گرد جال بن رہی ہے ،بالکل اسی طرح جس طرح مکڑی اپنے گرد جال بنتی ہے اور ایک دن اسی میں پھنس کراپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ۔کاش حکومت پاکستان نے اپنے پڑوسی ممالک میں برپا ہونے والے انقلابات سے کچھ سبق سیکھا ہوتا تو آج پاکستان بحرانوں میں نہ گھرا ہوتا ۔دنیا نے دیکھا کہ شہنشاہ ایران نے اپنی شہنشاہیت بچانے کے لیے اپوزیشن کے سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا اور بالاخر ایک شخصیت آیت اللہ خمینی کی شکل میں شہنشاہ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی ہو گئی۔ آیت اللہ خمینی نے عوام کی حمایت سے شہنشاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے ۔
اسی طرح بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ نے اقتدار پر مسلط رہنے کے لیے ہر قسم کی طاقت کا استعمال کیابالاخر عوام ان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ شیخ حسینہ کے خلاف چلنے والی تحریک کے نتیجے میں بآلاخر شیخ حسینہ کو ہنگامی بنیادوں پر ملک چھوڑنا پڑا ۔گوگل پر بنگابند ہو میموریل میوزیم کی ویب سائٹ تلاش کی جائے تو سرخ پٹی پر انگریزی زبان میں ابھرے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ عارضی بند ہے لیکن گزشتہ ماہ میں ڈھاکہ سے آنے والی خبروں اور تصویروں پر جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش کے بابائے قوم کہلانے والے مجیب الرحمان کی یاد میں بنے اس میوزیم کی صرف ویب سائٹ ہی بند نہیں بلکہ خود اسے بھی فاشزم کی زیارت گاہ قرار دے کر مظاہرین آدھا گرا چکے ہیں۔ انڈیا میں پناہ گزین سابق وزیراعظم اورمجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ کی تقریر کا اعلان ہوا اس دن کے آغاز پر اس پرتنبیہ جاری کرتے ہوئے حسنات عبداللہ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ آج رات بنگلہ دیش کی سرزمین فاشزم کی زیارت گاہ سے آزاد ہو جائے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے خلاف مزاحمت پراُ بھارنے کے لیے تقریر کر رہی تھیں جب ایک بلڈوزر اور کرین سے لیس ہزاروں مظاہرین نے یہاں توڑ پھوڑ کی تصویروں کو تباہ کیا اور عوامی لیگ پر پابندی کے نعرے لگائے۔ ڈھان منڈی 32 کہلائی اس عمارت کو پچھلے سال پانچ اگست کو بھی آگ لگا دی گئی تھی جب کئی ہفتوں تک چلنے والے احتجاج کے بعد جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے شیخ حسینہ کی تقریبا 16 سالہ عوامی لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور وہ اپنی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ کے ساتھ خفیہ طور پر بنگلہ دیش ایئر فورس کی پرواز کے ذریعے انڈیا روانہ ہو گئیں۔ شیخ حسینہ نے عوامی لیگ کے فیس بک پیج پر براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عمارت کو گرا سکتے ہیں لیکن تاریخ کو نہیں۔ آئیے اس مقام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں ڈاکٹر ابولحسنات ملٹن شیخ حسینہ پر لکھی اپنی کتاب میں بتاتے ہیں کہ 1956 میں شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان کے وزیر صنعت تھے ۔بیگم مجیب کی تجویز پر مجیب کے پرائیویٹ سیکریٹری نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کودھان منڈی میں اس کے لیے زمین کی درخواست دی، اگلے سال مجیب کو چھ ہزار پاکستانی روپے کے عوض یہاں ایک ایکڑ زمین مل گئی ۔1958 میں مارشل لگا تو شیخ مجیب کو تو حراست میں لے لیا گیا اور ان کے خاندان کو سرکاری گھر سے نکلنے کے بعد ایک کے بعد دوسرا کرائے کا گھر لینا پڑا ۔ڈاکٹر ابولحسنات لکھتے ہیں کہ کرائے کے گھروں میں رہنے کی تکلیف سے جان چھڑانے کے لیے بیگم مجیب نے یہاں گھر بنانے کا سوچا ۔مجیب قید سے لوٹے تو یہاں دو کمروں کا ایک منزلہ گھر بنایا اور یکم اکتوبر 1961سے سب یہاں رہنے لگے ۔رفعت تبسم نے وٹنس ٹو ہسٹری میں لکھا کہ شیخ مجیب کے سب سے چھوٹے بیٹے شیخ رسل کی پیدائش 1964میں اسی گھر میں ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالحسنات کے مطابق 1966 میں دوسری منزل بنی شیخ مجیب اور عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں اور خود مختاری کے مطالبات لیے چھ نکات ہوں انتخابات ہوں یا علیحدگی بعد میں چلی تمام تحریکوں کا مرکز یہی گھر تھا ۔پچھلے سال میوزیم کو آگ لگائے جانے کے بعد سید بدر الحسن نے ڈھاکہ ٹریبیون میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ یہی وہ جگہ تھی جہاں گراؤنڈ فلور کے ڈرائنگ روم میں وہ مہمانوں سے ملتے تھے جن میں مغربی پاکستان سے خان عبدالولی خان ایئر مارشل اصغرخان غوث بخش بزنجو اور کئی دیگر شخصیات شامل تھیں۔ ڈیوڈ لرن اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ 1971میں 25اور 26مارچ کی رات شیخ مجیب نے یہیں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا اس سے تھوڑی دیر بعد پاکستانی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا بدر الحسن لکھتے ہیں کہ زندگی جو 32 دھان منڈی کی پہچان تھی اس وقت لوٹی جب شیخ مجیب پاکستان سے رہائی پا کر 10 جنوری 1972 کو بنگلہ دیش واپس آئے۔ یہیں پر 15اگست 1975کو ناراض فوجی افسران نے شیخ مجیب ان کی اہلیہ شیخ فضیلت النسا مجیب اور ان کے بیٹوں شیخ کمال شیخ جمال اور شیخ رسل کو قتل کر دیا ۔شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ جرمنی میں تھیں تو وہ بچ گئیں۔ صحافی لیوز ایم سائڈ نے اپنی کتاب ٹوٹل دا ٹرتھ مائی لائف ایر فارن کا پرنٹڈ میں لکھا ہے کہ مجیب اپنے سے پہلے بہت سے لوگوں کی طرح اپنی پہلے سے وسیع طاقت کومطلق العنان بنانے کے فریب میں مبتلا ہو گئے تھے۔ وطن واپسی کے صرف تین سال کے اندر انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کو ترک کر دیا اور ایک نوزائیدہ اور لڑکھڑاتے ہوئے ملک کے وزیراعظم سے صدر بن گئے اور بے مثال اختیارات حاصل کر لیے۔ عوام اور فوج پہلے مایوس اور پھر شدید ناراض ہو کر ان کے خلاف مہلک انداز میں پلٹ آئے ۔مجیب کا گھر حقیقت میں خون میں ڈوبا ہوا تھا۔ داخلہ رہائشی کمرہ دوسری منزل کا ایک کمرہ اور کئی غسل خانے خون میں لت پت تھے ۔محبوب حسن بنگلہ ٹریبونل میں چھپے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ فوجی حکومت نے 15 اگست 1975 کو اقتدار میں آنے کے بعد اس گھر کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔شیخ واجد خاندان کو اس گھر میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا۔ چنانچہ 1981 کو جب شیخ حسینہ بنگلہ دیش واپس آئیں تو انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 10جون 1981کو شیخ حسینہ نے قرض کی ایک قسط ادا کر کے اس گھر کی ملکیت حاصل کر لی ۔یہ گھر نیلامی کے لیے رکھا گیا تھا کیونکہ اس کی تعمیر کے لیے ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن سے لیے گئے قرض کی قسطیں ادا نہیں کی گئی تھیں ۔12 جون 1981 کو یہ گھر باضابطہ طور پر شیخ مجیب کے زندہ بچ جانے والے خاندان کے افراد کے حوالے کر دیا گیا ۔ملکیت حاصل کرنے کے باوجود شیخ حسینہ اپنے شوہر کے ساتھ سرکاری کوارٹر میں رہتی رہیں اور بعد میں انہوں نے اپنے والد کے گھر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جب یہ عمارت گرائی جا رہی تھی تومعزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے قدر جذباتی لہجے میں کہا کہ 1971کی جنگ آزادی کے دوران میں پاکستانی فوجیوں نے بھی اس گھر کو منظم یعنی نظر اتے نہیں کیا تھا اپنی تحقیقی کتاب ڈیڈ رینکنگ میموری از آف 1971 بنگلہ دیش وار میں شرمیلا بوس لکھتی ہیں کہ جب پاکستانی فوج 25 ،26 مارچ 1971 کی رات شیخ مجیب کو گرفتار کرنے آئی تو وہ فکر مند تھے فوجیوں نے انہیں گرفتار کر کے قید کر دیا اور ان پر بغاوت کا الزام عائد کیا لیکن جب بنگلہ دیشی فوجی 15 اگست 1975کو ان کے لیے آئے تو وہ انہیں اپنے لوگ سمجھ کر ملنے گئے مگر انہوں نے شیخ مجیب کو قتل کر دیا اور ان کے ساتھ ان کے تمام قریبی اہل خانہ کو بھی جن میں ان کی اہلیہ دو بہوئیں اور تین بیٹے شامل تھے جن میں سب سے چھوٹا صرف 10برس کا تھا۔ آخر میں نہ تعداد اہم رہی اور نہ ہی نام اصل بات یہ تھی کہ یہ ایک شدید اور پیچیدہ اقتدار کی جنگ تھی جس میں کئی لوگ شامل تھے اور جس نے بے شمار جانیں لے لیں، پاکستان کی موجودہ حکومت کو بنگلہ دیش میں آنے والے انقلاب اور شیخ مجیب الرحمن کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے ۔ حکمران طاقت کے نشے میں جب اندھے ہوتے ہیں تو انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔طاقت کے نشے میں پاکستانی حکمران آج جو کچھ کر رہے ہیں وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں، ان کی منفی پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاک فوج کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے۔ اس سے پہلے یہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹوں سے پاکستان کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے اور حکومت پاکستان کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہی پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ عوامی امنگوں کو دبا کر زیادہ عرصے حکومت نہیں کی جا سکتی۔


متعلقہ خبریں


مضامین
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر