وجود

... loading ...

وجود

بھارتی پنجاب میں سکھ عدم تحفظ کا شکار

پیر 24 فروری 2025 بھارتی پنجاب میں سکھ عدم تحفظ کا شکار

ریاض احمدچودھری

ماہرین نے کہا ہے کہ سیاسی و سلامتی کے تحفظات کے تحت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سکھ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی ملک کی اس چھوٹی مذہبی اقلیت میں بہت کم حمایت حاصل ہے۔شمالی بھارت میں سکھوں کی علیحدہ وطن کی تحریک جسے دہائیوں پہلے کچل دیا گیا تھا حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر ایک بار پھر اْس وقت خبروں میں آئی جب امریکہ اور کینیڈا نے بھارتی حکام پر سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔نئی دہلی نے کینیڈا کے شہر وینکوور کے مضافاتی علاقے میں جون میں ہونے والے سکھ رہنما کے قتل سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا لیکن نیویارک میں سکھ رہنما کے قتل کی مبینہ سازش کے بارے میں امریکی خدشات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سازشیں حکومتی پالیسی نہیں اور وہ بیرون ملک مقیم سکھ علیحدگی پسندوں کو نشانہ نہیں بنا رہی۔بھارتی حکومت کے عام طور پر واشنگٹن اور کینیڈا سے سفارتی تعلقات دوستانہ رہے ہیں مگر حالیہ واقعات سے تناؤ پیدا ہوا جس نے نریندر مودی کی ہندو قوم پرست پالیسی اور سکھ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے بارے میں سوچ کو اْجاگر کیا۔مودی سرکار کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم سکھ پنجاب میں ہونے والی جرائم سے منسلک ہیں اس لیے اْن کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سکھ قوم پرست اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیراعظم مودی ان کی قیادت کو ختم کرنے اور اپنی ہندو بنیاد پرستی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مودی کے دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ سکھ کسانوں نے ان کی حکومت کو زرعی اصلاحات کی واپسی پر مجبور کر کے سب سے بڑا دھچکا پہنچایا تھا۔سکھ علیحدگی پسندوں کا مطالبہ ہے کہ خالصتان نامی ایک علیحدگی ملک قائم کیا جائے جوبھارتی پنجاب کی زمین پر ہو اور جس کو وہ ‘پاک لوگوں کی سرزمین’ قرار دیتے ہیں۔
سکھ مذہب کی بنیاد 15ویں صدی کے آخر میں پنجاب میں رکھی گئی تھی، اور یہ واحدبھارتی ریاست ہے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔ بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں سکھ دو فیصد سے بھی کم ہیں۔حالیہ برسوں میں ملکی سطح پربھارت میں خالصتان کبھی ایک اہم مسئلہ نہیں رہا۔ خالصتان شورش کو کچلنے کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 80 اور 90 کی دہائی میں ہزاروں افراد قتل کیے گئے۔ خالصتان کو آج پنجاب میں کوئی زمینی حمایت حاصل نہیں، لیکن بیرون ملک کچھ ممتاز علیحدگی پسند رہنما منشیات کے کاروبار اور جرائم کے سنڈیکیٹس چلاتے ہیں اور ان کے پنجاب میں بھی روابط ہیں۔حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک اعلیٰ بھارتی سکیورٹی اہلکار نے خالصتان کو ‘مردہ گھوڑا’ قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہ ‘آپ کو اْن کے متحرک ہونے سے پہلے اْن کے خلاف کام کرنا ہوگا’ کیونکہ وہ بیرون ملک پیسہ اکٹھا کر رہے ہیں، لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں اور بھارت کی تقسیم کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
مودی سرکار کی سکھ دشمنی کا اصل چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔ امریکا سے جلاوطن بھارتیوں کے طیاروں کو بلاوجہ امرتسر میں اتار کر سکھوں کی عزت کو پامال کیا گیا۔ جلاوطن افراد کو ہتھکڑیاں اور زنجیریں لگائی گئیں جبکہ سکھ جلاوطن افراد کی پگڑیاں پرواز کے دوران اْتار لی گئیں۔ مودی حکومت نے سکھوں کے مقدس شہر امرتسر میں جلاوطن بھارتیوں کو اتار کر سکھوں کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جس پر پنجاب اور سکھ کمیونٹی میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔
مودی سرکار نے جلاوطن بھارتیوں کے بحران کو سکھ بحران میں تبدیل کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت اب تک بھارت کے 332 شہریوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ جلاوطنی امریکی حکام کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں 5 فروری 2025 کے بعد سے تین پروازیں بھارت پہنچ چکی ہیں۔سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دراصل سکھ کمیونٹی کے خلاف مودی کا ایک بڑا سازشی منصوبہ ہے جس کا مقصد ان کے خلاف عالمی سطح پر نفرت اور بدگمانی پیدا کرنا ہے۔ مودی سرکار ایسے اوچھے ہتکھنڈے استعمال کر کے سکھوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں کررہی ہے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے طیاروں کو پنجاب میں اتارنے پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پنجاب بھارت کا زرعی مرکز اور دفاعی قوت ہے مگر بی جے پی کی حکومت نے ریاست کو بدنام کرنے کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔ امریکا سے جلاوطن بھارتیوں کو امرتسر میں اتارنا مودی سرکار کا ایک اور حربہ ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر سکھوں کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ وزارت خارجہ نے ان طیاروں کو امرتسر میں اتارنے کا فیصلہ کیوں کیا حالانکہ ملک بھر میں سینکڑوں دوسرے ہوائی اڈے موجود ہیں؟ اگر بنگلا دیش کی شیخ حسینہ کا طیارہ ہنڈن ایئرپورٹ پر اتارا جا سکتا ہے اور رافیل طیارہ امبالا میں اتر سکتا ہے تو جلا وطنوں کا طیارہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں کیوں نہیں لے جایا جا سکتا؟ غیر قانونی امیگریشن صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے پھر بھی یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پنجاب اس سے شدید متاثر ہے۔ خود ساختہ عالمی رہنما” مودی نے اپنی خود ستائشی کے سوا ملک کے لیے کچھ حاصل نہیں کیا۔مودی سرکار کی یہ شرمناک سازشیں سکھوں کے خلاف ایک واضح سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ وجود پیر 31 مارچ 2025
حق کے سر پر لٹکتا ٹرمپ

ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری وجود پیر 31 مارچ 2025
ترکیہ میں ہنگامہ ہے برپا؛ صدر رجب طیب اردوان کے حریف کی گرفتاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر