... loading ...
ریاض احمدچودھری
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور انکی بیٹی التجا مفتی کو سرینگر میں نظر بند کر دیا گیاہے۔ التجا مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا انہیں اور ان کی والدہ محبوبہ مفتی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے ،میری والدہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور جانے والی تھیں، جہاں رواں ہفتے کے شروع میں بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر کے ایک ٹرک ڈرائیور کو مار دیا تھا، ہمارے گھر کے دروازے اس لیے بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ والدہ مقتول نوجوان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے سوپور جانی چاہتی تھیں۔ التجا نے مزید لکھا ہے کہ میں کٹھوعہ جاناچاہتی تھیں جہاں بھارتی فورسز نے ایک شہری مکھن دین کو دوران حراست قتل کیا۔کشمیر میں کچھ نہیں بدلا ہے ، یہاں عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو بھی مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے افسوسناک واقعات بدستور جاری ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو نوجوانوں کے حالیہ قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز ضلع بارہمولہ کے علاقے سنگرمہ چوک میں تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ایک ٹرک کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسکا ڈرائیور شہید ہو گیا تھا۔مجرموں کو کبھی کیفرکردار تک نہیں لایا جاتا اوراحتساب اور انصاف کی فراہمی تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔میرواعظ عمر فاروق نے حالیہ دنوں میں وادی بھر میں سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور حکام سے انہیں رہا کرنے کی اپیل کی۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے حالیہ دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں 5سو سے زائد نوجوانوںکو گرفتار کیا ، گرفتاری کے وقت ان نوجوانوںکو بہیمانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور انکے فون ضبط کیے گئے جسکے بعد انہیں نامعلومات مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مقبوضہ علاقے کے لوگوںکو اجتماعی طور پر سزا دی جارہی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر کے سینئر رہنما الطاف حسین وانی نے ‘جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ’ کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائز سیاسی آوازوں پر پابندیاں عائد کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی بڑھتی ہوئی فسطائیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جموں کشمیر نیشنل فرنٹ ایک سیاسی تنظیم ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کا مطالبہ کرتی ہے۔ نیشنل فرنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے دیرینہ تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ پرامن ذرائع اور طریقے اختیار کیے ہیں۔
الطاف حسین وانی نے پارٹی چیئرمین نعیم احمد خان کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت پر تہاڑ جیل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ و ہ اپنے استعماری ہتھکنڈوں کے ذریعے آزادی پسند کشمیری قیادت اورتنظیموں کو حق پر مبنی کاز سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنا ایک بدترین انتقام ہے۔ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت مقبوضہ علاقے میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو مسلّط کرنے کے لیے آزادی پسند تنظیموں پر پابندیاں عائد کررہی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو یہ یاد رہنا چاہیے کہ کشمیریوںکی امنگوں اور خواہشات کو نوآبادیاتی ہتھکنڈوں اور سازشوں کے ذریعے ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کو منصفانہ بنیادوں پر حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔
انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی بھارت میں موجود اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ کشمیر میں لوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے بی جے پی نے اب کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما نعیم احمد خان کی زیر قیادت جموں و کشمیر نیشنل فرنٹ پر بھی 5 سال کے لیے پابندی عائد کی ہے۔ نیشنل فرنٹ پارٹی کے موجودہ لیڈر نعیم خان کو بھارتی حکومت نے اگست 2017 سے قید کیا ہوا ہے۔
بھارتی حکومت نے الزام لگایا کہ جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہے جو بھارت کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان حریت جماعتوں پر پابندیوں کا مقصد کشمیریوں کی آزادی کے لیے آواز کو دبانا ہے۔مودی حکومت نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے پر پہلے ہی جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر، مسلم لیگ، تحریک حریت، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت اور مسلم کانفرنس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔عالمی سطح پر کشمیری عوام کے لئے اٹھائی جانے والی آوازوں کے باوجود انتہا پسند مودی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔