وجود

... loading ...

وجود

کشمیری قیادت نظر بند

منگل 11 فروری 2025 کشمیری قیادت نظر بند

ریاض احمدچودھری

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور انکی بیٹی التجا مفتی کو سرینگر میں نظر بند کر دیا گیاہے۔ التجا مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا انہیں اور ان کی والدہ محبوبہ مفتی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے ،میری والدہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور جانے والی تھیں، جہاں رواں ہفتے کے شروع میں بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر کے ایک ٹرک ڈرائیور کو مار دیا تھا، ہمارے گھر کے دروازے اس لیے بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ والدہ مقتول نوجوان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے سوپور جانی چاہتی تھیں۔ التجا نے مزید لکھا ہے کہ میں کٹھوعہ جاناچاہتی تھیں جہاں بھارتی فورسز نے ایک شہری مکھن دین کو دوران حراست قتل کیا۔کشمیر میں کچھ نہیں بدلا ہے ، یہاں عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو بھی مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے افسوسناک واقعات بدستور جاری ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو نوجوانوں کے حالیہ قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز ضلع بارہمولہ کے علاقے سنگرمہ چوک میں تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ایک ٹرک کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسکا ڈرائیور شہید ہو گیا تھا۔مجرموں کو کبھی کیفرکردار تک نہیں لایا جاتا اوراحتساب اور انصاف کی فراہمی تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔میرواعظ عمر فاروق نے حالیہ دنوں میں وادی بھر میں سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور حکام سے انہیں رہا کرنے کی اپیل کی۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے حالیہ دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں 5سو سے زائد نوجوانوںکو گرفتار کیا ، گرفتاری کے وقت ان نوجوانوںکو بہیمانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور انکے فون ضبط کیے گئے جسکے بعد انہیں نامعلومات مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مقبوضہ علاقے کے لوگوںکو اجتماعی طور پر سزا دی جارہی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر کے سینئر رہنما الطاف حسین وانی نے ‘جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ’ کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائز سیاسی آوازوں پر پابندیاں عائد کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی بڑھتی ہوئی فسطائیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جموں کشمیر نیشنل فرنٹ ایک سیاسی تنظیم ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کا مطالبہ کرتی ہے۔ نیشنل فرنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے دیرینہ تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ پرامن ذرائع اور طریقے اختیار کیے ہیں۔
الطاف حسین وانی نے پارٹی چیئرمین نعیم احمد خان کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت پر تہاڑ جیل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ و ہ اپنے استعماری ہتھکنڈوں کے ذریعے آزادی پسند کشمیری قیادت اورتنظیموں کو حق پر مبنی کاز سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنا ایک بدترین انتقام ہے۔ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت مقبوضہ علاقے میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو مسلّط کرنے کے لیے آزادی پسند تنظیموں پر پابندیاں عائد کررہی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو یہ یاد رہنا چاہیے کہ کشمیریوںکی امنگوں اور خواہشات کو نوآبادیاتی ہتھکنڈوں اور سازشوں کے ذریعے ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کو منصفانہ بنیادوں پر حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔
انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی بھارت میں موجود اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ کشمیر میں لوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے بی جے پی نے اب کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما نعیم احمد خان کی زیر قیادت جموں و کشمیر نیشنل فرنٹ پر بھی 5 سال کے لیے پابندی عائد کی ہے۔ نیشنل فرنٹ پارٹی کے موجودہ لیڈر نعیم خان کو بھارتی حکومت نے اگست 2017 سے قید کیا ہوا ہے۔
بھارتی حکومت نے الزام لگایا کہ جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہے جو بھارت کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان حریت جماعتوں پر پابندیوں کا مقصد کشمیریوں کی آزادی کے لیے آواز کو دبانا ہے۔مودی حکومت نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے پر پہلے ہی جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر، مسلم لیگ، تحریک حریت، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت اور مسلم کانفرنس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔عالمی سطح پر کشمیری عوام کے لئے اٹھائی جانے والی آوازوں کے باوجود انتہا پسند مودی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر