وجود

... loading ...

وجود

پاکستان و بنگلہ دیش میں باہمی تعلقات کا فروغ

جمعه 27 دسمبر 2024 پاکستان و بنگلہ دیش میں باہمی تعلقات کا فروغ

ریاض احمدچودھری

وزیر اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مابین قاہرہ میں ہونے والی ایک ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر مکمل اتفاق رائے ظاہر کیا گیا۔یہ اتفاق رائے بنگلہ دیش کے اس کے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ بہت زیادہ سرد مہری کا شکار موجودہ روابط کے لیے ممکنہ طور پر ایک نیا امتحان ثابت ہو گا۔ اس لیے کہ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی طاقتیں اور ایک دوسرے کے ایسے روایتی حریف بھی ہیں، جو آپس میں متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں۔اس پس منظر میں پاکستان کی بنگلہ دیش سے قربت، جو ڈھاکہ میں موجودہ عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور میں بھارت کے بہت قریب رہا تھا، نئی دہلی کے لیے ایک نئی لیکن سیاسی پیش رفت کے طور پر خوش آئند نہیں ہو گی۔ایسا اس لیے بھی اہم ہے کہ شیخ حسینہ نے ابھی تک بھارت میں پناہ لے رکھی ہے اور ڈھاکہ میں ملک کی عبوری حکومت چاہتی ہے کہ نئی دہلی شیخ حسینہ کو ملک بدر کر کے بنگلہ دیش کے حوالے کر دے، جس سے بھارت اب تک انکاری ہے۔
بنگلہ دیش، جو ماضی میں مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور 1971ء میں ایک خونریز جنگ کے بعد باقی ماندہ پاکستان سے علیحدہ ہو گیا اور ایک آزاد ریاست بن گیا تھا، اپنی آزادی کے بعد سے بھارت کے بہت قریب رہا تھا۔اب لیکن اس سال اگست میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے ملک سے فرار کے بعد سے بھارتی بنگلہ دیشی تعلقات میں کافی زیادہ کشیدگی آ چکی ہے جبکہ ڈھاکہ اور اسلام آباد کے مابین روابط میں گرمجوشی اور مزید قربت کی خواہش نمایاں ہے۔اس پس منظر میں قاہرہ میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جو ملاقات ہوئی، اس کا سبب مصری دارالحکومت میں ہونے والا آٹھ مسلم اکثریتی ممالک کے گروپ ‘ڈی ایٹ’ تنظیم برائے اقتصادی تعاون کے رہنماؤں کا اجلاس تھا۔محمد یونس نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ آٹھ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کی بحالی کی بھرپور خواہش رکھتے ہیں۔ یہ تنظیم اپنے دو بڑے رکن ممالک پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے باعث برسوں سے عملی طور پر تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی بھارت کے لیے نیا چیلنج، بھارت کی کٹھ پتلی شیخ حسینہ کی بھارت فرارکے بعد بنگلہ دیش کی حکومت کی نئی خارجہ پالیسی، بھارت بنگلہ دیش کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے متعدد خفیہ حربے استعمال کررہا ہے ۔ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں بھارت کے لیے تشویش ناک ثابت ہورہی ہیں۔ بھارت میں بنگلہ دیشی قونصلیٹ پر حملے کے باعث دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہوچکے ہیں ، گودی میڈیا گمراہ کن معلومات کو استعمال کر کے بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کرنے کی سازش میں مصروف ہے ۔ دوسری جانب چٹاگانگ میں پاکستانی کارگو جہاز کی آمد اور پاکستانی درآمدات کے لیے کسٹم کے معائنے میں نرمی ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان گہرے تعلقات کا اشارہ ہے ۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے بڑھتے تعلقات بھارت کے لیے گہرے خدشات کا باعث بن رہے ہیں ۔ پاکستان کی نفرت میں اور مودی کے سائے تلے شیخ حسینہ نے اپنی ہی عوام پر ظلم کا بازار گرم رکھا۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت سے ٹیلی کام کا وسیع البنیاد معاہدہ منسوخ کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے ۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان غیر قانونی امیگریشن، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور پانی کی تقسیم کے معاہدوں جیسے مسائل پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات کی وجہ سے صورتحال اب مزید خراب ہو چکی ہے ۔ بھارت، بنگلہ دیش پر دوبارہ اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے مظاہروں اور میڈیا کا سہارا لے رہا ہے۔بنگلہ دیش کے عوام نے اپنی آزادی کا گلا گھونٹنے والی شیخ حسینہ کو ملک سے نکال کر بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی بھارت کیلیے نیا چیلنج بن چکی ہے۔ بھارت کی کٹھ پتلی شیخ حسینہ کے بھارت فرارکے بعد بھارت بنگلہ دیش کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کیلئے متعدد خفیہ حربے استعمال کررہا ہے۔بنگلہ دیش نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے ڈھاکہ کے حوالے کر دے۔ بھارت نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ڈھاکہ میں طلباء کے زیر قیادت شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران، سابق وزیر اعظم پناہ کی تلاش میں بھارت پہنچی تھیں اور تب سے نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ انہیںاپنے ملک میں انسانیت کے خلاف جرائم کے متعدد الزامات کا سامنا ہے۔بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت سے باضابطہ طور پر درخواست کر دی گئی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ملک واپس بھیج دے۔
نئی دہلی میں رہتے ہوئے شیخ حسینہ متعدد بار محمد یونس کی انتظامیہ پر تنقید کرتی رہی ہیں اور ان پر اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کے تحفظ میں ناکام ہونے کا الزام لگاتی ہیں۔بھارت بھی وقتاً فوقتا اس حوالے سے بنگلہ دیش پر تنقید کرتا رہا ہے، جس کے جواب میں بنگلہ دیش نے کہا کہ ہندوؤں پر حملے کے حوالے سے واقعات میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے اور بھارت تو خود اپنی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے لیے بدنام ہے۔حال ہی میں بنگلہ دیش میں ایک ہندو مذہبی رہنما کی گرفتاری کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ ڈھاکہ میں قائم گھریلو جنگی جرائم کی عدالت اس سلسلے میں پہلے ہی حسینہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے بین الاقوامی پولیس تنظیم انٹرپول سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ حسینہ کو گرفتار کرنے میں مدد کرے۔بھارت نے ہنگامی طبی ویزوں کے علاوہ بنگلہ دیشی شہریوں کو ویزا جاری کرنا بھی بند کر دیا ہے اور انفراسٹرکچر پراجیکٹس پر کام کرنے والے بہت سے بھارتی شہری سکیورٹی خطرات کی وجہ سے بنگلہ دیش چھوڑ کر واپس آگئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
چھتیس گڑھ میں فورسز کے ہاتھوں ماؤ نوازیوں کی ہلاکتیں

پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں وجود جمعه 04 اپریل 2025
پاکستان اسرائیل خفیہ ملاقاتیں

اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے وجود جمعرات 03 اپریل 2025
اورنگ زیب سے ٹپکے تو رانا سانگا میں اٹکے

کشمیری حریت قیادت کے اختلافات وجود جمعرات 03 اپریل 2025
کشمیری حریت قیادت کے اختلافات

کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 31 مارچ 2025
کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر