آصف ثاقب بات یہ بھی ہے ایک باتوں میں لوگ اعلیٰ ہیں نیچ ذاتوں میں کوئی مجھ سا غریب کیا ہو گا میں اکیلا ہوں کائناتوں میں میں اکیلا بہت اکیلا ہوں اب تو دینا ہے ہاتھ ہاتھوں میں روشنائی بنائی لکھنے کو چاند گھولا ہے کالی راتوں میں جانے کس کس کی ڈولیاں آئیں سب ستارے گئے براتوں میں کیسے لکھوں میں سرخ تحریریں خون کالا پڑا دواتوں میں جھوٹ اس میں نہیں کوئی ثاقب پیار سچا ملا دیہاتوں میں آصف رضارضوی اظہار میں پہلی سی وہ نفرت تو...

یہ دسمبر 2008ء کی بات ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت دو روزہ قومی اہل قلم کانفرنس کے اختتام پر ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرہ قومی سطح کا ہو تو شاعروں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسی سے زیادہ تھے بہت سے چھوٹے بڑے شہروں کے شعرا طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے اپنے ’’ حلقہ داد رساں‘‘ کے ساتھ شریک بزم تھے۔ ایسے میں کراچی کی ایک منحنی سی نوجوان خاتون...

اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیراہتمام پاکستانی ادب کے عالمی ادب پر اثرات مذاکرہ اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر،ادیب ،ماہر تعلیم، ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔ مہمان خاص راولپنڈی سے آئے ہوئے ادیب شاعر کرنل سعید آغاتھے۔اعزازی مہمان سید اوسط علی جعفری، ریحانہ احسان تھیں۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عالمی ادب پر نظر ڈالی جائے تو چاہے بھوٹا ن کی رمز...

حلقۂ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست 20 مارچ 2018 بروز منگل ، کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر میر احمد نوید صاحب نے کی جب کہ نشست میں شاعر علی شاعر صاحب نے مہمان ادیب کے طور پر شرکت کی۔ سب سے پہلے عباس ممتاز نے اپنی غزل "کوئی تو ایسی بھی گھڑی ہوگی" تنقید کے لیے پیش کی۔ شبیر...

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں...

غلام حسین ساجد صابر ظفر سے میرے تعلق کو بیالیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ شروع کے دوچار برسوں کے بعد ہم کبھی ایک شہر میں نہیں رہے مگر ان سے فکری نسبت کا رشتہ روزبروز مضبوط تر ہورہا ہے اور اس کا سبب ہے ان کی صلاحیت اور اس صلاحیت کی نمود کا ایک مسلسل اور لامختتم ظہور۔ اردو غزل کو موضوعاتی، فکری اور تجربی تنوع کے لیے اسے زرخیز کرنے میں صابر ظفر...

بزمِ جہانِ حمد و نعت کا طرحی حمدیہ مشاعرہ بزمِ جہانِ حمد کے زیرِ اہتمام طرحی حمدیہ سلسلے کا ماہانہ مشاعرہ گزشتہ دنوں مدرسۂ حضرت علیؓ لیاقت آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی آرٹس کونسل گورننگ باڈی کے رکن اور ممتاز افسانہ نگار رضوان صدیقی تھے۔ نظامت کے فرائض جناب طاہر سلطانی نے ادا کیے۔ تلاوت اور نعتِ رسول کی سعادت...

یوم خواتین کے عالمی دن پر بروز جمعہ دو مارچ ریڈیو پاکستان کراچی نے ہمابیگ کے تعاون سے خواتین مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں شہر کی معروف اور مستند شاعرات نے شرکت کی. محترمہ اکرم خاتون اور محترمہ جسٹس ماجدہ رضوی بہ حیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئیں ۔ ہمابیگ کی نظامت اور فاطمہ حسن کی صدارت میں جن شاعرات نے کلام پیش کیا ان کے اسم گرامی یہ ہیں عروج زہرہ، یاسمین یاس...

ادب ایک آسمان ہے اس میں ہر ایک ستارہ اپنے حصے کی روشنی سے اس آسمان کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ کر رہا ہے۔اس میں ہر روز لاتعدار ستارے ہر شب نمودار ہوتے ہیں اور اپنے محدود وقت تک اپنی روشنی سے اہلِ زمین کو مستفید کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ایک ستارے کا وجود چھوٹاسا نظر آتا ہے اس کے باوجود اس کی موجودگی اپنے ہونے کا احساس اجاگر کرتی...

بے ایمانی، بد عنوانی، سفارش، جعلی ڈگریوں قابلیت و ہنرمندی کی ناقدری کے موجودہ کلچر سے نجات ضروری ہے۔ روز مرہ زندگی میں سچائی ، پرہیزگاری، خلوص، امانت، اخلاقیات اور دوسروں کا خیال رکھنے کے اسلامی رجحانات کو فروغ دے کر ہم معاشرتی برائیوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ مساجد بہترین تربیت گاہ ہیں۔نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر)...
اشتہارات