بیسویں صدی میں اقبال اور جوش سے شروع ہونے والی اردونظم کی پرعظمت شاعری کا تسلسل نصف صدی کے بعد تک بغیر تعطل کے جاری رہا اور فیض گویا اس کلاسیکی روایت کے آخری امین ٹھہرے۔ 1950ء کی دہائی سے ذرا پہلے انگریزی شاعری کے براہ راست اثر کے تحت نظم کی نئی ہیئت آزاد نظم کی صورت میں وجود میں آئی جو اردو نظم کا تسلسل ہی تھا مگر ہیئت کی تبدیلی کے...

صابر ظفر صورتِ مرگ فقط راہ کی ٹھوکر نکلی زندگی تُو مرے اندازے سے کم تر نکلی دھوپ نے دکھ دیا لیکن مجھے تنہا نہ کِیا ایک پرچھائیں مرے جسم سے باہر نکلی تیرے چہرے سے کُھلا مجھ سے بچھڑنے کا ملال شکل اک اور تری شکل کے اندر نکلی صرف چکّر ہی نہیں پائوں میں زنجیر بھی ہے میری حالت ، مری قسمت سے بھی ابتر نکلی آتشِ کبر نکلتی ہی نہ تھی دل سے ظفرؔ چوبِ منبر کو جلایا تو یہ کافر...

تحریر : شازیہ فاطمہ پروین شاکر اردو ادب کی انتہائی معروف اور معتبر شاعرہ تھیں وہ 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں جبکہ 26 دسمبر 1994 ء میں راہی ٔملک ِعدم ہوئیں۔ پروین شاکر کا گھرانہ چونکہ خوشحال تھا لہٰذا اسے مفلسی اور بے زری اور محرومی کے دور سے نہیں گزرنا پڑا لیکن اس کا وژن اس قدر وسیع تھا ،اس میں ادراک کی اس قدر قوت تھی کہ اس نے...

احمد جاوید تنہ نا ھا یا ھو تنہ نا ھا یا ھو گم ستاروں کی لڑی ہے رات ویران پڑی ہے آگ جب دن کو دکھائی راکھ سورج سے جھڑی ہے غیب ہے دل سے زیادہ دید آنکھوں سے بڑی ہے گر نہ جائے کہیں آواز خامشی ساتھ کھڑی ہے لفظ گونگوں نے بنایا آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے رائی کا دانہ یہ دنیا کوہ ساری یہ اڑی ہے وقت کے پاؤں میں کب سے پھانس کی طرح گڑی ہے کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو تنہ نا ھا یا ھو طرفہ...
اشتہارات