(قسط نمبر 3) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت یا بینک اس وقت بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کی ملکیت ظاہر نہیں کررہاچین اور امریکا میں تاحال اس میں لین دین پر پابندی ہے تو پھر دجالی حکومت اسے کیسے استعمال کرے گی؟ اس کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ جس انداز میں کاغذ کی کرنسی کے بعد ڈیبٹ اور کریڈیٹ کارڈز کو ایک سہولت کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف...

سامراج کا شاید مطلب ہی غلطیاں کرنا اور مخالفین پر ظلم و تشددکے پہاڑ توڑنا ہو تا ہے کبھی کسی سامراجی طاقت نے امن و سکون کے پھول نہیں برسائے یہ ہمیشہ ہی آگ اگلتے اور تند و تیز بیانات کے ذریعے مخالفین کو کچل ڈالنے کے مشن پر قائم رہتے ہیںخواہ اس میں ان کاکتنا ہی اپنا جانی و مالی نقصان کیوں نہ ہو جائے امریکہ اربوں ڈا لر خرچ کر کے بھی...

(قسط نمبر:2) شروع میں جس وقت بٹ کوائن کو متعارف کرایا گیا تھا تو اس کی ایک حد رکھی گئی تھی کہ21 ملین سے زیادہ بٹ کوائن متعارف نہیں کرائے جائیں گے اور اس تعداد کو 2140ء تک مکمل ہونا تھالیکن آج تک تقریبا 16ملین بٹ کوائن وجود رکھتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس طلب کس تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ ضروری نہیں...

دنیاتغیرات کے دھانے پر آن کھڑی ہوئی ہے سیاسی اورمعاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے موسموں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خاطر ان کا کنٹرول بھی حاصل کیا گیااور اب عالمی معاشی تغیر کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ بٹ کوائن Bitcoinکرپٹوکرنسی کی شکل میں دنیا میں نئے دجالی معاشی نظام کی ابتدا کردی گئی ہے۔ اس وقت اس نئی کرنسی پر بینکوں کا کنٹرول نہیں ہے لیکن آگے جاکر اس...

خیبر پختونخواہ کی حکومت کے حوالے سے ایک زبردست بلکہ گدھا نواز قسم کی خبر یہ موصول ہوئی ہے کہ’’ گدھوں کی افزائش کے لیے خیبر پختونخواہ کی حکومت ایک جامع پالیسی متعارف کروا رہی ہے۔ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ابتدائی طور پر 400 ایکٹر اراضی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس اراضی پر جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ’’ گدھا بریڈنگ فارم ہاؤس ‘‘ تعمیر کیے جائیں گے ۔ کے پی کے...

پانی یا دولت کا مکمل بھرا ہو ا کنواں ہی کیوں نہ ہواس میں کسی طرف سے تازہ پانی شامل یا مزید رقوم داخل نہ ہوں تو خرچ ہو تے ہوتے اسے بحر حال ختم ہو جانا ہے کہ یہی قانون قدرت ہے دولت کے خزانے لٹتے رہیں تو ختم ہی ہو جائیں گے شریفوں کی لیگ کے لبا لب بھرے ہوئے ووٹوں کے بوروں میں سوراخ ہو چکا تو وہ بھی بتد ریج...

ہمارے سیاسی کلچر میں ووٹوں کی خرید و فروخت اور دھونس دھاندلی کی تاریخ بہت پُرانی ہے۔ صدارتی انتخاب میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ ؒ کو ہرانے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے کیا کیا نہیں کیا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے لاڑکانہ سے بلامقابلہ منتخب ہونے کا خواب کیسے پورا کیا ۔ سیاست میں چھانگا مانگا کلچر کس کی یاد گار ہے ۔ شوکت عزیز کو کس انداز...

(قسط نمبر:2) پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں مسلسل آزادی اوراس نوع کی ریاست مخالف آوازیں بلند کی جاتی ہیں ۔ ’’یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ،’’یہ جو طالب گردی ہے اس پیچھے وردی ہے ‘‘، ’’ یہ جو مارا ماری ہے اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ کے نعرے سُنائی دیتے ہیں ، اسٹیج سے بھی لگواائے جاتے ہیں۔ گیارہ مارچ کو کوئٹہ کے صادق شہید فٹبال گرائونڈ کے...

(قسط نمبر:2) آخری حد یہ کہ بارایسوسیشن کٹھوعہ نے اس پر جموں بند کی کال دیکر اپنی بے رحمی اور سنگدلی کا ناقابل انکار ثبوت پیش کردیا ۔جس پر جموں کی تاجرانجمنوں کے فورم نے خود کو جموں بارایسوسی ایشن کی ہڑتال کال سے الگ کرلیا۔جموں چیمبرآف کامرس اینڈاندسٹریز کے صدرپرکاش گپتانے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ وہ مختلف معاملات پرجموں بارایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی یک روزہ ہڑتال کال کی حمایت...

اکتوبر 1917ء کے اشتراکی انقلاب سے قبل زار شاہی نے اپنی سرحدوں کی توسیع کی سامراجی پالیسی اپنا رکھی تھی ۔ کمیونسٹ انقلاب کے بعد وہی استعماری و سامراجی نظام و چلن الگ جا مہ و صورت کے ساتھ رائج رہا۔ ان کی نظریاتی تبلیغ کا دائرہ مؤثر اور وسیع تھا۔ افغانستان کی افسر شاہی، فوج اور تعلیمی اداروں میں بھی ان کا لٹریچر پہنچ چکا تھا ۔ ظاہر شاہ کے دور ہی میں...
اشتہارات