نوازشریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے درخواست دائر

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں کا ذمہ دار کالعدم پاکستانی تنظیموں کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی مکمل نہ ہونے کا جو بیان دیا اس پر سیاسی قیادت نے نہایت سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک دشمن بیان بھی قرار دیا ہے۔ سابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے وضاحتی بیان میں کہا کہ کیس بھارتی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے ہنوز زیرالتوا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر لگا کر اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہا۔ پاکستانی حکومت نے ان حملوں کی تحقیقات کے لیے بھارتی حکومت سے ہرممکن تعاون کی پیشکش کی جو بھارتی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکی۔ بھارت نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو بھارت آکر مرکزی کردار اجمل قصاب سے ملاقات اور پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی۔ ان حملوں کے حوالے سے کوئی ثبوت اور شواہد پاکستان کے سپرد نہیں کیے گئے۔ الٹا ان حملوں میں ملوث اجمل قصاب کو فوری طورپر پھانسی دیدی گئی حالانکہ بھارت میں ہزاروں پھانسی کے مقدمات برسوں سے زیرسماعت ہیں۔ یوں بھارت نے اہم مرکزی کردار کو پھانسی دیکر تمام ثبوت ضائع کر دیئے۔ اب سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے ممبئی حملوں پر ان کے بیان کو لیکر بھارتی میڈیا ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور شور مچا رہا ہے کہ سابق پاکستانی وزیراعظم نے بھی ان حملوں میں پاکستانی کالعدم تنظیموں کا کردار تسلیم کر لیا ہے حالانکہ خود بھارت نے پٹھان کوٹ اور اوڑی پر حملوں کے الزام پاکستان پر عائد کر کے بعدازاں خفت مٹانے کے لیے واپس لیے تھے۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی سابق وزیراعظم کے بیان کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔ میاں نوازشریف پاکستانی سیاست کا ایک اہم اور معتبر نام ہیں۔ وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی طرف سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں تھی۔ اس طرح پاکستان دشمنوںکو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔ پاکستان اس وقت پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ سفارتی محاذ پر ہم بھارتی چالاکیوں اور الزام تراشیوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ ان حالات میں میاں وازشریف کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کو بھارت جس طرح اچھال رہا ہے اس سے بیرون ملک پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ صرف یہی نہیں خود پاکستان میں ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی ساکھ اور مقبولیت متاثر ہوسکتی۔

سابق نااہل وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے بیان پرعسکری قیادت کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیاہے۔اس حوالے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے 22ویں اجلاس میں ممبئی حملے سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان گمراہ کن قرار دے دیا گیا۔وزیرِاعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیرِ دفاع اور خارجہ خرم دستگیر، وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور مشیرِ قومی سلامتی امور لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ سمیت اعلیٰ عسکری قیادت بھی شریک ہوئی۔

اجلاس میں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی موجود تھے۔اس کے علاوہ اجلاس میں پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیز انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سمیت دیگر اداروں کے سربراہان بھی شریک تھے۔ اجلاس کے کچھ دیر بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو متفقہ طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا۔اعلامیے کے مطابق شرکا نے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم کے بیان سے جو رائے پیدا ہوئی ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ممبئی حملہ کیس کی تاخیر کی وجہ پاکستان نہیں بلکہ خود بھارت ہے جس نے نہ صرف ٹرائل کو حتمی شکل دیے بغیر غیر ضروری طور پر ملزم کو پھانسی دے دی، بلکہ پاکستان کو اجمل قصاب تک رسائی دینے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔اجلاس میں یہ عزم دہرایا گیا کہ پاکستان تمام سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل کلبھوشن یادیو اور سمجھوتہ ایکسپریس واقعے پر بھارت کے تعاون کا انتظار کررہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لئے درخواست جمع کرائی گئی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے پاکستان اور قومی اداروں کو بدنام کیا اور ممبئی حملوں سے متعلق ان کا حالیہ بیان غداری کے مترادف ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی جانب سے 2 قراردادیں بھی جمع کرادی گئیں۔قراردادیں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور ڈاکٹر مراد راس کی جانب سے جمع کرائی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کلبھوشن اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خاموش اور ریاست کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔میاں محمود الرشیدکے مطابق نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کو عالمی دبائو میں لانے کی مکروہ کوشش ہے، ریاستی ادارے قابل احترام اور ملکی تحفظ کے ضامن ہیں۔تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کیا جائے۔

Electrolux