عوام کو مہنگائی کے عفریت کی جانب دھکیلنے والی پالیسیاں کہیں حکومت کیخلاف سازش تو نہیں

وفاقی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری مہینے بھی عوام کو مہنگائی کی مار مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کی صورت میں ان پر پٹرول بم گرادیا۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کیمطابق یکم مئی 2018ء سے پٹرول کے نرخوں میں ایک روپے 70 پیسے فی لٹر‘ ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں 2 روپے 31 پیسے‘ مٹی کے تیل کے نرخوں میں تین روپے 41 پیسے اور لائٹ ڈیزل کے نرخوں میں تین روپے 55 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح پٹرول کے نرخ 87 روپے 70 پیسے‘ ڈیزل کے 98 روپے 76 پیسے‘ مٹی کے تیل کے 79 روپے 87 پیسے اور لائٹ ڈیزل کے نرخ 68 روپے 85 پیسے فی لٹر مقرر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح میں ردوبدل کیا ہے جس کے تحت پٹرول‘ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر جی ایس ٹی کم کیا گیا ہے تاہم ڈیزل پر جی ایس ٹی کی شرح 27.5 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔ پٹرول پر اب جی ایس ٹی کی شرح 21.5 فیصد کے بجائے 15 فیصد اور مٹی کے تیل پر جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد کے بجائے 12 فیصد مقرر ہوئی ہے۔ سیاسی‘ عوامی حلقوں اور تاجر طبقات نے پٹرولیم نرخوں میں تسلسل کے ساتھ کیے جانیوالے اضافہ کو حکومت کی عوام کش پالیسی سے تعبیر کرتے ہوئے اس اضافے کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مہنگائی کا عفریت اور بھی بے قابو ہو جائیگا۔

اس وقت جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے اقتدار کے آخری مراحل میں ہے اور آئندہ انتخابات کے لیے عوام کے پاس جانے سے پہلے ہی سخت آزمائش سے دوچار ہے جس کے قائد میاں نوازشریف پانامہ کیس کے فیصلہ کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت اور پارٹی عہدے سے تاحیات نااہل ہو کر اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کی بھی پوزیشن میں نہیں رہے‘ عوام توقع کررہے تھے کہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کریگی تاکہ آئندہ انتخابات کے لیے عوام کے پاس جاتے ہوئے اسے کسی سخت عوامی ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری مہینے میں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رکھ کر عوام کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے ناراض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ابھی چار روز قبل ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے چھٹے اور آخری بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی شرح میں اضافہ کیا اور گھریلو استعمال کی درجنوں درآمدی اشیاء پر دس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی اوراسکے ساتھ ساتھ 12 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ کے اپنے ہی اعلان پر نظرثانی کرکے بجٹ میں یہ چھوٹ صرف چار لاکھ روپے سالانہ کی آمدن تک محدود کردی جس سے عوام بالخصوص تنخواہ دار طبقات میں سخت اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی جن کی تنخواہوں میں صرف دس فیصد اضافہ کیا گیا۔ عوام ابھی بجٹ کے ذریعے مسلط ہونیوالی مہنگائی کا رونا ہی رو رہے تھے کہ اب پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مزید اضافہ کرکے انہیں حکومت مخالف تحریک کے لیے منظم ہونے اور حکومت مخالف جماعتوں کو انتخابی مہم کے آغاز ہی میں حکمران مسلم لیگ (ن) کیخلاف پوائنٹ سکورنگ کی سیاست کو فروغ دینے کا نادر موقع فراہم کردیا گیا ہے۔ اس سے بادی النظر میں یہی عندیہ ملتا ہے کہ حکومت کو آئندہ انتخابات میں اپنے نفع نقصان کا کوئی ادراک نہیں ہے اور اس نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا ہے کہ میاں نوازشریف کی نااہلیت کے بعد انکے اختیار کردہ سیاسی بیانیہ کو عوام میں جو پذیرائی حاصل ہورہی ہے‘ محض اسکی بنیاد پر ہی مسلم لیگ (ن) انتخابی میدان میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیگی۔

اگر تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت اسی تصور کے تحت اپنے اقتدار کے آخری مراحل میں بھی عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا کر انہیں زندہ درگور کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے تو یہ اسکی بہت بڑی بھول ہے کیونکہ گزشتہ انتخابات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عاجز آئے عوام نے اس وقت کی حکمران پیپلزپارٹی کو راندہ? درگاہ بنا دیا تھا تو اب بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ مسلسل مہنگائی مسلط کرنیوالی حکمران مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر عوام انتخابات میں اس پارٹی کا ریڈکارپٹ استقبال تھوڑا کرینگے۔ ابھی دو ماہ قبل ہی آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اسکے زرمبادلہ کے ذخائر میں حیران کن کمی کی نشاندہی کی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو ٹیکس‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کے نرخوں میں اضافہ سمیت بعض ’’ضروری‘‘ اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد سے اب تک حکومت آئی ایم ایف کی اس ڈکٹیشن پر ہی عمل کرتی نظر آرہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تو گزشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ اب بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی شرح میں بھی اضافہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ حکومت کا آخری بجٹ 18 کھرب 190‘ ارب روپے کے خسارے کا بجٹ ہے تو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے عوام کے تن پر بچی ہوئی لنگوٹی اتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا۔

یہ طرفہ تماشا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تو اس وقت بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ 60 ڈالر فی بیرل سے کم ہیں جبکہ چار سال قبل عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم نرخ گرتے گرتے 40 ڈالر فی بیرل تک آگئے تھے۔ یہ نرخ تقریباً دو سال تک برقرار رہے اور جب نرخوں میں اضافہ شروع ہوا تو اسکی شرح بھی انتہائی معمولی رہی۔ اگر اس چار سال کے عرصہ کا پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تو حکومت کی یہ دلیل انتہائی بودی لگتی ہے کہ عالمی نرخوں کے حساب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کیاجارہا ہے۔ چار سال قبل تو حکومت دھرنا تحریک کے باعث سخت دبائو میں تھی اسکے باوجود اس نے عوام پر پٹرولیم بم چلانے سے کبھی گریز نہ کیا اور عالمی مارکیٹ میں نرخ کم ہونے کے عرصے کے دوران ہمارے ملک میں یا تو نرخ ہر ماہ بڑھائے جاتے رہے یا برقرار رکھے جاتے رہے۔ چنانچہ حکومت کی اس پالیسی کے باعث ہی اسے چار سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات سے تین سو ارب روپے کا منافع ہوا۔ اسکے برعکس جس عرصہ کے دوران عوام کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کی صورت میں یہ ریلیف دینے کے دعوے کیے گئے اس عرصہ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی میں ظالمانہ اضافہ کرکے عوام کو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف دیئے گئے اس ریلیف سے بھی مستفید ہونے سے محروم کردیا گیا۔

یہ حکومتی بے تدبیریوں کا ہی شاخسانہ ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافے کے ساتھ ہی ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے نرخ بھی آسمانوں سے بات کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح پٹرولیم نرخوں میں اضافہ سے عوام کے لیے مہنگائی کے نئے پہاڑ کھڑے ہو جاتے ہیں جن سے وہ سر ٹکرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اب ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے جس سے چند روز قبل حکومت نے پٹرول بم چلا کر اسلامیان پاکستان کے لیے اس مقدس مہینے کو آسودگی کے ساتھ گزارنا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ اگر عام دنوں میں پٹرولیم نرخوں میں اضافہ کے باعث مہنگائی میں چار گنا تک اضافہ ہوجاتا ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافہ کی عوام کو ماہ رمضان میں کتنی سزا بھگتنا پڑیگی۔ اگر حکمران پارٹی انتخابات کے مراحل میں بھی عوام کو مہنگائی میں ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے اور اسکی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث مہنگائی کا عفریت مزید توانا ہوگیا ہے تو وہ درپیش دیگر چیلنجوں کے ساتھ ساتھ قابو سے باہر ہوئے مہنگائی کے جن کو بھی انگلی سے لگا کرعوام کے پاس کس بنیاد پر جا پائے گی اور کیسے سرخرو ہو پائے گی۔ گزشتہ ماہ میاں نوازشریف نے اوگرا کی سمری کی منظوری کو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی مشاورت کے ساتھ مشروط کیا تھا جبکہ اب میاں شہبازشریف حکمران مسلم لیگ (ن) کے سربراہ بھی بن چکے ہیں اس لیے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے پیدا ہونیوالا سخت عوامی ردعمل ان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدین کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کہیں عوام کے اندر ان کیخلاف غم و غصہ بڑھانے کے لیے تو ایسی عاجلانہ پالیسیاں اختیار نہیں کی جارہیں۔ میاں نوازشریف پہلے ہی اپنی پارٹی کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے استفسار کررہے ہیں کہ وہ بتائیں ملک میں کہاں انکی حکومت ہے اور کہاں پر حکومتی گورننس ہے۔ اگر اقتدار کے آخری مہینے میں بھی عوام کو زندہ درگور کرنے کی پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں تو حکومتی گورننس کے معاملہ میں عوام بھی میاں نواز شریف کے ہم آواز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اب بطور خاص مسلم لیگ (ن) کے قائدین کو سوچنا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی کے عفریت کی جانب دھکیلنے والی حکومتی پالیسیاں کہیں ان کیخلاف سازش تو نہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ یہ پالیسیاں برقرار رہیں تو پھر آئندہ انتخابات میں عوام مسلم لیگ (ن) کو بھی پیپلزپارٹی کے انجام سے دوچار کرکے اسے قصہء پارینہ بنا دینگے جبکہ اس سے عوامی فلاحی منصوبوں میں میاں شہباز شریف کی کامیابیوں کا سفر بھی کھوٹاہو سکتا ہے۔

Electrolux