کراچی میں اتائیت کے خاتمے کے بجائےفستائیت

محکمہ صحت کراچی اتائیت کے خاتمے کے نام پر شہر میں فسطائیت اور انارکی کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ مذکورہ صورتحال گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ بظاہر تو اتائیت کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی کوئی بھی ذی شعور شخص مخالفت نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن اتائیت کی آڑ میں اس اس گھنائونے کاروبار کو روکنے والے اگر خود ہولناک راہ پر چل پڑیں تو اس پر خاموش رہنا بھی جرم کو پروان چڑھانے کے مترادف ہے۔ خود جب اس کھیل کا آغاز ہوا تو ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر طاہر عزیز شیخ نے نہ صرف اس کارروائی سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا بلکہ اسی دوران انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مذکورہ صورتحال پر نہ صرف بات چیت کی بلکہ اس بارے میں اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ ڈاکٹر طاہر عزیز شیخ محکمہ صحت کے سینئر اور فرض شناس افسر ہیں اور عنقریب ریٹائر بھی ہونے والے ہیں اور سینئر سرکاری افسران خاص طور پر ریٹائرمنٹ کے قریب ہر ایسے کام سے گریز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ملازمت کے آخری دنوں میں وہ کسی سنگین الزام کی زد میں آکر خوامخواہ احتساب اور انضباطی کارروائیوں کی زد میں آجائے اور اوپر بیان کی گئی بات کے مطابق ایسا ہی ڈاکٹر طاہر عزیز شیخ نے بھی کیا۔ لیکن یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ محکمہ صحت سندھ کی موجودہ انتظامیہ کی یہ سب سے بڑی شناخت ہے کہ اس نے ڈاکٹروں کو کام چور اور کرپٹ تو ضرور قرار دیا لیکن کسی ایک کے خلاف بھی انضطاتی کارروائی نہیں کی گئی جس سے صورتحال کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کراچی میں اتائیت کے خلاف کارروائی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر منتظر حیدر اتائیت کے خلاف انہوں نے ایک سال سے جو کارروائی شروع کر رکھی ہے وہ یہ بتائیں کہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے کتنے نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے خلاف بے لاگ کارروائی کرکے کتنے کیس پولیس کے سپرد کئے اور کتنے کیس عدالتوں میں بھجوائے اور کتنے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ کیونکہ اتائیت صرف نجی شعبے میں ہی نہیں ہورہی ہے اور تمام سرکاری ہسپتال عین عالمی ادارہ صحت کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں۔ کراچی کا کون سا ضلع ہے جہاں ویزے پر گئے ہوئے ڈاکٹرز نہیں ہیں۔ یعنی وہ گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں اور اس کے عوض اپنی سرکاری تنخواہ کا چالیس سے ساٹھ فیصد تک رشوت ادا کررہے ہیں۔ ایسے ڈاکٹروں میں سے ڈاکٹر منتظر حیدر نے اب تک کتنے ڈاکٹروں کو پکڑ کر ان کے خلاف قانون کے مطابق کیا کارروائی کی انہیں ایک مخصوص نجی ٹی وی چینل کے ذریعے یہ بھی عوام کو بتانا چاہئے کیونکہ یہ بھی ان کی ڈیوٹی ہے۔ میڈیا میں ایک سے زائد بار یہ خبر آئی کہ سندھ گورنمنٹ اربن ہسپتال نیو کراچی کا ایم ایس ہفتہ میں حیدر آباد سے صرف دو روز آکر ڈیوٹی کرتا ہے اور پانچ روز ڈیوٹی مقام سے بغیر مجاز حکام کو تحریری اطلاع دیئے ہوئے غیر حاضر رہتا ہے اور سرکاری تنخواہ پورے ماہ کی وصول کرتا ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی پھر خود ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کے زیر انتظام ہسپتالوں اور صحت کے اداروں میں طبی عملے کے بجائے نیم طبی عملہ بھی عملے کے فرائض ادا کرکے خود سرکاری ہسپتالوں میں اتائیت پھیلائے ہوئے ہیں۔ ایسے اتائیوں کے خلاف انہوں نے اب تک کتنی کارروائی کی، یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ہونے والی اتائیت کے خلاف اب تک ایک کارروائی بھی نہیں کی گئی ہے اس کی بہت سی وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اتائیوں سے ملنا ملانا تو کچھ نہیں بلکہ یہ گلے پڑ گئے تو افسری بھی خطرے میں آسکتی ہے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کی اتائیت کے خلاف قائم ٹیم پر متاثرین کی جانب سے بہت سے الزامات کے ساتھ رقم بطور رشوت لینے کا بھی سنگین الزام ہے اور اختیارات سے تجاوز کی بھی بہت سی شکایات ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام سے کچھ کہنا سننا بے سود ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار جنہوں نے ہسپتالوں کی حالت سدھارنے اور اتائیت کے خاتمے کے خلاف جو ازخود نوٹس لیا ہوا ہے انہیں کراچی کے محکمہ صحت کی اتائیت کے خلاف فسطایت پر مبنی کارروائی کا بھی ازخود نوٹس لے کر اس معاملے کو بھی منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

Electrolux