کراچی کی ادبی ڈائری

٭کاظم پاشا کے اعزاز میں منعقد تقریب
بزم یاور مہدی کی 129 ویں تقریب TV کی معروف شخصیت کاظم پاشا کے اعزاز میں منعقد کی گئی جس کی صدارت عالمی شہرت یافتہ فنکار طلعت حسین نے کی ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ یاور مہدی کھلے دل کی پیار کرنے والی شخصیت ہیں۔ یہ ہماری تہذیبی روایت کا ستون ہیں۔ میں نے ریڈیو پاکستان سے ڈرامہ کرنا سیکھا جووقت میں نے ریڈیو میں دیکھا وہ ہماری تہذیب کا آخری وقت تھا۔ ریڈیو پاکستان کراچی آموز گاہ بھی تھی اور تربیت گاہ بھی جہاں سلیم احمد ، قمر جمیل، جمیل زبیری، احمد ہمدانی، ارم لکھنوی، اختر لکھنوی، تابش دہلوی، رضی اختر شوق، عالمتاب تشنہ، صہبا اختر، جیسی جید شخصیات ہماری تہذیبی و ثقافتی صورت گری کو پروان چڑھاتی تھیں ۔ مہمان خصوصی کاظم پاشا نے کہا کہ وہ ایک بینکر تھے ایک تقریب میں نظامت کرتے ہوئے جب یاور مہدی نے دیکھا تو مجھ سے کہا کہ آپ ریڈیو پر کیوں نہیں آئے اور یہ مجھے ریڈیو پر لے آئے آج میرے کردار میں جو خود اعتمادی ہے ۔ وہ یاور مہدی کی مرہون منت ہے اور نہ صرف میں بلکہ ہزاروں فنکار یاور مہدی کے فیض یافتہ ہیں۔ 2013 ؁ء میں جب جب مجھے تمغہ امتیاز دیا گیا تو میں فرانس گیا ۔ جہاں فرانس کی لائبریری میں دنیا بھر کے ادب کا ٹرانسلیشن موجود ہے۔ مجھے خوشی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ اس میں خدا کی بستی ، جانگلوس اور علی پور کا ایلی بھی موجود ہے ۔ آج میں جو کچھ ہوں وہ یاور مہدی کی وجہ سے ہوں ۔ انیل چوہدری نے کہا کہ میں نے ان سے بولنا سیکھا ہے میری کیا مجال کہ مین انکے سامنے بول سکوں ۔ میرے اندر جو تھوڑی بہت تمیز ہے وہ ان کی مرہون منت ہے ۔ آپ نے دوسروں کا شکار نہیں کھایا بلکہ اپنے ہیرے خود تراشے ہیں۔ فہمید احمد خان نے کہاکہ یاور مہدی میرے اُستاد ہیں میں نے اُن سے الف ب سیکھی ہے ۔ کوئٹہ سے آئے ہوئے تنویر اقبال نے کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ہم جن کی عزت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور آج یہاں ایسے ہی لوگ موجود ہیں۔ یاور مہدی آج بھی اہل علم دانشوروں ، فنکاروں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں جو بڑی بات ہے ۔ حنیف راجا نے کہا کہ یاور مہدی فن کی یونیورسٹی ہیں اور ہم طالب علم ۔ آغاز شیرازی نے کہا کہ میں نے یاور مہدی سے باقاعدہ فیض تو حاصل نہیں کیا مگر بے قائدگی سے یہ فیض ضرور ملا ہے ۔ ڈاکٹر نسرین پرویز نے کہا کہ گفتگو میں کہا کہ ریڈیو اور TV نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمیں کیا سننا اور کیا دیکھنا ہے ۔ کاظم پاشا کی صاحبزادی ندا کاظم نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو دیکھا اور ان کی صلاحیتیں اپنے اندر جذب کرلیں۔ اس موقع پر طلعت حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا جبکہ کاظم پاشا کو خصوصی یاد گاری شیلڈ پیش کی گئی۔ تقریب کی نظامت ندیم ہاشمی نے کی جبکہ معروف صحافی عبدالصمد تاجی نے تلاوت اور نعت مبارکہ پیش کی۔ اس موقع پر حاضرین کیلئے پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔

٭اُستاد بخاری کی یاد میں مشاعرہ
اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’استاد بخاری کی یاد میں سیمینار‘‘ اور مشاعرے کا انعقاد اکادمی ادبیات کراچی دفتر میں کیا گیا۔ صاحب صدر کے علاوہ مہمانان خاص ضیاء شہزاد اور نصیر سومرو تھے صدرِ محفل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ استاد بخاری ۱۹۵۰؁ء سے باقاعدہ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے آپ کی پہچان ایک عوامی شاعر کی حیثیت سے پوری سندھ میں جانی جاتی ہے ۔ آپ کی کم وبیش ۲۵ کتابین منظر عام پر آچکی ہیں۔ استاد بخاری سندھی شاعری کا ایک بڑا نام ہے آپ شاعری کی افق پر عوامی ترجم نگار کی حیثیت سے سامنے آئے آپ کی شاعری عشق ، حسن اور قومیت کا سنگم ہے۔ استاد بخاری کے شعورِ شعر کا تسلسل ہے ان کی شاعری میں زبان و بیان کی خوبی بھر صورت جھلکتی ہے شعر ی کاوشیں ہو یا فکر وفن کی اڑان ان کے ہاں ہم یہ تمام صلاحتیں بہ ہر صورت یقینی تصور کرتے ہیں ۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ ہم جب استاد بخاری کے ہاں شعر کو غزل کے سانچے میںڈھلتا دیکھتے ہیں تو رنگوں کی ایک پھوار نظر آتی ہے احساسات کی کڑیاں جڑتی نظر پڑتی ہیں فکر وفن کے ستونوں پر استواریہ عمارت ایک نئی جہت لئے غزل کو قاری سے آشنا کرتی ہے اور یہ شناسائی وقتی عمل کا حصہ نہیںبلکہ شعور شعر کی مکمل کیفیت کا آئینہ بن جاتی ہے۔اس موقع پر جن شعرا ء کرام نے کلام پڑھا ان میں ضیاء شہزاد، نصیر سومرو، صاحب خان میمن، عرفان علی عابدی، عارف شیخ عارف، اقبال سیہوانی، حبیب عشرت، سید اوسط علی جعفری، فہمیدہ مقبول، فرح دیبا،وقار زیدی، محمد رفیق مغل، قمرجہان قمر، کیئنڈا سے آئے سید منیف اشعر، امریکا سے آئے ہوئے حمیر اگل تشنہ ، سید صغیر احمدجعفری، تنویر سخن، دلشاد احمد دہلوی، غازی بھوپالی، ساجدہ سلطانہ راشد چاند، نشاط غوری،محمد مقطم صدیقی، عاشق شوکی، اکمل نوید، علی کوثر، ذوالفقار علی، اقبال رضوی، اقبال افسر غوری، الطاف احمد، نے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔ ه

Electrolux