سندھ میں گھوسٹ اساتذہ کی پشت پناہی کون کررہاہے؟

سندھ میں اسکولوں کی تعلیم اور خواندگی سے متعلق محکمے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ سے ظاہرہوتا ہے،کہ محکمہ تعلیم سندھ میں اصلاحات ،اساتذہ کی غیر حاضری کاسلسلہ ختم کرنے، تمام اساتذہ کو اسکول کے اوقات میں کلاسوں میں جاکر تدریس کی ذمہ داری پوری کرنے پر مجبور کرنے کے حوالے سے قطعی ناکام ہوچکی ہے اور حکومت کی جانب سے اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم رائج کرنے اور بعض دیگر اقدامات کے باوجود سندھ کے بیشتر اسکولوں میں اساتذہ اپنی ذمہ داریاں احسن طورپر پوری نہیں کررہے بعض اسکولوں میں تو اساتذہ وقت پر اسکول میں حاضری کوہی کسر شان تصور کرتے ہیں اوراسکول میں ڈیوٹی پر حاضری کے بغیر نہ صرف یہ کہ اپنی تنخواہیں باقاعدگی سے وصول کررہے ہیں بلکہ دیگر مراعات بھی سے بھی مستفید ہورہے ہیں۔

اسکولوں کی تعلیم اور خواندگی سے متعلق محکمے کی جانب سے ماہ مارچ کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں سرکاری سکولوں میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے یاپوری ڈیوٹی نہ دینے والے اساتذہ کی ایک لمبی فہرست شامل ہے ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اساتذہ کو ان کے غیرذمہ دارانہ رویئے پر متنبہ کیاگیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا ،ڈیوٹی پر آکرحاضری لگا کر غائب ہوجاناسندھ کے محکمہ تعلیم کاایک دیرینہ مسئلہ ہے۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم نے غیر حاضر رہ کر تنخوہیں وصول کرنے والے اساتذہ کو شرم دلانے کے لیے مختلف حربے آزمائے اور ان کی حاضری کویقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم بھی رائج کیا لیکن ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ کی تعداد اور رویئے میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آسکا ہے، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ خود کو محکمہ تعلیم کے افسران بالا سے زیادہ بااثر تصور کرتے ہیں بلکہ یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ ایسا تصور ہی نہیں کرتے بلکہ درحقیقت ایسا ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم ان کے سامنے بے بس ہے اوران کی مسلسل غیر حاضری کے باوجود نہ صرف یہ کہ ان کی تنخواہیں اورمراعات روکنے کی جرات نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں ملازمت سے برطرف کرکے ان کی جگہ فرض شناس اساتذہ کے تقرر کی بھی ہمت نہیں رکھتا۔ اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ جب تک غیر حاضر رہ کرتنخواہیں اورمراعات حاصل کرنے والے بددیانت اساتذہ کی سیاسی سرپرستی کاسلسلہ ختم نہیں کیاجائے گا اور درست انداز میں ڈیوٹی نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف ملازمت سے برطرفی سمیت سخت تادیبی کارروائیاں نہیں کی جاتیں صورتحال میں کسی طرح کی بہتری پیداہونے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔یہ صورت حال صوبے کوکرپشن سے پاک کرنے کے عزم کااظہار کرنے والے وزیر اعلیٰ سید مراد رعلی شاہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے،اس کام کے لیے وزیر اعلیٰ کو پہلے اس بات کاتعین کرنا ہوگا کہ گھوسٹ یعنی ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ کی پشت پناہی کون اورکس طاقت کے سہارے کررہاہے۔ صوبے میں تعلیم کامعیار بہتر بنانے اورعالمی بینک سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق سندھ میں تعلیم عام کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی کراکر اپنی اوطاقوں پر کام لینے والے اپنے بااثر وڈیروں اورسیاستدانوں کونکیل ڈالنے کی کوشش کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اس اعتبار سے ان کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب اساتذہ کلاسوں سے غائب ہوں گے تو پھر اسکولوں میں بچوں کی تعداد کس طرح بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس طرح تو جو والدین اپنے بچوں کواسکول بھیجتے ہیں وہ بھی ان کو گھرپر ہی بٹھانے کو ترجیح دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اور جب اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا تو اسکولوں کی تعمیر نو اور انفرااسٹرکچر میں بہتری لانے کی کوششیں کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فروری میں عالمی بینک کے وفد کوبتایا تھا کہ سندھ میں 4ہزار اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کاپروگرام بنایاگیا ہے تاکہ اسکول نہ جانے والے کم وبیش 60لاکھ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیاجاسکے ،وزیراعلیٰ نے عالمی بینک کے نمائندوں کوبتایاتھا کہ اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کے اس پروگرام پر کم وبیش 20کروڑ20لاکھ روپے خرچ کاتخمینہ لگایاگیاہے ،لیکن وزیر اعلیٰ خود بھی یہ بات اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں کہ قابل اور فرض شناس اساتذہ کے بغیر اس کثیر رقم کے خرچ کے باوجود نہ تو معیار تعلیم میں کوئی بہتری پیدا ہوسکتی ہے اور نہ ہی لوگوں کواپنے بچوں کواسکولوں میں داخل کرانے کی ترغیب دی جاسکتی ہے ۔

یہ ایک امر واقعہ ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو بہترین تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے اور اس مقصد کے لیے وزرااور ارکان اسمبلی کے کوٹے پر اساتذہ کی بھرتی کا موجودہ طریقہ کار ترک کرکے خالصتاً میرٹ پر اساتذہ کی تقرری کویقینی بنایاجائے اور اساتذہ کی تقرری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کے امتحانات کیمبرج طرز سے کسی برٹش کونسل جیسے بالکل غیر جانبدار ادارے کے ذریعے لینے کااہتمام کیاجائے۔دوران تعلیم طلبہ اور اساتذہ کو تمام تر ضروری سہولتوں کی فراہمی کویقینی بنایاجائے۔ اورمعیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کے بعد ان کی مناسب تربیت کاانتظام کیاجائے۔ اساتذہ کو ان کے سبجکٹ کے بارے میں پوری معلومات فراہم کی جائیں اور ہر مضمون کی تدریس کی ذمہ داری اس کے ماہر اساتذہ ہی کو سونپی جائے ،دوران ملازمت اچھی کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو انعامات اورایوارڈز سے نوازا جائے اور ڈیوٹی سے اغماض برتنے والے اساتذہ کوزیادہ سے زیادہ تین دفعہ کے انتباہات کے بعد ملازمت سے نہ صرف فارغ کردیاجائے بلکہ اساتذہ کی حیثیت سے اس کی تقرری پر ہمیشہ کے لیے پابندی عاید کردی جائے۔

یہ بات یقینا خوش آئند ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ میں معیار تعلیم بہتر بنانے اور صوبے کے تمام بچوں خاص طورپر لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہاں ہیں،یہ بجا طو ر پر ایک ترقی پسندانہ اورمثبت سوچ ہے لیکن اس سوچ کوعملی جامہ پہنانے کے لیے مستقل محنت اور توجہ کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے اور اس کرپشن سے بری طرح آلودہ محکمے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کرناہوں گے اس مقصد کے حصول کے لیے وزیر اعلیٰ کو نہ صرف خود اپنے بہت سے دوستوں بلکہ اپنے بعض طاقتور سرپرستوں کی ناراضگی بھی مول لینا پڑ سکتی ہے،لیکن اگر وزیر اعلیٰ واقعی آنے والی نسلوں کامستقبل بہتر بنانے اور سندھ کو ایک تعلیم یافتہ روشن خیال صوبے میں تبدیل کرناچاہتے ہیں تو انھیں جرات اورہمت سے کام لیتے ہوئے سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنا ہی ہوں گے بصورت دیگر اپنے دیگر پیشرووں کی طرح وہ بھی زبانی جمع خرچ کرکے گھر چلے جائیں گے اورصوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے عالمی بینک سے لیے گئے قرض کی رقم بمع سود بہرطوراس صوبے کے غریب عوام کوہی ادا کرنا ہوگی۔

Electrolux