ٍحکومت ماہ صیام کی آمد سے قبل کے الیکٹرک کاقبلہ درست کرے

سورج کے آنکھیں دکھاتے ہی کے الیکٹرک نے بھی شہرقائدکے باسیوں پرقہرڈھاناشروع کردیا۔ جیسے جیسے گرمی بڑھتی گئی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوتاچلاگیا۔ پہلے کے الیکٹرک نے گیس کی کمی کابہانہ تراشاجب یہ مسئلہ وزیراعظم شاہدخاقا ن عباسی کی کوششو ں سے طے پاگیاتوبن قاسم پاورپلانٹ میں خرابی پیدا ہو گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کراچی جیسے صنعتی شہرمیں جو سارے پاکستان کا ستر فیصد بوجھ اپنے کاندھوں پراٹھائے ہوئے نظرآتاہے بجلی کی آنیاجانیاں لگی ہیں۔کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کادورانیہ 14 گھنٹے سے تجاوز کر چکا ہے۔ دن کے اوقات میں تولوڈشیڈنگ کی جاتی ہی تھی اب تورات گئے بھی بجلی بندکرکے پریشان کیے جانے کاسلسلہ جاری ہے ۔

جوں جوں ماہ صیام قریب آرہاہے بجلی سپلائی کی صورت حال بدسے بدترہوتی نظرآرہی ہے ۔جوعام شہری سے زیاد ہ کاروباری طبقے کے لیے تشویش ناک ہے ۔دوسری جانب روزے داربھی ابھی سے انجانے خوف کاشکار نظرآتے ہیں۔کیو ں کہ محکمہ موسمیات نے مئی اورجون کے مہینوں میں کراچی میں سخت گرمی پڑنے کی پیش گوئی کررکھی ہے اورہیٹ ویوکاخدشہ بھی برقرارہے ۔ دوسال قبل ماہ صیام کے دوران ہی ہیٹ ویوکے باعث تقریبادیڑھ ہزارسے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے ۔ موجودہ رمضان میں بھی اگرہیٹ ویوجیسی سنگین صورت حال پیداہوئی اورکے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ کی طوالت کاسلسلہ برقراررکھاتوعام شہریو ں کے لیے خطرات دو چند ہو سکتے ہیں۔ایسے میں ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت وقت شہریوں کوسخت گرمی سہولت فراہم کرنے کے لیے کے الیکٹرک پردبائوڈالے اوراسے اپناسسٹم فوری طورپرٹھیک کرنے اورفرنس آئل کے استعمال پرمجبورکرے ۔

اس حوالے سے خوش آئندبات یہ سامنے آئی ہے کہ ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں کے-الیکٹرک کو خریدنے والی چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک کے نمائندوں کے دارالحکومت سے جاتے ہی حکومت نے مستقبل میں ادارے کی مالی لین دین کرنے کے لیے پہلے سے موجود معاہدے کے قانونی ڈھانچے میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں نجکاری کمیشن کی جانب سے پیش کردہ نظرثانی شدہ فریم ورک پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں کہا کیا کہ اس طرح کے قانونی اور مالیاتی پلیٹ فارمز کو بین الاقوامی معیار کی روشنی میں کام کرنا چاہیے اور پاکستانی تجارتی منڈی کی اہمیت اور ملک میں ہونے والی ترقی کو ثابت کرنے کے لیے بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر نجکاری دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی پہلی نجکاری کے بعد کیا جانے والا خریدو فروخت کا معاہدہ، قانونی انتظامات کے تحت صرف ایک انتظامیہ کو کمپنی کے اثاثوں کی منتقلی کی اجازت دیتا تھا، جس پر 10 سال قبل عمل ہوچکا ہے جب اسے ’ابراج کیپیٹل‘ نے خریدا تھا۔اسی وجہ سے پچھلے ایس پی اے کو مکمل طور تبدیل کیا گیا ہے جس سے اثاثوں کی منتقلی کی مختلف راہیں ہموار ہوں گی، جس کے تحت نہ صرف کے الیکٹرک کی ابراج گروپ سے چین کی شنگھائی الیکٹرک کو منتقلی کی جائے گی بلکہ کوئی بھی مشکل پیش ا?نے کی صورت میں مستقبل کی تمام لین دین بھی اسی تناظر میں کی جائیں گی۔

تاہم وفاقی وزیرِ نجکاری نے تجویز کردہ فریم ورک کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اسٹیک ہولڈرز، اس کے معاہدے کے قانونی، عدالتی اور مالی پہلوؤں پر غور کررہے ہیں جس کے بعد وہ اس بارے میں اپنی سفارشات پیش کریں گے۔اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی ابراج گروپ سے شنگھائی الیکٹرک کو منتقلی کے پیچھے بہت سے مفادات وابستہ ہیں، ابراج گروپ ایک کاروباری گروپ تھا جس میں اس قسم کی سہولت کو سنبھالنے کی تکنیکی مہارت کی کمی تھی جبکہ انہوں نے پیداوار اور تقسیم کے نیٹ ورک کو اس طرح بہتر نہیں بنایا جس طرح بنانا چاہیے تھا۔ دوسری جانب شنگھائی الیکٹرک ایک بین الاقوامی توانائی کمپنی ہے جو توانائی کی عالمی پیداوار میں 10 فیصد حصہ شامل کرتی ہے، جنہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے سال 2025 تک 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

دانیال عزیز کا مزید کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ شنگھائی الیکٹرک نے 2016 میں کے الیکٹرک کو ٹیک اوور کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے اب تک سیکیورٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ (این ایس سی) نہیں مل سکا حالانکہ یہی کمپنی پاکستان چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر میں شریک رہی ہے۔ واضح رہے مذکورہ سیکیورٹی کلیئرنس وفاقی کابینہ کی جانب سے دی جاتی ہے اور اس سلسلے میں کئی طرح کی دستاویزی کارروائیوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک کے مسئلے کو سی سی ای کے ایجنڈے میں مسلسل شامل کر کے اس پر بات چیت کی جاتی رہی ہے لیکن تمام تر بات چیت کا محور بہترین ٹیرف فراہم کر کے کے الیکٹرک کو فائدہ پہچانا رہا ہے۔

یہ ساری صورت حال اپنی جگہ تاہم اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتا کہ موجودہ وفاقی وصوبائی حکومتیں محض چند ہفتوں کی مہمان ہیں ۔جانے والی حکومت کے قائدین اس کوشش میں ہیں کہ آئندہ بھی ایوان مملکت انہی کے ہاتھ میں آئے اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ سارے ملک کی طرح اس بارکراچی سے بھی عام انتخابات میں واضح برتری حاصل کریں ۔ ایسے میں کے الیکٹرک کاقبلہ درست کرکے اسے صحیح طرح کام پرمجبورکرکے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم اوراس دورانیہ کم سے کم کراکے یہاں کے عوام کی ہمدردیاںحاصل کرنے کاموجودہ حکومت کے پاس یہ اب تک کاآخری اورنادرموقع ہے ۔

Electrolux