سرفرازالیون کااصل امتحان کل سے شروع،آئرلینڈترنوالہ ثابت نہیں ہوگا

پاکستان اورآئرلینڈکے درمیان ٹیسٹ میچ کل سے شروع ہوگا۔ جس کے لیے قومی ٹیم نے ڈبلن میں ڈیرے ڈال دیئے ۔ آئرلینڈکی ٹیم پاکستان کے خلاف اپنااولین ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے گزشتہ سال آئرلینڈ اور افغانستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس دیتے ہوئے پانچ روزہ فارمیٹ کھیلنے کا اہل قرار دیا تھا۔افغانستان کی ٹیم اگلے ماہ بھارت کے خلاف اپنا ڈیبیو ٹیسٹ کھیلے گی لیکن آئرلینڈ کی ٹیم ڈبلن میں رواں ہفتے 11مئی سے کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ کے ذریعے کھیل کا سب سے بڑا فارمیٹ کھیلنے والی دنیا کی 11ویں ٹیم بن جائے گی۔دیکھاجائے توقومی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پرمشتمل ہونے کے بعدخاصی مضبوط اورمستحکم ہے ۔ لیکن آئرلینڈکی ٹیم بھی ون ڈے کرکٹ میں اپ سیٹ کرکے دنیاکوحیران کرتی رہی ہے ۔

1877 میں میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلے گئے کرکٹ کی تاریخ کے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دی تھی لیکن اس کے بعد سے تاریخ میں آج تک کوئی بھی ٹیم اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل نہیں کر سکی اور اگر آئرلینڈ ایسا کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا اپ سیٹ ہو گا۔،گرین کیپس آئرلینڈ کے تاریخی موقع کو ناخوشگوار بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ بیشتر ناتجربہ کار کرکٹرز پر مشتمل پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کیخلاف 2ٹیسٹ میچز میں بھی ایک مشکل امتحان سے گزرے گی۔

اس سے قبل اپنی تاریخ میں پہلی بار طویل فارمیٹ کا میچ کھیلنے والے آئرلینڈ کیخلاف فتح اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، باقاعدہ مقابلے شروع ہونے سے کئی روز قبل انگلینڈ کا رخ کرنے والے گرین کیپس پریکٹس سیشنز کے بعد ٹور میچ میں کینٹ کے مقابل ہوئے تھے،پہلے روز مہمان بیٹنگ لائن ناکامی کی تصویر بن گئی،امام الحق کے سوا کسی بیٹسمین کو مزاحمت کا حوصلہ نہیں ہوا، اگلے 2 روز بارش کی نذر ہوئے،آخری دن لنچ کے بعد کھیل ممکن ہوا جس میں پاکستانی بولرز بھی رنگ نہیں جما سکے، البتہ نارتھمپٹن شائرکیخلاف دوسرے وارم اپ میں اچھی پریکٹس کا موقع ملا۔

اسد شفیق نے اپنے بیٹ سے گرد جھاڑی، جبکہ شاداب خان کی دس وکٹوں کی بدولت پاکستان نے وارم اپ میچ میں نارتھیمپٹن شائر کو 9 وکٹوں سے شکست دی۔نارتھیمپٹن میں کھیلے گئے میچ کے چوتھے دن میزبان ٹیم نے 240 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ سے بیٹنگ کا آغاز کیا تو سنچری بنانے والے روب نیوٹن پاکستان کی راہ میں حائل تھے۔دن کی ابتدا میں پاکستانی باؤلرز کو وکٹ لینے میں مشکلات پیش آئیں لیکن محمد عباس اور شاداب خان نے عمدہ اسپیل کے ذریعے قومی ٹیم کی میچ میں واپسی یقینی بنائی۔محمد عباس نے نیوٹن کی مزاحمت کا خاتمہ کر کے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی جنہوں نے 118 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔نیوٹن کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کو حریف ٹیم کی بساط لپیٹنے میں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں اور نارتھیمپٹن کی ٹیم 301 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں محمد عباس اور شاداب نے 4، 4 وکٹیں حاصل کیں، شاداب خان نے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں۔پہلی اننگز کی برتری کی بدولت پاکستان کو میچ میں فتح کے لیے صرف 133 رنز کا ہدف ملا۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو ابتدا میں ہی اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں اظہر علی کو پویلین لوٹنا پڑا۔اس کے بعد امام الحق کا ساتھ دینے حارث سہیل آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے بغیر کسی نقصان کے ٹیم کو ہدف تک رسائی دلا کر فتح سے ہمکنار کرایا۔دونوں کھلاڑیوں نے ناقابل شکست 120 رنز کی شراکت قائم کی، امام نے 59 اور حارث نے 55 رنز بنائے۔

وارم اپ میچ میں کامیابی کے ساتھ پاکستان کواپنے ہتھیاروں کی جانچ کاموقع ملا ہے لیکں اصل امتحان کل سے شروع ہوگا۔اس حوالے سے اگرآئرلینڈکی ٹیم کاجائزہ لیاجائے توگوکہ اس نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلالیکن اس کے کھلاڑی گرین کیپس کے خلاف مقابلے سے قبل خاصے پرجوش ہیں۔ یہ وہ ٹیم ہے جس نے 2007 کے ورلڈ کپ میں اس نے پاکستان کو اپ سیٹ شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کردیا تھا لیکن ٹیسٹ کرکٹ ان کے لیے بڑا امتحان ہو گا۔آئرلینڈ کے کپتان سوئنگ کے لیے سازگار کنڈیشنز کی بدولت پاکستان کے خلاف عمدہ کارکردگی کے لیے پرامید ہیں کیونکہ مئی میں بارشوں کے سیزن اور ٹھنڈ کی وجہ سے گیند بہت زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان سمیت ایشیائی بلے بازوں کو سوئنگ کے خلاف مشکلات پیش آتی ہیں۔

پورٹرفیلڈ نے مقامی اخبار آئرش انڈیپنڈنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئرلینڈ ہے، مئی کا مہینہ ہے لہٰذا یہ میچ ہمارے لیے سازگار کنڈیشنز میں ہو گا۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب برصغیر کی ٹیمیں ان کنڈیشنز میں آتی ہیں تو انہیں ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔آئرش کپتان اپنے ملک کے ان چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو انگلینڈ میں تواتر کے ساتھ کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف میچ میں اسی تجربے کو بروئے کار لا کر عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے پرجوش ہیں۔ماضی میں گلوسٹر شائر اور وارکشائر کی نمائندگی کرنے والے پورٹرفیلڈ نے کہا کہ انگلینڈ میں چیمپیئن شپ اور وائٹ بال میچز کے دوران ہم ٹیسٹ باؤلرز کا سامنا کرتے ہیں لیکن ٹیسٹ میچ کاؤنٹی میچز سے اس لحاظ سے مختلف ہو گا کہ یہاں باؤلرز ہمیں زیادہ بری گیندیں کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ہمارے پاس اسکور کرنے کے مواقع محدود ہوں گے اور ہمیں ہر بری گیند سے فائدہ اٹھانا ہو گا جبکہ باؤلرز کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا جہاں بلے باز انہیں دباؤ میں رکھیں گے اور ان کے پاس غلطی کرنے کی گنجائش بہت کم ہو گی۔تاہم پورٹر فیلڈ نے کہا کہ ہم 4روزہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور یہ ٹیسٹ میچ سے زیادہ مختلف نہیں، ہمارے بیٹسمین اچھی باؤلنگ اٹیک کے خلاف رنز کر چکے ہیں اور ہمارے باؤلرز بھی اچھے بلے بازوں کو آؤٹ کر چکے ہیں۔

Electrolux