سنگبازی کا افسوسناک رُخ

(آخری قسط)

اسی روز دوسرا واقع اسی شوپیان میں بھی پیش آیاکہ ترکہ وانگام شوپیان میں فورسز اور عسکری نوجوانوں کے درمیان جاری خون ریز جھڑپ کے دوران گولی لگنے سے ایک کمسن طالب علم شہیدہوا جبکہ دس دیگر زخمی ہوگئے ہیں جن میں ایک نوجوان کو انتہائی نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔کمسن طالب علم کی شہادت کے خلاف شوپیان ،کولگام اور پلوامہ اضلاع میں حالات پھر کشیدہ ہوگئے اور لوگ گھروں سے نکل کر احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔حکام نے جنوبی علاقوں میں انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ترکہ وانگام شوپیاں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک دفعہ پھر راست فائرنگ سے ایک کمسن طالب علم عمر احمد کمہارر ولد مرحوم محمد عبداللہ کمہار موقعے پر ہی شہیدہوا جبکہ شدید طورپر زخمی ہونے والوں کی تعداد دس بتائی جارہی ہے جن میں عنایت احمد ملہ ساکن ملہ ڈھیرہ شوپیان کو نازک حالات میں سرینگر منتقل کیا گیا۔میڈیاکے مطابق بدھ کی شام پانچ بجے کے قریب فورسز نے شوپیاں کے گنہ پورہ ترکہ وانگام گائوں کو جونہی محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود آس پاس علاقوں کے نوجوان گھروں سے باہر آئے اور فورسز پر پتھرائو شروع کردیا۔ اس دوران پہلے سے تعینات فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ پلیٹ فائرنگ کی۔ ذرائع نے بتایا کہ پلیٹ اور بلٹ فائر کرنے کے نتیجے میں دس کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رات دیر گئے عسکری نوجوان محاصرہ توڑ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔ایک معصوم طالب کی شہادت اور دیگر دس زخمی نوجوانوں کے زخمی ہونے کی کسی نے بھی مذمت نہیں کی ۔

اس طویل تفصیل کے بعد اب آئے اصل بحث کی طرف جس کا اشارہ ہم نے ابتدا میں کیا تھاکہ آخر ہمارے سیاستدانوں اور لیڈروں کے ہاں اصول کیا ہیں ؟ان کے نزدیک ظلم کیا ہے اور انصاف کیا ہے ؟ایک ہی دن میں دو واقعات اور سانحات پیش آئے۔پہلے واقع کی ہر طرف سے مذمت کی گئی اور یقیناََ کرنا ضروری تھی مگر افسوس صد افسوس کہ دوسرے سانحہ پر خاموشی اختیار کی گئی ۔سب سے پہلے ہم یہاں سنگ بازی سے متعلق چند باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔آپ کو یاد ہوگا سب سے پہلے شہیدمولانا شوکت احمد شاہ صدر جمیعت اہلحدیث جموں وکشمیر نے سنگبازی کی مطلق مخالفت کی تھی جس پر بعض حلقوں کی طرف سے شوکت صاحب کی کھل کر مذمت کی گئی ۔کچھ نے دبی زبان میں اور کچھ نے کھلے عام ،حتیٰ کہ بہت سارے لوگوں نے شوکت صاحب کو انڈین ایجنٹ قراردیکر بلاآخر موت کے منہ میں دھکیل دیا مگر بہت کچھ جاننے کے باوجود آج بھی ان کے قتل کو بعض بد طینت افراد و اصحاب نے صرف اس لیے مشکوک بنا رکھا ہے کہ وہ ان کے من مزاج کے مطابق بات نہیں کرتے تھے یا ان کی وہ من مانی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔سنگ بازی نے 2008ء کے بعد خاصا جارحانہ رُخ اختیار کر رکھا ہے ۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس کسی بھی طرح کے ’’پر امن احتجاج‘‘کی کشمیریوں کواجازت نہیں دیتی ہے جبکہ بانہال کے اس پار اس طرح کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔وہاں لوگ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے گھر کے سامنے بھی احتجاج کر سکتے ہیں ۔یہاں شہر تو شہر گاؤں میں بھی احتجاج کی اجازت نہیں ہے حتیٰ کہ کشمیر کی بہادر پولیس ’’معذورین اور اندھوں‘‘کو بھی احتجاج کرنے کی اجازت فراہم نہیں کرتی ہے کیوں ؟اس لیے کہ یہ کشمیر ہے اور کشمیر میں ’’زبان بندی کا دستور دلی والوں نے لاگو کر رکھا ہے اور کشمیر پولیس یہ سمجھتی ہے کہ وہ کشمیر کے نہیں دلی کے ملازم ہیں لہذا اس وفاداری کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو ہر وقت تیاررہتے ہیں۔

گزشتہ دس برس میںہورہی سنگبازی اب اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں اس کو لیکر اب بہت پریشان ہیں کہ آخر ایک نہتا انسان آپریشنل ایریامیں آکر اپنی جان کو کیوں خطرے میں ڈال رہا ہے ؟پہلے پہل دلی والوں نے اس کے تانے بانے ’’پاکستانی پیسوں‘‘کے ساتھ جوڑ دئے مگر اب NIAکے آپریشن کے ختم ہونے بعد وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لیے کہ سنگبازی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے ۔چند روز قبل اسلام آباد کو دو چھوٹے قصبہ جات عیش مقام اور سری گفوارہ میں بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جب ’’میلوں‘‘میں مصروف لوگوں کی بھیڑ میں نوجوانوں نے چند پولیس والوں کو دیکھا گویا اب ہمارے نوجوان پولیس کو دیکھتے ہی گویا الرجی کے شکار ہو جاتے ہیں اور یہ معاملہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے خود سمجھنے اور غور کرنے کا ہے ہمارا نہیں ۔البتہ افسوس اس بات کا کہ ہے اب ہمارے ہاں سنگ بازی بھی تمام تر حدود قیود کو توڑ کر خوفناک رُخ پر جا رہی ہے ۔2010ء کے بعد2016ء میں میں نے نوجوانوں سے کئی مقامات پر یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ آپ سنگبازی کو نہ اپنا شعار بناؤ اور نا ہی مشغلہ اور جیسا کہ گیلانی صاحب نے بہت پہلے کہا تھا کہ نوجوان پتھراٹھانے پر تب مجبور ہو جاتے ہیں جب انہیں پر امن احتجاج سے زبردستی روکا جاتا ہے ۔ہم نے کئی مرتبہ یہ دیکھا کہ نوجوان ہڑتال میں بسااوقات عوام الناس سے انتہائی سختی کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔حتیٰ کہ اپنے ہی بھائیوں کے گاڑیوں اور ہسپتالوں کی ایمبولینسوں کی بھی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور 2016ء میں نوجوانوں نے تمام تر ریکارڈ اسی طرح توڑ دئے جس طرح پولیس نے انتقام میں نہ صرف گھروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی مہم چھیڑی بلکہ بجلی ٹرانس فارمروںتک کو گولیوں سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا ۔احتجاج سے انکار نہیں مگر اس کو اپنی ہی عوام کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہو سکتا ہے ۔ اگر 2مئی کے روز کسی پتھر سے کوئی بچہ مارا جاتا یا خوف زدہ ہو کر مرجاتا تو کشمیری قوم کس قدر شرمندہ ہو جاتی ۔

حریت قیادت، حکومت اور پولیس کے جارحانہ رویے سے تنگ آکر بعض مسائل پر چپ سادھ لیتی ہے مگر یہ معاملات اب دن بہ دن خوف ناک حدود کو چھو رہے ہیں ۔اس کی ایک تازہ مثال طلباء کا دو مہینوں سے جاری احتجاج ہے ۔میں نے لیڈران سے ذاتی طور پر اس اشو پر راست گفتگو کرنے کی گزارش کی تھی مگر میں یہ دیکھ کر مایوس ہوا کہ وہ دلچسپی کا مظاہرا نہیں کرتے ہیں بلکہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں ۔دو مہینوں سے جاری احتجاج ’’آصفہ‘‘کے وحشیانہ قتل پر ہو رہا ہے ۔طلبا آصفہ کی مندر میں عصمت ریزی کے بعد قتل کے خلاف اپنے غم و غصے کے اظہار میں یہ بھی بھول رہے ہیں کہ وہ جس حکومت سے انصاف اور جسٹس کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کے ہاں اس کے لیے ایک ’’نظام ‘‘ہے ہمیں اس نظام سے لاکھ اختلاف صحیح مگر ہم نے درست نظام کے نفاذ تک اسی میں ایسے وحشیانہ جرائم کے سدباب کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا ۔حکومت نے ملزمین کو گرفتار کر کے تحقیقات مکمل کر لی ہے ۔کیس عدالت میں ہے جہاں شنوائی کے بعد نئے قانون کے مطابق دو مہینوں میں اس پر فیصلہ آنے والا ہے ۔ہم چاہیے جتنا بھی احتجاج کریں یہ فیصلہ عدالتی لوازمات کے پورا ہونے اور چند تیز سماعتوں کے بعد آ ہی جائے گا لہذا پوچھا جا سکتا ہے کہ ہمارے طلبا گذشتہ دو مہینوں سے باربار کلاسز چھوڑ کر کیوںاحتجاج کر رہے ہیں ؟ہاں یہ ضرور ہے کہ محدود وقت کے احتجاج جو پتھراؤ کے بغیر بھی ہو سکتا ہے کو حکومت پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے جاری رکھنا ضروری ہے جو کلاسز کے ختم ہونے کے بعد صرف دس بیس منٹ کے لیے بھی کیا جاسکتا تھا تاکہ حکومت اور بیروکریسی میں لال سنگھ جیسے لوگوں کے دباؤ کا توڑ کر کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے اس لیے کہ یہاں چپ سادھ لینے پر آصفہ ،آسیہ اور نیلوفر جیسے کیس ہمیشہ کے لیے ختم کیے جا سکتے ہیںالبتہ اب ہماری نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ’’کشمیر کی تحریک‘‘کا مقصد طویل المدتی جدوجہد کا متقاضی ہے اس میں ’’شارٹ کٹ‘‘تلاش کر کے فوری نتائج تک پہنچنے سے ہم ہی تھکیں گے دلی والے نہیں ۔شارٹ کٹس سے ہمیں نقصانات سے دوچار ہونے کا خطرہ موجود ہے اور ہمارا حریف یہی چاہتا ہے کہ ہم صبر کے بجائے عجلت ،اعلیٰ اخلاق کے برعکس بد اخلاقی ،بلندکردارکے بجائے پستی ،اپنوں سے اخوت و غمگساری کے بجائے نفرت اور تشدداور اطاعت کے بجائے بغاوت کا مظاہرا کریں ۔ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل میں تحلیل ہونے کے بجائے اعلیٰ کردار کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگا ۔اور یاد رکھنا ہوگا کہ احتجاج کرتے ہو ئے ہم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نا ہو جو ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنے اور ہمارا دشمن پورے عالم میں ہمارے خلاف تماشہ برپا کر دے ۔

Electrolux
الطاف ندوی کشمیری مقبوضہ کشمیر کے معروف دانشور ہیں۔ آپ کشمیر کے مختلف اخبارات و جرائد کے لیے لکھتے ہیں اور ’’کشمیر ،عیسائی مشنریز کے نشانے پر ‘‘ کے علاوہ تین مزید کتابوں کے مصنف بھی ہیں