محکمہ آثارقدیمہ کی نظروں سے اوجھل’’ڈگری ‘‘کے تاریخی مقامات

ڈگری تحصیل تاریخی حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ مذکورہ تحصیل کے گردو نواح میں کئی تاریخی مقام موجود ہیں۔ جو اب تک تاریخ دانوں اور محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ڈگری کے نواحی گاؤں رانوں رمدان کے قریب دیھ 175 میں میندھروں کے ٹیلے جنہیں سندھی زبان میں (میندھرن جا بھٹ) کہا جاتا ہے کہ پران دریا کے کنارے دوسو بیس ایکڑ زمین پر مشتمل ہے۔ آثار قدیمہ کی عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے ستر سے اسی ایکڑ زمین پراطراف میں قبضہ ہوچکا ہے۔ اور زمین آباد کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈگری پریس کلب کے وفد نے جنرل سیکریٹری نصیر قریشی کی قیادت میں گذشتہ روز تاریخی مقامات کے حوالے سے ڈگری کے قریب گوٹھ رانو رمدان میں میندھروں کے ٹیلے کا دورہ کیا۔ وفد میں فرحان منہاج۔وسیم قریشی۔آغاروز امان اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر مقامی سماجی شخصیات فیض محمد رمدان اور ولی محمد دل جو قاسم فقیر درس کے مجاور ہیں نے معاونت کی اور بتایا کہ اس ریتلے ٹیلوں میں کافی جگہوں پر کہا جاتا ہے کہ خزانہ دفن ہے۔ لوگ خزانے کی تلاش میں رات میں کھدائی کرتے نظر آتے ہیں کہ کہیں خزانہ وغیرہ مل جائے ایسے شواہد تو نہیں ملے کہ کسی کو خزانہ ملا ہو لیکن برساتوں میں گرد و نواح کے عام لوگوں کی تلاش کا مرکز یہی دڑے بن جاتے ہیں اور اس دوران لوگوں کو پرانے زمانے کے نوادرات سکے زیورات وغیرہ ملے ہیں . تاریخ کے حوالے سے پانچ سے چھ ہزار سال پرانی نوادرات بھی لوگوں کوملی ہیں اور یہ غلط نہ ہوگا کہ میندھروں کا ٹیلہ موہن جو دڑو کے دور کی مشابہت رکھتے ہوے اس سے بھی پرانی تہزیب کی عکاسی کرتا ہے جن میں اینٹوں پر ہاتھ سے بنے ہوے نقش و نگار اس زمانے کے مٹی سے بنی ہوئی ہاتھ کی ہر قسم کے غلے کو پیسنے والی چکیوں کے ٹکڑے عام دھڑوں پر بکھرے ہوے ہیں اگر نبی سر تھر کے ساتھ نوھٹوں کی کھدائی کے ساتھ اس میندھرو کے دھڑے کی بھی کھدائی شروع کی جائے تو یہاں سے بھی آثار قدیمہ کو بہت فائدہ ہوگا .میندھروں کے دھڑے سے ملنے والے قیمتی نوادرات کو ملک کے میوزیم میں سجایا جا سکتا ہے اس علاقے کے مشہور ادیب تاریخدان کالم نگار ( مرحوم ) فقیر بشیر خان لغاری نے بھی اپنی کتاب میں میندھروں کے حوالے سے اپنی کتا ب(پورب موں پندھ) میں ذکر کیا تھا اس جگہ کے بارے میں ایک عربی شاعر نے عربی زبان میں بھی اس کا زکر کیا ہے

(ارہ اسرہ ککرہ کیکوہ مندھرہ.) جس کا ترجمہ سندھی زبان کے مورخوں نے اس طرح کی ہے
اھڑا. اسرا کوہ کھریو کنھن کھری میندھرو

ا س سے ثابت ہوتاہے کہ اس زمانے میں عربوں کی یہاں آمد ہوا کرتی تھی۔
قاسم فقیر درس جو عمرکوٹ سے اس دور میں یہاں میندھروں کے دڑے پر آئے ہیں جب سندھ میں کلہوڑا خاندان کی حکمرانی تھی اور یہاں پر ہی اس بیابان میں اکیلے رہتے ہوے انتقال کر گئے آج ان کی قبر اسی میندھرا کے دڑے پر موجود ہے اس کے مجاور ولی محمد دل نے بتایا کہ سالانہ چندہ کر کے قاسم فقیر درس کے مزار پر ان کے ایصال ثواب کے لیے لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے جو بچوں اور علاقے کے لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ اور حکومت وقت نے اس تاریخی مقام پر توجہ نہ دی تو اس کابھی نام ونشان مٹ سکتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کو ایسے تاریخی مقامات پر توجہ دینی چاہئے تاکہ قومی ورثہ کو محفوظ کیا جاسکے۔اور ان کی باقیات کو بچانے کے اقدامات کر نے چاہیے۔

Electrolux