جرأت مندشاعرہ غزلؔ جعفری سے کرن صدیقی کا مکالمہ

لوح و قلم کی اپنی تہذیب ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ملک کے نامور شعرا اور شاعرات نے ہر دور میں قلم سے جہاد کیا، انقلابی نظمیں ،طرحی مشاعرے ہمارے ادب کا خاصہ رہے ۔ گزشتہ 30 برسوں سے ہمارے نئے لکھنے والوںنے اپنے مخصوص انداز کے باعث لوگوں میں شہرت پائی جن میں شعراا ور شاعرات کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن ہماری آج جس شاعرہ پر نظر گئی وہ اپنے لب و لہجے میں بے انتہا کشش رکھتی ہیں، ان کے لکھنے کا انداز منفرد ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ غزل جعفری شاعرِ پاکستان کیف بنارسی کی صاحب زادی ہیں جن کی نظم

’’لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان

وہ نظم تھی جس نے تحریکِ پاکستان میں ولولہ اوراسے وہ حوصلہ عطا کیا جس کے باعث پاکستان دنیا کے نقشے پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ غزل جعفری چیئرپرسن ہیں کلچر اینڈ آرٹ فورم کی اوربانی ہیں اے جے پروڈکشن کی۔ غزل جعفری کی 4کتابیں آچکی ہیں جب کہ آج کل ان کی پانچویں کتاب ’’ میری آنکھوں نے کیا کیا دیکھا‘‘ زیرِ طبع ہے جس میں وہ مصروف ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان بسنت مشاعرہ کااہتمام کیا جو کافی کامیاب رہا جس کے لیے ہم غزل جعفری کو مبارک بادپیش کرتے ہیں۔ان کا صحافت سے بھی تعلق رہاہے وہ ایک مقامی روزنامہ میں ’’اندازِ بیاں‘‘ کے نام سے کالم لکھتی رہی ہیں۔ غزل جعفری سے ہم نے انٹرویوکیاہے جو نذرِ قارئین ہے:
السلام وعلیکم : غزل جعفری صاحبہ
وعلیکم السلام: خوش رہیے …آباد رہیے… آداب
س: غزل جعفری صاحبہ! آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا؟

ج: شاعری میرے خون شامل تھی۔ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کب شروع کی۔ ہاں پہلا شعر آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی جب کہا۔ وہ اتنا بھرپور تھا کہ گھر والوں کو یقین ہوگاکہ یہ آگے چل کر خاندان کا نام ادب میںروشن کرے گی … وہ شعر تھا:

دیکھا ہے جب سے تم کو عجب حال ہے مرا
لگتا ہے جیسے تم ہی مرے ہم خیال ہو

اس شعرکی پسندیدگی کے بعدمیں نے اسی زمین میں غزل کہہ ڈالی جو داد کی مستحق رہی۔
س:اس کا مطلب ہے کہ شاعری کا ہنر آپ کو کیف بنارسی سے ورثہ میں ملا ؟
ج:شعر کہنا میری وراثت ہے۔میرے اجداد کی عطاہے ۔یہ ورثہ مجھے بالکل والد صاحب سے وراثت میں ملا مگر شاعری میں والد صاحب کی شاعری کی چھاپ نہیں ہے۔
س: شاعری کا اکثر موضوع کیا چیز رہی؟
ج: عورت جہاں کائنات کا حسن سمیٹے ہوئے ہے وہیں فساد اور فتنہ بھی ہے۔ اس لیے میری شاعری عورت کے گرد گھومتی ہے کیونکہ میں جانتی ہوں مرد دنیا کی کمزور ترین چیز ہے جسے مضبوط عورت بناتی ہے عورت جن مسائل سے دوچار ہے وہ تمام مسائل آپ کو میری کتاب میں ضرور نظر آئیں گے۔

س : آپ نے مشاعرے کب پڑھنے شروع کیے؟
ج: میں نے 1982ء سے مشاعرے کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس زمانے میں حقیقت تو یہ تھی کہ شوکت زیدی صاحب جو انکم ٹیکس کمشنر تھے ایلیٹس کالج کے بانی تھے۔ انہوں نے مشاعروں کو فروغ دیا۔ دوسری اہم بات اس زمانے میں ہرادارے کی ایک ادبی کمیٹی ہواکرتی تھی جس کے تحت مشاعروں کی فضابنی ہوتی تھی۔ اسی زمانے میں عالمی مشاعرے تیزی سے ہوا کرتے تھے بینکرز اکیویٹی کے تحت پاک لینڈ کے محسن طارق صاحب اسٹیل ملز کے مشاعرے الائیڈ بینک ، نیشنل بینک تقریباً ہر ادارہ ادبی نشست سجانے میں تیار رہتا تھا لیکن زیادہ مشاعروں کا انعقاد عالمی مشاعروں کی صورت میں ہوا جس میں ہندوستان سے آئے ہوئے شعرا اور شاعرات کا اہم کردار رہا پھر تو دنیا بھر سے شعرااور شاعرات کی آمد ورفت رہی مگر ہندوستان کے شعرا اور شاعرات نے خوب فائدہ اُٹھایا ۔ ایرو کلب ۔ نیشنل اسٹیڈیم اور بڑے بڑے صنعت کاروں کے گھروں پر یہ محفلِ مشاعرہ ہونے لگی جس میں شعرااور شاعرات کی مالی معاونت کی جاتی تھی اور تحفے تحائف بھی کھلے دل سے دیئے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر ایک ان مشاعروں میں شرکت کرنا چاہتاتھا۔آرٹس کونسل ،جیم خانہ اور کافی انڈسٹریز ان مشاعروں کو داد و تحسین پیش کرتے تھے ۔شعرا اور ادیبوں کے شان میں قصیدے اور اشعار نذر کرتے تھے، وہ بڑا سہانا اور یادگار دور تھا۔ ہم نے بھی کافی مشاعرے اس دوران پڑھے اور حنا تیموری، ریحانہ نواب اور تسنیم صدیقی ہماری دوست بن گئیں اور پھر جب 1991ء میں پہلا ایشیا خواتین مشاعرہ دبئی میں ہوا تو ہم نے یہ مشاعرہ پڑھا اور داد وصول کی۔ سلیم جعفری صاحب نے پہلا خواتین مشاعرہ ’’ غزل و غزال‘‘ کے نام سے دبئی میں کیا پاکستان اور ہندوستان کی کافی شاعرات نے شرکت جوکہ دبئی ، شارجہ،العین، دوحہ، ابوظہبی میں منعقد کیاگیا وہ ہم نے پڑھا، اس کے بعد کافی مشاعرے پڑھے مگر پھر بعد میں ادبی مشاعرہ کی فضانے کروٹ بدلی اور عالمی مشاعرہ میں گروہ بندیاں شروع ہوگئیں تو ہم نے مشاعرے میں کم شرکت کی اور لکھنے کے عمل کو تیز کردیا۔
س: آپ کا شعری مجموعہ کب آیا؟
ج: ہمارا پہلا شعری مجموعہ ’’میں غزل ہوں‘‘ 1995ء میں آیا جس میں تقریباً چاروں صوبوں سے شعرا نے مقرر کی حیثیت سے شرکت کی جو میرے لیے باعثِ فخر تھا۔ اس کتاب کے مہمان خصوصی فخر زماں صاحب تھے جو اکادمی ادبیات کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ثقافت تھے انہوں نے شرکت کی کیونکہ وہ خود ایک ادبی آدمی تھے۔ انہوں نے شعرا اورادیبوں اور فنکاروں کے لیے بے انتہا اچھے کام کیے جو قابلِ فخر تھے۔

س: آپ نے شاعری میں کس سے اصلاح لی؟
ج: ہاں زبردست سوال ہے۔ میرے استاد محترم محسن بھوپالی صاحب تھے۔ انہوںنے میرے لیے بے انتہا تو قعات رکھی تھیں۔ انہوں نے مجھے ہائیکو کی طرف اور نظمانے کی طرف راغب کیا جو ادب میں ایک نئی صنف تھی۔ جاپان قونصلیٹ میںاکثر مشاعرہ ہوا کرتا تھا۔ ہائیکو مشاعرہ لیکن بعد میں وہ صنف اتنی مقبول ہوگئی کہ آج کل ہر ایک ہائیکوپر طبع آزمائی کررہا ہے۔ یقیناً پاکستان اور جاپان کی محبت ایک مثالی محبت ہے۔ اس پرلکھنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔
محسن بھوپالی صاحب نے ہمیشہ دستِ شفقت رکھا، ان کے جلدی دنیا سے چلے جانا تکلیف کا باعث ہے ۔خدا ان کی مغفرت فرمائے درجات بلند کریں۔آمین۔

دوسرا شعری مجموعہ ’’انتظارِ وفا‘‘ جو 2000ء میں آیا۔ اس شعری مجموعہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا سندھی ترجمہ ہمارے سندھی ادب کابڑانام تاج بلوچ صاحب نے کیا تھا جو میرے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ میں ہمیشہ تاج بلوچ صاحب کی مشکور رہوں گی کہ انہوںنے میری شاعری کو سندھی ترجمے کے ساتھ پیش کیا۔

اس کے بعد کتابچے کی صورت میں ہائیکو شاعری ’’اُبھرتا سورج ‘‘کے نام سے آیا اور 2016ء میں میری کتاب ’’صنم سے خدا ہونے تک ‘‘آئی جس کو کافی پذیرائی ملی اور آج کل ’’میری آنکھوں نے کیا کیا دیکھا‘‘ پر کام کررہی ہوں۔ انشا اللہ جلد ہی آپ کو مل جائے گی۔

س: آج کل کے مشاعروں کے بارے میں کیا کہیں گی؟

ج: آج کل حالات اچھے ہوگئے ہیں۔ ایک بار پھر مشاعروں کی فضا بن رہی ہے مگر آج کل مشاعروں میں کلام سے زیادہ مقام پر جھگڑا ہے۔ میں اس بات کے قطعی خلاف ہوں۔ مقام صرف میرے خدا کا ہے۔ کلام اپنا ہونا چاہیے بس ہم لوگ جس دور سے پڑھ رہے ہیں کبھی اس بحث میں نہیں پڑے کہ پہلے کیوں پڑھوادیا بعد میں کیوں۔ خواتین ویسے بھی رات دیر تک نہیں بیٹھ سکتیں۔ اب تو حالات کافی بہتر ہیں پھر رات تک بیٹھنا مشاعرے میں خواتین کا صحیح نہیں اس لیے نظامت کرنے والے کی ذمے داری ہے کہ خواتین شاعرات کو سوائے ان کے جو کافی سینئر ہیں ان کی صدارت یا پہچان اعزازی تو نہیں اس لیے انہیں زیادہ تر زحمت دی جاتی ہے ورنہ تو مشاعرے کی فضا آج بھی 20 یا 25 سال پہلے والی نہیں ہے۔

س:کیا آپ مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کررہی ہیں؟

ج : بالکل، جہاں بلایا جائے ضرور جانا چاہیے اور پڑھنا بھی چاہیے اور اس لیے بھی جانا چاہیے کہ نئے لکھنے والے کیالکھ رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ نئے لکھنے والوں میں بہت سے نام ایسے ہیں جو داد کے مستحق ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں۔

س: ترنم میں بھی پڑھتی ہیں آپ، سنا ہے، پُراثر آواز ہے؟
ج: تحت اللفظ اور ترنم دونوں میں پڑھتی ہوں ۔ایک وقت تھا لوگ ہمیں ترنم میں پڑھنے پر ہندوستان کی شاعرہ سمجھتے تھے مگر مشاعرہ کا ترنم الگ ہوتا ہے اسے اپنی آواز میں اچھے سے پڑھ دیا جائے ۔انڈیا کے اکثر شعرااور شاعرات قوالوں کی شاگرد ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ترنم پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہندوستان کی شاعرات ہندی میں آٹو گراف دیتے ہیںجو قابلِ فکر بات ہے ۔
شکریہ غزل جعفری صاحبہ…!

Electrolux