کراچی کی ادبی ڈائری

٭’’ ورلڈ بک ڈے‘‘ پر آرٹس کونسل لائبریری
کمیٹی اور سوشل اسٹوڈنٹس فورم کی تقریب
سوشل اسٹوڈنٹس فورم اور آرٹس کونسل لائبریری کمیٹی کے اشتراک سے ’’ورلڈ بک ڈے‘‘ کے سلسلے میں پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ تقریب جناب سعید الظفر صدیقی نے کہا کہ پوری دنیا میں کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز ریسرچ اور جدید علم پر مہارت ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علم و حکمت پر عمل کیا، ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے طالب علموں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیں۔ قبل ازیں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان نے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم فورم کی جانب سے تعلیم و صحت کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہماری دلی خواہش اور کوشش ہے کہ ہم اس معاشرے میں صحت مندانہ سرمگرمیاں جاری رکھیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق مشیر اقبال یوسف نے کہا کہ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں مثبت علم کو پھیلانا بھی عبادت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ علم کو عام کیا جائے۔ لائبریری کمیٹی کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا کہ ہم آرٹس کونسل میں ہر مثبت سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ پروگرام بھی لائبریری کمیٹی ہی ترتیب دیتی ہے۔ تقریب سے رضی الدین سید نے کہا کہ میں نے 30 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ علم کو فروغ دیا جائے، انسانوں کا احترام کیا جائے، مذہبی اور نسلی منافرت کو دور کیا جائے اور انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔

معروف کوئز کے بے تاج بادشاہ ذکی احمد ذکی نے کہا کہ میں نے اب تک 32 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور اِن شاء اللہ مزید 50 کتابیں جلد منظر عام پر آئیں گی۔ رضی الدین سید نے کہا کہ اچھی کتاب لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گہرا مطالعہ ہو۔ تقریب سے ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ آج کے دور میں کتاب پڑھنا، کتاب لکھنا ایک معجزہ ہے، مگر اچھی کتابوں کو سنبھالنا سب سے مشکل کام ہے۔ میرے والد نے ڈیڑھ لاکھ کتابیں گفٹ کی ہیں جن کو سنبھال کر رکھنا بھی ذمے داری والا کام ہے۔ عنبریں نے بڑے طنزو مزاح کے ساتھ محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ تقریب سے صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، م ص ایمن، سید شائق ایاز، فہیم برنی، وقار زیدی، ناز عارف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مہمانوں میں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان، وائس چیئرمین فہیم برنی، سید شائق ایاز، سینئر نائب صد رمحمد رفیع احمد خان نے ایوارڈز تقسیم کیے۔ ان میں صدرِ تقریب سعید الظفر صدیقی، رضی الدین سید، ذکی احمد ذکی، حمیدہ کشش، سہیل احمد ، وقار زیدی کے نام شامل تھے۔

٭ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں

اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں ‘‘ اور مشاعرے کا انعقاد اکادمی ادبیات کراچی دفتر میں کیا گیا جس کی صدارت امریکا سے آئے ہوئی معروف شاعرہ ،دانشور، ڈاکٹر صبیحہ صبا نے کی، مہمان خاص سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل تھے، صدر محفل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دنیا کی بڑی زبانوں کی فہرست پر نظر دڑوائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کی زیادہ بڑی زبانیں وہی ہیں جن میں دوسری زبانوںکے علمی و ادبی سرمائے کے زیادہ سے زیادہ تراجم ہوئے ہیں، آج انگریزی زبان محض اس لئے پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میںجب کوئی قابل ذکر ادبی کتاب چھپ کر منظر عام پر آتی ہے تو اس کا انگریزی میں فوراً ترجمہ ہوتاہے ۔مثلاً اگر ہمیں فرانسیسی کی کوئی کتاب پڑھنی ہوتو ظاہرہے ہمیں انگریزی کے ذریعے ہی اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ممالک میںبھی جہاں انگریزی زبان نصاب کے طور پر نہیں پڑھائی جاتی انگریزی سیکھنے کا رجحان بڑھ رہاہے۔ اس وقت پاکستان میںبھی ۱۸؍ زبانیںبولی جاتیںہیں لیکن اُردو ، بلوچی، راجستھانی ، کچھی، براہوی، پشتو، سرائیکی،کشمیری، مارواڑی، بروششکی ، پنجابی، سندھی، کوہستانی، ہندکو، بکتی پوٹھوہاری، شینا ، گوجری، ان کا جو علمی وا دبی ذخیرہ موجود ہے ان کو کیسے پڑھیں اور کیسے سمجھیں جبکہ تمام زبانوں کے کئی الفاظ ایک دوسرے میں ضم بھی ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام زبانوں کے ادب کے تراجم کو عام کیا جائے ۔ مہمان خاص سہیل احمدنے کہا کہ ترجمے ہوںگے تو ہم ایک دوسرے کی ثقافت ،لوک ادب ہویا مزاحمتی ادب یا جدید ادب اس کو سمجھنے میںآسانی ہوگی۔ جب سمجھ آئے گی تو ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، قریب آئیں گے تو محبت بڑھے گی اور نفرتوں کا خا تمہ ہوگا۔ سرائیکی اور پنجابی میںمرثیہ صرف ایک صنف سخن ہی نہیںبلکہ دینی شاعری کا ایک مستقل موضوع رہاہے۔ ان زبانوںمیں مرثیے شہادت ناموں ، جنگ ناموں اور حسینی دوھڑوں کی شکل میں مختصر نظموں کی شکل میں ملتے ہیں۔ فارسی کی اُردو میںجلوہ نمایا ں ملیںگے۔ ہم پیالہ وہم نوالہ ہم مشربی کے طور پر ملی جلی زبان بولی جاتی ہے۔ سندھی کی براہوی مستقل مزاجی لوک کہانیوں میں ملتی ہیں ۔بکتی پوٹھواری شینا گوجری غزل گوہوںیا نظمیں یا ثقافت زبانوں کی حوالے سے ایک دوسرے کا ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہی زبان سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں۔ کوہستانی، ہندکو، بروششکی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئی ہیں۔ پشتو اور ہندکو کاجائزہ لیں تو ایک ہی لہجہ محسوس ہوتا ہے ۔

اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ اسی طرح اُردو ایک ایسے جلوس کی شکل میں رواںدواںہے جولشکر کی طرح ہر بازار سے گزرتا ہے ، بہ قدرِ ضرورت سیراب ہوتا ہے۔ اس میںتمام زبانوں کے علم بھی جابہ جالہراتے نظرآتے ہیں ۔لیکن سب سے زیادہ جلوہ نما اپنے شمسوں کو چمکاتی فارسی کی بلند عمارات ہیں جو اس جلوس کی رونق کو دوبالا کئے جاتی ہے ۔اس موقع پر جن شعرا ئے کرام نے کلام پڑھا ان میں صبیحہ صباؔ، سہیل احمد، عرفان علی عابدی، سید مشرف علی ، سید علی اوسط جعفری، عظمی جون، گوہر فاروق،محمد رفیق مغل، محمد معظم صدیقی، تنویر حسین سخنؔ، ڈاکٹر محمد رب نوازخانزادہ، الحاج یوسف اسماعیل، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر رحیم ہمرزو،ذوالفقار حیدر پرواز،دلشاد احمد دہلوی، الطاف احمدنے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے حاضرین محفل کاشکریہ ادا کیا۔

٭ ماہوار سورمی ،کراچی رسالے کی جانب سے قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ ۔ کراچی کو گذشتہ ۴ برس سے ہفتہ وار مشاعروں اور دیگر تقریبات کو تسلسل سے کامیابی سے جاری رکھنے پر بہترین آرگنائزر کے اعتراف میں قادربخش سومرو کو’’ بہترین کارکردگی ایوارڈ ‘‘امریکا سے آئی ہوئی معروف مشاعرہ ڈاکٹر صبیحہ صبا اور سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل کراچی نے پیش کیا۔

٭نیشنل بک فائونڈیشن کراچی کے ریجنل آفس واقع بریل کمپلیس نزد PTV اسٹیشن میں بسلسلہ قومی یوم کتاب تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کالجز پرویز احمد سیہڑ نے کہا کہ نصابی کتب علم فراہم کرتی ہیں اور غیر نصابی کتب تربیت کیلئے بہت معاون و مدد گار ہوتی ہیں۔ کتابیں تاریخ سے ہمارا رشتہ جوڑتی ہیں اور ہمارے حال کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جنہیں ہم نے نئی نسل کو منتقل کرنا ہے ۔ کتاب کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جسے NBF ارباب علم کے ساتھ مل کر بخوبی انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید، بک ایمبسیڈر سید سلطان خلیل کی خدمات کو بھی سراہا۔ مہمان اعزاز ی ڈائریکٹر کالجز معشوق علی بلوچ نے کہا کہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم ملک میں علم کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی سلسلہ میں سیکریٹری تعلیم نے بھی کتابوں کی خریداری کیلئے فنڈ مختص کیا ہے جس سے اسکولز، کالجز کی لائبریوں میں معیاری اور مفید معلوماتی کتابوں کا گراں قدر اضافہ ہورہا ہے ۔ معروف کالم نگار نوخیز انور صدیقی نے کہا کہ علم کے فروغ کیلئے کتاب بہت ضروری ہے مگر جعلی پبلشروں نے آج کتاب کو بہت مہنگا کردیا ہے مگر NBF ااج بھی رعایتی قیمت پر اہم اور معیاری کتب لوگوں کو فراہم کررہا ہے ۔ جو خوش آئند اقدام ہے ۔ NBF کے ریجنل ڈائریکٹر علی حیدر بھٹو نے کہا کہ ہم یہ کتاب میلہ جلد ہی کراچی کے اسکولز، کالجز تک لے جائیں گے ۔ جہاں طلباء کو بھی کتب بینی کی طرف راغب کیا جاسکے گا اور انکی دلچسپی کی کتابیں رعایتی نرخوں پر انہیں فراہم کریں گے ۔ اس موقع پر بک ایمبیسیڈر سید سلطان خلیل نے بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کراچی میں شہر کتاب کے قیام کیلئے عمل درآمد تیز کردیا ہے جہاں سو سے زائد کتب کے اسٹالز ہوں گے جو کتاب کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ورلڈ بنک اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ کے تمام علاقوں میں غیر نصابی کتب کے ساتھ نصابی کتب بھی 50% فیصد رعایت پر مہیا کرنے کے اقدامات کررہے ہیں اور موبائل لائبریری بس پر بھی کام ہورہا ہے ۔ اس موقع پر انچارج کالجز بک سپلائی محسن علی ناریجو نے بتایا کہ ہم نے اس سال کراچی کے بیشتر کالجز میں بڑی تعداد میں کتابیں فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ تیز سے تیز تر ہورہا ہے ۔ معروف صحافی حنیف عابد نے تقریب کی خوبصورت نظامت کرتے ہوئے کہا کہ کتاب وہ ورثہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں ، تقریب میں موجود بچوں کے ادب پر خصوصی کام کرنے والے ادیب صحافی عبدالصمد تاجی نے پرائمری سطح کے اسکولز میں کتاب میلے منعقد کرنی کی تجویز دی ۔ تقریب میں سید خورشید احمد ، شعیب ناصر، سید عبداللہ شاہ، عبدالحمید ابڑو، ڈاکٹر شبیر، سکینہ سموں، میڈم طلعت شبیر، خالد انور ، عبدالرزاق کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم نے شرکت کی۔

Electrolux