انسان کامقام قرآن کی زبانی

اسلام دین فطرت ہے ۔ اس کا ہر قانون ،ہر ضابطہ فطرت کا عظیم نمونہ ہے ۔جب ،جہاں اور جیسے انسان کی فلاح مقصود تھی اسی ترتب کے ساتھ قوانین کی وضاحت گئی ۔اسی اعتبار سے زندگی گزارنے کاسلیقہ سیکھایاگیا۔اسلام کی نظر میںایک انسان فقط راست قامت چلنے ،پھرنے اور بولنے والا انسان ہی نہیںبلکہ اس کی رفعت و معراج کو قران اپنی شان و عظمت کے مطابق بیان فرمایا۔اس نہایت حساس ،اہم اور قابل فکر عنوان پر چند جملے یا سطریں کفایت نہ کریں گیں ۔اسلام افراط و تفریط سے پاک دین ہے۔ جس میں نہ تو شدت ہے اور نہ ہی انسان کومکمل چھوٹ ہے بلکہ معاملہ بین بین ہے ۔یعنی اعتدال کی عظیم نظیر ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنی لاریب کتاب میں جہاں اپنی مخلوق جس کے سر اس نے اشرف المخلوقات کا تاج سجایا ،جہاںاس کی تعریف و توصیف کو ذکر کیاوہاں اس کی مذمت پر بھی اپنی صفت قہاری کا اظہار فرمایا۔ جہاں اسے زمین و آسمان اور فرشتوں سے برتر پیش کیا گیا ہے ۔وہاں اسے جانوروں سے پست تر بھی دکھایا گیا ہے۔آئیے تعارف انسانی قران کی زبانی جانتے ہیں ۔

للہ عزوجل نے انسان کو اپنی تخلیق کا شاہکار بنایا۔جسے دیکھ کر اس کی عظمت و شان کاپتاچلتاہے۔اللہ عزوجل نے انسان کو منصب و مسند سے نواز تو پھر اس کی جانچ پڑتال ،اس کے احتساب اور اس کی فکری ،شعوری ،مذہبی وملی تربیت کے لیے ایک منظم نظام عطافرمایا۔

ربّ تعالیٰ کا خلیفہ
مومنین پر کرم فرمانے والے خدائے احکم الحاکمین نے انسان کو اپنا خلیفہ بناکر مبعوث فرمایا۔جس کا ذکر اس نے اپنی ذیشان کتاب میں فرمایا:
()وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآء َ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔‘‘( سورہ بقرہ، آیت ۳۰)۔

مرتبہ کا احساس
مراتب و درجات سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سرفرازفرمایاپھراس منصب کی ذمہ داری کا بھی احساس دلایا۔اللہ عزوجل اپنی لاریب کتاب میں ارشاد فرماتاہے :’’اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بے شک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بے شک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(سورہ انعام ،آیت ۱۶۵)۔

انسان کی علمی استعداد دوسری تمام مخلوقات سے بڑھ کر ہے
ربّ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں انسان کو دیگر مخلوق پر صاحب شرف رکھا۔علم ایک نعمت اوربے نظیر دولت ہے ۔اس معاملہ میں بھی ربّ نے انسان کو دیگر مخلوق سے بلند مرتبہ فرمایا:چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآء َ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِـُوْنِیْ بِاَسْمَآء ِ ہٰٓؤُلَآء ِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ()’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔‘‘( پ ۱،سورہ بقرہ ِآیت۳۱)۔

اعلیٰ مراتب کے لیے سخت امتحانات سے واسطہ
روایتی زندگی پر غور کریں تو ہم اگر کسی کی اہمیت کو بیان ،کسی کی علمی استعداد کسی کی اہلیت کی تعریف بیاں کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اللہ عزوجل اعلی مرتبہ و علمی مقام کو ارشاد فرمایا:قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّآ اَنْبَاَہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ قَالَ اَ لَمْ اَ قُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ()۔’’فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔‘‘(پ۱،سورہ بقرہ، ِآیت ۳۳)

انسان فطرت خداکی آشنائی ہے
انسان آزاد اور مستقل شخصیت کا مالک ہے۔ وہ خدا کا امانت دار اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ :’’ بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔‘‘( پ۲۲،سورہ احزاب، آیت ۷۲)

انسان اپنی فطری قوت سے ہر نیک و بد کو پہچان لیتا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایاپھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی۔بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا۔‘‘( سورہ شمس آیات ۷،۹)

انسان ذاتی شرافت اور کرامت کا مالک ہے
انسان اپنی حقیقت کو خود اسی وقت پہچان سکتا ہے جب کہ وہ اپنی ذاتی شرافت کو سمجھ لے اور اپنے آپ کو پستی ذلت اور شہوانی خواہشات اور غلامی سے بالاتر سمجھے۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا ۔’’اور بیشک (پ۱۵ سورہ بنی اسرائیل آیت۷۰)

مومن اللہ کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ کرامت رکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ فرشتے طاعت پر مجبول ہیں یہی ان کی سرشت ہے ، ان میں عقل ہے شہوت نہیں اور بہائم میں شہوت ہے عقل نہیں اور آدمی شہوت و عقل دونوں کا جامع ہے تو جس نے عقل کو شہوت پر غالب کیا وہ ملائکہ سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ بہائم سے بدتر ہے ۔

پیغامِ قران ہے :’’اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایاپھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی۔بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا۔‘‘( سورہ شمس آیات ۷،۹)
اللّٰہ ہی کی طرف رجوع کرناہے

یٰٓاَیُّہَا الْاِنْسٰنُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ ()’’اے آدمی بے شک تجھے اپنے رب کی طرف یقینی دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا ‘‘
(پ۳۰،سورہ انشقاق آیت۶)

محترم قارئین :قران کو پڑھنے کی کوشش تو کیجے ہمارے مسائل ہماری پریشانیوں کا حل ،ہمارے کھوئے ہوئے وقار کی مکمل داستان اس قران میں موجود ہے ۔اللہ عزوجل ہمیں قران سے خوب خوب بہرہ مند ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین

Electrolux