سردموسم،گھومتی گیندوں سے پریشان سرفرازالیون کوآئرلینڈکاچیلنج درپیش

پاکستانی کرکٹ ٹیم سرفرازنوازکی قیادت میں انگلینڈپہنچ چکی ہے ۔ جہا ںاس نے پریکٹس میچ میں اپنے ہتھیارو ںکوآزمانے کے لیے کینٹ کے خلا ف میدان کارخ کیا۔اورپہلے بلے باز ی کامظاہرکرتے ہوئے پوری ٹیم صرف 168 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی تھی جس میں امام الحق 61 رنز اورحسن علی 24رنز بنا کر نمایاں رہے تھے۔بارش سے متاثرہ میچ کے دوران میچ توبے نتیجہ ختم ہواپرکینٹ نے بہترکھیل کامظاہرہ کرتے ہوئے

چار وکٹوں پر 209 رنز بنالیے ۔ اس دورا ن بھی ایک مرتبہ پھر بارش نے کھیل کو متاثر کیا۔کینٹ کی جانب سے جو ڈینلے نے آوٹ ہوئے بغیر 113 رنز بنائے جبکہ ڈکسن نے 74 رنز بنائے تھے جنھیں شاداب خان نے پویلین کی راہ دکھائی تھی۔بائولروں میں شاداب خا ن نے دو اورمحمد عامروحسن علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔اس میچ میں پاکستانی بلے بازوں کے ساتھ بائولروں کی کارکردگی بھی کسی حدمایوس کن ہی رہی لیکن میچ کی خاص بات محمدعامرکاایک شاندار ٹھہراجب انھوں نے اے جے بلیک وکلین بولڈکیا۔ پاکستان کوایک اورپریکٹس میچ کھیلناہے ۔ جس کے بعد اس کوپہلی بارٹیسٹ اسٹیٹس لینے والی آئرلینڈکے خلاف اس کی تاریخ کااولین میچ کھیلناہے ۔

آئرلینڈکی ٹیم عالمی کرکٹ میں بالکل نئی ضرورہے پرماضی میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کے دوران اس کا ریکارڈ شاندار ہے اورون متعدد بار اپنے سے بڑی کئی ٹیموں کواپ سیٹ شکست کا مزا چکھا چکی ہے ۔اس اپ سیٹ شکست کا مزا دنیاکی دیگرٹیموں کو یاد ہو یا نہ ہوپر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ضروریادہوگا۔ جب ویسٹ انڈیزمیں کھیلے گئے 2007 کے ورلڈ کپ دوران آئر لینڈ نے پاکستان کو شکست کی ہزیمت سے دوچارکیاتھا ۔اگرچہ اس میچ کے بعد پاکستانی ٹیم آئرلینڈ کو پانچ بار ون ڈے میں اور ایک مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں شکست سے دوچار کرچکی ہے لیکن اس شکست کو ایک تلخ حقیقت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جس کا سامنا پاکستانی ٹیم کو کرنا پڑا تھا۔

اس حوالے سے سوال پیداہوتاہے کہ کیا آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے 11 سال پہلے کی یہ شکست پاکستانی کھلاڑیوں کے ذہنوں پر اثرانداز تو نہیں ہوگی ؟گوکہ اس ٹیم میں شامل کوئی کھلاڑی موجودہ ٹیم میں شامل نہیں ہے ۔ لیکن یہ بات ضرورتشویش ناک ہے کہ پاکستانی بلے 2007کی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی طرح آج بھی سوئنگ ہوتی گیندوں کوصحیح طورپرنہیں کھیل پاتے ۔ اس کے علاوہ ٹیم کویونس خان اورمصباح الحق جیسے مایہ نازکھلاڑیوں کاساتھ بھی میسرنہیں جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتوحات میں اپنااہم کرداراداکرنے والے یاسرشاہ بھی اپنی انجری کے باعث ٹیم سے باہرہیں۔اس لیے پاکستانی شائقین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں اورسوال کیاجارہاہے کہ کیاقومی ٹیم کرکٹ بے بی کے خلاف اولین مارکے میں سرخروہوپائے گی۔کیونکہ پاکستانی ٹیم میں چارسے پانچ نئے کھلاڑی شامل ہیں جبکہ آئرش ٹیم میں پورٹر فیلڈ ، ایڈجوائس، بوائڈ رینکن،نیل اور کیون اوبرائن ،اینڈریوبل برائن، لیسٹر لائٹنگ اور کریگ ینگ جیسے کئی کاؤنٹی کے تجربہ کار پلیئرزشامل ہیں۔ایڈجوائس اوربوائڈ رینکن انگلش ٹیم کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں۔

اس حوالے سینئرکھلاڑیوں خاص طور معروف کمنٹریٹرزمیزراجہ کا برطانو ی نشریاتی ادارےسے گفتگوکرتے ہوئے کہناہے کہ آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک تلخ حقیقت تھی لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے اسے یاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔’یوں بھی اس بات کو 11 سال بیت چکے ہیں اور اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں نئے کھلاڑی ہیں جو نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے اس دورے پر پہنچے ہیں۔ تاہم رمیز راجہ کو اس بات کا ضرور احساس ہے کہ آئرلینڈ کے کھلاڑی اپنے ڈریسنگ روم میں گفتگو کے دوران گیارہ سال پہلے کی جیت کو اپنے حوصلے بلند کرنے کے لیے ضرور یاد کریں گے۔بہرحال رمیز راجہ کویقین ہے کہ قومی ٹیم آئرلینڈکے خلاف میچ جیتے گی۔ان کایہ بھی خیال ہے کہ آئرلینڈکے پاس ٹیسٹ معیارکی ٹیم نہیں وہ محدوداوورزکی کرکٹ کھیلتی رہی ہے اس لحاظ سے پاکستا ن کاپلہ بھاری ہے ۔

رمیزراجہ کے خیالات اپنی جگہ لیکن اس میچ کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم پر یہ دباؤ بھی ضرور موجود ہوگا کہ اگر وہ آئرلینڈ کو نہیں ہراتی تو اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ اگردیکھاجائے توبے شک قومی ٹیم اب سے کچھ سال پہلے تک عالمی درجہ بند ی میں دنیاکی نمبرایک ٹیم ضرورتھی پراس میں ٹیسٹ کھیلنے والے شہرہ آفاق بلے بازاوربائولرزبھی موجود تھے ۔ موجودہ ٹیم میں شامل کئی کھلاڑی ناتجربہ کارہیں جبکہ دیکھایہ گیاہے ہماری ٹیم کی بیٹنگ کے لیے 8 سے15 درجہ حرارت اورنم آلود وکٹیں مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔دورے کے اولین میچ میں پاکستان ٹیم نے کینٹ کے عام بولرز کے سامنے 168 رنزپرہتھیارڈال دیئے ۔ اس تمام صورتحال میں آئرلینڈ سے اولین ٹیسٹ سرفراز احمد الیون کے لیے بڑاچیلنج بن گیاہے۔

Electrolux