100میل فی گھنٹہ کی رفتارسے گیندپھینک کربلے بازوکولرزادینے والاعظیم فاسٹ بائولر

شعیب اختر نا صرف پاکستان کرکٹ ٹیم کا بلکہ دنیا کا تیز ترین گیند باز ہے۔ ان کا تعلق گجر برادری سے ہے۔ 13 اگست، 1975ء کو راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہونے والا گیند باز "راولپنڈی ایکسپریس" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ کرکٹ کھیلنے والا واحد کھلاڑی ہے جو دو مرتبہ سو میل فی گھنٹہ (100) کی رفتار سے گیند بازی کر چکا ہے۔

لیکن تنازعات کی وجہ سے وہ اکثر ٹیم سے باہر بھی نکالاگیا۔ اس پر 2006 میں ممنوعہ قوت بخش ادویات کے استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے اس پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی جو بعد میں اٹھا لی گئی تھی۔ پھر دسمبر 2007 میں محمد آصف کے ساتھ جھگڑے کی بنا پر اسے ٹیم سے باہر نکال دیا گیا۔اس کے علاوہ شعیب اخترکے بولنگ ایکشن پر متعدد بار سوالات اٹھائے گئے لیکن اس کاکرکٹ کیئریئرجاری رہا۔ شائقین کرکٹ آج بھی اس تیزرفتاربائولنگ کویادکرتے ہیں اوردنیاکے کئی بلے بازوں کواس کی نپی تلی یارکرزآج بھی لرزادیتی ہیں ۔

عالمی کرکٹ پرراج کرنے والا یہ عظیم فاسٹ بائولرجسے لوگ شعیب اختر کے نام سے جانتے ہیں راولپنڈی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر مورگہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد اٹک آئل ریفائنری میں کام کرتے تھے۔ اس نے چپٹے پاؤں کی وجہ سے چار سال کی عمر میں چلنا شروع کیا۔ اور اپنی ابتدائی تعلیم ایلیٹ ہائی ا سکول، مورگہ میں حاصل کی اور بعد میں مزید تعلیم کے لیے راولپنڈی میں واقع اصغر مال کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ اور کرکٹ کھیلنے کی ابتدا شعیب نے 19 سال کی عمر میں کی۔

شعیب اختر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1994 کے سیزن میں ایگریکلچر ڈویلپمنٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کھیل کر کیا۔ شعیب اب تک 127 میچوں میں 450 وکٹ لے چکے ہیں۔

شعیب نے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف نومبر 1997 میں کیا۔ اور اپنی برق رفتاری سے سب کو متاثر کیا۔ ان کی مقبولیت کا آغاز کرکٹ کے کرکٹ عالمی کپ کے آغاز سے پہلے بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی کی بنا پر ہوا۔ انہوں نے 1999 میں کلکتہ میں بھارت کے خلاف مسلسل دو گیندوں پر بھارتی کھلاڑی راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کی وکٹ لے کر تہلکہ مچا دیا۔ شعیب نے اس میچ میں کل آٹھ وکٹیں اپنے نام کیں۔

نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی میں شعیب نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن 2003 کا عالمی کپ ان کے لیے ناکام ثابت ہوا جس کی بنا پر ان کو ٹیم سے باہر نکال دیا گیا۔ دوبارہ ٹیم میں شمولیت پر 2004 میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر 2004 میں بھارت کا دووہ ان کے لیے مشکلات لے کر آیا۔ اس سیریز میں میچ کے دوران چوٹ کی وجہ سے نہ کھیلنے کا فیصلہ اس وقت پاکستان کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑے کا باعث بنا۔ انضمام نے اس کی چوٹ کی سچائی کے متعلق سوالات کیے جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئے۔

2005 میں برطانیا کا دورہ ایک اہم دورہ ثابت ہوا جب بلے بازی کے لیے مفید پچوں پر شعیب نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ اپنی کم رفتار گیندوں کی وجہ سے انہوں نے سیریز میں سب سے زیادہ سترہ (17) وکٹیں حاصل کیں۔

شعیب اختر دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جو سو میل فی گھنٹہ (100) سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ برطانیا کے خلاف 2003 کے عالمی کپ کے دوران انجام دیا۔ شعیب اختر نے ایک گیند 100.2 میل فی گھنٹہ (161.4 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے پھینکی۔ جوآج بھی کوئی فاسٹ بائولرنہیں توڑسکا۔

شعیب اختر کا کیرئیر تنازعات سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہر وقت خبروں میں رہنے کے لیے مشہور ہیں۔

1999 - تنازعات کا آغاز آسٹریلیا میں ہوا جب امپائر ڈیرل ہیئر اور پیٹر ویلی نے اس کے گیند بازی کے طریقے پر اعتراض کیا۔ جس کو بعد میں جائز قرار دے دیا گیا۔

2001 - امپائر ا سٹیو ڈن اور ڈگ کوئی نے شعیب کے ایکشن پر دوبارہ اعتراض کیا۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ان کے ایکشن کامعائنہ کرنے کے بعد ان کی بازو میں خم کی وجہ سے ایکشن کو جائز قرار دیا گیا۔

2002 - زمبابوے کے خلاف میچ میں بال ٹیمپرنگ یا گیند کی شکل کو تبدیل کرنے کا الزام عائد ہوا۔

2003 - سری لنکا کے خلاف میچ میں بال ٹمپرنگ کرنے کے الزام ثابت ہونے پر دنیا کے صرف دوسرے کھلاڑی بنے جن پر جرمانہ اور پابندی عائد کر دی گئی۔

2005 - آسٹریلیا کے دورے کے دوران ان کے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ رویے اور نظم و ضبط کے توڑنے کی وجہ سے وطن واپس بھیج دیا گیا۔

اکتوبر 2006 - شعیب اختر اور محمد آصف پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی جب دونوں پر ممنوعہ ادویات (نینڈرولون) لینے کا الزام ثابت ہوا۔

اگست 2007 - پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب پر تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جب انہوں نے کرکٹ بورڈ کے ساتھ بدتمیزی کی۔

ستمبر 2007 - محمد آصف کو بلے کے ساتھ مارنے کی وجہ سے ٹیم باہر نکال دیا گیا

شعیب اختر چوٹ لگنے کی وجہ سے متعدد بار ٹیم سے باہر نکالے جا چکے ہیں۔ بھارت کے خلاف دورے میں انہوں نے کافی عرصہ بعد سیریز کا ہر میچ کھیلا۔ لیکن اس میں بھی وہ فٹنس کے مسئلے سے دوچار رہے۔

سری لنکااوربھارت کے درمیان مشترکہ طورکھیلے جانے والے ورلڈکپ کے دوران شعیب اخترنے ایک پریس کانفرنس میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کااعلان کردیا۔ وہ آج ہرقسم کی کرکٹ سے دورہیں لیکن شائقین ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔

Electrolux