مغفرت کی نوید

خلق کا ئنا ت کی رحمت ہر لمحہ ،ہر ساعت ،ہر گھڑی اپنے بند وں کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اﷲرب ذوالجلال اپنے بندوں پر انعامات واکرامات فرما تا رہتا ہے ۔اور خو د ارشا د فرما تا ہے ۔’’وان تعدوانعمۃ اﷲلاتحصوھا‘‘کہ اگر تم اﷲکی نعمتوں کو شما ر کرنا چاہو تو تم ان کا احاطہ نہیں کرسکتے،مثلاًآنکھ ،کان ،ناک اور دیگر اعضاء انسانی ان میں سے ہر ایک نعمت عظیم نعمت ہے اور دوسرے مقام پر فرمان خداوندی ہے ۔’’وماکان عطا ربک محظوراً‘‘تمہا رے رب کی نعمتیں رُکی ہوئی نہیں ہیں ،الغرض نعمتیں ،رحمتیں اور برکتیں لامحدود ہیں اور عطا ئے خداوندی لازوال ہے مگر حصول نعمت کے اوقا ت واند از مختلف ہوتے ہیں کہ کون کب اور کس اند از سے اﷲکی نعمتوں کو حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے ۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی شب برأت ہے کہ جس میں اﷲرب ذوالجلال کی عطا ء نعمت اس قدر وسیع ہو جا تی ہے کہ اﷲرب ذوالجلال قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالو ں کے برابر اپنے بند وں کی مغفرت فرما تا ہے ۔

شعبا ن کا مہینہ ایسا ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جا تے ہیں اور بر کا ت کا نزول ہو تا ہے ،گناہ چھوڑدیئے جاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہے اور تمام مخلو ق میں سے بہتر ین شخصیت نبی کریم ﷺکی با رگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود وسلام بھیجا جا تا ہے۔

حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول کریم ﷺنے فرمایا شعبان کو ا س لیے شعبان کہتے ہیں کہ اس میں رمضان المبا رک کے لیے بہت زیا دہ نیکیاں پھو ٹتی ہیں ۔حضرت عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا فرما تی ہیں کہ آپ علیہ السلام کو تمام مہینو ں میں سے شعبان زیا دہ پسند تھا ۔آپ علیہ السلام سے بہترین روزوں کے با رے میں پو چھا گیا تو آپ نے فرمایا رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کے روزے رکھنا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام شعبان کے مہینے میں دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے تھے ۔شب برأت کی فضیلت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے ۔ترجمہ ’’ہم نے (قرآن)کوبرکت والی رات اُتارا‘‘(سورہ الدخان )

اﷲتعالیٰ نے اس رات کو مبارک فرمایا ،کیونکہ اہل زمین کے لیے اس رات میں رحمت ،برکت ،خیر گناہوں سے معافی اور نزول مغفرت ہے ۔اس بات کے ثبوت کے لیے یہ حدیث کا فی ہے ۔حضرت عائشہ رضی اﷲعنہا نے فرمایا کہ ایک رات میں نے نبی کریم ﷺکو بستر پر نہیں پایا میں (آپ کی تلا ش میں )گھر سے نکلی ،میں نے دیکھا آپ بقیع (کے قبروستان )میں موجو د ہیں اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہو اہے ۔حضور کریم ﷺنے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا اس با ت کا اندیشہ ہے کہ اﷲاور اس کا رسول تمہا ری حق تلفی کریں گے !میں نے عرض کیا میں یہ سمجھی کہ آپ کسی اور بی بی کے یہاں تشریف لے گئے ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا ،نصف شعبان کی رات میں اﷲتعالیٰ دنیا کے آسمان پرجلوہ فرماتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے شمار سے زیا دہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے ۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب شعبان کی پند رہویں رات ہو تو رات کو جا گواور اس کے دن کا روزہ رکھو۔جب سورج غروب ہوتا ہے اس وقت سے اﷲتعالیٰ اپنی شان کے مطا بق آسمان دنیا پرنزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ،تاکہ میں اس کو رزق دوں،ہے کوئی مصیبت زدہ تاکہ میں اس کو اس سے نجا ت دویہ اعلان فجر تک جا ری رہتا ہے ،حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم جا نتی ہو کہ اس رات (پند رہویں شب )میں کیا ہو تا ہے ۔؟آپ علیہ السلام نے فرمایا اس رات اس سال کے اولاد آدم سے ہر پیداہونے والے کانام لکھ لیا جا تا ہے اور اس سال ہر مرنے والے کا نام لکھ دیا جا تا ہے اوراس سال ان کا رزق نازل کیا جا تا ہے ۔میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ،کیا کوئی شخص بھی اﷲسبحانہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو گا ،آپ نے فرمایا کوئی بھی اﷲکی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوگامیں نے عرض کیا یا رسول اﷲآپ بھی نہیں ؟آپ نے اپنا ہا تھ سر پر رکھ کر تین مرتبہ فرمایا میں بھی نہیں الایہ کہ اﷲتعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے ۔متعدد احادیث میں یہ بشارت ہے کہ اﷲتعالیٰ نصف شعبان کی شب مسلمانوں کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے ،اب مسلمانوں کو چاہئے کہ اس رات کو موقع غنیمت سمجھ کر اپنی مغفرت کروالیں کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا بے شک ایک بندہ گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے اے میرے رب میں نے گناہ کرلیا تومجھے بخش دے ۔تواس کا رب فرماتا ہے کیا میرے بندہ کومعلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو اسکے گناہ معاف بھی کرتاہے اور گرفت بھی کرتاہے ،میں نے اپنے بندے کومعاف کردیا ۔

حضرت عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے توبہ کرنے کو لا زم کرلیا اﷲتعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے ایک راستہ نکا ل دیتا ہے اور ہر غم سے ایک خوشی نکال دیتا ہے اور اس کو وہا ں سے رزق دیتا ہے جہا ں سے ا س کا گمان بھی نہیں ہوتا ۔

برأت کے معنی ہے نجات ،شب برأت کامعنی ہے گناہوں سے نجا ت کی رات اور گناہوں کی نجا ت توبہ سے ہو تی ہے ،تو اس رات میں اﷲتعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنا چاہئے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر بھی توبہ کریں ،اور اپنے والدین کے لیے بھی استغفار کریں ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا کہ اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ایک نیک بندے کاجنت میں ایک درجہ بڑھادیاجائے گا وہ کہے گا یہ کس کی وجہ سے ملا ۔اﷲتعالیٰ ارشاد فرمائے گا تیرے بیٹے کی وجہ سے کیونکہ اس نے تیرے لیے استغفار کیاہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا قبر میں مردہ اس طرح ہو تا ہے جس طرح دریا میں ڈوبنے والا اپنے بچاؤ کے لیے فریا د کررہا ہووہ مردہ قبر میں باپ ماں بھا ئی یا دوست کی دعا کا انتظا ر کررہا ہو تا ہے کہ کوئی اس کے لیے مغفرت کی دعا کرے ،پھر جب اسے کسی کی دعا پہنچ جا تی ہے تو اس کو وہ دعا دنیا اور مافیھا سے زیا دہ محبوب ہو تی ہے اور بے شک اﷲتعالیٰ زمین والوں کی دعاؤں سے قبر والوں پر پہا ڑوں کی مثل (ہدیہ )داخل فرماتا ہے اور مردوں کے لیے زندوں کاہدیہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہے ۔ایک عارف نے کہا !میری دعا قبو ل ہوجائے پھر بھی میں اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہو ں اور اگر میری دعا قبول نہ ہو پھر بھی اﷲکا شکر اداکرتا ہوں ،کسی نے کہا آپ کی دعا قبو ل ہوپھر تو اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے مگر دعا قبول نہ ہونے پر شکر کس بات پر؟عارف نے کہا کہ ہر چند کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی لیکن اﷲتعالیٰ کامجھ پر یہ کرم کم تو نہیں ہے کہ اس نے مجھے اپنے درکا منگتا بنا یا ہو ا ہے ۔

اس رات جن کی بخشش نہیں ہوتی
مسلمانوں پرلازم ہے کہ ان گنا ہو ں سے اجتناب کریں جن کی وجہ سے اس رات بھی بندہ کی مغفرت نہیں ہو تی حالا نکہ اس رات اﷲتعالیٰ کی عطا ومغفرت بہت عام ہوتی ہے اور غروب آفتاب سے لے کر طلو ع فجر تک اس کی رحمت کی برسات ہو تی رہتی ہے ۔ان گناہوں میں شرک ہے ۔٭قتل ناحق ہے ،٭زنا ہے ،٭ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے کینہ اوربغض رکھنا ،ان گناہوں میں بڑا گناہ ٭والدین کی نافرمانی ہے، یعنی والدین کے نافرمان کی مغفرت اس رات نہیں۔ ٭شرابی ٭چغل خوری کرنے والا ،٭غیبت کرنے والا ،٭قطع رحمی کرنے والے کی بھی اس رات مغفرت نہیں ہوگی ۔ہاں ایک صورت ہے کہ یہ تمام لوگ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں اور صلح رحمی کرلیں ۔تو اﷲکی رحمت وسیع ہے ۔

اس رات کے معمولات
اس رات میں عمو ما ًصلوۃ والتسبیح پڑھی جا تی ہے ،اس کے علاوہ کثرت سے نو افل پڑھنے چاہئیں ،قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ذکرواذکا ر کی کثرت کرنی چاہئے ،خصوصا ًاستغفار کی کثرت کرنا چاہئے ۔صلوٰۃ الخیر اداکرنی چاہئے ،جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک سورکعت نوافل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد 10مرتبہ سورہ اخلا ص پڑھے اس کے اجروثواب بے شما ر ہے۔ ہرچند کہ شب برأت میں نفلی عبا دات کی فضیلت ہے تاہم جن لوگوں کی کچھ فرض نمازیں چھوٹی ہوئی ہوں وہ ان مقدس راتوں میں اپنی قضا ء نمازوں کو پڑھیں اسی طرح نفلی روزوں کے بجائے جو فرض روزے چھوٹ گئے ہوں ان روزوں کی قضا ء کریں ۔

اس شب میںآتش بازی
پٹاخے ، وغیرہ لہو ولعب میں مشغول ہونااور بچوں کو اس قسم کی واہیات اشیاء خرید کر دیناشرعاً و اخلاقاً قطعاًمنع ہیں۔آتش بازی میں روپیہ ضائع ہو تا ہے ،اور وقت بھی خراب ہوتا ہے۔ اس رات کو آتش بازی جیسے فضو ل و لغوکا م میں گزار دینا ہی بد نصیبی ہے۔ اس لہوولعب میں لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں جان سے بھی چلے جاتے ہیں ،خود بھی پریشان ہوتے اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں، نہ خودعبادت کرتے ہیں اور نہ دوسروں کوکرنے دیتے ہیں۔یہ کارِ شیطان ہے جس سے بچنا ازحد ضروری ہے ۔کیونکہ اﷲتعالیٰ اس شب میں انعام و اکرام کی بارش فرماتا ہے، مغفرت و رحمت کے ابواب کھو لتاہے ۔جودو عطأ کے خوان اتارتاہے اور ہم اس مبارک اور مقدس شب میں لہوولعب میں مشغول ہو کر اس کی روحانی برکات سے محروم رہتے ہیں ۔اس لیے ہمیں چاہئے کہ اس شب مغفرت کا استقبال اطاعت وعبادت ،استغفار و اذکار میں مشغول ہوکر کریں۔

Electrolux