قومی کرکٹ کاانگلینڈاورآئرلینڈسے سیریزکے لیے کرکنٹربر ی میں پڑائو

قومی کرکٹ ٹیم مشکل ترین دورے پرسرفرازاحمد کی قیادت میں انگلینڈ پہنچ گئی جہاں اس نے کر کنٹربری میں پڑاؤ ڈال دیا ۔آئرلینڈ کیخلاف واحد اور انگلینڈ کیخلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنی باقاعدہ مشقوں کا آغاز کردیا۔ فاسٹ بائولرمحمد عامر ویزامسائل کی وجہ سے ٹیم کے ہمراہ نہ جاسکے تھے ،تاہم بعدازاں ویزاجاری ہونے کے بعد انھوں نے بھی انگلینڈپہنچ کرٹیم کوجوائن کرلیا قومی ٹیم کا پہلا ٹور میچ بھی کنٹربری میں کینٹ کاؤنٹی کیخلاف 28 اپریل سے شیڈول ہے جبکہ نارتھمپٹن شائر کیخلاف دوسرا ٹور گیم چار سے سات مئی تک کھیلا جائے گا جس کے بعد اگلے روز قومی کرکٹرز آئرلینڈ کیخلاف اولین ٹیسٹ کے لیے آئرلینڈ روانہ ہو جائیں گے جو گیارہ مئی سے مالاہائیڈ میں کھیلا جائے گا۔

شائقین کرکٹ کوقومی ٹیم سے اچھے کھیل کی توقع ہے ۔گزشتہ سیریزمیں مصباح الحق کی قیادت میں جانے والی قومی ٹیم نے نہ صرف یہ انگلینڈکے خلاف سیریزبرابرکی تھی بلکہ عالمی نمبرایک ہونے کااعزازبھی اپنے نام کیاتھا۔ مصباح الحق اورسرفرازالیون کااگرجائز ہ لیاجائے توبلاشبہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مصباح الحق کواگربیٹنگ میں یونس خان جیسے مایہ نازبلے بازکاساتھ میسرتھاتوبائولنگ میں یاسرشاہ نے بھی کمال دکھایاتھا۔ خودمصباح الحق کاکھیل بھی شاندارتھا۔ تاہم موجود سرفراز الیون کونہ تویاسرشاہ کاساتھ میسرہے نہ ہی بیٹنگ لائن اپ میں مصباح الحق اوریونس خا ن موجودہیں ۔ ٹیم میں پانچ نئے بلے کھلاڑی ضرورشامل کیے گئے ہیں ۔ لیکن بیٹنگ کی تمام ترذمے داری ٹیم میں شامل سب سے زیادہ تجربہ کاراسدشفیق اوراظہرعلی کے کاندھو ںپررہے گی ۔ جہاں تک تعلق ہے بابراعظم کاتوون ڈے کے مقابلے میں ان ٹیسٹ ریکارڈزیادہ بہترنہیں ہے ۔اس کااندازہ بارہ اننگزمیں ان کاپانچ بار صفر پر آئوٹ ہونے سے لگایاجاسکتاہے ۔کپتان سرفرازاحمد اچھی بلے بازی کرلیتے ہیں تاہم انگلینڈکی سرزمین پروہ کیساکھیل پیش کرینگے اس بارے میں ابھی کھچ کہناقبل ازوقت ہے ۔فاسٹ بائولنگ میں محمد عامر کو حسن علی کے علاوہ آل رائونڈرفہیم اشرف کا ساتھ بھی میسرہے تاہم اسپین کے شعبے تمام تردارومدارشاداب خان پرہوگا۔

ادھرقومی ٹیم فواد عالم کی عدم شمولیت کے حوالے سے شورمچ رہا ہے اورپاکستا ن کرکٹ بورڈکے خلاف مہم شروع ہوچکی ہے ، جس سے بچنے کے پی سی بی نے ایم نئی حکمت عملی ترتیب دے لی ہے ۔جس کے تحت کسی بھی کھلاڑ ی کے ان فٹ ہونے کی صورت میں فوادعالم کوپہلی فلائٹ سے انگلینڈروانہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام بھی اس تاثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ فواد عالم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور اگر آئرلینڈ اور انگلینڈ میں وہ ٹیم میں شامل نہ ہوسکے تو انہیں یقینی طور پر اگلی سیریز میں پاکستان ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ نجم سیٹھی جب سے چیئرمین بنے ہیں وہ سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔

فواد عالم ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے تھے اور روتے بھی نظرآئے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ فواد عالم تنازع سے نکلنا چاہتا ہے تاکہ اس تاثر کو ختم کیا جاسکے کہ ایک اہل کھلاڑی کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد عالم کو مڈل آرڈر میں بابر اعظم یا عثمان صلاح الدین پر ترجیح دی جاسکتی تھی۔ بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2017 میں انھوں نے 6 ٹیسٹ کی بارہ اننگز میں 16 اعشاریہ 72 کی اوسط سے صرف 184 رنز بنائے، جس میں 2 نصف سنچریاں شامل تھیں اور وہ 5 مرتبہ صفر پر بھی آئوٹ ہوئے۔

عثمان صلاح الدین پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انھیں ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ایک اور مڈل آرڈر بیٹسمین سعد علی پہلی بار پاکستان ٹیم میں شامل ہوئے ہیں لیکن وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے سب سے کامیاب بیٹسمین ہیں۔بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز سکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر کے 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔

یادرہے کہ کپتان سرفراز احمد نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ کیمپ میں 'جب فواد کو بلایا تھا تو وہ ہماری نظر میں تھا، ہم نے سب لڑکوں کی پرفارمنس دیکھی اور پھر ان میں سے 16 کو میرٹ پر سلیکٹ کیا گیا، ٹیم کی سلیکشن سب کی رائے اور مشاورت سے ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ جو آج نہیں کھیل رہا وہ پاکستان ٹیم کے لیے کل ضرور کھیلے گا۔

اس حوالے اگردیکھاجائے تودورہ انگلینڈجہاں قومی ٹیم کے اہم ہے وہیں کوچ مکی آرتھرکے لیے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک ہے لیکن یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ اس ٹیم کے بھی کوچ ہیں جو ان کی کوچنگ میں 17 میں سے 11 ٹیسٹ میچز ہاری ہوئی ہے اور اگر ان ناکامیوں میں تین کپتان مصباح الحق، اظہر علی اور سرفراز احمد ذمہ دار ہیں تو اتنی ہی ذمہ داری کوچ کی حیثیت سے مکی آرتھر پر بھی عائد ہوتی ہے۔

Electrolux