کراچی کی ادبی ڈائری

٭حلقہ اربابِ ذوق ،کراچی کی ہفتہ وار نشست
حلقہ اربابِ ذوق ،کراچی کی ہفتہ وار نشست پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جمیل عباسی نے افسانہ بعنوان ’’کچا‘‘پیش کیا۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شکیل شہزاد نے کہا کہ افسانے میں کرب کے شکار افراد کا زبردست المیہ پیش کیا گیا ہے۔ پلاٹ بہترین ہے۔ ایک پہلو نظر انداز کردیا گیا، عمومی طور پر معذور بچوں کو مار کے علاوہ جنسی تشدد کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ علی بابا نے کہا ، کہانی کی بنت اچھی ہے، جملے طاقتور ہیں، مرکزی کردار احساسِ کمتری کا شکار ہے۔ پنچ لائن زیادہ بہتر نہیں بن پائی۔ رفاقت حیات نے کہا، افسانہ حقیقت پسندانہ ہے۔نپا تلا اور موثر بیانیہ ہے۔ لوکیل اندورن سندھ کا ہے۔ کہیں جھول محسوس نہیں ہوا۔ مکمل طور پر مربوط کہانی ہے۔ انسان دوستی بخوبی دکھائی دیتی ہے۔ رواں دواں نثر ہے، سندھی کے الفاظ بھی آنا چاہیے تھے جس سے مقامیت زیادہ واضح ہوجاتی۔ کاشف رضا نے کہا کہ جمیل عباسی کا تازہ افسانہ پچھلے افسانوں سے ملتا جلتا ہے۔ عنوان بڑا معنی خیز ہے، ہر انسان کی اپنی آدرش شخصیت ہوتی ہے ۔افسانے کا مرکزی کردار اپنا آدرش حاصل کرلیتا ہے، والد کا کردار مختصر ہے لیکن نہایت جاندار اور اس کی سنگدلی واضح نظر آتی ہے۔ زبان سادہ ہے جس سے کہانی میں تاثیر آگئی ہے۔ افسانے میں اسٹیریو ٹائپ سے بچا گیا ہے۔ غیر حقیقی ٹچ نہیں دیئے گئے۔ احساس کمتری کم کرنے کے لیے احساس برتری کو نمایاں کیا گئی ہے۔ ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی نے کہا کہ رواں دواں اور اثر انگیز افسانہ ہے۔ دردانگیز مناظر بھی ہیں۔ مرکزی کردار اپنی ذات کی تکمیل تک پہنچتا ہے۔ معاشرے میں اسے محبت نہیں مل رہی، اسی لئے وہ ماں کی یاد میں گم رہتا ہے۔ کوئی منظر غیر حقیقی نہیں ہے۔ شیخ نوید نے کہا کہ افسانے کا بیانیہ نہایت عمدہ ہے۔ مربوط کہانی ہے، دلچسپی کسی مرحلے پر بھی ختم نہیں ہوتی۔ افسانے کی معنویت کو عصر حاضر کے حالات سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حفیظ تبسم نے کہا کہ افسانہ ایک کرداری نہیں تھا۔ احساس کمتری جہاں جاکر احساس برتری بنا وہ پوائنٹ شاندار ہے۔ مجھے یوں لگا کہ طالب علم دہشت گرد بن کرنکلے گا لیکن اس نے آخر میں اپنی احساس کمتری پر قابو پالیا۔ آخری جملے کی وضاحت کی جانی چاہیے۔

نشست کے دوسرے مرحلے میں اسامہ امیر شیخ نے اپنی غزل پیش کی۔ فہیم شناس کاظمی نے کہا کہ بہت اچھی غزل ہے۔ رواں دواں شعر ہیں۔ خیالات اور احساسات کی تازگی نظر آتی ہے۔ ایک مخصوص فضا اور مزاج کی غزل ہے۔ صنعت تضاد کا استعمال نظر آتا ہے۔ سید کاشف رضا نے کہا کہ’’ اکثر شعر کو ڈھکتا ہوں میں لفظوں سے‘‘ بہت اچھا شعر ہے۔ مطلع میں کمی نظر آئی۔ غزل میں سامنے کے پیراڈاکس کے بجائے دور کے پیراڈاکس لانے کی کوشش کی جاتی تو مزید خوبصورتی آجاتی۔ شکیل شہزاد نے کہا کہ غزل میں کوئی جھول نہیں ہے۔ بہت اچھی غزل ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ غزل میں تازگی بھی ہے اور روانی بھی۔ اشعار میں نیا پن ہے۔ دریا کا کنارہ مستعمل ہے ۔ساحل سمندر کا ہوتا ہے۔ اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ شیخ نوید نے کہا کہ غزل کے سارے شعر سہل ممتنع میں کہے گئے ہیں۔ تازگی موجود ہے، ادبی چاشنی کی کمی ہے، کوئی عمدہ اور جدید ترکیب، استعارہ یا تشبیہ نظر نہیں آتی۔ حفیظ تبسم نے کہا کہ غزل کے پہلے شعر کے معانی میں تضاد نظر آتا ہے۔ دریا سے کنارے کا خیال آتا ہے جبکہ ساحل سمندر کیلئے مستعمل ہے۔ غزل میں انفرادیت نظر نہیں آئی۔ ایک اجلاس کے مطابق شاندار غزل ہے۔

٭جشنِ ظہورالاسلام جاویداور ۱۳؍عالمی اُردو مشاعرہ
عرب امارات کی اسٹیٹ دبئی میں ادبی شخصیات کے جشن منانے کی روایت نے ابو ظہبی کو متاثر کیا اور یہاں بھی شعر و سخن کی معتبر ہستیوں کے لیے ’’بہ عنوان جشن‘‘تقریباتِ پزیرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی تناظر میں گزشتہ دنوں پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل ابو ظہبی کے زیر اہتمام چیمبر آف کامرس آڈٹیوریم ابو ظہبی میں جشن ظہور الاسلام جاوید منعقد کیا گیا جس کی صدارت سفیر پاکستان برائے عرب امارات معظم احمد خان نے کی جب کہ پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ عادل فہیم نے تلاوت کلام مجید کی سعادت حاصل کی ۔ ڈاکٹر اکرم شہزاد نے ظہور الاسلام جاوید کی تحریر کردہ نعت، انتہائی خوش الحانی سے پیش کی۔ یہ پروگرام پانچ حصوں پر مشتمل تھا (جشن، دستاویزی فلم، مکالمہ، گائیکی اور ۱۳؍ واں عالمی اُردو مشاعرہ) مقررین میں ڈاکٹر سید قیصر انیس، ڈاکٹر کلیم قیصر، عباس تابش، ڈاکٹر ہادی شاہد، نسیم اقبال اور ڈاکٹر اوج کمال شامل تھے۔ اس پروگرام میں ظہور الاسلام جاوید پر ندیم اور مدثر کی تیار کردہ دستاویزی فلم پیش کی گئی جس کے اختتام پر حاضرین سے بھرا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ اس موقع پر سفیر پاکستان برائے عرب امارات نے ظہور الاسلام جاوید کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر کلیم قیصراور اشفاق احمد عمر کی مرتب کردہ کتاب ’’کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا کیا؟‘‘ کی رونمائی کی ۔ (230صفحات پر مشتمل دیدہ زیب با تصویر کتاب میں 43قلم کاروں کے مضامین شامل ہیں) اور پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل ابو ظہبی اور اہلِ قلم متحدہ عرب امارات کی جانب سے ظہور الاسلام جاوید کو ان کی 45سالہ عظیم الشان ادبی خدمات پر یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

پروفیسر ڈاکٹر اوج کمال نے ظہور الاسلام جاوید کے بارے میں کہا کہ یہ 1965ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ یہ ایک بلند حوصلہ شاعر ہیں جو خیالی دنیا میں نہیں رہتے بلکہ مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ثابت قدمی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔ ان کے مجموعۂ کلام کا نام ’’موسم کا اعتبار نہیں‘‘اُردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر انجینئر ہیں ۔پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد 1974ء میں دبئی آگئے۔ انہوں نے حصول معاش کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کے فروع کے لیے دن رات کام کیا اب یہ صورت حال ہے کہ ۱۲ عالمی اردو مشاعروں کے آرگنائزر، صحافی و شاعر، ظہور الاسلام جاوید، عرب امارات کی تمام ریاستوں میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات کی ضرورت بن گئے ہیں انہوں نے 17مئی 2002کو ابو ظہبی میں پہلے عالمی اردو مشاعرے کا اہتمام کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ نسیم اقبال نے کہا کہ بارہ عالمی اردو مشاعروں کے انعقاد کے دوران ظہور بھائی نے اپنے والد محترم انعام الرحمن انعام گوالیاری کی یاد میں دسواں عالمی اردو مشاعرہ کر کے ایک فرماں بردار بیٹے کا جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تقلید ہے ان کے اس اقدام پر تمام حاضرین نے ایک بار پھر کھڑے ہو کر تالیوں سے استقبال کیا۔ ڈاکٹر ہادی سید نے کہا کہ ظہور الاسلام جاوید نے ابو ظہبی کو عالمی سطح پر اردو زبان و ادب کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عباس تابش نے کہا کہ ظہور الاسلام جاوید، آسمان ادب کے مہر تاباں ہیں انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کی نذر کیا جو کہ قابل ستائش اقدام ہے ان کی شاعری آسان فہم، دل کش انداز، خوبصورت تراکیب، لاجواب تشبیہات، اخلاقی قدروں اور سماج درستگی کی غماز ہے انہو ںنے مزید کہا کہ ایک موقع پر جب عرب امارات میں اردو ادب کا چراغ ٹمٹانے لگا تھا ظہور بھائی نے اسے طوفانی آندھیوں سے بچا کر نئی زندگی دی با الفاظ دگر تن مردہ میں جان ڈال دی۔ ڈاکٹر کلیم قیصر نے کہا کہ ظہور الاسلام جاوید ایک ادبی و علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ان کے والد صاحب اردو ادب کے معتبر شاعر تھے، انہیں شاعری ورثے میں ملی ہے انہوں نے اپنے کلام میں بہت سے تجربوں کو نظم کیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری ہے ان کے اشعار میں گہرائی، شگفتگی ، شائستگی اور کلاسیکیت ہے ان کے کلام کے موضوعات میں جو جدت پسندی ، تخلیقی صلاحتیں اور صداقتیں دکھائی دیتی ہیں وہی انہیں اپنے ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتی ہیں یہ سستی شہرت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ادبی منظر نامے میں اپنی جگہ بنائی ہے ڈاکٹر سید انیس قیصر نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظہور الاسلام جاوید گزشتہ چار دہائیوں سے متحدہ عرب امارات میں اردو و ادب کی آبیاری کر رہے ہیں جس کے اعتراف میں آج ان کا جشن منایا جارہا ہے میں انہیں تمام بزنس کمیونٹی کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے مزید کہا کہ ظہور بھائی ہمہ جہت شخصیت ہیں، قادر الکلام شاعر ہیں، کامیاب نظامت کار ہیں اور بہترین منظم اعلیٰ بھی ۔ انہوں نے دنیا کی مادیت پرستی، گلیمر کی نمود و نمائش، انسانی و اخلاقی اقدار کی بے قدری کو نہایت خوب صورت استعاروں اور جدید لفظیات کی شکل دے کر شاعری بنایا ہے۔ سفیر پاکستانی معظم احمد خان کے صدارتی خطاب سے قبل 13ویں عالمی اردو مشاعرے کے مجلے کی رونمائی کی گئی، اسپانسر کو نشانات سپاس پیش پیش کیے گئے اس موقع پر معظم احمد خان (سفیر پاکستان) نے کہا کہ ظہور الاسلام جاوید، عالمی سطح پر دنیائے ادب کا اہم نام ہے انہوں نے زبان و ثقافت کی جو خدمت کی ہے وہ ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے آج کا پروگرام ان کی خدمت میں ایک ہدیہ تہنیت ہے۔ صاحب جشن نے اس موقع پر کہا کہ وہ تمام اہلیان امارات کے ممنون و شکر گزار ہیں کہ جن کی محبتوں نے مجھے نیا عزم و حوصلہ بخشا انہوں نے پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل ابو ظہبی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جن کے زیر اہتمام آج کا پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔ سامعین کے بے حد اصرار پر ظہور الاسلام جاوید نے دو غزلیں سناکر خوب داد سمیٹی۔ اس تقریب کے ایک مرحلے پر ظہور الاسلام جاوید سے ایک مختصر مکالمہ ترتیب دیا گیا تھا جس کے ناظمین ڈاکٹر ہادی شاہد اور ترنم احمد تھیں جنہوں نے سوال و جواب کے ذریعے صاحب جشن کی ادبی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی یہ سیشن بھی بہت پسند کیا گیا ۔ ناظمین مکالمہ کے ایک سوال کے جواب میں ظہور الاسلام جاوید نے کہا کہ بعض اوقات مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ وہ عالمی مشاعرہ نہیں کر پائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ میری مدد کرتا ہے اور وسائل فراہم کرتا ہے جس کے باعث میں اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر لیتا ہوں۔ تقریب کا چوتھا دور معروف انڈین گلوکارہ چھبی سکسینہ سہائے کی خوبصورت آواز میں ظہور الاسلام جاوید کی غزلیات کی گائیکی کا تھا، گلوکارہ نے تالیوں کی لگاتار گونج میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے حاضرین کے دل جیت لیے۔ اس تقریب کے آخری دور میں پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی صدارت میں اور ڈاکٹر قیصر کی نظامت میں 13واں عالمی اردو مشاعرہ منعقد ہوا، اس موقع پر صاحب صدر نے کہا کہ ظہور الاسلام کی شخصیت میں ایک عجب طرح کی مقناطیسیت پائی جاتی ہے جو بھی ان سے ایک دفعہ ملتا ہے ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ تہذیب و خلوص ، سچائی اور استقامت سے گندھا ہوا یہ شخص خلیج کی ریاست ابو ظہبی میں باکمال شاعری اور یادگار مشاعروں کی پہچان ہے ان کے ہاں روایتی اور جدید رنگ بیاں موجود ہے انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کو شاعری بنایا ہے۔ ان کی شاعری ایک دردمند، حساس اور ذہین آدمی کا اظہار ہے مشاعرے میں ڈاکٹر پیر زادہ قاسم، عباس تابش، احمد سلمان، وجیہ ثانی (پاکستان) ڈاکٹر کلام قیصر، نشتر امروہی، وجے تیواڑی (بھارت) ڈاکٹرز بیر فاروق (عرب امارات)، ناہید ورک (امریکہ)، خالد سجاد (کویت) ، فرزانہ خان نینا (برطانیہ) اور قمر ریاض (مسقط) نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔

٭تنظیم اساتذہ اردو سندھ تاس کی جانب سے خصوصی توسیعی لیکچر
تنظیم اساتذہ اردو سندھ تاس کی جانب سے لیکچر بعنوان سائنسی عہد میں ادب کی اہمیت سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے،سائنس کے تین پہلو ہیں ،اوّل سائنس کا فلسفیانہ رخ،دوسرا سائنس کا قیاسی رخ اور تیسرا عملی اظہار، ٹیکنالوجسٹک سائنس دنیا میں قدم رکھتے ہی انسان نے آس پاس کی چیزوں کو دیکھ کر نتائج اخذ کرنا شروع کردیے تھے، اس نے اپنی عقل و شعور سے کام لیا اور اسباب و علل پر غور کیا، پہلی ایجاد پہیہ ہے ،لیکن اس تک پہنچنے میں انسان کو ہزاروں سال کا عرصہ لگا،اس کی تلاش اور جستجوکے سفر نے اسے آج جدید ترین ایجادات اور دریافتوں تک پہنچادیا، آج انسان خلا میں پہنچ گیا ہے،انہوں نے قدیم مصری،رومن اور مایا تہذیبوں کا بھی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے بھی سائنس کی ترقی میں بھرپور حصہ لیا،ابن ہشم،ابنِ رشد ،جابر بن حیان وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں، سائنسی ترقیوں کی تاریخ کی کتابوں میں درج ہے،ادب ہر مہذب معاشرے کی پہچان ہے،اس میں انسان کے تخلیقی جوہر کی عکاسی ہوتی ہے،شاعری کو فنون لطیفہ میں سب سے افضل مانا گیا ہے،انسان اور حیوان میں جو فرق ہے وہ ادب ہی کا ہے،شعروادب کے مثبت تاثرات کو تسلیم کرتے ہوئے ہم ادب اور سائنس دونوں کو اہمیت دیتے ہیں،ادب احساس ،جذبات اور خیالات کے اظہار کا وسیلہ ہے،صرف مشینوں کے ساتھ زندگی گزار دینا شرفِ انسانیت کے خلاف ہے، اردو میں غالب اوراقبال کی شاعری میں سائنسی شعور موجود ہے، تنظیم کے صدر پروفیسر ہارون رشیدنے کہا کہ ہم اب تنظیم سازی کے عمل سے آگے بڑھ گئے ہیں،اور مختلف موضوعات پر لیکچرز اور سیمینارز کا سلسلہ شروع کررہے ہیں، تاکہ اردو کے اساتذہ اور ادب کے قاری مل کر بیٹھیں اور اردو ادب کی مختلف جہات پر بات کی جائے گی،دورِ جدید میں اردو ادب کے مسائل و مباحث پر گفتگو ہوگی،آج ہمیں نئے مباحث پر بات کرنے کی ضرورت ہے،آج کا موضوع بے حد اہم ہیں،ادب اور سائنس لازم وملزوم ہیں،آج کے دور میں ہمیں دونوں کی مشترکہ قدروں کو سامنے رکھ کر بات کرنی ہوگی، آج کی جدید نسل سائنسی فکر میں ہم سے بہت آگے ہیں ،ہمیں ان میں ادب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے،پروفیسر قدیر غوری نے کہا کہ ادب کے موضوعات یقیناً سائنسدانوں کے لیے فکر انگیز رہے ہیں،داستانوں میں اڑن قالین،اڑن کھٹولے کا ذکر صرف خیالی نہیں تھا،آج ہم اس کی عملی صورت ہوائی جہاز کی صورت میں دیکھتے ہیں، ڈاکٹر نزہت عباسی نے کہا کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے عہد میں سانس لے رہے ہیںجس نے ہماری زندگی اور فکر کے زاویوں کو متاثر کیا ہے۔ سائنس ابتدا ہی سے انسان کے مشاہدات،تجربات اور مطالبات کی مرہون منت رہی اور یہی عناصر ادب کے لیے بھی مواد،موضوع اور اظہار کا جواز ٹھہرے شعروادب نے علم و آگہی کے دنیا کو بہت کچھ عطا کیا ہے ،سائنسی عہد میں آسائشات و تعیشات میں اضافہ ہورہا ہے،مگر دوسری طرف ایٹمی و کیمیاوی ہتھیاروں نے دنیا کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے،ہمیں شعروادب سے ایسی دنیا تعمیر کرنی ہے،جہاں نیوکلر بم، بارود کی بو ،فضائی آلودگی نہ ہو،امن،آشتی،محبت اور انسانیت کی مہک ہو، پروفیسرسمیرا نفیس نے کہا کہ ادب اور سائنس کی سرحدیں ایک ہیں،اب ہم اقبال اور غالب کی شاعری پڑھتے ہیں تو اس میں سائنسی طرزٖفکر نظر آتا ہے،ادب نے سائنس کو کئی موضوعات دیے ہیں،ہمیں اپنے ادب میں بھی سائنس کے جدید افکار کو شامل کرنا چاہیے،افشاں یاسمین نے کہا کہ طالب علم یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کے سائنسی دور میں ہم ادب کیوں پڑھیں تو میں ان سے یہ کہتی ہوں کہ ہم آپ کو مشینی آدمی نہیں بنانا چاہتے،احساسِ انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے ادب کا مطالعہ ضروری ہے ورنہ ہم سب بے حس ہوجائیں گے۔ ادب ،دلی اور روحانی مسرت و خوشی پیدا کرتا ہے ، ہمارے احساسِ جمال کو نکھارتا ہے پروفیسر مشتاق مہر نے پھول پیش کیے،لیکچر میںپروفیسرشبی فاروقی،پروفیسر اشتیاق طالب ، پروفیسر رضیہ سبحان، پروفیسر رضیہ حکمت،زاہد احمد، صفدر علی انشا،تنویر روف،ڈاکٹر فرحت عظیم،ڈاکٹر شکیل احمد،ڈاکٹر ذوالفقاردانش،لیاقت علی عاصم،وقار زیدی،سعید آغا،ہما اعظمی ، ناہید عزمی،فیاض شاہین،ثوبیہ ناز وغیرہ نے شرکت کی۔

٭بزم یاور مہدی کی جانب سے تقریب پذیرائی کا اہتمام
کنیڈا سے آئے معروف سفارت کار، ادیب شاعر کرامت اللہ غوری اور آپ کی اہلیہ معروف شاعرہ پروین سلطانہ صبا کے اعزاز میں بزم یاور مہدی کی جانب سے تقریب پذیرائی کا اہتمام کے ڈی اے آفیسر کلب کراچی میں کیا گیا۔ اس موقع پر صدر محفل محمود شام نے کہا کہ یاور مہدی اس دور میں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق لگتے ہیں جو نفسانفسی کے اس دور میں اہل علم احباب کی پذیرائی کیلئے ایسی خوبصورت اور باوقار محفلیں سجاتے ہیں۔ ان کا حلقہ ارادت بہت وسیع ہے ،ان کے تراشتے ہوئے بت بڑے بڑے معبدوں میں سجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم بہار آتا ہے تو باہر سے پرندے ہی نہیں بلکہ شاعر اور شاعرات بھی آتی ہیں۔ ہمارے آج کے مہمان کرامت اللہ غوری اور پروین سلطانہ صبا گوکہ کنیڈا میں مقیم ہیں مگر یہ پاکستان کے بارے میں ہی سوچتے اور لکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں نغمگی ہے ، جو دلوں کو چھولیتی ہے ۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ ان کے کلام میں پختگی ہے اور جمہور کی زبان ہے ۔ جہاں جمہور کی زبان نہیں ہوگی وہاں جمہوریت کیا ہوگی۔ ان کی شاعری جمہوریت آگے بڑھانے میں مدد کرے گی ۔ خواجہ رضی حیدر نے کہا کہ 80 فیصد شاعرات کو یاورمہدی نے روشناس کرایا۔ جن میں پروین شاکر، شہناز نور، وضاحت نسیم سمیت بے شمار نام ہیں۔ پروین سلطانہ صبا فیشن کی زد میں آئی ہوئی شاعرہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور خوش فکر شاعر ہ ہیں۔ نسیم نازش نے کہا کہ ان کی شاعری ایک توانا آواز ہے ۔ تقریب کی خوبصورت نظامت کرتے ہوئے ندیم ہاشمی نے کہا کہ کرامت اللہ غوری کی کتابیں ، سفر ناتمام، حرف کرامت، بارشناسائی شائع ہوچکیں ہیں اور ایک سوانح حیات زیر طباعت ہے ۔ اس موقع پر کرامت اللہ غوری اور پروین سلطانہ صبا نے اپنا تازہ کلام نذر سامعین کیا۔ شیخ راشد عالم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یاور مہدی ایک سبیل کا نام ہے جو جاری ہے ہم بزم یاور مہدی کے تحت ایک ویپ سائٹ کا افتتاح کررہے ہیں جہاں سے ہماری آئندہ تقاریب براہ راست دنیا بھر میں دیکھی جاسکیں گی۔ اس موقع پر محمود شام، ڈاکٹر شاداب احسانی، خواجہ رضی حیدر، کولائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈزدیے گئے ۔ تقریب میں عمائدین شہر کے ساتھ سابق سفارت کار ابوالحسن، اوج کمال، وصی حیدر، جہانگیر سید، اویس ادیب انصاری، عابد رضوی، سحر علی، شگفتہ فرحت، بیگم رشیدہ رضی، زینش ندیم، تحسین زیدی، جاوید، طاہر سلطانی، عبدالصمد تاجی، عون عباس بھی شریک ہوئے۔ تقریب کی ابتدا طاہر حسین سلطانی نے تلاوت کلام پاک اور نعت مبارکہ سے فرمائی۔ تمام حاضرین کیلئے پر تکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔

Electrolux