استبال کتب

نام کتاب:روشنی کے خدوخال(نعتیہ مسدس)
شاعر:رفیع الدین رازؔ
ضخامت:224 صفحات
قیمت: 500 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیش نظر مجموعۂ نعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) روشنی کے خدوخال ممتاز شاعر رفیع الدین راز کا تخلیق کردہ ہے جو بہ شکل مسدس 23 ابواب پر مشتمل ہے جسے رنگِ ادب پبلی کیشنز نے خاص اہتمام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کے اندرونی فلیپ پر ڈاکٹر سید محمد ابو الخیر کشفی کا مختصر مگر جامع تبصرہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے جس کتاب کا بھی دیباچہ ’’مقدمہ‘‘ تبصرہ یا تجزیہ پیش کیا ہو درحقیقت وہ یوں ہی بڑی اہمیت کا درجہ پا جاتا ہے۔ اسے آپ میرا حسنِ ظن کہیں یا اسے میری اور ان کی ذات تک محدود کرسکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے او رمیں بڑے دعوے اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بڑے سنجیدہ ادبی محقق تھے۔گو کہ آج ڈاکٹر صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں وگرنہ ہوسکتا تھا کہ آپ میری اس رائے کو محض ان کی خوشنودی یا مطلب براری سے منسوب کرتے۔ مگر میں یہ رائے دیتے ہوئے ادبی اُفق پر ایسی بے شمار شخصیات کو بھی دیکھ رہا ہوں جو ڈاکٹر صاحب سے متعلق میری رائے سے اتفاق کریں گی۔

حق گوئی و بے باکی اُن کا وطیرہ تھا وہ جب تک زندہ رہے مصلحت پسندی یا کسی بھی جانبداری سے کام نہیں لیا۔ حق اور سچ کا پرچار کیا اور انہی لوگوں کے نام و کلام کو سراہا جس کے وہ مستحق تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پیش نظر مجموعہ شعری جسے نعتیہ مسدس کا نام دیا گیا ہے جناب رفیع الدین راز کا ہمیشہ زندہ رہنے والا کام ہے۔رفیع الدین راز شعر و ادب کے حوالے سے ایک اہم ادیب، شاعر اور ناقد کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ان کی متعدد کتابیں جو نثری ادب اور شعری ادب پرمشتمل ہیں ادب عالیہ کا حصہ ہیں اور میں اُن کی ایک اور خوبی یا کمال کا ذکر کروں تو آپ کو حیرت و اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کہ موصوف نے ابھی حال میں رُباعی کی 24 بحروں میں 24 غزلیں تحریر کی ہیں جو ایک بے مثال کارنامہ ہے جسے ادبی حلقوں میں سراہنا چاہئے وہ اس لئے کہ رباعی کہنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ہوتی مگر رازؔ صاحب نے رباعی کو سمجھااور رباعی کی مشکل اور اوق بحروں میں غزل کے پیرائے میں ڈھالا یہ اہلِ دانش کے لئے بھی چونکا دینے والا کام ہے۔

مزید برآں رفیع الدین رازؔ نے مسدس جیس اہم صنف جو ادب میں تعریف و توصیفِ رسولؐ کے لئے اختیار کی ہے ایک قابل قدر کارنامہ ہے۔ اور اس مسدس میں یہ اہتمام و احتیاط بھی ملحوظِ خاطر رکھا ہے کہ سب سے زیادہ توجہ سیرتِ رسولؐ پر دی گئی ہے۔

ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں ’’مرحبا صل علیٰ آئینہ اے روشنی‘‘ اس مصرع میں دو دعائیہ یا تہنیتی کلمات ہیں چاہیں تو آپ انہیں درودو سلام کا صیغہ کہہ لیں اور اس کے بعد دو خطابیہ کلمات ہیں۔‘‘اے آئینہ اے روشنی‘‘ اس مصرع میں شاعر کا مفہوم ہم پر مدعائے خداوندی کی طرح روشن ہوجاتا ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’اے آئینہ اے روشنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔حضور اکرم ؐ نور مجسم کی تخلیق تو مٹی سے ہوئی لیکن آپ کا وجود سراپا روشنی تھا۔ آپ کی صفات کا دائرہ اسمائے الٰہی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مسدس اپنی ایک فضا رکھتی ہے جو ہمارے شعر و ادب کی مانوس فضا ہے اور فارسی عناصر کے باوجود ازدوکا مخصوص مزاج ہر جگہ برقرار رہتا ہے۔‘‘ وہ ماہنامے بھی جو نعتیہ ادب کے سلسلہ سے کام سرانجام دے رہے ہیں مثلاً ماہنامہ ارمغان نعت ماہنامہ کاروان نعت اور کتابی سلسلے ایوان نعت، دنیائے نعت، راہِ نجات سہ ماہی عقیدت، نعت نیوز، شہر نعت وغیرہ۔آخر میں اس مسدس کا ایک بند ملاحظہ فرمائیں:

خواہشوں کی دھوپ نے جھلسا رکھے تھے خال و خد
کیسا چہرہ، کون سا دل، روح کیسی، کیسا قد
کر چکا تھا آدمی ایک ایک سچائی کو رَد
روشنی سے بے خبر تھا آئینے سے نابلد
آپ نے انساں کو بخشی روح کی بالیدگی
مرحبا صلِ علیٰ، اے آئینہ اے روشنی
۰۰۰
نام کتاب:تقلید (شعری مجموعہ)
موضوع:احمد فراز کی زمینوں میں غزلیں
شاعر:شاعر علی شاعر
ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی
ضخامت:128 صفحات
قیمت: 200 روپے
مبصر: مجید فکری

شاعر علی شاعرؔ میرے نزدیک ایک خوش قسمت شخص ہی نہیں، خوش قسمت شاعر بھی ہیں، میں اپنے اس بیان کی توضیح خود ان کے بیان کردہ الفاظ سے کرنا چاہتا ہوں ’’کوشش کرتا ہوں کہ اپنی بساط کے مطابق میدانِ سخن میں کوئی منفرد کام سرانجام دے سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو تروینی پر کام شروع کیا تو عالمی سطح پر اردو تروینی کا اولین مجموعہ بہ عنوان ’’تروینیاں‘‘ میرا ہی قرار پایا۔‘‘

طویل غزلیں کہنا شروع کیں تو ’’غزل پہلی محبت ہے‘‘ کے نام سے طویل غزلوں کا مجموعہ ترتیب پاگیا۔ اس سے پہلے غزل کے پانچ مجموعہ ہائے کلام بالترتیب’’بہارو! اب تو آجائو‘‘، ’’وہ چاند جیسا شخص‘‘، ’’تِرے پہلو میں‘‘، ’’اعلانِ محبت‘‘ اور ’’ہم کلامی‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ پھر ایک اور منفرد کام کی طرف توجہ مبذول کی، ایک ہی بحر میں 100 غزلیں لکھنے پر کمر بستہ ہوگیا، بہت جلد ان تجرباتی غزلوں کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا تو ’’ایک بحر 100 غزلیں‘‘ کے نام سے مجموعہ نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا بلکہ قارئینِ شعر و سخن اور ناقدینِ فن و ہنر سے داد وتحسین بھی وصول پائی۔‘‘

’’مزید اپنے پسندیدہ شاعر احمد فرازؔ کی شاعری سے متاثر ہو کر ان کی زمینوں میں غزلیں کہنا شروع کیں تو پورا مجموعہ بہ نام ’’تقلید‘‘ ترتیب پاگیا‘‘

’’خداکی پناہ! ان کی تخلیقات، تالیفات، تصنیفات، طباعت اور ترتیب وغیرہ کی تعداد اتنی ہے کہ صرف ان کی تعداد لکھتے ہوئے ایک کتابچہ تو یقیناً ترتیب دیا جائے گا۔‘‘

میں نے اپنے ایک تجزیہ میں انہیں ’’رواں لہجے کا شاعر‘‘ کہا تھا۔ اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ انہیں شعرو ادب کے خزینہ میں غزل، نظم، قصیدے، تروینی اور جانے کیا کیا…! جمع کرنے کا شوق ہے او ریہ خزانہ ان کے بقول ابھی بھرا نہیں ہے۔ جس کے لئے یہ شب و روز سرگرم عمل ہیں۔ کبھی ایک ہی بحر میں 100 غزلیں کہتے ہیں تو کبھی افسانوں پر افسانے لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ بچوں سے پیار جتاتے ہیں تو انہیں نظموں اور گیتوں کے تحفے بخش دیتے ہیں اور جب محبوب کی حسن و دلنوازی ستاتی ہے تو اس کے حسن و ادا کی وہ داستان لکھنا شروع کردیتے ہیں کہ روایتی غزل کی وادی بھی تنگ ہوجاتی ہے۔ مگر یہ غالبؔ کے بقول’’کچھ اور چاہئے وسعت مِرے بیاں کے لئے‘‘ کہتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن میں نے ان کے خزانے میں جس چیز کی کمی دیکھی ہے وہ ہے نظم مخمس، نظم مسدس، سلام و قصائد اور رثاعی شاعری اور میرا مشورہ ہے کہ آپ ان اصناف پر بھی توجہ دیں تاکہ آپ کے عملی ذخائر کی پوٹلی لبالب بھرسکے ۔چاہیں تو یہ خواتین کے ادب اور اُن کی شاعری پر بھی لکھ سکتے ہیں اور ان کے لکھے ہوئے مجموعہ ہائے شاعری کو شرفِ اشاعت بھی بخش سکتے ہیں۔

میں شاید موضوع سے ہٹتا جارہا ہوں۔ بات ہو رہی تھی شاعر علی شاعرؔ کے پیش نظر مجموعۂ شاعری ’’تقلید‘‘ کی تو اس وقت ان کا یہ مجموعہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ شاعر موصوف نے احمد فراز کی زمینوں میں لاتعداد غزلیں لکھ کر بھی ایک انوکھا ، منفرد اور چونکا دینے والا کارنامہ انجام دیا ہے۔یہ اسی صورت میں کامیاب اور تحسین و ستائش کا حقدار ہوسکتا ہے کہ جب شاعر صاحب نے احمد فراز سے اچھی شاعری نہ سہی ان کے مقابل کی شاعری ضرور کی ہو وگرنہ احمد فراز عرصہ دراز سے چوٹی کے ایک شاعر تصور کئے جاتے رہے ہیں ان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد بھی موجود ہے ان کا اندازِ شاعری دوسروں کو بھی بھاتا اور لُبھاتا ہے اور وہ کامیاب شعراء کی فہرست میں اپنا نام ثبت کرچکے ہیں یہ وہ شاعر ہیں جس نے غزل پر اپنا سکہ جمارکھا ہے اور آج تک لوگ اس کی شاعری کے دلدادہ ہیں یہ الگ بات ہے کہ لوگ انہیں فیض کا مقلد اور ان جیسا رویہ رکھنے والا شاعر سمجھتے ہیں۔مگر اس کے باوجود فراز کے سر سے فیض کا (Follower) ہونے کا اثر بھی زائل ہوچلا اور وہ مقبولیت کے اس معیار تک پہنچ گیا کہ جہاں شعرو ادب سے دلچسپی رکھنے والا ایک شخص بھی موجود ہے وہاں فراز موجود ہے۔

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شاعر علی شاعرؔ نے ان کے رنگ میں شاعری لکھ کر خود کو کس مقام پر رکھا ہے اور یہ کارنامہ سرانجام دے کر وہ کہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کی پیش نظر شاعری بہ اندازِ فراز کئی مقامات پر ایسی ضرورمحسوس ہوتی ہے کہ وہ اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن میں پھر بھی کہوں گا کہ ’’خاکم بدہن‘‘ وہ خود کو فراز جیسے کلام والا شاعر کہنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ اچھا ہوا کہ انہوں نے اپنے مجموعۂ کلام کا نام ’’تقلید‘‘ رکھ کر خود کو بچالیا ہے تاہم ان کی یہ کوشش فراز کے انداز میں شعری کوشش ضرور ہے میں اپنے کلام گسترانہ کے ساتھ شہزاد نیر کو شامل کرلوں تو غیر مناسب نہ ہوگا لکھتے ہیں۔ ان کا مضمون جو پیش نظر کتاب میں’’ غزل در تقلید احمد فراز‘‘ کے عنوان سے شامل ہے ذرا ان کی درج ذیل سطور پڑھئے:

’’شاعر کے ہاں روایتی اندازِ سخن سے وابستگی و پیوستگی زیادہ ہے اور جدت شعری سے رغبت کم… یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ اس کتاب کی غزلیں فراز کی زمینوں میں ضرور ہیں مگر شاعری شاعر کی اپنی ہے…شاعر علی شاعرؔ نے اپنے رنگ ڈھنگ میں، اپنے اندازاور اپنے مضامین کی شاعری کی ہے یا یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاعر نے فراز کی زمینوں میں اپنا ’’ہل‘‘ چلایا ہے۔‘‘

مجھے شہزاد نیرصاحب کا یہ اندازِ تخاطب قطعاً پسند نہیں آیا کیونکہ یہ تبصرہ شاعرؔ موصوف کی بھی ہمت شکنی اور ان کی اس کوشش کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہوگا جو انہوں نے زمینِ فراز میں کی ہے۔بہر حال، یہ شاعر علی شاعرؔ اور شہزاد نیر کا معاملہ ہے میں تو شاعر کی اس کوشش کو ایک کامیاب، سراہے جانے کے قابل، علمی لیاقت کا اعلیٰ استعمال اور شعری بصیرت کا اعلیٰ نمونہ گردانتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ شاعر علی شاعرؔ بقول ذوق یہ کہہ سکتے ہیں کہ:

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
یا پھر:
شعر اپنے بھی ہیں پُر درد لیکن حسرتؔ
میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لائوں

مگر پھر بھی شاعر علی شاعرؔ نے فرازؔ کی تقلید کا کامیابی سے دفاع کیا ہے لیکن اس سے قطعاً یہ اندازہ نہیں لگانا چاہئے کہ انہوں نے فرازؔ کی زمینوں میں شعر کہہ کر خود کو فرازؔ جیسا شاعر سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی ان کی شاعری سے فرازؔ کی شاعری پر کوئی حرفِ غلط آیا ہے نہ خود شاعر علی شاعرؔ کی شاعرانہ عظمت میں کوئی فرق آیا ہے انہیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور جس قدر ہو وہ ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریز کریں جس سے باہمی چپقلش کا شائبہ ہو۔فرازؔ کی زمین میں شاعر علی شاعرؔ کے اشعار دیکھئے:

ہونے والا ہے تِرا ہجرت بھی رخصت مجھ سے
شاید اب جاں سے گزرجانے کا موسم آیا
شہرِ آشوب ہے ہر نظم و غزل شاعرؔ کی
ان میں ذکرِ لب و رخسار تو کم ہونا تھا
ہرے بھرے ہیں کھیت یہاں ہریالی ہے
اُڑتے پرندے آپ اُتر جاتے ہیں
ہر کوئی مجھ کو ستانے آئے
اُس کی تصویر دکھانے آئے
اپنے دامن کی طرف کیوں نہیں کرتے یہ نظر
چاک دامن ہے مِرا لوگ پریشاں کیوں ہیں

Electrolux