رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی سے کرا چی یو نیورسٹی تک

زندہ قومیں اپنے ما ضی حال اور مستقبل سے غافل نہیں ہو تیں قوموں کی تبا ہی اس وقت ہو تی ہے جب وہ اپنے تابناک ماضی کو بھلا دیتی ہیں ،جو لوگ تاریخ کو بھول جا تے ہیں تا ریخ بھی انہیں بھول جا تی ہے اور پھر نہ تو ان کا ما ضی ہو تا اور نہ ہی حال مستقبل اور یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے، ہم نے اپنے ما ضی کو فراموش کر تے ہو ئے انگریزوں کو سب سے مہذب سب سے ترقی یافتہ قوموں میں شمار کر نا شروع کر دیا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے ہم انگریزوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہیں جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ جس وقت انگریز لباس اور کھا نے کے طور پر پتوں اور گھاس پوس کا استعمال کر تے تھے رہائش کے لیے غاراور آگ جلا نے کے لیے پتھر کو آپس میں ٹکرا کر آگ جلا تے تھے یہاں 5ہزار سال قدیم موہن جودڑو جو کہ ایک تہذیب یافتہ شہر تھا اور جسے دریافت بھی ایک انگریز ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے کیا تھا اس سے ثابت ہوا کہ یہ خطہ ایک مہذب اور شائستہ قوم کی قدریں رکھتا ہے 5ہزار سال قبل در یا فت کیے جا نے والے اس شہر میں نا صرف رہنے کے لیے مکا نات ،عبادت کر نے کے لیے عبا دت گا ہیں ،با زار ،فراہمی آب اور نکا سی آب کے موثر انتظامات تھے بلکہ وہاں علمی درس گا ہوں کی بھی نشانیاں در یا فت ہو ئی ہیں جن میں سے در یا فت ہو نے والی ایک عما رت کو با قاعدہ طور پر مو ہن جودڑو کا لج کا نام دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تہذیب و تمدن وا لے شہر جو کہ ہما را ورثہ ہے عالمی سطح پر یو نیسکو جو کہ اس وقت مغربی ممالک کے زیر اثر ہے نے بھی اسے عالمی ورثے کے ٹائٹل سے نوازا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ با بل ،عراق،ایران میں بھی تعلیمی اداروں کی واضح نشانیاں ملی ہیں ان واضح نشانیوں میں پنجاب کے علا قے سے در یا فت ہو نے والے قدیم شہر ٹیکسیلا سے ایک یو نیورسٹی کے آثار ملے ہیں جو کہ میلوں کے رقبے پر پھیلی ہو ئی تھی اور یہاں 300 سے زائد لیکچر ہا ل و دیگر سہولیات موجود تھیں۔ماہرین آثار کے مطا بق اس یونیورسٹی میں 68 مضامین جس میں تجارت ،طب ،فلسفے ،سر جری سمیت دیگر شعبوں میں دنیا بھر سے آ ئے ہو ئے 10ہزار طلبہ کو 200سے زائد پروفیسرز تعلیم کے زیور سے آراستہ کر تے تھے اس یونیورسٹی کو نلندہ یونیورسٹی کے نام سے جا نا اور ما نا جا تا ہے اگر انہیں دیکھتے ہو ئے یہ کہا جا ئے کہ دنیا کی پہلی یو نیورسٹی یا علمی درسگاہیں اسی خطے میں واقع تھی تو یہ قطعی طور پر غلط نہ ہو گا کیونکہ انہیں یونیورسٹیوں کو دیکھتے ہو ئے آج دنیا بھر میں جامع الا اظہر یو نیورسٹی آف بلونگا ،یو نیورسٹی آف آکسفورڈ ،یو نیورسٹی آگ پیرس ،یونیورسٹی آف کیمبرج و دیگر قائم ہیں اور دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتی ہیں ۔

اب اگر سندھ کی با ت کی جا ئے تو کیونکہ موہن جودڑو اسی خطے کا حصہ تھا جہاں سب سے پہلے تعلیم کا فروغ شروع ہوا مگر کیونکہ مو ہن جودڑو قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ ہو گیا مگر اس کے باوجود یہاں ہر دور میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام ہو تا رہا اور تالپور دور تک یہاں مدارس اور اسکول قائم تھے جہاں تمام مذاہب کے طلبہ و طالبات تعلیم سے آشنا ہو رہے تھے اور جب انگریزوں نے سندھ پر1839 میںقبضہ کیا تو کیونکہ اس وقت سندھ کے اندر تالپوروں کا نظام تعلیم را ئج تھا لہذا انہوں نے سب سے پہلے اس تعلیمی نظام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہو ئے ختم کر دیا اورکیونکہ اس وقت کیونکہ فارسی کو سر کا ری زبان کی حیثیت حاصل تھی لہذا انہوں نے اسے ختم کر تے ہو ئے سندھی کو سر کا ری زبان قرار دے دیا اور پھر اپنی انگریزی کتا بوں کو سندھی زبان میں تر جمہ کر کے اسکولوں میں بطور نصاب استعمال کر نا شروع کر دیا اور 1841میں صدر جو کہ فو جی چھائونی کا علا قہ تھا انگریز فوجیوں کے 40ویں رجیمنٹ کے لیے ایک اسکول قائم کیا لیکن اس اسکول میں صرف انگریز فو جیوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کر سکتے تھے مقامی بچوں کے لیے یہ اسکول شجر ممنوعہ تھا اور اس کے بعد 1845میں کلکٹر کرا چی کیپٹن پریڈی کی کوششوں سے چرچ مشن اسکول جہاں با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ابتدا ئی تعلیم حاصل کی قائم کر دیا اس کے بعد گو یا کرا چی شہر میں اسکولوں کے قیام میں تیزی آ گئی اور کراچی گرا مر اسکول ،این جے وی اسکول ،ٹیکنیکل ہائی اسکول ،با ئی ویر جی سپا ری والا اسکول ،سینٹ جوزف کانویننٹ ہا ئی اسکول ،سینٹ پیٹرک اسکول ،ہملے اسکول منوڑہ ،گجرا تی اسکول ،محمڈن گر لز اسکول ،ہندو سندھی اسکول ،دھن پاٹ شالہ،ورنہ کو لر اسکول ،وسطا نی اسکول ،ما ما پارسی اسکول ،کراچی اکیڈمی ،ٹیچر ٹریننگ اسکول،تعلیم بالغان اور کمرشل اسکول قائم ہو گئے اور علم کے پیا سوں کی علمی پیاس بجھا ئی جا نے لگی 1887تک شہر میں تعلیم کا کو ئی اعلی ادارہ قائم نہیں تھا اور صرف میٹرک تک کی تعلیم دی جا تی تھی لہذا اس صورتحال کے پیش نظر 1887میں پہلا سندھ آرٹس کا لج قائم کیا گیا جسے بعد میں ڈی جے کا لج کا نام دے دیا گیا اور اسی کے ساتھ این ای ڈی کا لج ،ایس سی شاہا نی لاء کا لج ،دائو میڈیکل کا لج ،سندھ مسلم گورنمنٹ سائنس کا لج ،ایس ایم لا ء کا لج بھی قائم ہو گیا جہاں طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم کی سہولیات حاصل ہو گئیں اس وقت تک سندھ بھر میں کو ئی یو نیورسٹی قائم تھیں اور سندھ کو صوبہ بنا نے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اس وقت ایک انگریز دانشور مسٹر جیکسن نے سندھ میں یونیورسٹی کے قیام کی تجویز پیش کی جسے ہندئوں کی مخالفت کے سبب مسترد کر دیا گیا اور پھر جب 1936میں سندھ کو صوبہ قرار دے دیا گیا تو ایک دانشور میراں محمد شاہ کی سر برا ہی میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے پھر سے کمیٹی قائم کی گئی مگر پھر یونیورسٹی قائم کر نے کی قرار دادکو مسترد کر دیا گیا لیکن تعلیم دوست لوگوں کی یونیورسٹی کے قیام کی جدوجہد کا سلسلہ جا ری رہا اور با لا آخر 1946میں سندھ یو نیورسٹی کا بل منظور کر لیا گیا ۔

قیام پاکستان سے قبل 13 اپریل 1947 کراچی کے گنجان علا قے رنچھوڑ لا ئن میں پرنسس اسٹریٹ جسے آج چاند بی بی روڈ کے نام سے جانا جا تا ہے اور جو کہ سول ہسپتال کے عقب میں واقع ہے کرا چی گرلز کا لج کی بلڈنگ میں جہاں ماضی میں کبھی گورنمنٹ اسکول واقع تھا اسکول کو کوتوال والی بلڈنگ میں منتقل کر کے سندھ یو نیورسٹی قائم کر دی گئی جبکہ اس کے اطراف میں قائم قدیم بلڈنگوں جنہیں ڈائو میڈیکل کا لج کے ہاسٹل کے زیر استعمال رہا میں بمبئی ،سندھ ،پنجاب و دیگر علاقوں سے آ نے والے طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹل قائم کیے گئے کیونکہ اس وقت تک پاکستان کا قیام عمل میں نہیں آ یا تھا اور سندھ میں انگریزوں کی حکمرا نی تھی لہذا اس یو نیورسٹی کاپہلاچانسلر سر فرانسس مودی کوبنایا گیا جبکہ سر غلام حسین ہدایت اللہ کو وائس چانسلر اور آغا تاج محمد کو رجسٹرار مقرر کیا گیا دلچسپ با ت یہ ہے کہ اس وقت کیونکہ میٹرک بورڈ اور انٹر بورڈ کا کو ئی وجود نہیں تھا لہذا سندھ یو نیورسٹی ہی میٹرک اور انٹر کے امتحانات کا انعقاد کر واتی اور اس کے نتا ئج جا ری کر تی اس وقت کیونکہ اس شہر میں آبا دی تناسب زیادہ نہیں تھا لہذا یو نیورسٹی میں طلبہ کی تعداد بھی انتہا ئی قلیل ہوا کر تی تھی لیکن کیونکہ اس وقت کے اساتذہ کرام کی تمام تر توجہ طلبہ کو تعلیم دینے پر مر کوز ہوا کر تی تھی لہذا پڑ ھا ئی کا معیارشاندار ہوا کر تا تھا اس یو نیورسٹی میں گو کہ زیادہ مضامین تو نہیں تھے لیکن اس وقت اردو ،سندھی انگریزی اور اردو لازمی مضامین میں شامل تھے اب جہاں موجودہ جامعہ کرا چی یا کرا چی یو نیورسٹی کا تعلق ہے تو جب 1951سندھ یو نیورسٹی کو حیدر آ باد ،جامشورو منتقل کر دیا گیا تو جامعہ کرا چی کو یو نیورسٹی روڈ پر اس جگہ منتقل کیا گیا جہاں ما ضی میں جنگل ،باغ ،کھیتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہو ا کر تا تھا اور یونیورسٹی کی جگہ ملیر کے باغات تک کی گزر گاہ تھی لہذا یہاںڈملوٹی کنویں کے ذریعے پا نی کی فراہمی کی جا تی تھی جس کا سلسلہ تا حال بھی جا ری ہے جبکہ اس کی نشا نی کے طور پر یو نیورسٹی کے اندر ہی لاتعداد چھوٹی چھوٹی بر جیاں موجود ہیں جن سے آج بھی پا نی کے بہا ئو کی آوازیں آتی ہیں جبکہ گزرگاہ کے ساتھ ساتھ کئی پتھروں کی چھوٹی چھوٹی قدیم عمارتیں بھی قائم ہیں جن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ کوٹھی نما کوٹھریاں ما ضی میں چنگی نا کے کی وصولی اور بطور حفاظتی چوکی کے طور پر استعمال کی جا تی تھی تاریخ کے مطا بق 1950میں جب یونیورسٹی ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوا تو جامعہ کرا چی کے لیے نئی جگہ تلاش کی گئی اور اس وقت کے کنٹری کلب روڈ پر 1279ایکڑ پر محیط قطعہ اراضی کو جامعہ کرا چی کے لیے الاٹ کیا گیا ابتدا ئی ماسٹر پلان میں اس وقت یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ اس پورے خطے کو ایجوکیشن سٹی بنا یا جا ئے اور اسی وجہ کر یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ این ای ڈی یو نیورسٹی جو کہ ماضی میں این ای ڈی کالج کے نام سے جوکہ ڈی جے کا لج کے عقب میں واقع تھی کو یو نیورسٹی کا درجہ دے کر اسی جگہ منتقل کر دیا گیا کیونکہ کراچی یو نیورسٹی تیار ہو چکی تھی لہذا اسے مرحلے وار رنچھوڑ لا ئن سے موجودہ یو نیورسٹی میں منتقل کیا گیا اور کیونکہ یہاں کلیہ فنون ،کلیہ تعلیم ،کلیہ علوم ،کلیہ علم الادویہ ،کلیہ قانون ،کلیہ طب سمیت لاتعداد شعبے قائم کر دئے گئے لہذا طلبہ و طالبات کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔

بعض مورخین رنچھوڑ لا ئن سے کراچی یو نیورسٹی کی منتقلی کی داستا نیں بھی سنا تے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ جب یو نیورسٹی تیار ہو گئی تو رنچھوڑ لا ئن یو نیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ نے با قاعدہ طور پر ایک پیدل جلوس نکا لا اور ما رچ کر تے ہو ئے اس وقت کے وائس چانسلر جو کہ جلوس کے آگے آگے اپنی گاڑی پر چل رہے تھے کے ساتھ کراچی یو نیورسٹی پہنچے آج ہماری اس جا معہ کراچی کو ایک اعلی یو نیورسٹی کے طور پر جا نا جا تا ہے اس یو نیورسٹی سے لگ بھگ 145 کا لجز کا الحاق ہے اور ہر سال اس جامعہ سے 50 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہیں، اس یو نیورسٹی کی ڈگریوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا تا ہے اس سلسلے میں سندھ یونیورسٹی جامعہ کراچی کے قیام اور اس کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے جب ہم نے مختلف ماہرین سے رابطہ کیا تو ان میں سے جامعہ کراچی میں اس وقت شماریات کے ایک پرو فیسر محترم زاہد محمود نے اس بات کی تصدیق کی کہ کراچی میں سب سے پہلے سندھ یو نیورسٹی کا قیام عمل میں آ یا اور یہ یو نیورسٹی رنچھوڑ لا ئن کے علا قے میں پہلے سے موجود قدیم عمارتوں جن میں آج کراچی گرلز کا لج کی عمارت میں یہ یو نیورسٹی قائم کی گئی جبکہ اس کے اطراف کی قدیم عمارتوں کو بطور ہاسٹل استعمال کیا گیا اور ان کے بڑے بھائی سید حامد محمود اس ہاسٹل کے وارڈن تھے اور انہیں ان کی سخت گیر طبیعت کے سبب اس وقت کے طلبہ جارج پنجم کے نام سے بلا تے تھے مگر کیونکہ پاکستان بنتے ہی جامعہ کرا چی کا قیام عمل میں آ گیا لہذا ان کے بھا ئی بھی جامعہ کراچی منتقل ہو گئے اور یو نیورسٹی کے اندر اسٹاف کالونی میں ملازمین کے لیے بنا ئے جا نے والے مکا نات میں سب سے پہلے انہیں یہ مکان الاٹ کیا گیا جہاں وہ آج بھی رہائش پذیر ہیں، جامعہ کراچی کے حوالے سے ان کا کہنا یہ تھا کہ ابتدا میں یہاں جنگل ہی جنگل تھا جس کے خاتمے کے باوجود ذرخیز زمین ہو نے کے نا طے یہاں چاروں طرف ہر یا لی ہی ہر یا لی تھی اور خونخوار جانوروں کے علاوہ چھوٹے موٹے جانور بھی دکھا ئی دیتے تھے جبکہ خاص موسم میں یہاں بہر بوٹی جو کہ جامنی کلر کا مخملی کیڑا ہوتا ہے کی بہتات ہوتی تھی اور اسٹاف کا لو نی کے بچے اس سے کھیلا کرتے تھے انہوں نے اپنے دفتر میں کرا چی کے پرا نے ماسٹر پلان دکھا تے ہو ئے رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی کی جگہ دکھا نے کے ساتھ ساتھ یہ وضاحت بھی کی کہ کیونکہ رنچھوڑ لا ئن ایک گنجان آبادی تھی لہذا کسی طور پر یو نیورسٹی کے لیے مناسب نہیں تھی لہذا اسے مد نظر رکھتے ہو ئے سندھ یو نیورسٹی کے حیدر آباد منتقلی کے بعد اسے کل کے کنٹری روڈ اور آج کے یو نیورسٹی روڈ کی موجودہ جگہ پر منتقل کیا گیا اور کیونکہ ماسٹر پلان کے مطا بق اس کے تمام رقبے کو ایجوکیشن سٹی کے نام سے استعمال کر نے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لہذا اسی کے پیش نظر این ای ڈی یو نیورسٹی کو اس کے پڑوس میں منتقل کیا گیا اور اس سلسلے میں مزید پروگرام بھی تر تیب دئے گئے تھے مگر اس پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنا یا جا سکا۔

اردو یو نیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے پرو فیسر ڈاکٹر سعید عثما نی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل یو نیورسٹی ایکٹ منظور کر لیا گیا تھا لہذا سندھ یو نیورسٹی کو عارضی طور پر رنچھوڑ لا ئن کے علاقے میں لب سڑک پر پتھروں کی قدیم عمارتوں میں قائم کیا گیا مگر جگہ کی تنگی کے سبب یہ یونیورسٹی اس وقت تدریس بہت مشکل تھی ، جب بھا رت سے ہجرت کر کے پاکستان آ نے والے مہا جرین کے بچوں کا اضافہ ہوا تو اسے موجودہ جامعہ کراچی منتقل کر دیا گیا اور وہ دن کراچی کے طلبہ و طالبات کے لیے انتہا ئی خوشی کا دن تھا لہذا وہ پیدل ہی رنچھوڑ لا ئن سے کراچی یو نیورسٹی جو کہ 12 میل کی دوری پر تھی جلوس کی شکل میں گئے اور اسی پراس وقت کے اخبارات میں با قاعدہ طور پر کا لم چھا پے گئے جن کا عنوان شہر سے 12 میل دور تھا یو نیورسٹی کے حوالے سے شہر کراچی کی تاریخ پر کتاب لکھنے والے مصنف عثمان دموہی نے کچھ اس طرح اظہار خیال کیا کہ ماضی میں رنچھوڑ لا ئن جہاں ہر طبقے کے لوگ آ باد تھے سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی جس سے یہاں کے طلبہ کو اعلی تعلیم حاص کر نے کا موقع ملا جس سے اس علاقے کے نو جوانوں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا یا اور سلاوٹہ برادری جو کہ رنچھوڑ لا ئن گزدر آ باد کے پرا نے واسی اور پیشے کے اعتبار سے سل بٹے کوٹنے کے ساتھ ساتھ پتھروں کی عمارت تعمیر کر نے کے فن میں اپنا ثا نی نہیں رکھتے کے کئی نو جوانوں نے اسی یو نیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ایک اور محقق سید نعمت اللہ بخاری کا کہنا یہ تھا کہ ان کے والد رائل انڈین نیوی میں تھے اور وہ قدیم ترین اوجھا سینی ٹوریم کے نزدیک ہی رہائش پذیر تھے لہذا انہیں مو جودہ جامعہ کراچی کو ما ضی میں دیکھنے کا قریب سے موقع ملا اس وقت یونیورسٹی کے اطراف میں جنگلات اور چاروں طرف ہر یا لی ہر یا لی تھی اور کیونکہ یہاں کھیتی باڑی کے کام ہو تے تھے لہذا انگریز سر کار نے زرعی زمینوں کے حدود تعین کر نے کے لیے یہاں چھوٹی چھوٹی بر جیاں جو آج بھی یو نیورسٹی کے اندر موجود ہیں بنا رکھی تھیں جس سے لوگوں کو اس بات کا پتا چلتا تھا کہ ان کی زمین کہاں سے کہاں تک ہے ان کے مطا بق ویسے تو کراچی یو نیورسٹی ،سندھ یو نیورسٹی کی رنچھوڑ لائن سے حیدر آباد منتقلی کے بعد ہی مر حلے وا ر منتقلی کی گئی تھی اور ابتدا میں آرٹس لا بی اور ایڈمنسٹریشن بلاک کا قیام عمل میں آ یا تھا مگر 1956-1957 کے بعد جامعہ کراچی میں مکمل طور پر تعلیمی سر گر میاں بحال ہو گئی تھیں۔

اسی حوالے سے آثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹراور ماہر آثار قدیمہ قاسم علی قاسم نے تبصرہ کر تے ہو ئے کہا کہ رنچھوڑ لا ئن کو اس بات کا اعزاز حاصل تھا کہ سب سے زیادہ تعلیمی درسگاہوں کے ساتھ ساتھ پہلی لائبریری جسے نیٹو لائبریری کے نام سے جا نا جا تا تھا اسی علاقے میں قائم ہو ئی اور سندھ یو نیورسٹی کا قیام کا اعزاز بھی اسی علاقے کو حاصل ہوا نیز اس علاقے کو اس بات کا بھی اعزاز حاصل رہا کہ جب بھارت سے قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے سندھ کی جا نب ہجرت کی تو انہیں سندھ یو نیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کی پرا نی بلڈنگوں میں نا صرف ٹہرا یا گیا بلکہ ان کی بھر پور طریقے سے مہمان نوازی بھی اسی علاقے کے مکینوں کے حصے میں آئی انہوں نے موجودہ جامعہ کراچی کے علاقے کو ایک قدیم ترین علاقہ قرار دیا ان کا کہنا یہ تھا کہ ما ضی میں جب یو نیورسٹی کے سامنے اور ایک کیمپس کے اطراف میں کھدائی کی گئی تو یہاں سے پتھر کے آخری دور کے اوزار اور نوادرات دریافت ہو ئے جس سے اس جگہ کی قدامت کا اندازا پتھر کے آخری دور سے لگا یا گیا مگر کیونکہ یہاں جامعہ کراچی کی تعمیرات ہو چکی تھی لہذا اس پر مزید تحقیق نہیں ہو سکی سندھ یو نیورسٹی کی تاریخ کے حوالے سے ایک ضعیف العمر شخص سید سخاوت الوری جو کہ شعبہ صحافت سے بھی تعلق رکھتے ہیں نے اپنے تجر بات کی روشنی میں بتا یا کہ رنچھوڑ لا ئن میں کراچی گرلز کا لج کی جگہ جہاں ما ضی میں سندھ یو نیورسٹی قائم تھی اس سے قبل وہاں ایک سر کا ری اسکول قائم تھا جس میں وہ تعلیم حاصل کر تے تھے مگر پھر اس اسکول کو سول ہسپتال کے عین سامنے کوتوال بلڈنگ کے اسکول منتقل کر دیا گیا جہاں انہوں نے بقیہ تعلیم حاصل کی انہوں نے کہا کہ ما ضی میں یہ کو ئی پر رو نق علاقہ نہیں تھا بلکہ یہاں بڑے بڑے میدان قائم تھے جہاں مہاجرین کو بسا یا گیا تھا جبکہ سول ہسپتال کا مر دہ خا نہ جو کہ آج اندر کی جا نب موجود ہے ما ضی میں ایک گول پتھروں کی عمارت جو کہ چاند بی بی روڈ پر ہی واقع تھا لہذا خوف کے باعث لوگ اس کے سامنے سے گزر نے سے بھی گھبراتے تھے ۔

Electrolux