گاشو جھیل گلگت بلتستان

پاکستان کوعطاکردی بے شمار نعمتوں میں سرفہرست اس کے فلک شگاف پہاڑاورطویل ترین گلیشیرہیں ،جنھیں قدرت پھلوں پھلوں اورقو قزع کے حسین رنگوں سے سجادیاہے ۔اوروادیاں بھی دلفریب ہیں ۔اورجھیلوں کاتذکرہ کیاجائے توذہن میں بے شمارنام کلبلانے لگتے ہیں ۔یہاں تما م جھیلوں کاتذکرہ مناسب نہیں اس لیے ’’گاشوجھیل ‘کی طرف آتے ہیں جوگلگت میں جگلوٹ کے قریب سائی بالاکے مقام پرواقع ہے ۔

جگلوٹ گلگت سے تقریباً 45 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دنیاکے تین بڑے پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم ‘کوہ ہندوکش اورکوہ ہمالیہ آپس میں ملتے ہیں ۔ دنیامیں اس تاریخی مقام کاکوئی ثانی نہیں ہے یہ پاکستان باالخصوص جگلوت کے لیے فخرکاباعث ہے۔اس علاقے میں تقریباپندرہ کے قریب چھوٹے بڑے گائوں موجودہیں ،جن میں خاص طور پر داموٹ ‘ چاکر ‘ مانوٹ اورگاشو قابل ذکر ہیں ۔گاشو یاہوٹ کی مناسبت سے اس جھیل کا نام بھی گاشو پڑگیا۔

گاشو جھیل تک پہنچنے کے لیے جیب یاٹرک کے ذریعے ہی سفرکیاجاسکتا ہے ۔ دوران سفرجگہ جگہ بکھرے قدرکے حسین رنگ آپ کااستقبال کرتے نظرآئیں گے ۔لیکن راستہ بھی کسی حدتک پرخطرہے ۔اس کے علاوہ کہیں راستہ سنگلاخ ملے گاتوکہیں ہرجانب ہریالی پھیلی نظرآئے گی۔چٹانوںکودیکھ کرآپ کوایسالگے گاکہ آپ کسی طلسماتی دنیامیں پہنچ گئے ہوں ۔ جب آپ گاشوجھیل تک پہن جائیں گے توآپ کوایک خوشگوارنظارہ دیکھنے کوملے گا۔ سیاحوں کی بہت زیادہ آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ جھیل صاف ستھری اورشفاف ہے ۔اس کاپانی کسی قدرنیلگوں ۔جھیل کوچاروں جانب سے بلندوبالاپہاڑوں نے اپنے حصار میں لیاہواہے ۔ایک جانب سرسبز اور شاداب مخلمین چراگاہ ہے تودوسری جانب برف پوش چوٹی ۔یوں لگتاہے جیسے یہ خوبصورت مقام ان برف پوش چوٹیوں کی آغوش میں ہو۔

گاشو جھیل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ٹرائوٹ مچھلیوں کی بڑی تعداد موجودہے اورآپ ایک گھنٹے میں سوسے زائد ٹرائوٹ مچھلیاں پکڑسکتے ہیں ۔ میرے خیال میں شمالی علاقوں اورگلیشیرکی جھیلوں میں گاشوجھیل وہ واحدجگہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرائوٹ مچھلیاں موجودہیں۔اس لیے اگراسے ٹرائوٹ مچھلیوں کے شکاریوں کی جنت کہا جائے توکسی طورغلط نہ ہوگا۔

اس جھیل کے اطراف کامنظربھی بہت سہاناہے ،جھیل کامدھرحسن ‘ہرجانب پھیلی ہریالی اورپرندوں کی چہچہاہٹ ایک عجیب ساسماع باندھے رکھتی ہے ۔گاشوجھیل کاپانی پہاڑوں سے بہہ کرآنے والے چشموں کامرہون منت ہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ارباب اختیاران خوبصورت تاریخی مقامات کے لیے مربوط اورجامع حکمت عملی تریت دیں ۔ اخبارات اورمیڈیاکے ذریعے ان علاقوں کی تشہیرکی جائے توسیاحوں کوان جانب متوجہ کیاجاسکتاہے ‘یہی نہیں چیئرلفٹ لگاکراس کی خوبصورتی کوچارچاند لگائے جاسکتے ہیں ۔

Electrolux