گدھا پالیسی

خیبر پختونخواہ کی حکومت کے حوالے سے ایک زبردست بلکہ گدھا نواز قسم کی خبر یہ موصول ہوئی ہے کہ’’ گدھوں کی افزائش کے لیے خیبر پختونخواہ کی حکومت ایک جامع پالیسی متعارف کروا رہی ہے۔ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ابتدائی طور پر 400 ایکٹر اراضی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس اراضی پر جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ’’ گدھا بریڈنگ فارم ہاؤس ‘‘ تعمیر کیے جائیں گے ۔ کے پی کے کی حکومت اس پالیسی کو صوبائی لائیو سٹاک پالیسی 2018 ء کے تحت متعارف کروا رہی ہے۔ دستاویزات سے ملنے والی اطلاع کے مطابق گدھوں کی افزائش نسل کیلیے ’’سی پیک ‘‘روٹ پر مانسہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اراضی حاصل کر لی گئی ہے ۔۔ ‘‘

ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں خواہ مخواہ گدھے کو بے وقوفی کا استعارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر واقعی یہ جانور بے وقوفی کی علامت ہوتا تو ایک طاقتور ملک کی بڑی پارٹی کا انتخابی نشان گدھا کبھی نہ ہوتا ۔ اپنے دوست سے اس گدھا نوازی کی وجہ جاننا چاہتے ہوئے پوچھ لیا کہ کہیں آپ کو ’’دو لتیاں ‘‘تو نہیں پڑیں جو آپ گدھوں سے ڈر کر ان کے حق میں مہم چلانے نکل پڑے ہیں ۔ ؟

دوست کا جواب نہیں میں تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے اکثر گدھوں کو خاموشی سے ایک گہری سوچ میںگھنٹوں کھڑے دیکھا ہے ۔ مجھے تو ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمہ وقت کسی گہری سوچ میں غرق رہتے ہیں ۔

موضوع پراُن کے’’عبور‘‘ کو دیکھتے ہوئے ہم نے دوست کا انٹرویو مزید جاری رکھنے سے احتیاط برتی اور خودہی اس موضوع پر سوچ و بچار شروع کر دی ۔ لیکن ایسی ہرگز نہیں جیسی سوچ وبچار کے بارے میں دوست نے اشارہ کیا تھا ۔ہمارے خیال کامحور یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں سبھی سوچتے ہیں ۔ بحث بھی کرتے ہیں۔ گفتگو اور بحث کے دوران اپنے موقف پر اس انداز سے ڈٹ جاتے ہیں کہ اکثر اوقات دلائل کی ’’لاتوں ‘‘ اور ’’براہین ‘‘ کے گھونسوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں بھی ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے دوست اگر گدھے کی سوچ و بچارکے قائل ہیں تو ہمیں بھی اپنے معاشرے کے صاحب الرائے قسم کے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کا اندازہ ہے ۔

خبر رساں ایجنسی کا نمائندہ اس خبر کی صورت میں بہت دور کی کوڑی لایا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی تک کسی جانب سے بھی اس حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد سے لے کر آج تک ’’خٹک حکومت ‘‘کی ہر پالیسی اور اقدامات پر مخالفین کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے ۔ یار لوگوں نے سینٹ کے انتخابات میں ’’ ہارس ٹریڈنگ ‘‘ پر خوب واویلا کیا ۔ جب کپتان نے ایکشن لیا تو مخالفین کی جانب سے ’’ ری ایکشن ‘‘ سامنے آگیا ۔

گدھا پالیسی کے خلاف ابھی تک کسی جانب سے کسی قسم کے ردِ عمل کا اشارہ نہیں ملا ۔ معلوم نہیں کہ اس بارے میں حکومت مخالفین پنی رائے ظاہر نہیں کرنا چاہتے یا پھر ’’ خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے ‘‘ وا لا معاملہ ہے ۔ کالم نگار کو تو حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی ہے کہ دوربین نگاہوں نے سازش کے پیچھے ’’ یہودی ہاتھ ‘‘ پوشیدہ ہونے کا ابھی تک پتہ کیوں نہیں چلایا۔وطن سے دور اہل وطن کے حق رائے دہی کے پیچھے جنہیں یہودی سازش کا ادراک ہوجاتا ہے انہوں نے گدھا افزائش پالیسی کے’’ مضمرات ‘‘ کوکیسے نظر انداز کر دیا ۔

خبر پڑھنے کے بعدہمارے دوست نے گدھا فارم کے لیے مانسہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں اراضی کے حصول پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اس اعتراض کے پس منظر کے بارے میں ان کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن میں مانسہرہ اور جنوبی اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان عمران خان مخالف سیاسی قیادت کا گڑھ یا مسکن ہے۔ ان علاقوں میں گَدھوں کی افزائش کو فارم ہاؤس تک محدود کرنا پرویز خٹک کی چال لگتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کپتان کا یہ ملنگ وزیر اعلیٰ اکثر ایسی چالیں چلتا ہے جن میں سے بعض کی خود عمران خان کو بھی سمجھ نہیں آتی ۔

۔ ۔۔ کیا کہا جائے ان کے اس اعتراض کو بھی ہم نہیں سمجھ پائے کہ وہ اس علاقے میں ایسی افزائش کے فارم قائم کرنے سے اتفاق کیوں نہیں کرر ہے ہیں۔ حالانکہ ’’فرزندِ مانسہرہ‘‘ اور’’ فرزند ڈیرہ‘‘ نے ابھی تک کسی تحفظ کا اظہار نہیں کیا ۔ ہم نام لیے بغیر ان علاقوں میں رہنے والے اپنے ذاتی اور قریبی دوستوں سے اس منصوبے پر اپنی رائے کے اظہار کا جمہوری حق استعمال کرنے کی درخواست بھی کرتے ہیں ۔ اور سارے منصوبے کو ’’ کسی دوسرے تناظر میں ‘‘ دیکھنے سے احتراز کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں ۔

گدھا پالیسی کے سیاسی پہلوؤں پر سیاست کے طالب علم ہی بحث کرسکتے ہیں ۔ اگر اس کے معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو صوبے کے لیے ایک سود مند پالیسی ہے۔ سی پیک روٹ کی تکمیل کے بعد اس پالیسی کی شدت سے ضرورت محسوس کی جانی تھی صوبائی حکومت نے اس کا بر وقت ادراک کر لیا ہے۔ ہماری دانست میں اس گدھا پالیسی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ جن علاقوں میں گدھوں کا گوشت فروخت ہوتا ہے وہاں اب بہتر کوالٹی دستیاب ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے انکار نہیں کہ ہمارے ملک کے پسماندہ علاقوں خصوصاً پہاڑی علاقوں میں باربرداری کے لیے گدھوں اور خچروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پنجاب کے غیر ترقیاتی ، دیہی علاقوں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں گدھا گاڑیاںباربرداری کے ساتھ ساتھ ایک عام ذریعہ معاش بھی ہیں ۔ ان علاقوں میں اکثر اوقات گدھا گاڑی کے ساتھ ایک ’’ ڈیفیکٹو گدھا ‘‘ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈیفیکٹو گدھا سے مراد وہ گدھا ہے جو ریڑھی کھینچنے والے جُتے ہوئے گدھے کے ساتھ دوڑتا ہے اگر چہ وزن کھینچنے میں اُس کا زور صرف نہیں ہوتا لیکن اُس کا انداز اور سٹائل دوسرے گدھے جیسا ہی ہوتا ہے ۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ’’ ڈیفیکٹو ‘‘ گدھے کو ہمارے ہاں مختلف عہدوں اور مناصب پر ڈیفیکٹو تقرریوں سے مماثل قرار نہ دے دیا جا ئے یہاں بات صرف ’’ گدھوں ‘‘ کی ہورہی ہے۔ لہذا کسی بھی ’’ غیر گدھے ‘‘ سے مماثلت محض اتفاق ہوگا ۔

کہا جاتا ہے کہ تبدیلی آ نہیں رہی آ گئی ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے گذشتہ چار سالوں میں مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ مخالفین کی تنقید کے باجود ان اصلاحات کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ بلین ٹری منصوبے پر تنقید کی جاتی ہے لیکن متعدد بین الاقوامی اداروں نے اسے ماحول کے لیے ایک کامیاب منصوبہ قرار دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے اس منصوبے کی کامیابی کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے بعد ماحول کے لیے ایک بھاری رقم آنے والے سالوں میں خیبر پختونخواہ کو عالمی اداروں سے ملے گی ۔

خیبر پختونخواہ حکومت کی گدھا پالیسی کے مختلف پہلوؤںپر مزید بحث متعلقہ ماہرین کے سُپرد کرتے ہوئے سید نصیر شاہ کے یہ اشعار گنگناتے ہوئے کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ
ساون کے مدھ ماتے بادل
پھر بوتل کے ہمسفر ہوتے ہیں
پھر زنجیر وفا کی ہلتی
جب بھی موسم ابتر ہوتے

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔