کپتان کا ایکشن

ہمارے سیاسی کلچر میں ووٹوں کی خرید و فروخت اور دھونس دھاندلی کی تاریخ بہت پُرانی ہے۔ صدارتی انتخاب میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ ؒ کو ہرانے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے کیا کیا نہیں کیا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے لاڑکانہ سے بلامقابلہ منتخب ہونے کا خواب کیسے پورا کیا ۔ سیاست میں چھانگا مانگا کلچر کس کی یاد گار ہے ۔ شوکت عزیز کو کس انداز میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں کامیاب کرواکر اسمبلی میں لایا گیا ا ور پھر کس طرح زبر دستی اُن کے سر پر وزارت عظمیٰ کا ہُما بٹھایا گیا۔۔دُور جانے کی ضرورت نہیں سب کو معلوم ہے کہ 2013 ء کے عام انتخابات کیسے چُرائے گئے تھے ۔ 2015 ء کے سینیٹ کے انتخابات میں کیا ہوا تھا ۔ کُچھ بھی تو ڈھکا چھُپا نہیں ہے ۔۔لیکن اس مرتبہ جس طرح عمران خان نے ایکشن لیا اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی ۔ حالیہ سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخواہ کے بعض ارکان اسمبلی نے جو کُچھ کیا اُس سے عام ووٹر کا اعتماد بُری طرح مجروح ہو رہا تھا۔ عوامی اعتماد کے خائنوں ، قومی اعتبار کے اعتبار کے سوداگروں اور ووٹ کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی نہ صرف ضردرت محسوس ہو رہی تھی بلکہ اس بارے میں عوامی مطالبات میں بھی شدت آ رہی تھی۔

عمران خان نے بیس ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ووٹ اور اعتماد کا بھرم رکھنے کی جو کوشش کی ہے اُس سے عملی طور پر ووٹ کو تقدیس ملی ہے۔اُن کے ا س اقدام نے ثابت کیا ہے کہ اُن کی سیاست روایتی سیاست کے بہاؤ کی مخالف ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام پُرانے سیاسی کھلاڑی انہیں موجودہ سیاسی سسٹم کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں ۔ عمران خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے ایسے ایشو زندہ رکھے ہیں جن کے بارے میں جدوجہد کو کبھی نتیجہ خیز نہیں سمجھا جا تا تھا ۔ پہلے پہل انہوں نے دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف آواز اُٹھائی تو کہا گیا کہ کوئی پارٹی اس بنیاد پر سیاست میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکتی۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں ساری جماعتوں اور سیاسی قائدین نے دھاندلی کی بات کی لیکن کسی نے بھی اپنی سیاسی جدوجہد کے لیے اسے مہمیز کا درجہ نہیں دیا ۔ اسی طرح سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خریدو فروخت کا ہر جانب سے شو ر بلند ہوا لیکن اس میں ملوث ارکان کو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کی جرات کسی کو نہیں ہوئی ۔ اس بارے میں آصف علی زرداری ، میاں نواز شریف ، مولانا فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی اور حاصل بزنجو وغیرہ کی سیاست درست باتیں غلط وقت پر کرنے اوربے فیض موسموں کی کتھائیں سُنانے سے آگے نہ بڑھ سکی ۔

پارٹی چیئر مین کی جانب سے بیس ارکان اسمبلی کے نام منظر عام پر لانے پر تحریک انصاف کے پرانے اور بے لوث کارکنوں کو شدید دھچکا لگاہے ۔ وہ پارٹی میں اس قدر بڑے پیمانے پر ووٹ بیچنے والوں کی موجودگی جان کر بہت پریشان ہوئے ہیں ۔ تحریک انصاف کے لیے ایک طویل عرصہ سے جدوجہد کرنے والی خیبر پختونخواہ کی ایک آبرو مند بیٹی فرزانہ زین سے بات ہوئی تو وہ شدید دُکھ اور کرب کا شکار نظر آئیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں خواتین ارکان کے ناموں سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ پارٹی جب اعتماد سے نواز تی ہے ہمیں عزت دیتی ہے تو اُس کا پاس رکھنا ہم سب کا فرض ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے خیبر پختونخواہ اسمبلی کی خواتین کی طرف سے ووٹ فروخت کرنے کا بہت دُکھ ہے ۔ میں ابھی تک اس سوال کاجواب نہیں جان پائی کہ ان سب نے ووٹ کیوں فروخت کیا اور عمران خان جیسے عظیم شخص کے اعتماد کو ٹھیس کیوں پہنچائی ۔ نہ جانے یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نے موسم گُل میں اعتماد کو صلیبوں پر چڑھا دیا ۔‘‘

عمران خان کے بہی خواہوں کا دُکھ اپنی جگہ پر لیکن تصویر کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں پر جن صاحبان نے ٹکٹ تقسیم کیے تھے اُن کی نظر میں جو میرٹ تھا وہ حقیقی میرٹ کے با الکل بر عکس تھا ۔ اپنے اپنے گروپوں کو نواز گیا تھا ۔پی ٹی آئی کی جینوئن خواتین رہنماؤں کو اس انداز سے نظر انداز کیا گیا کہ سینیٹرل آفس کو رپورٹ بھجواتے وقت ان کی تمام تر کاوشوں اور جدوجہد کو دیگر خواتین کے کریڈٹ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنہیں ٹکٹ دیئے گئے انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی کی عزت و توقیرکی پرواہ نہیں کی اور پارٹی سربراہ کو ایک بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی کو شوکاز نوٹس دے کر پارٹی سے نکالنے کی کارروائی کا آغاز کرنا پڑا ۔ گذشتہ عام انتخابات اور صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں اور سینیٹ کے ٹکٹ کس طرح سے تقسیم کیے گئے ۔ کس نے کس کو نواز ا ، حتیٰ کہ کس کس نے کس کس ٹکٹ کے عوض بھاری رقوم وصول کیں وہ سب عمران خان کے علم میں ہے ۔اُن کی خاموشی ذمہ دار ان کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ

سسک کے مر گئی خوشبو ، گلاب قتل ہوئے
تمہارے عہد میں لوگوں کے خواب قتل ہوئے
دہکتے رہ گئے ہونٹوں پہ پیاس کے دوزخ
کئی حَسین سر ِ سیل ِ آب قتل ہوئے

خیبر پختونخواہ جس طرح پاکستان تحریک انصاف کا بیس کیمپ بنا ہے اور جس طرح سے وہاں عمران خان کو سیاسی پذیرائی مل رہی ہے اُس کا تقاضا ہے کہ عمران خان پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیں ۔آئندہ عام انتخابات کے ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے ایک مرتبہ پھر اپنے اپنے گروپوں کو سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خاص کر خواتین ونگ میں میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں عمران خان کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں ذاتی طور پر مطمئن ہوئے بغیر ٹکٹ جاری نہ کرنے کا اعلان خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے ۔پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی کا جو عنصر پیدا ہورہا تھا اُس کا بر وقت خاتمہ ہو ا ہے ۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار تجزیہ نگار بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ’’ اگر عمران خان نے آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم میرٹ پر یقینی بنادی تو صوبے اور مرکز میں ان کی کامیابی کے آگے کسی صورت میں بھی بندھ نہیں باندھا جا سکے گا ۔ٹکٹ کے لیے عمران خان کا مطمئن ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ ‘‘

ووٹوں کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف عمران خان کی جانب سے ضابطے کی کارروائی کو سراہا جانا چاہیئے اُن کے اس جرات مندانہ اور بے لوث اقدام سے پاکستان کی سیاست میں ضمیر فروشی کی خاطر خواہ حد تک حوصلہ شکنی ہو گی ۔ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ عمران خان کے اس احسن قدم کو بھی سیاست اور مفادات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔سیاسی مفادات کی آندھیاں جو گردو غُبار چاہیں اُڑاتی رہیں لیکن ووٹ فروخت کرنے والوں پر تادیبیی کارروائی کا کوڑا برسانے کا’’ عمرانی عمل‘‘ پاکستانی سیاست میں نقشِ قدم کی حیثیت حاصل کر لے گا ۔ آج نہیں تو آنے والا مورخ ان کے اس کی تحسین ضرور کرے گا ۔

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔