چین میں کرپشن کی سزا موت محکمہ صحت میں بابا فضل کا کردار

سندھ میں گزشتہ دس سال سے حکمرانی کرنے والے حکمرانوں اور نوکر شاہی کے موجودہ کل پرزوں کی موجودگی میں یہاں کے غریب عوام کو باہر کے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ملک کا سارا کرپشن صرف سندھ میں ہے اور باقی صوبوں میں شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ لیکن دنیا یہ بتارہی ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں کرپشن کی شرح زیادہ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت دلائل کے ذریعے ان الزامات کا جواب دے نہ کہ کرپشن کو روکنے اور پکڑنے والے اداروں پر ہی ٹوٹ پڑے۔ پھر ہمارے سیاستدانوں کا یہ کہنا کہ ان کا ہی کیوں سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ دنیا کی جمہورتیوں میں سیاست دان رول ماڈل ہوتے ہیں اور جب دنیا میں کسی بھی عوامی عہدہ رکھنے والے پر کرپشن اور بدعنوانی کا معمولی سا الزام آجائے تو وہ مستعفی ہو کر خود گھر چلا جاتا ہے۔ دنیا میں کیوں نکالا؟ کا کوئی تصور نہیں اور سی پیک کے حامی پاکستانی سیاستدانوں کو تو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ چین میں کرپشن کی سزا موت ہوتی ہے اور اس سزا پر وہاں کے سیاستدان یہ نہیں کہتے کہ ’’مجھے کیوں مارا‘‘ جبکہ سندھ میں گزشتہ ایک دہائی میں آخری احتساب سابق سیکرٹری صحت عاشق میمن کا ہوا جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نیب کو تین کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کرکے مرحوم عاشق میمن نے صرف عزت بچائی تھی جان تو پھر بھی نہ بچ سکی۔ لیکن حکومت سندھ میں گزشتہ دس سال کے دوران اتحادی حکومت کے مفاہمتی دور میں صحت اور تعلیم کے صوبائی محکموں کو جس طرح سے لوٹا گیا اور مفاہمت کے باعث ایک اتحادی نے دوسری اتحادی کی پردہ پوشی میں بھرپور طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا جس میں سے ایک اتحادی کی لوٹ مار خود منطقی انجام کو پہنچی ہے تو ایک اتحادی کی کوکھ سے تعلیم اور صحت کے میدان میں بابا فضل برآمد ہوئے ہیں۔ جنہوں نے محکمہ تعلیم میں ریکارڈ کرپشن کے نقوش چھوڑ کر محکمہ صحت سندھ کو اب تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ تک پہنچا دیا ہے۔ رواں مالی سال میں صوبہ سندھ کیلئے ادویہ کی خریداری کا مبینہ مالی اسکینڈل واٹر کمیشن نے طشت ازبام کیا ہے اور ایورسٹ فارما کا انوکھا اسکینڈل غریب مریضوں کی آہوں اور صدائوں کا نتیجہ ہے۔ تو نیکسیز کمپنی کا بلیک لسٹ ہونا بھی واٹر کمیشن کا ہی کارنامہ ہے۔ یہ مکافات عمل ہے۔ جب سب کچھ حد سے گزر جاتا ہے تو پھر پے در پے لوٹ مار کی مہم اسی طرح سے اللہ کی پکڑ میں آتی ہے۔ بابا فضل کے طلمساتی کردار نے سرکاری ہسپتالوں میں مٹی کے داموں میں نیلی پیلی دوائوں کی اتنے بڑے پہاڑ بنادیئے ہیں جو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد مدتوں ختم نہیں ہوں گے لیکن ان دوائوں کے استعمال سے مریضوں کی تعداد کی کمی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ سندھ کا المیہ ہے کہ صحت اور تعلیم کے محکموں میں دن کے اجالے میں ڈکیتیوں کی و ارداتوں کے باوجود ان محکموں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود حکومت سندھ خاموش تماشائی نظر آتی ہے۔ واردات میں ملوث لوگ بے بانگ دھل کہتے ہیں تین فیصد کا مال نیب اور اس جیسے دیگر اداروں سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی رکھ لیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بابا فضل اور چھ کا ٹولہ موج میں اس کے علاوہ نیب، اینٹی کرپشن و دیگر ادارے کھوج میں ہی نظر آتے ہیں۔

Electrolux