کراچی کی ادبی ڈائری

ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب کی تقریب رونمائی
معروف ادیب، کالم نویس اور مزاح نگار ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب ’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ کی تقریب پذیرائی گزشتہ دنوں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی جس کی مجلس صدارت میں لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سردار یاسین ملک،عبدالحسیب خان اور میاں زاہد حسین شامل تھے۔ مہمان خصوصی محترمہ مہتاب اکبر راشدی تھیں اور معروف افسانہ نگار و کالم نویس محترمہ نسیم انجم اور معروف مزاح نگار محمد اسلام نے اظہارِ خیال کیا۔

نظامت کے فرائض معروف شاعرہ محترمہ نزہت عباسی نے انجام دیے۔
اس تقریب پروقار کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کے نواسے نے کیا۔ بعد از تلاوتِ کلام قرآن مجید، نعت رسول مقبول مس سارہ قریشی نے پیش کی جو صبیح الدین صبیح رحمانی کی لکھی ہوئی تھی۔ معروف شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان قریشی اور طنز و مزاح کی شاعرہ محترمہ روبینہ تحسین بینا نے صاحب کتاب ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کو گل دستے پیش کیے۔

’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی 25ویں مزاحیہ مضامین کی کتاب ہے اس سے قبل ان کی 13 طنز و مزاحیہ کتابیں انگریزی زبان میں شایع ہو چکی ہیں اور اُردو زبان میں 11 کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر نہ صرف منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکی ہیں بلکہ قارئین شعر و سخن، ناقدینِ فن و ہنر اور مشاہیران اُردو ادب سے داد و تحسین بھی وصول کر چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ناقدینِ فن وہنرنے ان کا مقام متعین کر لیا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کے بعد ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا نام کراچی میں سب سے بڑا ہے جو انتہائی سنجیدگی سے عمدہ طنز و مزاحیہ تحریر میں لکھ رہے ہیں۔ حمایت علی شاعر نے کہا تھا کہ مشفق خواجہ اور مشتاق احمد یوسفی کے بعد ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی مزاحیہ ادب کا سب سے اہم نام ہے۔ اگر ہم زندہ مزاح نگاروں کی بات کریں تو ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی دوسرا بڑا اور اہم نام قرار پاتا ہے۔ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کو’’ کوہسار نمک‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ میں 59 مزاحیہ مضامین شامل اشاعت کیے گئے ہیں۔ جن میں ایک مضمون جس گدھے میں جان ہوگی وہ گدھا رہ جائے گا۔ معین قریشی لکھتے ہیں کہ انسان کو گدھا کہنے سے انسان پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ گدھے کا استحقاق بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے اپنا منتخب مضمون پڑھا تو شرکائے محفل کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ان کے ہر جملے پر قہقہے بلند ہو رہے تھے اور تالیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

اور مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ جس معاشرے میں کتاب مفت لینے کا رواج ہو اور اعزازی کاپی نہ دینے پر قد آور ادبی شخصیات ناراض ہو جاتی ہوں وہاں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی کتاب کتنے آدمی تھے؟ Hot-Cake کی طرح فروخت ہو رہی تھی یہاں تک کہ معین قریشی صاحب نے اپنے اہلِ خانہ کو بھی کہا کہ یہاںسے رعایتی قیمت پر کتاب خریدی لو ورنہ گھر پر میں پوری قیمت پر کتاب دوں گا۔ تقریباً 100 سے زیادہ کتابیں آدھے پروگرام میں میرے سامنے فروخت ہو چکی تھیں۔

1۔ کراچی پریس کلب کی تنقیدی نشست کا انعقاد۔
2۔ سخاوت علی نادر کی غزل اور نغمانہ شیخ کا افسانہ ضرورت تنقید کے لیے پیش کیے گئے۔
3۔ زیب اذکار ادبی کمیٹی کے لیے فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ احمد سعید فیض آبادی
4۔ نغمانہ شیخ کا افسانہ معاشرہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ صبا اکرام
5۔ سخاوت علی نادر کی غزل مرصع اور مکمل غزل ہے جس میں رنگ تغزل نمایاں ہے۔ رونق حیات
گزشتہ ہفتے کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک تنقیدی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر جناب رونق حیات صاحب نے کی جبکہ مہمان خصوصی نامور نقاد صبا اکرام تھے۔ نشست میں معروف شاعر سخاوت علی نادر کی غزل اور محترمہ نغمانہ شیخ صاحبہ کا افسانہ ’’ ضرورت‘‘ تنقید کے لیے رکھا گیا تھا۔ نغمانہ شیخ صاحبہ نے اپنا افسانہ پڑھ کر سنایا جس کے مختلف پہلوئوں پر ناقدین نے تنقید کی اور اپنی رائے دی۔ بحیثیت مجموعی افسانے کو بہترین افسانہ قرار دیا گیا جبکہ رحمان نشاط صاحب نے افسانے کے منفی پہلوئوں کو اجاگر کیا۔ بعدازاں سخاوت علی نادر نے اپنی غزل منفرد لب لہجہ میں تنقید کے لیے پیش کی نادر کی غزل کو خاطر خواہ پذیرائی ملی۔ ادبی کمیٹی کے روح رواں جناب زیب اذکار نے کہا کہ سخاوت علی نادر کی غزل تنقیدی بصیرت کے تعلق سے ایک اہم غزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخاوت علی نادر صاحب اسلوب شاعر ہیں ان کی غزل میں وہ تمام تقاضے موجود ہیں جو ایک اچھی غزل میں ہونا چاہیے۔ مجید رحمانی نے کہا کہ سخاوت علی نادر کو انہوں نے کئی مشاعروں میں سنا ہے وہ بہت تیزی سے ادب میں اپنا مقام بنارہے ہیںان کی غزل ایک مرصع اور کامیاب غزل ہے اور اس میں تنقید کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ حامد علی سید نے سخاوت علی نادر کی غزل کو شاندار قرار دیا۔ احمد سعید فیض آباد نے کہا کہ نادر کی غزل ایک مکمل اور مرصع غزل ہے۔ انہوں نے مطلع اور مقطع کی تعریف کی۔
تقریب میں جن مقررین اور ناقدین نے اظہار خیال کیا اس میں حامد علی سید، مجید رحمانی، الطاف احمد ، زیب اذکار، شکیل احمد ستی، طاہر سلیم سوز، موسیٰ کلیم، نغمانہ شیخ کے صاحب زادے صمد اور بہو مہوش ، رحمان نشاط، احمد سعید فیض آبادی، ظفر عادل، اے خیام، خورشید عالم، سعد الدین سعد، عتیق احمد ، نبیل نجمی اور وقار زیدی شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر پھولوں کا تبادلہ کیا گیا سخاوت علی نادر نے افسانہ نگار نغمانہ شیخ، الطاف احمد نے ادبی کمیٹی کے روح رواں زیب اذکار کو مجید رحمانی نے مہمان خصوصی صبا اکرام کو نغمانہ شیخ نے سخاوت علی نادر کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔
پروگرام کی نظامت موسیٰ کلیم نے اپنے دلچسپ لب و لہجے میں انجام دی۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کی توضع پر تکلف ناشتے سے کی گئی۔

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام ڈاکٹر اسلم فرخی کی یاد میں سیمینار اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت اُردو زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر جاوید منظر اور مہمان خاص حیات رضوی امروہوی،نصیر سومرو اور کشور عدیل جعفری تھے اس موقع پر ڈاکٹر جاوید منظرنے اپنے صدارتی خطاب کہا کہ اُردوکے نثری ادب میں خاکہ نگاری کی روایت خاصی قدیم ہے اور اس کے ابتدائی نقوش قدیم تذکروں میںدیکھے جاسکتے ہیں۔ اُردو ادب میں خاکہ نگاری میں جو کام ہواہے اور ہورہاہے وہ بہت متنوع اور وقیع ہے ۔ خاکہ نہ تو وقیع ہوتا اور نہ سیرت خاکہ سرگزشت بھی نہیں ہوتا خاکہ ہے کیا ۔یہ ایک ایسے انسان کی جھلک ہوتی ہے۔جسے خاکہ نگار ہمارے سامنے ایک مخصوص فضا اور آہنگ میں پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں انسان کی جھلک اس طرح دکھاتا ہے کہ ہم اس سے ذہنی اور روحانی قربت محسوس کرتے ہیں خاکہ نگاری انسان شناسی اور تخلیقی صلاحیت کے خوبصورت امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ حیات رضوی امروہوی نے کہاکہ ڈاکٹر اسلم فرخی ۲۳؍ اکتومبر۱۹۲۳ء کو لکھنؤمیں پیدا ہوئے ان کا سابق وطن فتح گڑھ ضلع فرخ آباد تھا ڈاکٹر صاحب نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارا تھا ان کے خاندان کے ہر شخص کو شعرو سخن سے لگاؤرہا ہے ڈاکٹر اسلم فرخی کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہوںنے ادبی زندگی کا آغازشاعری کے ساتھ کیا وہ غزلیں بھی لکھتے ہے اور نظمیں بھی لیکن پھر بھی اپنے آپ کوشاعر نہیںکہتے تھے وہ فرماتے تھے نہ شاعری میری شناخت بنی اور نہ تحقیق میری پہچان خاکہ نگاری کے علاوہ وہ کام ہے جو میںنے حضرت سلطان المثائخ کے حوالے سے کیا ہے۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرونے کہا کہ اسلم فرخی کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اسلم فرخی کا اصل حوالہ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ہیں جن کے بارے میں وہ ۶ کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ فرخی صاحب اولیاء اللہ سے غیر معمولی عقیدت بھی رکھتے ہیں اسی وجہ سے ہی ڈاکٹر صاحب نے کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی لکھیں ہیں آپ نے ۱۶ ؍سے زائد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ آج ملکی ایک بہت بڑی شخصیت جو ہمارے درمیاں موجود نہیں ہے لیکن روحانی طور پر ہمارے ساتھ ہیں ان کی یاد میں مشاعرہ کا آغاز کیا جاتاہے۔ جن شعرائے اکرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں ڈاکٹرجاوید منظر، حیات رضوی امروہوی، نصیر سومرو، کشور عدیل جعفری، سید منیف اشعر ، شگفتہ شفیق، فہمیدہ مقبول، اظہر بانبھن، فرح دیبا، سیدہ ماہین زاہد، تنویر حسن سخنور، ڈاکٹر لبنیٰ عکس ، عشرت حبیب، عرفان علی عابدی، دلشاد احمد دہلوی، سید اوسط علی جعفری، ذوالفقار حیدر پرواز، محمد رفیق مغل، نشاط غوری، ڈاکٹر شابانہ زیدی، رخسانہ زیدی، صدیقی راز ایڈووکیٹ،ناظم سلطانہ، محمد یونس، اقبال افسر غوری، سید زاہدحسن، ذوالفقار حسیانی، تاج علی رعنا، زارا صنم، سیف الرحمٰن سیفی، سید اوج ترمذی، شامل تھے آخر میں قادربخش سومرو نے آئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Electrolux